قربانی: حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت، تقویٰ کی روح اور عید الاضحیٰ کا پیغام
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي شَرَعَ لَنَا الْأَضَاحِيَّ وَالْهَدَايَا، وَجَعَلَهَا إِحْيَاءً لِسُنَّةِ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، فَادِي الْأَرْوَاحِ وَالْأَمْوَالِ بِالْجَنَّةِ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، الَّذِي ضَحَّىٰ فِي حَيَاتِهِ، وَسَنَّ لِأُمَّتِهِ سُنَّةَ الْأُضْحِيَةِ. صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ الَّذِينَ بَذَلُوا الْغَالِيَ وَالنَّفِيسَ فِي مَرْضَاةِ اللَّهِ. أَمَّا بَعْدُ!
اللہ کے نیک بندو! ایمان والو! ہم ایک عظیم الشان اسلامی تہوار اور ایک عظیم تر عبادت کے استقبال کے قریب ہیں۔ وہ عبادت جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، جسے اللہ نے قیامت تک کے لیے مسلمانوں کے لیے مشروع فرمایا، جس کے ذریعے بندہ اپنی عاجزی، اپنی اطاعت، اور اپنے مال کی محبت کو اللہ کی محبت پر قربان کرنے کا اعلان کرتا ہے۔ یہ عبادت ہے قربانی، اور یہ تہوار ہے عید الاضحیٰ!
بھائیو! قربانی صرف جانور ذبح کرنے اور گوشت کھانے کا نام نہیں، بلکہ یہ اس جذبے کا نام ہے جس کا مظاہرہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام نے میدانِ منیٰ میں کیا — جب ایک باپ اللہ کے حکم پر اپنے لختِ جگر کو ذبح کرنے کے لیے لیٹا رہا تھا، اور ایک بیٹا اللہ کی رضا کے لیے اپنی گردن پیش کر رہا تھا۔ یہ وہ تسلیم و رضا ہے جسے اللہ نے ہمیشہ کے لیے اپنی بارگاہ میں قبول فرما لیا، اور اس کی یاد کو قیامت تک کے لیے زندہ رکھنے کا حکم دیا۔
قربانی کا یہ فریضہ یا سنت ہر اس مسلمان پر ہے جو صاحبِ استطاعت ہو، اور یہ حج کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے اس عظیم عبادت کا موقع ہے۔ یہ دس ذی الحجہ اور ایامِ تشریق میں ادا کی جاتی ہے، اور اس کے ذریعے ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس قول کو عملاً دہراتے ہیں: «إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا ۖ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ» (الأنعام: 79)۔
آج کے خطبے میں ہم قربانی کی شرعی حیثیت، اس کی حکمتیں، اس کے احکام و مسائل، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کا ایمان افروز واقعہ، موجودہ دور میں قربانی کے پیغام، اور اس کے آداب کے بارے میں جانیں گے۔ غور سے سنو! شاید اس عید پر تمہاری قربانی محض ایک رسم نہ رہے بلکہ ایک شعوری عبادت بن جائے، اور تم اس عظیم سنت کی روح کو پا لو۔
۱. قرآن کریم میں قربانی کا حکم اور اس کی فضیلت
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں قربانی کو اپنے لیے خاص کیا، اور اسے اپنی عبادت کا حصہ قرار دیا۔ سنیے! رب العالمین فرماتا ہے:
﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾
(سورۃ الكوثر: 2)
ترجمہ: "پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے۔"
یہ سورہ کوثر ہے، جس میں اللہ نے نبی ﷺ کو بے شمار خیر عطا فرمانے کے بعد حکم دیا کہ نماز اور قربانی دونوں خالص اللہ کے لیے کرو۔ نماز بدنی عبادت ہے، اور قربانی مالی عبادت ہے، دونوں اللہ کے لیے جمع ہیں۔
دوسری جگہ اللہ نے قربانی کے جانوروں کو "شعائر اللہ" یعنی اللہ کی نشانیوں میں شمار کیا:
﴿وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُم مِّن شَعَائِرِ اللَّـهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ ۖ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّـهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ ۚ فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ ۚ كَذَٰلِكَ سَخَّرْنَاهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾
