ہوم / مضامین

قیامت کی چھوٹی اور بڑی نشانیاں قرآن و حدیث کی روشنی میں | خطبہ جمعہ

TITLE: قیامت کی نشانیاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں عبرت، تیاری اور ایمان کی تازگی SEO TITLE: قیامت کی چھوٹی اور بڑی نشانیاں قرآن و حدیث کی روشنی میں | خطبہ جمعہ SLUG: qayamat-ki-nishaniyan-quran-hadees META DESCRIPTION: قیامت کی چھوٹی اور بڑی نشانیوں کا بیان، قرآن و سنت میں ان کا ذکر، موجودہ دور سے مطابقت، اور آخرت کی تیاری کے عملی اقدامات۔ جامع، متوازن اور علمی خطبہ۔ CONTENT:

قیامت کی نشانیاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں عبرت، تیاری اور ایمان کی تازگی

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَخْبَرَنَا فِي كِتَابِهِ بِاقْتِرَابِ السَّاعَةِ، وَجَعَلَ لَهَا أَشْرَاطًا وَعَلَامَاتٍ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، الَّذِي أَخْبَرَ عَنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ بِمَا يَكُونُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ. صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ الَّذِينَ سَأَلُوهُ عَنِ السَّاعَةِ فَأَرْشَدَهُمْ إِلَى الْعَمَلِ لَهَا. أَمَّا بَعْدُ!

اللہ کے نیک بندو! ایمان والو! آج جس موضوع پر ہم بات کرنے جا رہے ہیں، یہ وہ موضوع ہے جو ہمارے ایمان کی تازگی، ہماری غفلت کو توڑنے، اور ہمیں اپنی آخرت کی تیاری کی طرف متوجہ کرنے کے لیے بہت اہم ہے۔ یہ وہ موضوع ہے جسے جاننا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے، کیونکہ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ یہ دنیا فانی ہے، اور ایک دن وہ عظیم حادثہ رونما ہونا ہے جس کے بعد کوئی واپسی نہیں، کوئی توبہ قبول نہیں، کوئی عمل نہیں۔ وہ حادثہ ہے قیامت — الساعۃ، وہ گھڑی جس کا وعدہ اللہ نے اپنی کتاب میں بار بار فرمایا، اور جس کی تفصیلات ہمارے نبی ﷺ نے اپنی امت کو بتا دیں تاکہ وہ اس کے لیے تیار رہیں۔

بھائیو! قیامت کا دن وہ دن ہے جب آسمان پھٹ جائیں گے، ستارے بکھر جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، سمندر پھاڑ دیے جائیں گے، اور تمام انسان اپنی قبروں سے اٹھ کر اللہ کے سامنے پیش ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دن کے آنے کی خبر دے دی، اور اس سے پہلے کچھ نشانیاں مقرر فرما دیں جو اس بات کی دلیل ہیں کہ قیامت قریب ہے۔ ان نشانیوں کو "أشراط الساعۃ" یعنی قیامت کی علامات کہتے ہیں، اور انہیں دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: چھوٹی نشانیاں (صغری) جو پہلے ظاہر ہو چکی ہیں یا ہو رہی ہیں، اور بڑی نشانیاں (کبری) جن کے ظاہر ہونے کے بعد قیامت قریب تر ہو جائے گی۔

آج کے خطبے میں ہم قرآن و سنت کی روشنی میں ان نشانیوں کا ذکر کریں گے، ان کے ظہور کا جائزہ لیں گے، اور یہ سمجھیں گے کہ یہ سب ہمارے لیے کیا پیغام لے کر آئی ہیں۔ مقصد ڈرانا نہیں بلکہ بیدار کرنا ہے، اور یہ شعور دینا ہے کہ زندگی کا ہر لمحہ قیمتی ہے، اور آخرت کی تیاری میں ہی عقل مندی ہے۔

۱. قرآن کریم میں قیامت کی حقیقت اور اس کی قربت کا بیان

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں قیامت کو "حق" قرار دیا، اور اس کے آنے میں کسی شک کی گنجائش نہیں چھوڑی۔ سنیے! رب العالمین فرماتا ہے:

﴿إِنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَّا رَيْبَ فِيهَا وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ
(سورۃ غافر: 59)

ترجمہ: "بے شک قیامت آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں، لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔"

پس قیامت پر ایمان لانا فرض ہے، اور اس کا انکار کفر ہے۔

اللہ نے قیامت کے قریب ہونے کی خبر بھی دی، تاکہ لوگ غفلت سے بیدار ہوں:

﴿اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ
(سورۃ الأنبياء: 1)

ترجمہ: "لوگوں کے لیے ان کا حساب قریب آ گیا، اور وہ غفلت میں منہ پھیرے ہوئے ہیں۔"

دوسری جگہ اللہ نے فرمایا:

﴿وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيبٌ
(سورۃ الأحزاب: 63)

ترجمہ: "اور آپ کو کیا خبر، شاید قیامت قریب ہی ہو۔"

پھر اللہ نے اس دن کی ہولناکیوں کا نقشہ کھینچا:

﴿يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَىٰ وَمَا هُم بِسُكَارَىٰ وَلَـٰكِنَّ عَذَابَ اللَّـهِ شَدِيدٌ
(سورۃ الحج: 2)

ترجمہ: "جس دن تم اسے دیکھو گے، ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی، اور ہر حاملہ اپنا حمل گرا دے گی، اور تم لوگوں کو نشے میں دیکھو گے، حالانکہ وہ نشے میں نہ ہوں گے، لیکن اللہ کا عذاب بہت سخت ہوگا۔"

۲. احادیث نبویہ میں قیامت کی نشانیوں کی تفصیل

نبی کریم ﷺ نے قیامت کی نشانیوں کو تفصیل سے بیان فرمایا، تاکہ امت ان کو دیکھ کر عبرت پکڑے اور تیاری کرے۔ ان نشانیوں کو ہم دو قسموں میں بیان کریں گے:

الف: چھوٹی نشانیاں (أشراط الساعۃ الصغرى)

یہ وہ علامات ہیں جو پہلے ظاہر ہو چکی ہیں، یا ہو رہی ہیں، اور ان کا تعلق عام معاشرتی، اخلاقی اور فطری تبدیلیوں سے ہے۔ نبی ﷺ نے ان میں سے بہت سی نشانیاں بیان فرمائیں، جن میں سے چند یہ ہیں:

  • علم کا اٹھ جانا اور جہالت کا پھیلنا: نبی ﷺ نے فرمایا: «مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُقْبَضَ الْعِلْمُ، وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ» (بخاری: 80، مسلم: 2671) — قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا اور جہالت پھیل جائے گی۔
  • زنا کا عام ہو جانا: «وَيَظْهَرَ الزِّنَا» (بخاری: 80) — اور زنا عام ہو جائے گا۔
  • شراب نوشی کا عام ہونا: «وَتُشْرَبَ الْخَمْرُ» (بخاری: 80) — اور شراب پی جانے لگے گی۔
  • امانت داری کا اٹھ جانا: «إِذَا ضُيِّعَتِ الْأَمَانَةُ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ» (بخاری: 6496) — جب امانت ضائع کر دی جائے تو قیامت کا انتظار کرو۔
  • والدین کا نافرمان ہو جانا: «وَتَعُقَّ الْأُمَّهَاتُ» (بخاری: 80) — اور ماؤں کی نافرمانی کی جائے گی۔
  • قتل و خونریزی کا بڑھ جانا: «وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ» (بخاری: 80) — اور ہرج (قتل) زیادہ ہو جائے گا۔
  • مال کی کثرت اور رزق کی فراوانی: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّىٰ يَكْثُرَ فِيكُمُ الْمَالُ فَيَفِيضَ» (بخاری: 1412) — قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم میں مال اس قدر نہ بڑھ جائے کہ وہ بہنے لگے۔
  • وقت کا تیزی سے گزرنا: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّىٰ يَتَقَارَبَ الزَّمَانُ، فَتَكُونَ السَّنَةُ كَالشَّهْرِ، وَالشَّهْرُ كَالْجُمُعَةِ، وَتَكُونَ الْجُمُعَةُ كَالْيَوْمِ، وَيَكُونَ الْيَوْمُ كَالسَّاعَةِ، وَتَكُونَ السَّاعَةُ كَالضَّرَمَةِ بِالنَّارِ» (ترمذی: 2332 - صحیح) — قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک زمانہ قریب نہ ہو جائے، سال مہینے کی طرح، مہینہ ہفتے کی طرح، ہفتہ دن کی طرح، اور دن گھنٹے کی طرح، اور گھنٹہ آگ کی چنگاری کی طرح تیزی سے گزرنے لگے۔
  • عورتوں کا بڑھ جانا اور مردوں کا کم ہو جانا: «وَيَقِلَّ الرِّجَالُ، وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ» (بخاری: 80) — اور مرد کم ہو جائیں گے اور عورتیں زیادہ ہو جائیں گی۔
  • چرواہوں کا اونچی عمارتیں بنانا: «وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ» (بخاری: 50، مسلم: 8) — اور تم ننگے پاؤں، ننگے بدن، محتاج، بکریاں چرانے والوں کو دیکھو گے کہ وہ اونچی اونچی عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے سے بازی لے جائیں گے۔

