اخلاص: اعمال کی روح، قبولیت کی شرط اور ریا کی تباہی
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ الْإِخْلَاصَ شَرْطًا لِقَبُولِ الْأَعْمَالِ، وَحَذَّرَنَا مِنَ الرِّيَاءِ وَالسُّمْعَةِ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، الْمُطَّلِعُ عَلَى السَّرَائِرِ وَالضَّمَائِرِ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، الَّذِي قَالَ: "إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ"، وَعَلَّمَ أُمَّتَهُ أَنَّ قِيمَةَ الْعَمَلِ بِمَا فِي الْقَلْبِ. صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ الَّذِينَ أَخْلَصُوا دِينَهُمْ لِلَّهِ، فَنَصَرَهُمُ اللَّهُ وَأَعَزَّهُمْ. أَمَّا بَعْدُ!
اللہ کے نیک بندو! ایمان والو! آج میں تمہارے سامنے جس موضوع کو رکھنے جا رہا ہوں، وہ تمام عبادات کی جان ہے، قبولیتِ اعمال کی بنیاد ہے، اور جنت میں داخلے کا زینہ ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو کسی عمل کو محض ایک جسمانی حرکت سے نکال کر اسے اللہ کی بارگاہ میں مقبول بنا دیتی ہے، اور اسی کے بغیر سب سے بڑی عبادت بھی رائیگاں جاتی ہے، بلکہ باعثِ وبال بن جاتی ہے۔ یہ وہ گوہر ہے جسے حاصل کرنا ہر مسلمان کا اولین مقصد ہونا چاہیے، اور جسے کھو دینے سے انسان شیطان کے دھوکے میں آ کر تباہ ہو جاتا ہے۔ یہ ہے اخلاص!
بھائیو! اخلاص کا مطلب ہے کہ بندہ اپنے ہر قول و عمل میں صرف اور صرف اللہ کی رضا کو مقصود رکھے، اس میں کسی دوسرے کی خوشنودی، شہرت، مال، یا تعریف کا شائبہ تک نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ علماء کرام فرماتے ہیں: "اخلاص، عمل میں اللہ کے سوا کسی کو شریک نہ کرنے کا نام ہے۔" یہ وہ چھپی ہوئی صفت ہے جو دل میں ہوتی ہے، جسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور جس پر ہر عمل کا اجر و ثواب منحصر ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى" — بے شک اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔ یہ حدیث پورے دین کی بنیاد ہے، اور اخلاص اسی نیت کا مرکز ہے۔
آج کے خطبے میں ہم اخلاص کی حقیقت، قرآن و سنت میں اس کی اہمیت، ریا کاری کی سنگینی اور اس کے انجام، صحابہ کرام و سلف صالحین کے اخلاص کے نمونے، اور موجودہ دور میں اخلاص کو اپنانے کے عملی طریقوں کے بارے میں جانیں گے۔ غور سے سنو! کیونکہ ہو سکتا ہے تمہاری ساری عبادتیں قبول ہی اس لیے نہ ہوتی ہوں کہ ان میں اخلاص کی کمی ہے، اور آج کا خطبہ تمہاری نیتوں کی اصلاح کا ذریعہ بن جائے۔
۱. قرآن کریم میں اخلاص کی فرضیت اور مخلصین کی صفات
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اخلاص کو دین کا مرکز قرار دیا، اور مخلص بندوں کی مدح فرمائی۔ سنیے! رب العالمین کا فرمان ہے:
﴿وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّـهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ ۚ وَذَٰلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ﴾
(سورۃ البينة: 5)
ترجمہ: "اور انہیں صرف یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، اس کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے، یک سو ہو کر، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، اور یہی سیدھا دین ہے۔"
غور کرو! اس آیت میں "مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ" کے الفاظ بتاتے ہیں کہ دین کو اللہ کے لیے خالص کرنا، یعنی صرف اسی کی رضا کے لیے عبادت کرنا، یہی دینِ قیم (سیدھا دین) ہے۔ اس کے بغیر دین ادھورا ہے۔
دوسری جگہ اللہ نے شیطان کے اس اعلان کو نقل فرمایا کہ وہ مخلص بندوں کو گمراہ نہیں کر سکتا:
﴿قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ۞ إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ﴾
(سورۃ ص: 82-83)
ترجمہ: "شیطان نے کہا: تیری عزت کی قسم! میں ان سب کو گمراہ کروں گا، سوائے تیرے ان بندوں کے جو چنے ہوئے اور مخلص ہیں۔"
پس جس نے اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کر لیا، شیطان اس پر غالب نہیں آ سکتا۔ یہی وہ قلعہ ہے جس میں مومن محفوظ رہتا ہے۔
اللہ نے اپنے انبیاء کو بھی اخلاص کی صفت سے متصف فرمایا، جیسے حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
﴿إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ﴾
(سورۃ يوسف: 24)
اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
﴿وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مُوسَىٰ ۚ إِنَّهُ كَانَ مُخْلَصًا وَكَانَ رَسُولًا نَّبِيًّا﴾
(سورۃ مريم: 51)
پس اخلاص انبیاء کا وصف ہے، اور یہی وہ صفت ہے جو انہیں اللہ کا برگزیدہ بناتی ہے۔
۲. احادیث نبویہ میں اخلاص کی بنیاد اور ریا کی سنگینی
نبی کریم ﷺ نے اخلاص کو عمل کی بنیاد قرار دیا، اور ریا کو شرکِ اصغر اور سب سے خطرناک گناہ بتایا۔ سنیے!