(سورۃ الحج: 36)
ترجمہ: "اور قربانی کے اونٹوں کو ہم نے تمہارے لیے اللہ کی نشانیوں میں سے بنایا ہے، تمہارے لیے ان میں بھلائی ہے، پس ان پر کھڑے ہونے کی حالت میں اللہ کا نام لو، پھر جب ان کے پہلو زمین پر لگ جائیں تو اس میں سے خود بھی کھاؤ اور قناعت کرنے والے اور سوال کرنے والے کو بھی کھلاؤ، اسی طرح ہم نے انہیں تمہارے تابع کر دیا تاکہ تم شکر کرو۔"
اس آیت میں قربانی کے تین مقاصد بیان فرمائے: اللہ کا نام لینا — یعنی ذکر اور توحید، گوشت خود کھانا — یعنی اللہ کی نعمت سے فائدہ اٹھانا، اور فقراء و مساکین کو کھلانا — یعنی سخاوت اور ہمدردی۔
سب سے اہم بات جو اللہ نے قربانی کے بارے میں فرمائی، وہ یہ ہے کہ اللہ تک قربانی کا گوشت یا خون نہیں پہنچتا، بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے:
﴿لَن يَنَالَ اللَّـهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَـٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللَّـهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ ۗ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِينَ﴾
(سورۃ الحج: 37)
ترجمہ: "اللہ کو ہرگز نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ ان کا خون، لیکن اسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے، اسی طرح اس نے انہیں تمہارے تابع کر دیا تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو اس بات پر کہ اس نے تمہیں ہدایت دی، اور احسان کرنے والوں کو خوشخبری دے دو۔"
یہ قربانی کی روح ہے! گوشت یا خون مقصود نہیں بلکہ دل کا تقویٰ، اللہ کا خوف، اس کی محبت، اور اس کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا مقصود ہے۔
۲. احادیث نبویہ میں قربانی کی فضیلت اور اس کے احکام
نبی کریم ﷺ نے خود قربانی کی، اور امت کو اس کی ترغیب دی۔ سنیے!
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:
«ضَحَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ، وَسَمَّىٰ وَكَبَّرَ، وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَىٰ صِفَاحِهِمَا»
(صحيح البخاري: 5558، صحيح مسلم: 1966)
ترجمہ: "نبی ﷺ نے دو چتکبرے، سینگوں والے مینڈھوں کی قربانی کی، انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا، بسم اللہ اور اللہ اکبر کہا، اور اپنا قدم ان کے پہلو پر رکھا۔"
یہ قربانی کا مسنون طریقہ ہے۔ خود اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا سنت ہے، اور اگر کوئی دوسرا ذبح کرے تو اس کے پاس کھڑا رہنا بھی سنت ہے۔
قربانی کی فضیلت کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا:
«مَا عَمِلَ ابْنُ آدَمَ يَوْمَ النَّحْرِ عَمَلًا أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ إِرَاقَةِ دَمٍ، وَإِنَّهَا لَتَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقُرُونِهَا وَأَظْلَافِهَا وَأَشْعَارِهَا، وَإِنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ اللَّهِ بِمَكَانٍ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ، فَطِيبُوا بِهَا نَفْسًا»
(سنن الترمذي: 1493 - حسن، سنن ابن ماجه: 3126)
ترجمہ: "ابن آدم قربانی کے دن کوئی ایسا عمل نہیں کرتا جو اللہ کو خون بہانے سے زیادہ محبوب ہو، اور بے شک یہ قربانی قیامت کے دن اپنے سینگوں، کھروں اور بالوں کے ساتھ آئے گی، اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے ہاں مقامِ قبولیت حاصل کر لیتا ہے، پس اسے خوش دلی سے کرو۔"
