حسد: دلوں کی بیماری، اعمال کو کھانے والی اور معاشرتی تباہی کا سبب
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَ الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ، وَحَذَّرَهُ مِنْ أَمْرَاضِ الْقُلُوبِ وَآفَاتِهَا، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، الْعَلِيمُ بِذَاتِ الصُّدُورِ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، الَّذِي قَالَ: "لَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَجَسَّسُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا". صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ الَّذِينَ طَهَّرَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ مِنَ الْغِلِّ وَالْحَسَدِ. أَمَّا بَعْدُ!
اللہ کے نیک بندو! ایمان والو! آج جس موضوع پر ہم بات کرنے جا رہے ہیں، یہ وہ موضوع ہے جو دلوں کے اندر چھپ کر انسان کو اندر ہی اندر کھا جاتا ہے، اس کے تمام نیک اعمال کو برباد کر دیتا ہے، اور معاشرے کی شیرازہ بندی کو تہس نہس کر کے رکھ دیتا ہے۔ یہ وہ بیماری ہے جس نے ابلیس کو ملعون بنایا، جس نے ہابیل کے بھائی قابیل کو پہلا قاتل بنا دیا، اور جس نے یہود کو نبی کریم ﷺ کا دشمن بنا دیا، حالانکہ وہ آپ کو اس طرح پہچانتے تھے جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ یہ بیماری ہے حسد!
بھائیو! حسد کا مطلب ہے کسی دوسرے شخص کے پاس اللہ کی دی ہوئی نعمت کو دیکھ کر جلنا، اور یہ تمنا کرنا کہ یہ نعمت اس سے چھن جائے، یا کم از کم یہ کہ اسے یہ نعمت ملی ہی کیوں؟ یہ وہ آگ ہے جو حسد کرنے والے کے اپنے دل میں لگتی ہے، اور اسے مسلسل جلاتی رہتی ہے۔ یہ کوئی معمولی گناہ نہیں، بلکہ یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے، اور دل کی ان مہلک بیماریوں میں سے ہے جو انسان کو دنیا و آخرت میں تباہ کر دیتی ہیں۔
آج کے خطبے میں ہم حسد کی تعریف، قرآن و سنت میں اس کی مذمت، اس کے انفرادی و اجتماعی نقصانات، اس کے اسباب، اور اس سے نجات کے عملی طریقوں کے بارے میں جانیں گے۔ غور سے سنو! شاید تمہارے دل میں کسی کے لیے حسد کی چنگاریاں دہک رہی ہوں، اور آج کا خطبہ اس آگ کو بجھانے کا ذریعہ بن جائے۔
۱. قرآن کریم میں حسد کی مذمت اور اس کی تباہ کاریاں
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر حسد کی مذمت فرمائی، اور اسے ظالموں اور گمراہوں کی صفت قرار دیا۔ سنیے! رب العالمین فرماتا ہے:
﴿أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَىٰ مَا آتَاهُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ﴾
(سورۃ النساء: 54)
ترجمہ: "کیا یہ لوگ لوگوں سے اس چیز پر حسد کرتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا فرمائی ہے؟"
یہ آیت بنی اسرائیل کے بارے میں نازل ہوئی، جو نبی ﷺ کی نبوت پر حسد کرتے تھے، حالانکہ وہ جانتے تھے کہ یہ حق ہے۔ حسد نے انہیں ایمان لانے سے روک دیا۔
دوسری جگہ اللہ نے حسد کرنے والے کے شر سے پناہ مانگنے کا حکم دیا، جس سے اس گناہ کی سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے:
﴿وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ﴾
(سورۃ الفلق: 5)
ترجمہ: "اور حسد کرنے والے کے شر سے (پناہ مانگتا ہوں) جب وہ حسد کرے۔"
یہ سورہ فلق کی آخری آیت ہے، جس میں اللہ نے حسد کرنے والے کے شر سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی ہے، کیونکہ حسد کرنے والا جب حسد کرتا ہے تو وہ نظر بد، جادو، اور ہر قسم کے شر کا سبب بن سکتا ہے۔
حسد کے انجام کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ یہ اعمال کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے:
﴿أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَىٰ مَا آتَاهُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ﴾
مفسرین فرماتے ہیں کہ حسد نیکیوں کو اس طرح مٹا دیتا ہے جیسے آگ لکڑی کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ (سنن أبي داود: 4903 - حسن)
حسد کا پہلا جرم دنیا میں اسی وجہ سے ہوا۔ قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو صرف اس لیے قتل کر دیا کہ اللہ نے ہابیل کی قربانی قبول فرمائی، اور قابیل کی قبول نہ ہوئی:
﴿وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَيْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّكَ ۖ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّـهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ﴾
(سورۃ المائدہ: 27)
۲. احادیث نبویہ میں حسد کی مذمت اور اس سے بچنے کی تلقین
نبی کریم ﷺ نے حسد کو ایمان کے منافی قرار دیا، اور اسے اعمال کو کھا جانے والی بیماری بتایا۔ سنیے!