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:
«إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَىٰ، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَىٰ اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَىٰ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَىٰ مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ»
(صحيح البخاري: 1، صحيح مسلم: 1907)
ترجمہ: "بے شک اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔ پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو، اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول ہی کی طرف مانی جائے گی، اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو یا کسی عورت سے نکاح کے لیے، تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہوگی جس کی نیت سے اس نے ہجرت کی۔"
یہ حدیث پورے دین کی بنیاد ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح کا آغاز اسی حدیث سے فرمایا، کیونکہ ہر عمل کا انحصار نیت پر ہے۔ جو عمل اللہ کے لیے کیا جائے وہ عبادت ہے، اور جو دکھاوے یا دنیا کے لیے کیا جائے، وہ وبال ہے۔
ریا کاری یعنی دکھاوے کی عبادت کی مذمت میں آپ ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ؟ قَالَ: «الرِّيَاءُ»
(مسند أحمد: 5/428 - صحيح)
ترجمہ: "مجھے تم پر سب سے زیادہ جس چیز کا ڈر ہے وہ شرک اصغر ہے۔ صحابہ نے پوچھا: شرک اصغر کیا ہے؟ فرمایا: دکھاوا (ریا کاری)۔"
کتنی سنگین بات ہے! نبی ﷺ کو اپنی امت پر سب سے زیادہ ڈر شرکِ اکبر کا نہیں تھا، بلکہ شرکِ اصغر یعنی ریا کا تھا، کیونکہ یہ ایسا گناہ ہے جو بڑی چپکے سے انسان کے عمل میں داخل ہو جاتا ہے، اور اسے برباد کر دیتا ہے۔
ریا کاروں کا انجام قیامت کے دن بہت ہولناک ہوگا۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے تین لوگوں کے خلاف فیصلہ سنایا جائے گا: ایک شہید، ایک عالم، اور ایک سخی۔ یہ تینوں اپنی عبادت پر فخر کریں گے، لیکن اللہ ان سے فرمائے گا: "تم نے یہ سب کچھ اس لیے کیا تھا کہ لوگ تمہیں شہید، عالم، اور سخی کہیں، اور لوگوں نے کہہ بھی دیا، پس آج تمہارے لیے کوئی اجر نہیں۔" اور انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (صحيح مسلم: 1905)
کتنی ہولناک وعید ہے! وہی اعمال جو جنت کا ذریعہ بن سکتے تھے، ریا کی وجہ سے جہنم کا ایندھن بن گئے۔
۳. اخلاص کی حقیقت: دل کا معاملہ
بھائیو! اخلاص دل کا عمل ہے، زبان کا نہیں۔ یہ کوئی ایسی چیز نہیں جسے کوئی ظاہر کر سکے، بلکہ یہ وہ چھپی ہوئی نیت ہے جو بندے اور اس کے رب کے درمیان ہوتی ہے۔
علماء نے اخلاص کی علامات بیان فرمائی ہیں:
- مدح و مذمت میں برابری: مخلص بندہ لوگوں کی تعریف سے خوش نہیں ہوتا اور نہ ہی مذمت سے غمگین ہوتا ہے، کیونکہ اس کا مقصود صرف اللہ کی رضا ہوتی ہے۔
- عمل کا چھپانا: مخلص بندہ اپنی عبادات کو چھپاتا ہے، جس طرح گناہ چھپائے جاتے ہیں۔ جب تک ممکن ہو نوافل کو تنہائی میں پڑھتا ہے، صدقہ اس طرح کرتا ہے کہ بایاں ہاتھ خبر نہ کرے۔
- استقامت: مخلص بندہ چاہے لوگ دیکھ رہے ہوں یا نہ دیکھ رہے ہوں، اس کا عمل یکساں رہتا ہے، کیونکہ وہ اللہ کو حاضر و ناظر مانتا ہے۔
- عمل پر عجب نہ ہونا: مخلص بندہ اپنے عمل پر فخر نہیں کرتا، بلکہ اپنی کوتاہیوں پر نادم رہتا ہے۔
ایک بزرگ نے فرمایا: "میں نے تیس سال تک اپنے نفس سے جہاد کیا تاکہ میری عبادت میں ریا نہ آئے، اور آخر کار مجھے یہ محسوس ہوا کہ میرا یہ جہاد بھی ایک ریا ہے۔" یعنی نفس اتنا باریک ہے کہ اخلاص کی کوشش میں بھی ریا پیدا ہو سکتی ہے، اس لیے ہمیشہ اللہ سے مدد مانگتے رہنا چاہیے۔