کتنی بڑی فضیلت ہے! قربانی کا جانور قیامت کے دن اسی حالت میں آئے گا، اور یہ تمہارے لیے گواہ بنے گا۔ خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کی بارگاہ میں قبول ہو جاتا ہے۔
نبی ﷺ نے قربانی نہ کرنے والوں کے لیے سخت انتباہ بھی فرمایا:
«مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ وَلَمْ يُضَحِّ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا»
(سنن ابن ماجه: 3123 - حسن، مسند أحمد: 2/321)
ترجمہ: "جس کے پاس استطاعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے، تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔"
پس صاحبِ استطاعت پر قربانی واجب ہے یا سنتِ مؤکدہ (جمہور کے نزدیک سنتِ مؤکدہ ہے، اور احناف کے نزدیک واجب)، اور اسے ترک کرنا سخت محرومی ہے۔
۳. حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی: تسلیم و رضا کی لازوال داستان
بھائیو! قربانی کی اصل روح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس عظیم واقعے میں پوشیدہ ہے، جسے قرآن نے تفصیل سے بیان فرمایا:
﴿وَقَالَ إِنِّي ذَاهِبٌ إِلَىٰ رَبِّي سَيَهْدِينِ ۞ رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ ۞ فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ ۞ فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَىٰ ۚ قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّـهُ مِنَ الصَّابِرِينَ ۞ فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ ۞ وَنَادَيْنَاهُ أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ ۞ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا ۚ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ۞ إِنَّ هَـٰذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ ۞ وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ ۞ وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ ۞ سَلَامٌ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ ۞ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ۞ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ﴾
(سورۃ الصافات: 99-111)
ترجمہ: "اور ابراہیم نے کہا: میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں، وہ ضرور میری رہنمائی فرمائے گا۔ اے میرے رب! مجھے صالح اولاد عطا فرما۔ تو ہم نے اسے ایک حلیم و بردبار لڑکے کی بشارت دی۔ پھر جب وہ (اسماعیل) ان کے ساتھ دوڑنے کی عمر کو پہنچا تو ابراہیم نے کہا: اے میرے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، سو تو بتا تیری کیا رائے ہے؟ اس نے کہا: اے میرے ابا! جو آپ کو حکم دیا جا رہا ہے کر ڈالیے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔ پھر جب دونوں نے حکم مان لیا اور اس نے (ابراہیم نے) اسے پیشانی کے بل لٹا دیا، تو ہم نے اسے پکارا: اے ابراہیم! تو نے اپنا خواب سچ کر دکھایا، بے شک ہم اسی طرح نیکی کرنے والوں کو جزا دیتے ہیں۔ بے شک یہ بہت بڑی آزمائش تھی۔ اور ہم نے اس کا فدیہ ایک بڑے ذبیحے سے دے دیا۔ اور ہم نے اس کا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں باقی رکھا۔ سلام ہو ابراہیم پر! ہم اسی طرح نیکی کرنے والوں کو جزا دیتے ہیں۔ بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔"
سوچو! جب ابراہیم علیہ السلام نے خواب دیکھا — اور انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے — تو انہوں نے فوراً حکم کی تعمیل کا ارادہ کر لیا۔ بیٹے سے مشورہ کیا، اور بیٹے نے کیا کہا؟ "يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ" — جو حکم ہو رہا ہے کر ڈالیے! نہ کوئی حیلہ، نہ کوئی بہانہ، نہ کوئی سوال "کیوں؟"۔ یہ ہے تسلیم! یہ ہے رضا!
