صبر و شکر: مومن کی زندگی کے دو پہیے، ہر حال میں اللہ کی رضا کا راستہ
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ الصَّبْرَ ضِيَاءً، وَالشُّكْرَ زِيَادَةً، وَوَعَدَ الصَّابِرِينَ وَالشَّاكِرِينَ بِالْفَوْزِ الْعَظِيمِ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، يُبْتَلِي عِبَادَهُ بِالسَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ لِيَنْظُرَ كَيْفَ يَعْمَلُونَ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، كَانَ أَصْبَرَ النَّاسِ وَأَشْكَرَهُمْ، وَقَالَ: "عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ". صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ الَّذِينَ صَبَرُوا عَلَى الْبَلَاءِ وَشَكَرُوا عَلَى النَّعْمَاءِ. أَمَّا بَعْدُ!
اللہ کے نیک بندو! ایمان والو! آج میں تمہیں دو ایسی عظیم صفات کی طرف بلانے آیا ہوں جو مومن کی پوری زندگی کو محیط ہیں، جن کے بغیر ایمان ادھورا، زندگی بے سکون، اور آخرت کی کامیابی ناممکن ہے۔ یہ دو صفتیں ایسی ہیں کہ مومن کی زندگی کا کوئی لمحہ ان سے خالی نہیں — اگر اسے نعمت ملے تو وہ ایک صفت سے متصف ہوتا ہے، اور اگر مصیبت آئے تو دوسری صفت اس کا سہارا بنتی ہے۔ یہ مومن کی زندگی کے دو پہیے ہیں، جن پر سوار ہو کر وہ دنیا کے طوفانوں سے گزرتا ہے اور آخرت کی منزل تک پہنچتا ہے۔ یہ ہیں صبر اور شکر!
بھائیو! صبر اور شکر کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ صبر یہ ہے کہ جب اللہ کی طرف سے کوئی آزمائش، کوئی مصیبت، کوئی تکلیف آئے تو بندہ اس پر بے صبری نہ کرے، شکوہ نہ کرے، بلکہ اللہ کی رضا پر راضی رہے اور ثواب کی امید رکھے۔ اور شکر یہ ہے کہ جب اللہ کی طرف سے کوئی نعمت، کوئی خوشی، کوئی آسانی ملے تو بندہ اسے اللہ کی طرف سے جانے، اس پر اللہ کی تعریف کرے، اور اس نعمت کو اللہ کی نافرمانی میں استعمال نہ کرے۔
نبی کریم ﷺ نے مومن کی شان بیان فرمائی: "عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ؛ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ" (مسلم: 2999) — مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اس کا ہر معاملہ اس کے لیے خیر ہے، اور یہ چیز مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں: اگر اسے خوشی پہنچے تو شکر کرتا ہے تو یہ اس کے لیے خیر ہے، اور اگر اسے تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے خیر ہے۔
آج کے خطبے میں ہم صبر و شکر کی حقیقت، قرآن و سنت میں ان کی فضیلت، انبیاء کرام اور صالحین کی زندگیوں سے مثالیں، موجودہ دور میں ان کی ضرورت، اور انہیں اپنانے کے عملی طریقوں کے بارے میں جانیں گے۔ غور سے سنو! شاید آج کے بعد تمہاری زندگی کا انداز بدل جائے، اور تم ہر حال میں اللہ کی رضا تلاش کرنے لگو۔
۱. صبر: مصیبت میں ثابت قدمی، اللہ کی رضا پر راضی رہنا
بھائیو! ہم پہلے بھی صبر کے موضوع پر تفصیل سے گفتگو کر چکے ہیں، لیکن آج صبر و شکر کے امتزاج کی بات ہو رہی ہے۔ مختصراً یاد دہانی کر لیں کہ صبر کا مطلب ہے مصیبت کے وقت بے صبری، شکوے، اور نوحہ سے بچنا، اور اللہ کی رضا پر راضی رہنا۔
اللہ نے صبر کرنے والوں کی مدح فرمائی:
﴿وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ ۞ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ۞ أُولَـٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ﴾
(سورۃ البقرہ: 155-157)
ترجمہ: "اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو، وہ لوگ کہ جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں: ہم اللہ کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے خصوصی نوازشیں اور رحمت ہے، اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔"
صبر کا اجر بے حساب ہے، جیسا کہ اللہ نے فرمایا: «إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ» (الزمر: 10)۔