۴. سلف صالحین کے اخلاص کے عملی نمونے
صحابہ کرام اور سلف صالحین کی زندگیاں اخلاص کی بہترین مثالوں سے بھری ہوئی ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ ایک کافر سے جنگ کی، اسے زیر کیا اور اس پر سوار ہو گئے، لیکن جب اس کافر نے ان کے چہرے پر تھوک دیا تو حضرت علی فوراً اس پر سے اتر آئے۔ لوگوں نے پوچھا: آپ نے اسے قتل کیوں نہ کیا؟ فرمایا: "پہلے میں اللہ کے لیے لڑ رہا تھا، لیکن جب اس نے میرے چہرے پر تھوکا تو مجھے غصہ آ گیا، اور مجھے ڈر ہوا کہ کہیں میں اپنے غصے کی خاطر اسے قتل نہ کر دوں، اس لیے رک گیا۔" یہ ہے اخلاص!
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ ایک شخص کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہا ہے اور اس کی گردن عاجزی سے جھکی ہوئی ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا: "اے گردن والے! اپنی گردن اٹھا، خشوع یہاں ہے (سینے کی طرف اشارہ کر کے)، یہاں نہیں (گردن کی طرف اشارہ کر کے)۔" یعنی خشوع بھی اخلاص کا حصہ ہے، اور وہ دل میں ہوتی ہے، ظاہری حرکتوں میں نہیں۔
ایک تابعی بزرگ حضرت ایوب سختیانی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ راتوں کو تہجد پڑھتے، اور جب صبح ہوتی تو اپنی آواز کو اس طرح بدل لیتے جیسے وہ ابھی سو کر اٹھے ہوں، تاکہ کسی کو معلوم نہ ہو کہ وہ رات بھر عبادت کرتے رہے۔ یہ ہے اخلاص کا کمال!
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے مؤطا لکھی، لیکن جب منصور نے کہا کہ میں اس کتاب کو پوری خلافت میں رائج کرنا چاہتا ہوں، تو امام مالک نے انکار کر دیا اور فرمایا: "لوگو! علم کو زبردستی نہ پھیلاؤ، جس نے اسے قبول کرنا ہے وہ خود تلاش کرے گا۔" یہ ان کا اخلاص تھا کہ وہ شہرت اور حکومتی سرپرستی سے بچنا چاہتے تھے۔
۵. موجودہ دور میں اخلاص سے غفلت اور ریا کی شکلیں
اللہ کے بندو! آج کے دور میں ریا نے بہت سی شکلیں اختیار کر لی ہیں، اور اکثر لوگ اس سے غافل ہیں۔ سوشل میڈیا پر عبادات کی تصویریں ڈالنا، نماز کی اسٹوری لگانا، قرآن کی تلاوت کا ویڈیو بنا کر اپ لوڈ کرنا، حج و عمرے کی تصاویر شیئر کرنا — یہ سب کچھ اگر نیت میں اخلاص نہ ہو تو ریا کاری میں بدل سکتا ہے۔
اسی طرح کچھ لوگ وعظ و نصیحت کرتے ہیں، لیکن ان کا مقصد لوگوں کو بتانا ہوتا ہے کہ وہ کتنے بڑے عالم ہیں، یا کتنے فصیح مقرر ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ لِيُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ، أَوْ يُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ، أَوْ يَصْرِفَ بِهِ وُجُوهَ النَّاسِ إِلَيْهِ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»
(سنن الترمذي: 2654 - حسن)
ترجمہ: "جو شخص علم اس لیے سیکھے کہ علماء سے فخر کرے، یا بیوقوفوں سے جھگڑا کرے، یا لوگوں کا رخ اپنی طرف پھیرے، تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔"
پس ہمیں ہر عمل میں اپنی نیت کو چیک کرنا چاہیے، کہیں ایسا تو نہیں کہ ظاہر میں عبادت ہو رہی ہو، مگر باطن میں ریا کاری پوشیدہ ہو۔
۶. اصلاحی نکات: اخلاص کو اپنی زندگی میں کیسے نافذ کریں؟
- نیت کی اصلاح: ہر عمل سے پہلے ایک لمحہ رکیں، اور دل میں یہ نیت تازہ کریں کہ یہ کام صرف اللہ کی رضا کے لیے ہے۔
- ریا سے بچنے کی دعا: نبی ﷺ کی سکھائی ہوئی دعا پڑھیں: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُشْرِكَ بِكَ شَيْئًا وَأَنَا أَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا أَعْلَمُ»۔
