تقویٰ: اللہ کی خشیت، گناہوں سے بچاؤ اور کامیابی کا زینہ
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ التَّقْوَىٰ زَادًا لِّلْمُسَافِرِينَ إِلَيْهِ، وَمِفْتَاحًا لِّلْفَوْزِ بِرِضْوَانِهِ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، أَمَرَنَا بِالتَّقْوَىٰ وَرَغَّبَنَا فِيهَا، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، الَّذِي كَانَ يَقُولُ: "اتَّقِ اللَّهَ حَيْثُمَا كُنْتَ"، وَجَعَلَ التَّقْوَىٰ أَعْظَمَ وَصِيَّةٍ. صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ الَّذِينَ كَانَ شِعَارُهُمْ خَشْيَةَ اللَّهِ فِي السِّرِّ وَالْعَلَنِ. أَمَّا بَعْدُ!
اللہ کے نیک بندو! ایمان والو! آج ہم جس بنیادی اسلامی صفت پر گفتگو کرنے جا رہے ہیں، وہ کوئی عام وصف نہیں، بلکہ وہ روح ہے جو تمام عبادات میں جاری رہنی چاہیے، وہ چراغ ہے جو زندگی کے اندھیروں میں راستہ دکھاتا ہے، اور وہ معیار ہے جس پر اللہ کے ہاں بندوں کی فضیلت کا انحصار ہے۔ یہ وہ صفت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بار بار دہرایا، جسے نبی کریم ﷺ نے اپنی زبان مبارک سے بار بار وصیت فرمائی، اور جس کے بغیر کوئی عمل مقبول نہیں ہو سکتا۔ یہ ہے تقویٰ!
بھائیو! تقویٰ کا لفظی ترجمہ "پرہیزگاری" یا "خدا ترسی" کیا جاتا ہے، لیکن اس کی حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ تقویٰ یہ ہے کہ بندہ اپنے دل میں اللہ کی اتنی عظمت بٹھا لے کہ وہ ہر اس قول و فعل سے بچنے لگے جو اللہ کو ناپسند ہو، اور ہر اس کام کی طرف دوڑے جو اللہ کو محبوب ہو۔ تقویٰ یہ ہے کہ انسان اپنے رب کی ناراضی سے اس طرح ڈرے جیسے کوئی شخص کانٹوں بھرے راستے پر چلتے ہوئے اپنے کپڑوں کو بچا کر چلتا ہے — کوئی کانٹا اسے زخمی نہ کر دے۔
آج کا خطبہ اسی تقویٰ کی حقیقت، قرآن و سنت میں اس کے مقام، صحابہ کرام و سلف صالحین کے تقویٰ کے عملی نمونے، موجودہ دور میں تقویٰ سے دوری کے نقصانات، اور ہماری زندگیوں میں اس صفت کو پروان چڑھانے کے عملی طریقوں پر مبنی ہے۔ غور سے سنو! شاید یہ خطبہ تمہارے دلوں میں اللہ کی خشیت کا وہ چراغ روشن کر دے جو تمہاری پوری زندگی کو منور کر دے۔
۱. قرآن کریم میں تقویٰ کی اہمیت اور اس کے وعدے
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر تقویٰ کی تاکید فرمائی اور متقین کے لیے عظیم انعامات کا وعدہ فرمایا۔ سنیے! رب العالمین کا فرمان ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ﴾
(سورۃ آل عمران: 102)
ترجمہ: "اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے، اور ہرگز نہ مرنا مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔"
یہ آیت تقویٰ کا اعلیٰ ترین معیار بیان کرتی ہے: "حق تقاتہ" — یعنی اس کی شان کے مطابق اس کا خوف، اس کی نافرمانی سے بچنا، اس کی اطاعت پر کاربند رہنا، اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا۔
دوسری جگہ اللہ نے تقویٰ کو زادِ راہ یعنی سفرِ آخرت کا توشہ قرار دیا:
﴿وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ ۚ وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ﴾
(سورۃ البقرہ: 197)
ترجمہ: "اور توشہ لے لو، بے شک سب سے بہتر توشہ تقویٰ ہے، اور اے عقل والو! مجھ سے ڈرو۔"
یہ آیت حج کے احکام کے ساتھ نازل ہوئی، مگر اس کا پیغام عام ہے: جیسے سفر کے لیے کھانے پینے کا سامان ضروری ہے، ویسے ہی آخرت کے سفر کے لیے تقویٰ کا توشہ ضروری ہے، بلکہ سب سے ضروری۔
اللہ نے اعلان فرمایا کہ اس کے ہاں عزت و فضیلت کا معیار تقویٰ ہے، نہ کہ نسب یا مال:
﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّـهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ﴾
(سورۃ الحجرات: 13)
ترجمہ: "بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے، بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا، خوب خبر رکھنے والا ہے۔"