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«إِيَّاكُمْ وَالْحَسَدَ، فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ»
(سنن أبي داود: 4903 - حسن، سنن ابن ماجه: 4210)
ترجمہ: "حسد سے بچو، بے شک حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔"
کتنی ہولناک تصویر ہے! انسان ساری عمر نماز، روزے، صدقات، حج کرتا ہے، لیکن اگر اس کے دل میں حسد کی آگ دہک رہی ہے تو یہ تمام نیکیاں اس آگ کی نذر ہو جاتی ہیں، جیسے لکڑی کا ڈھیر آگ لگنے سے راکھ ہو جائے۔
ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:
«لَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَجَسَّسُوا، وَلَا تَحَسَّسُوا، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا»
(صحيح البخاري: 6066، صحيح مسلم: 2563)
ترجمہ: "ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، جاسوسی نہ کرو، ٹوہ میں نہ لگو، بولی نہ بڑھاؤ، اور اللہ کے بندے آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔"
نبی ﷺ نے چھ چیزوں سے منع فرمایا، جن میں سے پہلی حسد ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ حسد سے بچنا معاشرتی امن اور بھائی چارے کی بنیاد ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ حسد ایمان کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتا:
«لَا يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ عَبْدٍ: الْإِيمَانُ وَالْحَسَدُ»
(سنن النسائي: 3109 - صحيح)
ترجمہ: "بندے کے دل میں ایمان اور حسد اکٹھے نہیں ہو سکتے۔"
پس جس قدر ایمان مضبوط ہوگا، حسد کم ہوگا، اور جس قدر حسد بڑھے گا، ایمان کمزور ہوگا۔
۳. حسد کی حقیقت اور اس کی اقسام
بھائیو! حسد کی کئی صورتیں ہیں، لیکن بنیادی طور پر یہ ہے کہ انسان کسی دوسرے کی نعمت سے جلے، اور چاہے کہ وہ نعمت اس سے چھن جائے۔
علماء نے حسد کی چار حالتیں بیان فرمائی ہیں:
- بدترین حسد: یہ تمنا کرنا کہ دوسرے کی نعمت چھن جائے، چاہے وہ حسد کرنے والے کو ملے یا نہ ملے۔ یہی حرام حسد ہے۔
- غبطہ: یہ جائز ہے، اور اس کا مطلب ہے کہ دوسرے کی نعمت دیکھ کر یہ خواہش کرنا کہ مجھے بھی ایسی نعمت مل جائے، لیکن اس کے چھن جانے کی تمنا نہ کرنا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: «لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ» (بخاری: 7529، مسلم: 815)۔
- نعمت کے چھن جانے کی تمنا: یہ حرام ہے، لیکن اگر وہ نعمت کسی ظالم کے پاس ہے اور اس کے چھن جانے میں مسلمانوں کی بھلائی ہے، تو یہ جائز ہے۔
- نعمت کے چھن جانے پر خوشی: یہ بھی حرام ہے، اور یہ حسد کی علامت ہے۔
پس جائز "غبطہ" اور حرام "حسد" میں فرق ہے۔ غبطہ میں ترقی کی خواہش ہے، اور حسد میں جلن اور دوسرے کی بربادی کی تمنا۔
۴. حسد کے اسباب: کیوں پیدا ہوتا ہے حسد؟
اللہ کے بندو! حسد کئی اسباب سے پیدا ہوتا ہے:
- دشمنی اور بغض: جب دل میں کسی سے نفرت ہو، تو اس کی خوشی دیکھ کر جلن ہوتی ہے۔
- تکبر: متکبر انسان یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ اس سے آگے کوئی بڑھ جائے، اس لیے وہ حسد کرنے لگتا ہے۔
- خوفِ فوت: کبھی حسد اس ڈر سے ہوتا ہے کہ فلاں شخص بھی میری طرح کا مقام حاصل نہ کر لے، خاص کر جب دونوں کا ایک ہی میدان ہو۔
- حبِ جاہ: شہرت اور عزت کی محبت بھی حسد کو جنم دیتی ہے، جب دوسرے کو عزت ملتی ہے تو دل جلتا ہے۔
- بخل: بخیل شخص دوسروں کو ملی ہوئی نعمتوں پر جلتا ہے، کیونکہ وہ خود دینے سے بخل کرتا ہے۔
یہ سب اسباب دراصل نفسانی بیماریاں ہیں، اور ان کا علاج قرآن و سنت میں موجود ہے۔
۵. حسد کے نقصانات: انفرادی اور اجتماعی تباہی
بھائیو! حسد کے نقصانات بے شمار ہیں:
- دین کا نقصان: حسد نیکیوں کو کھا جاتا ہے، اور ایمان کو کمزور کرتا ہے۔ حسد کرنے والا اللہ کی تقسیم پر راضی نہیں ہوتا، اور یہ اللہ پر اعتراض کے مترادف ہے۔