اور پھر جب باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا — اللہ اکبر! کیا منظر ہوگا! — تو اللہ نے ان کی قربانی قبول فرما لی، اور اسماعیل کی جگہ ایک مینڈھا دے دیا۔ اور اس واقعے کو قیامت تک کے لیے مسلمانوں کے لیے سنت قرار دے دیا، کہ ہر سال ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو ہم اس عظیم قربانی کی یاد تازہ کریں، اور اپنے جانوروں کی قربانی کے ذریعے یہ ثابت کریں کہ ہم بھی اللہ کے حکم پر اپنی محبوب ترین چیز — اپنا مال — قربان کرنے کو تیار ہیں۔
۴. قربانی کے احکام و مسائل: ایک مختصر جائزہ
بھائیو! قربانی کے چند اہم احکام جان لینا ضروری ہے، تاکہ عبادت صحیح طریقے سے ادا ہو:
- کس پر واجب ہے؟ ہر عاقل، بالغ، مقیم مسلمان جو صاحبِ نصاب ہو (یعنی اس کے پاس قربانی کے دنوں میں ضروریاتِ زندگی سے زائد ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت موجود ہو)۔
- قربانی کا وقت: دس ذی الحجہ کو عید کی نماز کے بعد سے لے کر بارہ ذی الحجہ کے سورج غروب ہونے تک، یعنی تین دن (ایامِ تشریق)۔
- قربانی کے جانور: اونٹ (کم از کم پانچ سال)، گائے یا بھینس (کم از کم دو سال)، بکرا یا بھیڑ (کم از کم ایک سال، بھیڑ چھ ماہ بھی چل سکتی ہے)۔ جانور عیب دار نہ ہو: لنگڑا، کانا، بیمار، یا بہت کمزور نہ ہو۔
- گوشت کی تقسیم: بہتر یہ ہے کہ تین حصے کیے جائیں: ایک حصہ اپنے اور گھر والوں کے لیے، ایک حصہ رشتہ داروں اور دوستوں کے لیے، اور ایک حصہ غریبوں اور مسکینوں کے لیے۔
- قربانی کے آداب: قربانی سے پہلے ذی الحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں ناخن اور بال نہ کاٹے جائیں (جو قربانی کرنے والا ہو)۔ جانور کو قبلہ رخ لٹایا جائے، "بسم الله والله أكبر" کہا جائے، اور اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا افضل ہے۔
۵. قربانی کی حکمتیں اور اس کا معاشرتی پہلو
اللہ کے بندو! قربانی میں بے شمار حکمتیں پوشیدہ ہیں:
- تسلیم و رضا کا اظہار: یہ عبادت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کے حکم کے سامنے ہر چیز قربان کرنے کو تیار رہنا چاہیے۔
- اللہ کے نام کی سربلندی: جانور ذبح کرتے وقت "بسم اللہ، اللہ اکبر" کہہ کر ہم توحید کا اعلان کرتے ہیں، اور اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ہر جان اللہ ہی کے نام پر لی جا سکتی ہے۔
- تقویٰ کا امتحان: جیسا کہ آیت میں فرمایا: "لَن يَنَالَ اللَّـهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَـٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ" — اصل چیز تقویٰ ہے، یعنی دل کا وہ خوف اور محبت جو تمہیں اللہ کے حکم کی تعمیل پر آمادہ کرے۔
- معاشرتی ہمدردی: قربانی کے گوشت سے غرباء و مساکین کو فائدہ پہنچتا ہے، اور معاشرے میں بھائی چارے اور محبت کی فضا قائم ہوتی ہے۔
- سنتِ ابراہیمی کا احیاء: یہ عبادت ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم قربانی کی یاد دلاتی ہے، اور ہمیں بتاتی ہے کہ ہم اس عظیم نبی کی امت ہیں۔
۶. موجودہ دور میں قربانی کا پیغام
بھائیو! آج کے مادہ پرست دور میں، جہاں مال کی محبت دلوں پر چھائی ہوئی ہے، قربانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حقیقی محبت صرف اللہ سے ہونی چاہیے، اور اس کی راہ میں مال قربان کرنا دراصل مال کو پاک کرنا ہے، ضائع کرنا نہیں۔
دوسری طرف، قربانی کے نام پر جو اسراف، دکھاوا، اور ریاکاری ہوتی ہے، وہ اس عبادت کی روح کو تباہ کر دیتی ہے۔ بہت سے لوگ قربانی کے جانوروں کی قیمتوں اور سینگوں کی لمبائی پر فخر کرتے ہیں، مگر دل میں ابراہیمی جذبہ نہیں ہوتا۔ یاد رکھو! اللہ تک جانور کا گوشت نہیں بلکہ تمہارے دل کا تقویٰ پہنچتا ہے۔
اسی طرح، کچھ لوگ قربانی کو محض ایک رسم سمجھ کر گوشت تقسیم کرنے میں بھی غریب رشتہ داروں کو بھول جاتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ قربانی کا بہترین حصہ ان لوگوں کو دیں جو واقعی مستحق ہوں، اور اسے ذریعہ بنائیں ان دلوں کو جوڑنے کا جن سے ناراضی چل رہی ہے۔