یہ تمام نشانیاں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، جو اس بات کی دلیل ہے کہ قیامت کا وقت قریب تر ہوتا جا رہا ہے۔

ب: بڑی نشانیاں (أشراط الساعۃ الكبرى)

یہ وہ عظیم علامات ہیں جن کے ظاہر ہونے کے بعد قیامت بہت قریب ہو جائے گی۔ نبی ﷺ نے انہیں تفصیل سے بیان فرمایا:

عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اطَّلَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ، فَقَالَ: «مَا تَذَاكَرُونَ؟» قَالُوا: نَذْكُرُ السَّاعَةَ. قَالَ:
«إِنَّهَا لَنْ تَقُومَ حَتَّىٰ تَرَوْا قَبْلَهَا عَشْرَ آيَاتٍ: الدُّخَانَ، وَالدَّجَّالَ، وَالدَّابَّةَ، وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَنُزُولَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، وَيَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَثَلَاثَةَ خُسُوفٍ: خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَآخِرُ ذَٰلِكَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْيَمَنِ تَطْرُدُ النَّاسَ إِلَىٰ مَحْشَرِهِمْ»
(صحيح مسلم: 2901)

ترجمہ: "نبی ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے جب ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے، پوچھا: کیا ذکر کر رہے ہو؟ ہم نے کہا: قیامت کا۔ فرمایا: بے شک قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو: دھواں، دجال، دابۃ (جانور)، سورج کا مغرب سے طلوع، عیسیٰ بن مریم کا نزول، یاجوج ماجوج، تین خسف (زمین کا دھنسنا): مشرق میں، مغرب میں، اور جزیرۃ العرب میں، اور ان کے آخر میں ایک آگ جو یمن سے نکلے گی اور لوگوں کو ان کے محشر کی طرف ہانک کر لے جائے گی۔"

یہ دس بڑی نشانیاں ہیں، اور ان کے علاوہ بھی کچھ نشانیاں دیگر احادیث میں آئی ہیں، جیسے مہدی کا ظہور، کعبہ کا ڈھایا جانا، قرآن کا اٹھا لیا جانا، وغیرہ۔ ان کا ظہور یکے بعد دیگرے ہوگا، اور جب آخری نشانی ظاہر ہوگی تو قیامت قریب آ جائے گی۔

۳. نشانیوں کا مقصد: عبرت، ایمان کی تجدید، اور تیاری

بھائیو! ان نشانیوں کے بیان کا مقصد محض معلومات فراہم کرنا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم انہیں دیکھ کر غفلت سے بیدار ہوں، اللہ کی طرف رجوع کریں، اور اپنی آخرت کی تیاری کریں۔

جب نبی ﷺ نے یہ نشانیاں بیان فرمائیں تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ایمان اور بڑھ گیا، ان کا خشوع اور زیادہ ہو گیا، اور انہوں نے اپنی زندگیوں کو آخرت کی تیاری کے لیے وقف کر دیا۔ اس کے برعکس آج ہم ان نشانیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، لیکن ہمارے دلوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ یہ بہت بڑی غفلت ہے۔

۴. موجودہ دور میں قیامت کی نشانیوں کا ظہور

اللہ کے بندو! اگر ہم موجودہ دور پر نظر ڈالیں تو قیامت کی چھوٹی نشانیاں بکثرت نظر آئیں گی: علماء کا اٹھ جانا اور جہالت کا پھیلنا، زنا اور فحاشی کا عام ہونا، شراب نوشی اور منشیات کا پھیلاؤ، امانت داری کا خاتمہ، والدین کی نافرمانی، قتل و خونریزی، مال کی ریل پیل اور فلک بوس عمارتوں کی ہوس، وقت کی برکت کا اٹھ جانا، اور بہت کچھ۔ یہ سب ہمیں بتا رہا ہے کہ قیامت کا دن دور نہیں۔