- دنیا کا نقصان: حسد کرنے والا ہمیشہ جلن، بے چینی، اور ذہنی اذیت میں رہتا ہے، اسے کبھی سکون نہیں ملتا۔ وہ دوسروں کی خوشیوں پر غمگین ہوتا ہے، اور یہ اس کی اپنی صحت کو تباہ کرتا ہے۔
- معاشرتی نقصان: حسد سے رشتے ٹوٹتے ہیں، دوستیاں دشمنیوں میں بدلتی ہیں، اور معاشرے میں بھائی چارہ ختم ہو جاتا ہے۔
- عملی نقصان: حسد کرنے والا اکثر غیبت، چغلی، بہتان، اور بعض اوقات ظلم و زیادتی پر بھی اتر آتا ہے، جس سے اس کے گناہوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
۶. حسد کا علاج: قرآن و سنت کی روشنی میں عملی نسخہ
اللہ کے بندو! حسد ایک بیماری ہے، لیکن اس کا علاج ممکن ہے۔ اس علاج کے لیے درج ذیل اقدامات کریں:
- اللہ کی تقسیم پر راضی رہنا: یہ یقین رکھیں کہ اللہ نے جسے جو نعمت دی ہے، اس میں حکمت ہے۔ اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ آپ کو جو ملا ہے، اس پر راضی رہیں، اور ترقی کی جائز خواہش رکھیں، لیکن دوسرے کی نعمت چھننے کی تمنا نہ کریں۔
- حسد کرنے والے کے لیے دعا: جب بھی دل میں کسی کے لیے حسد کا جذبہ پیدا ہو، فوراً اس شخص کے لیے دعا کریں: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ، وَزِدْهُ مِنْ فَضْلِكَ»۔ اس سے دل کی جلن ٹھنڈی ہوگی، اور فرشتے آپ کے لیے بھی دعا کریں گے۔
- حسد کا عملی خلاف کریں: جس سے حسد ہو، اس کے ساتھ اچھا سلوک کریں، اسے تحفہ دیں، اس کی مدد کریں۔ یہ نفس پر بھاری ہے، لیکن حسد کی آگ بجھانے کا بہترین طریقہ ہے۔
- موت اور آخرت کی یاد: جب موت یاد ہوگی تو دل میں جلن کی جگہ نہیں رہے گی، کیونکہ سب کچھ یہیں رہ جانا ہے۔
- سورہ فلق کا ورد: صبح و شام سورہ فلق پڑھیں، خاص طور پر "وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ" پر توجہ کریں۔
- اللہ سے مدد مانگیں: نبی ﷺ کی سکھائی ہوئی دعا پڑھیں: «اللَّهُمَّ طَهِّرْ قَلْبِي مِنَ الْحَسَدِ وَالْغِلِّ وَالْحِقْدِ»۔
- اپنی نعمتوں کو گنیں: دوسروں کی نعمتوں پر نظر رکھنے کے بجائے اپنی نعمتوں کو گنیں، اس سے شکر بڑھے گا اور حسد کم ہوگا۔
۷. اختتامی نصیحت: حسد سے پاک دل، جنت کی کنجی ہے
اللہ کے بندو! سنو! جنت میں داخلہ صرف "قلب سلیم" یعنی پاک دل والوں کو ملے گا، اور پاک دل وہ ہے جو شرک، کفر، نفاق، کینہ، بغض، اور حسد سے پاک ہو۔
اللہ تعالیٰ نے جنت والوں کی صفت بیان فرمائی:
﴿وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ تَجْرِي مِن تَحْتِهِمُ الْأَنْهَارُ ۖ وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَـٰذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللَّـهُ﴾
(سورۃ الأعراف: 43)
ترجمہ: "اور ہم نے ان کے سینوں میں جو کینہ (اور حسد) تھا وہ نکال دیا، ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، اور وہ کہیں گے: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اس کی ہدایت دی، اور ہم ہدایت نہ پاتے اگر اللہ ہمیں ہدایت نہ دیتا۔"
پس اگر تم جنت میں داخل ہونا چاہتے ہو، تو اپنے دلوں کو حسد، کینہ، اور بغض سے پاک کرو، اور اللہ کے بندوں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو۔
۸. دعا
«اللَّهُمَّ طَهِّرْ قُلُوبَنَا مِنَ الْحَسَدِ وَالْغِلِّ وَالْحِقْدِ وَالْبَغْضَاءِ»
«اللَّهُمَّ أَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا، وَاهْدِنَا سُبُلَ السَّلَامِ»
(سنن أبي داود: 969 - صحيح)
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ»
«رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا ۚ رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ»
(سورۃ الحشر: 10)
اللهم إنا نسألك قلوباً سليمة، ونفوساً مطمئنة، وأخلاقاً حسنة. اللهم أذهب عنا الحسد والغل والبغضاء، واملأ قلوبنا بمحبتك ومحبة عبادك الصالحين. اللهم من كان في قلبه حسد لأحد من خلقك فطهره منه، ومن حسدنا أو بغى علينا فاغفر له وتجاوز عنه. اللهم اجعلنا من عبادك المخلصين، وارزقنا الرضا بقضائك، والشكر على نعمائك. وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.