- نیکیوں کو چھپانا: جہاں تک ممکن ہو، اپنی نفلی عبادات کو چھپائیں، یہ اخلاص کے قریب تر ہے۔
- لوگوں کی تعریف سے بچنا: جب کوئی تعریف کرے تو دل میں کہو: "یہ اللہ کا فضل ہے"، اور عجب سے بچو۔
- تنہائی کی عبادت: کچھ وقت تنہائی میں عبادت کے لیے نکالیں، جہاں کوئی دیکھنے والا نہ ہو، یہ اخلاص کی مشق ہے۔
- سوشل میڈیا پر احتیاط: عبادات کی تصاویر اور تفصیلات شیئر کرنے سے گریز کریں، جب تک کہ کوئی شرعی مصلحت نہ ہو، مثلاً تعلیم و ترغیب۔
- دل کا محاسبہ: ہر رات سونے سے پہلے سوچیں کہ آج دن بھر جو عبادات کیں، ان میں اخلاص تھا یا ریا؟
۷. اختتامی نصیحت: اخلاص ہی نجات ہے
اللہ کے بندو! سنو! قیامت کے دن وہی لوگ کامیاب ہوں گے جو "قلب سلیم" یعنی پاک دل لے کر آئیں گے، اور پاک دل وہی ہے جو شرک، ریا، کینہ، اور حسد سے پاک ہو، اور جس میں صرف اللہ کی محبت اور اس کی رضا کی طلب ہو۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا نقل فرمائی:
﴿وَلَا تُخْزِنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ ۞ يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ ۞ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّـهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ﴾
(سورۃ الشعراء: 87-89)
ترجمہ: "اور مجھے اس دن رسوا نہ کرنا جب لوگ اٹھائے جائیں گے، جس دن نہ مال فائدہ دے گا نہ اولاد، سوائے اس کے جو اللہ کے پاس پاک دل لے کر آئے۔"
پس اپنے دلوں کو پاک کرو، اپنی نیتوں کو درست کرو، اور اپنے ہر عمل کو اللہ کے لیے خالص کرو، یہی دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔
۸. دعا
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُشْرِكَ بِكَ شَيْئًا وَأَنَا أَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا أَعْلَمُ»
(صحيح الأدب المفرد: 550)
«اللَّهُمَّ طَهِّرْ قُلُوبَنَا مِنَ النِّفَاقِ، وَأَعْمَالَنَا مِنَ الرِّيَاءِ، وَأَلْسِنَتَنَا مِنَ الْكَذِبِ»
«اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا الْإِخْلَاصَ فِي الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ، وَاجْعَلْنَا مِنْ عِبَادِكَ الْمُخْلَصِينَ»
«رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ»
اللهم يا مقلب القلوب ثبت قلوبنا على دينك، وطهر نياتنا، وارزقنا الإخلاص في السر والعلن. اللهم اجعل أعمالنا صالحة، واجعلها خالصة لوجهك، ولا تجعل لأحد غيرك فيها نصيباً. اللهم إنا نعوذ بك من الرياء والسمعة والعجب والكبر. اللهم تقبل منا أعمالنا، واغفر لنا تقصيرنا، وتوفنا مسلمين، وألحقنا بالصالحين. وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.
TAGS JSON: { "tags": ["اخلاص", "نیت", "ریا", "شرک اصغر", "دکھاوا", "قبولیت", "عبادت", "قلب سلیم", "سلف", "توبہ"], "category": "اصلاحی بیانات", "related_month": null, "related_people": ["حضرت محمد ﷺ", "حضرت عمر رضی اللہ عنہ", "حضرت علی رضی اللہ عنہ", "حضرت ایوب سختیانی رحمۃ اللہ علیہ"] } FEATURED IMAGE IDEA: ایک دل جس سے نور کی کرنیں نکل رہی ہوں، دل کے اوپر "الإخلاص" لکھا ہو، پس منظر میں ایک طرف جنت اور دوسری طرف جہنم کے شعلے، اوپر عربی خطاطی میں "إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ" اور نیچے "وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّـهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ" لکھا ہو، فضا میں نور اور سکون۔