لیکن اس کے ساتھ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ قیامت کا صحیح وقت اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ نبی ﷺ نے جبریل علیہ السلام کے سوال "مَتَى السَّاعَةُ؟" (قیامت کب آئے گی؟) کے جواب میں فرمایا: «مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ» (بخاری: 50، مسلم: 8) — جس سے پوچھا جا رہا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔

پس تاریخوں کا تعین کرنا، یا کسی خاص سال میں قیامت کی پیشگوئی کرنا گمراہی ہے، اور ایسے دعوے کرنے والے جھوٹے ہیں۔ ہمارا کام قیامت کی تیاری کرنا ہے، نہ کہ اس کے وقت کا اندازہ لگانا۔

۵. اصلاحی نکات: قیامت کی نشانیوں سے ہم کیا سبق لیں؟

  • ایمان کی تجدید: قیامت کی نشانیوں کا مطالعہ کر کے اللہ اور آخرت پر اپنے ایمان کو تازہ کریں۔
  • عمل کی طرف رجوع: یہ جان لیں کہ کل قیامت آ سکتی ہے، اس لیے نیک اعمال میں جلدی کریں، توبہ میں تاخیر نہ کریں۔
  • گناہوں سے پرہیز: ان نشانیوں میں سے بہت سی گناہوں کے عام ہونے سے متعلق ہیں، اس لیے اپنے آپ کو ان سے بچائیں۔
  • دعا کا اہتمام: فتنوں سے بچنے کے لیے نبی ﷺ کی سکھائی ہوئی دعائیں پڑھیں، خاص طور پر دجال کے فتنے سے پناہ مانگیں۔
  • سورہ کہف کی تلاوت: جمعہ کے دن یا ہر روز سورہ کہف پڑھنے کی عادت ڈالیں، یہ دجال کے فتنے سے حفاظت ہے۔
  • نیک صحبت اختیار کریں: ان لوگوں کے ساتھ رہیں جو آخرت کی یاد دلاتے ہیں، غافلوں کی صحبت سے بچیں۔
  • موت کو کثرت سے یاد کریں: قیامت کی تیاری کا بہترین طریقہ موت کی یاد ہے، کیونکہ موت ہی چھوٹی قیامت ہے۔

۶. اختتامی نصیحت: قیامت کے لیے تیار رہو!

اللہ کے بندو! سنو! قیامت کا دن بہت ہولناک ہے، لیکن یہ مومن کے لیے باعثِ رحمت بھی ہے، کیونکہ اس دن اللہ اپنے نیک بندوں کو عزت بخشے گا، انہیں اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا، اور انہیں جنت میں داخل فرمائے گا۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ»
(صحيح البخاري: 6507، صحيح مسلم: 2684)

ترجمہ: "جو شخص اللہ سے ملاقات کو پسند کرے، اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے۔"

پس اپنے اعمال کو اس طرح سنوارو کہ جب اللہ سے ملو تو وہ تم سے راضی ہو، اور تمہیں اپنی جنت میں داخل فرمائے۔

۷. دعا

«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ»
(صحيح البخاري: 1377، صحيح مسلم: 588)
«اللَّهُمَّ ثَبِّتْنَا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ»
«اللَّهُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا، وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْآخِرَةِ»
«رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ»

اللهم إنا نسألك خشيتك في الغيب والشهادة، وكلمة الحق في الرضا والغضب، والقصد في الفقر والغنى. اللهم لا تجعل الدنيا أكبر همنا، ولا مبلغ علمنا، ولا إلى النار مصيرنا، واجعل الجنة هي دارنا. اللهم من كان منا مذنباً فاغفر له، ومن كان منا غافلاً فنبهه، ومن كان منا مستعداً فتقبل منه. وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.


TAGS JSON: { "tags": ["قیامت", "نشانیاں", "اشراط الساعہ", "دجال", "یاجوج ماجوج", "آخرت", "موت", "ایمان", "غفلت", "عمل"], "category": "آخرت", "related_month": null, "related_people": ["حضرت محمد ﷺ", "حضرت حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ", "حضرت عیسیٰ علیہ السلام"] } FEATURED IMAGE IDEA: آسمان پھٹ رہا ہو، ستارے بکھر رہے ہوں، زمین ہل رہی ہو، لوگ پریشان بھاگ رہے ہوں، ایک جانب نور اور سکون (مومنوں کے لیے)، دوسری جانب تاریکی اور وحشت، اوپر عربی خطاطی میں "إِنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَّا رَيْبَ فِيهَا" اور نیچے "مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ" لکھا ہو۔