پس جس قدر تقویٰ بڑھے گا، بندے کی قدر و قیمت اللہ کے ہاں بڑھے گی۔
متقین کے لیے اللہ نے بے شمار وعدے فرمائے:
- ہر مشکل سے نجات: «وَمَن يَتَّقِ اللَّـهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا ۞ وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ» (طلاق: 2-3) — جو اللہ سے ڈرے، اللہ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے، اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اس کا گمان بھی نہ ہو۔
- اعمال میں آسانی: «وَمَن يَتَّقِ اللَّـهَ يَجْعَل لَّهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا» (طلاق: 4) — اور جو اللہ سے ڈرے، اللہ اس کے کام میں آسانی پیدا کر دیتا ہے۔
- گناہوں کی بخشش: «وَمَن يَتَّقِ اللَّـهَ يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ وَيُعْظِمْ لَهُ أَجْرًا» (طلاق: 5) — اور جو اللہ سے ڈرے، وہ اس کی برائیاں مٹا دیتا ہے اور اس کا اجر بڑھا دیتا ہے۔
یہ سب وعدے ہیں اس شخص کے لیے جو اللہ سے تقویٰ اختیار کرے۔
۲. احادیث نبویہ میں تقویٰ کی وصیت اور اس کی برکات
نبی کریم ﷺ نے تقویٰ کو اپنی سب سے اہم وصیتوں میں شمار فرمایا۔ سنیے!
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«اتَّقِ اللَّهَ حَيْثُمَا كُنْتَ، وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا، وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ»
(سنن الترمذي: 1987 - حسن صحيح)
ترجمہ: "جہاں کہیں بھی رہو اللہ سے ڈرو، اور برائی کے بعد کوئی نیکی کر لیا کرو جو اسے مٹا دے، اور لوگوں سے اچھے اخلاق سے پیش آؤ۔"
یہ تین وصیتیں ہیں جو پورے دین کا خلاصہ ہیں: پہلی تقویٰ — اللہ کا خوف ہر جگہ، چاہے کوئی دیکھنے والا ہو یا نہ ہو۔ دوسری — گناہ ہو جائے تو فوراً اسے نیکی سے مٹا دو۔ تیسری — لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک۔
ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے تقویٰ کو نیکیوں کی جڑ بتایا:
«أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّةَ تَقْوَى اللَّهِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ»
(سنن الترمذي: 2004 - حسن)
ترجمہ: "لوگوں کو جنت میں داخل کرنے والی سب سے زیادہ چیزیں اللہ کا تقویٰ اور اچھے اخلاق ہیں۔"
پس جنت کا راستہ تقویٰ سے ہو کر جاتا ہے۔
نبی ﷺ نے اپنے خطبوں میں بار بار تقویٰ کی وصیت فرمائی۔ حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ہمیں ایک بلیغ وعظ فرمایا جس سے آنکھیں بھر آئیں اور دل کانپ گئے، اور اس وعظ میں بار بار فرمایا:
«أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ»
(سنن الترمذي: 2676 - حسن صحيح)
ترجمہ: "میں تمہیں اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔"
اسی طرح جب حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا تو انہیں وصیت فرمائی:
«اتَّقِ اللَّهَ حَيْثُمَا كُنْتَ»
یہی وصیت ہر اس شخص کے لیے ہے جو دین کی دعوت لے کر اٹھے، یا کوئی ذمہ داری سنبھالے۔
۳. تقویٰ کی حقیقت: تین درجے
بھائیو! علماء نے تقویٰ کے تین درجے بیان فرمائے ہیں:
- شرک سے بچنا: یہ سب سے بنیادی تقویٰ ہے، جس کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں۔ عقیدے کو شرک و بدعات سے پاک رکھنا۔
- گناہوں سے بچنا: کبیرہ و صغیرہ گناہوں سے اجتناب، چاہے وہ زبان، آنکھ، کان، ہاتھ یا دل کے گناہ ہوں۔
- مشتبہ چیزوں سے بچنا: یہ اعلیٰ درجے کا تقویٰ ہے کہ بندہ ان چیزوں سے بھی بچے جو اس کے دل میں کھٹکیں، جن کے حلال یا حرام ہونے میں شبہ ہو۔ نبی ﷺ نے فرمایا: «فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ فَقَدِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ» (بخاری: 52، مسلم: 1599)۔