حضرت ایوب علیہ السلام کا صبر ضرب المثل ہے۔ برسوں کی بیماری، مال و اولاد کی ہلاکت، بیوی کا چھوڑ جانا — ان سب پر صبر کیا، اور جب زبان کھولی تو صرف اتنا کہا: «أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ» (الأنبياء: 83) — مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب سے بڑا رحم کرنے والا ہے۔ نہ شکوہ، نہ گلہ، نہ "کیوں" کا سوال۔ اور اللہ نے انہیں شفا دی، ان کا مال و اولاد لوٹایا، اور ان کا درجہ بلند کیا۔
۲. شکر: نعمتوں کا اعتراف، زبان، دل اور اعضاء سے
اور دوسرا پہیہ ہے شکر۔ شکر کا مطلب ہے کہ بندہ اللہ کی نعمتوں کا اعتراف کرے، زبان سے اس کی تعریف کرے، دل سے اس کی محبت رکھے، اور اپنے اعضاء کو اس کی اطاعت میں لگائے۔
اللہ نے شکر کرنے والوں کو نعمتوں میں اضافے کا وعدہ دیا:
﴿وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ﴾
(سورۃ إبراہیم: 7)
ترجمہ: "اور جب تمہارے رب نے اعلان کر دیا کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا، اور اگر تم ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب سخت ہے۔"
حضرت سلیمان علیہ السلام کی زندگی شکر کی بہترین مثال ہے۔ انہیں اللہ نے وہ سلطنت دی جو کسی کو نہیں ملی، اور انہوں نے اس پر کہا:
﴿هَـٰذَا مِن فَضْلِ رَبِّي لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ ۖ وَمَن شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ ۖ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ﴾
(سورۃ النمل: 40)
ترجمہ: "یہ میرے رب کے فضل سے ہے، تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری، اور جو شکر کرتا ہے وہ اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے، اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز اور کریم ہے۔"
نبی ﷺ کا شکر کا عالم یہ تھا کہ آپ رات رات بھر قیام فرماتے، پاؤں مبارک سوج جاتے، اور جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا تو فرمایا: «أَفَلَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا» (بخاری: 4836، مسلم: 2819) — کیا مجھے پسند نہ ہو کہ میں شکر گزار بندہ بنوں؟
۳. صبر اور شکر کا مومن کی زندگی میں امتزاج
بھائیو! مومن کی زندگی صبر اور شکر کے درمیان گزرتی ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب اسے کسی نعمت پر شکر کا موقع نہ ملتا ہو، یا کسی مشکل پر صبر کا موقع نہ آتا ہو۔ صبر اور شکر مل کر مومن کے ایمان کو مضبوط کرتے ہیں، اس کے دل کو سکون دیتے ہیں، اور اسے اللہ کی رضا کا مستحق بناتے ہیں۔
دونوں میں توازن ضروری ہے: نعمتوں پر شکر کرنا اور مصیبتوں پر صبر کرنا۔ دونوں میں سے کسی ایک کی کمی انسان کو تباہ کر سکتی ہے — اگر نعمتوں پر شکر نہ کیا جائے تو اللہ چھین لیتا ہے، اور اگر مصیبت پر صبر نہ کیا جائے تو بے چینی اور مایوسی گھیر لیتی ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
«مَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً خَيْرًا وَأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ»
(صحيح البخاري: 1469، صحيح مسلم: 1053)
ترجمہ: "کسی شخص کو صبر سے بہتر اور کشادہ کوئی عطیہ نہیں دیا گیا۔"
اور شکر کے بارے میں فرمایا کہ جو کھانا کھا کر شکر کرے وہ صبر کرنے والے روزہ دار کے درجے میں ہے۔ (ترمذي: 2486 - صحیح)
۴. موجودہ دور میں صبر و شکر کی ضرورت
اللہ کے بندو! آج کے دور میں صبر اور شکر دونوں کی بہت کمی ہے۔ لوگ معمولی سی تکلیف پر بے صبر ہو جاتے ہیں، شکوے شکایتیں کرنے لگتے ہیں، اور بڑی بڑی نعمتوں کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں، ان پر شکر نہیں کرتے۔ سوشل میڈیا پر دوسروں کی زندگیوں کو دیکھ کر اپنی زندگی سے نالاں رہتے ہیں، نہ اپنی نعمتوں پر شکر، نہ دوسروں کی آزمائشوں کو دیکھ کر صبر کا سبق۔
حالانکہ اگر ہم صبر کریں تو اللہ ہر مشکل سے نکالنے کا وعدہ فرماتا ہے، اور اگر شکر کریں تو اللہ نعمتوں میں اضافے کا وعدہ فرماتا ہے۔ یہ دونوں وعدے اللہ کے ہیں، اور اللہ کبھی اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔
۵. اصلاحی نکات: صبر و شکر کو زندگی میں کیسے اپنائیں؟
- مصیبت میں "إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ" پڑھیں: یہ صبر کا پہلا قدم ہے، اس سے دل کو تسلی ملتی ہے۔
- نعمتوں کو گنیں: ہر رات سونے سے پہلے دن بھر کی دس نعمتیں سوچیں، اور اللہ کا شکر ادا کریں۔
- شکر کی دعائیں پڑھیں: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي بِنِعْمَتِهِ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ» اور «اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَىٰ ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ» کا ورد کریں۔
- اپنے سے کم تر لوگوں کو دیکھیں: دنیاوی معاملات میں اپنے سے نیچے والوں کو دیکھیں، اس سے شکر کا جذبہ بیدار ہوگا۔
- مشکل میں صبر کی دعا: «رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ» (اعراف: 126) کا ورد کریں۔
- دوسروں کی آزمائشوں سے عبرت لیں: جب کسی کو مصیبت میں دیکھیں تو اپنی نعمتوں پر شکر کریں، اور اس مصیبت زدہ کی مدد بھی کریں۔
- صبر و شکر کو عبادت سمجھیں: یہ صرف الفاظ نہیں بلکہ عبادت ہیں، ان کا اجر اللہ کے ہاں بہت بڑا ہے۔
۶. اختتامی نصیحت: صابراً شکوراً بنو!
اللہ کے بندو! سنو! اللہ نے انسان کو اس لیے پیدا نہیں کیا کہ وہ ہمیشہ خوش رہے یا ہمیشہ غم میں رہے، بلکہ اسے پیدا کیا تاکہ وہ ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرے — خوشی میں شکر کے ساتھ، اور غم میں صبر کے ساتھ۔
قرآن میں ایک بہت خوبصورت آیت ہے:
﴿إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ﴾
(سورۃ إبراہیم: 5، لقمان: 31، سبأ: 19، الشورى: 33)
ترجمہ: "بے شک اس میں نشانیاں ہیں ہر بہت صبر کرنے والے، بہت شکر کرنے والے کے لیے۔"
قرآن میں چار بار یہی الفاظ دہرائے گئے: "صَبَّارٍ شَكُورٍ" — بہت زیادہ صبر کرنے والا، بہت زیادہ شکر کرنے والا۔ یہی وہ صفت ہے جو اللہ اپنے خاص بندوں میں دیکھنا چاہتا ہے۔
پس صابراً شکوراً بنو، اور دیکھو کہ اللہ تمہاری زندگی کو کیسے سکون، برکت اور رحمت سے بھر دیتا ہے۔
۷. دعا
«رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ»
(سورۃ الأعراف: 126)
«اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَىٰ ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ»
(سنن أبي داود: 1522 - صحيح)
«اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنَ الصَّابِرِينَ الشَّاكِرِينَ، وَارْزُقْنَا الرِّضَا بِقَضَائِكَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ»
«رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ»
اللهم ارزقنا الصبر عند البلاء، والشكر عند النعماء، والرضا عند القضاء. اللهم من ابتلي منا فصبره، ومن أنعمت عليه فوفقه للشكر. اللهم لا تجعلنا من الغافلين عن نعمك، ولا من القانطين من رحمتك. اللهم أدم علينا نعمك الظاهرة والباطنة، وارزقنا شكرها، وأعذنا من زوالها. وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.
TAGS JSON: { "tags": ["صبر", "شکر", "صابراً شکوراً", "نعمت", "مصیبت", "ایوب علیہ السلام", "سلیمان علیہ السلام", "ایمان", "رضا بالقضاء", "دعا"], "category": "اصلاحی بیانات", "related_month": null, "related_people": ["حضرت محمد ﷺ", "حضرت ایوب علیہ السلام", "حضرت سلیمان علیہ السلام", "حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا"] } FEATURED IMAGE IDEA: ایک ہی شخص کے دو چہرے یا دو منظر—ایک طرف وہ سجدے میں ہو (شکر کی علامت)، دوسری طرف وہ مصیبت میں ہاتھ اٹھائے دعا کر رہا ہو (صبر کی علامت)، درمیان میں ایک دل جس پر "صبر" اور "شکر" لکھا ہو، اوپر عربی خطاطی میں "إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ" اور نیچے "عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ" لکھا ہو۔