۷. اصلاحی نکات: قربانی کو سنت کے مطابق کیسے ادا کریں؟
- نیت خالص کریں: قربانی صرف اللہ کی رضا کے لیے کریں، دکھاوے یا فخر کے لیے نہیں۔
- سنت کے مطابق ذبح کریں: خود اپنے ہاتھ سے ذبح کرنے کی کوشش کریں، یا کم از کم موجود رہیں۔
- تکبیراتِ تشریق کا اہتمام: نو ذی الحجہ کی فجر سے تیرہ ذی الحجہ کی عصر تک فرض نمازوں کے بعد تکبیرات کہنا واجب ہے: «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ»۔
- عید کی نماز اور خطبہ: عید الاضحیٰ کی نماز باجماعت ادا کریں، اور خطبہ سنیں، یہ سنتِ مؤکدہ ہے۔
- گوشت کی تقسیم میں حکمت: غرباء، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو ضرور یاد رکھیں۔
- ذی الحجہ کے ابتدائی عشرے کی فضیلت: ان دس دنوں میں زیادہ سے زیادہ نیک اعمال، روزے (خاص طور پر عرفہ کا روزہ)، تسبیح، تہلیل، تکبیر، اور صدقہ کریں۔
- قربانی کے بعد شکر: اللہ کا شکر ادا کریں کہ اس نے یہ سعادت نصیب فرمائی، اور دعا کریں کہ یہ قربانی قبول فرمائے۔
- جانوروں کے ساتھ حسنِ سلوک: ذبح سے پہلے جانور کو پانی پلائیں، اسے آرام سے رکھیں، تیز دھار چھری استعمال کریں، اور دوسرے جانوروں کے سامنے ذبح نہ کریں۔
۸. اختتامی نصیحت: قربانی تقویٰ کی علامت ہے
اللہ کے بندو! سنو! قربانی تمہارے ایمان کا امتحان ہے۔ یہ دیکھنے کا موقع ہے کہ کیا تم اپنے مال کی محبت کو اللہ کی محبت پر قربان کر سکتے ہو؟ کیا تم ابراہیم علیہ السلام کی سنت پر عمل کر سکتے ہو؟
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«أَفْضَلُ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمُ النَّحْرِ، ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ»
(سنن أبي داود: 1765 - صحيح)
ترجمہ: "اللہ کے نزدیک سب سے افضل دن یوم النحر (دس ذی الحجہ) ہے، پھر اس کے بعد یوم القر (گیارہ ذی الحجہ)۔"
پس ان ایام کی قدر کرو، ان میں اللہ کی عبادت کرو، اور اپنی قربانیوں کو قبولیت کا شرف دلاؤ۔
۹. دعا
«اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنَّا أَضَاحِيَّنَا، وَاجْعَلْهَا خَالِصَةً لِوَجْهِكَ الْكَرِيمِ»
«اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا قَلْبًا سَلِيمًا، وَنَفْسًا مُطْمَئِنَّةً، وَإِيمَانًا صَادِقًا»
«رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ۞ رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِن ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ»
(سورۃ البقرہ: 127-128)
«اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ نَبِيُّكَ إِبْرَاهِيمُ وَمُحَمَّدٌ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمَا»
اللهم اجعل أيام عيدنا فرحاً وسروراً، وأدم علينا نعمتك، وبارك لنا في أرزاقنا، واجعلنا من عبادك الصالحين. اللهم أعتق رقابنا من النار، وأعتق رقاب آبائنا وأمهاتنا وأزواجنا وذرياتنا. اللهم من ضحى منا فتقبل ضحيته، ومن لم يضح فتقبل نيته، وأعن كل محتاج، وفرج كل مهموم. وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.
TAGS JSON: { "tags": ["قربانی", "عید الاضحی", "ابراہیم علیہ السلام", "اسماعیل علیہ السلام", "ذی الحجہ", "ایام تشریق", "تکبیرات", "تقوی", "عبادت", "گوشت"], "category": "حج", "related_month": "ذی الحجہ", "related_people": ["حضرت ابراہیم علیہ السلام", "حضرت اسماعیل علیہ السلام", "حضرت محمد ﷺ", "حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ"] } FEATURED IMAGE IDEA: حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے اسماعیل کو پیشانی کے بل لٹائے ہوئے، اوپر آسمان سے ایک مینڈھا اتر رہا ہو، پس منظر میں کعبہ اور عیدگاہ کا منظر، اوپر عربی خطاطی میں "لَن يَنَالَ اللَّـهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَـٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ" اور نیچے "فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ" لکھا ہو۔