تقویٰ کا مرکز دل ہے۔ نبی ﷺ نے سینے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: "التَّقْوَىٰ هَاهُنَا" (مسلم: 2564) — تقویٰ یہاں ہے۔ یعنی جب دل اللہ سے ڈرنے لگے، تو باقی اعضاء بھی سنور جاتے ہیں۔
۴. صحابہ کرام اور سلف کا تقویٰ: عملی نمونے
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیاں تقویٰ کا بہترین نمونہ تھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خوفِ الٰہی کا یہ عالم تھا کہ وہ راتوں کو مدینے کی گلیوں میں گشت لگاتے، مظلوموں کی فریاد سنتے، اور بیت المال کے بارے میں اس قدر محتاط تھے کہ ان کے چہرے پر کوئی نشان دیکھ کر لوگ کہتے: "عمر، تم نے بیت المال کا کچھ نہیں لیا، پھر یہ فکر کیوں؟" فرماتے: "اللہ سے ڈرتا ہوں کہ کہیں مجھ سے کوئی کوتاہی نہ ہو جائے۔"
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ ایک پرندے کو دیکھا تو فرمایا: "اے پرندے! تو خوش قسمت ہے کہ تو درختوں پر بیٹھتا ہے، پھل کھاتا ہے، اور حساب و کتاب سے بے نیاز ہے۔ کاش میں بھی ایک درخت ہوتا!" یہ ان کا تقویٰ تھا کہ وہ اپنے اعمال کے حساب سے ڈرتے تھے۔
تابعی بزرگ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے: "متقی وہ ہے جو اس چیز سے بچے جو اس کے دل میں کھٹکے۔" اور ان کا اپنا حال یہ تھا کہ جب وہ وعظ کرتے تو ایسا لگتا جیسے انہوں نے جہنم کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو۔
۵. موجودہ دور میں تقویٰ سے غفلت اور اس کے نتائج
اللہ کے بندو! آج کا دور مادہ پرستی، حرام خوری، بے پردگی، جھوٹ، دھوکہ، اور گناہوں کی کثرت کا دور ہے۔ تقویٰ کا جنازہ نکل چکا ہے، اور اکثر لوگوں کے دل اللہ کے خوف سے خالی ہو چکے ہیں۔ کاروبار میں جھوٹ، دفتر میں خیانت، گھر میں ظلم، معاشرے میں بے حیائی — یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ ہم سے تقویٰ رخصت ہو گیا ہے۔
نتیجہ یہ کہ دلوں سے سکون ختم ہو گیا، رزق سے برکت اٹھ گئی، اور پریشانیاں بڑھ گئیں۔ اللہ کا قانون ہے کہ جب تقویٰ کم ہوتا ہے تو مصیبتیں بڑھ جاتی ہیں۔ فرمایا:
﴿وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَىٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَـٰكِن كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُم بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾
(سورۃ الأعراف: 96)
ترجمہ: "اور اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتے، لیکن انہوں نے جھٹلایا تو ہم نے انہیں ان کے اعمال کی وجہ سے پکڑ لیا۔"
پس اگر ہم برکت اور سکون چاہتے ہیں تو ہمیں تقویٰ کی طرف لوٹنا ہوگا۔
۶. اصلاحی نکات: تقویٰ کو اپنی زندگی میں کیسے نافذ کریں؟
- اللہ کی نگرانی کا یقین: ہر وقت یہ احساس رکھیں کہ اللہ آپ کو دیکھ رہا ہے، وہ آپ کے دل کی بات جانتا ہے، یہی احساس گناہ سے روکے گا۔
- کبیرہ گناہوں سے بچنا: شرک، قتل، زنا، چوری، جھوٹ، سود، غیبت — ان سے مکمل اجتناب کریں۔
- شبہات سے پرہیز: جس چیز میں حلال و حرام کا شبہ ہو، اسے چھوڑ دیں، یہی متقیوں کا شیوہ ہے۔
- نیکیوں میں جلدی: برائی کے بعد نیکی کریں، توبہ کریں، استغفار کریں، اور نیکیوں کو اپنا معمول بنائیں۔
- دل کی اصلاح: حسد، کینہ، تکبر، ریاکاری — ان سے دل کو پاک کریں، یہ بھی تقویٰ کا حصہ ہے۔
- روزانہ محاسبہ: ہر رات سونے سے پہلے اپنے دن بھر کے اعمال کا جائزہ لیں، اور غلطیوں پر توبہ کریں۔
- دعا: «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا، وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا» (مسلم: 2722) — یہ دعا کثرت سے مانگیں۔
۷. اختتامی نصیحت: تقویٰ ہی اصل کامیابی ہے
اللہ کے بندو! سنو! دنیا کی ہر چیز فانی ہے، اصل باقی رہنے والی چیز تقویٰ ہے۔ قیامت کے دن متقیوں کے لیے جنتیں ہیں، اور ان سے کہا جائے گا:
﴿تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي نُورِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَن كَانَ تَقِيًّا﴾
(سورۃ مريم: 63)
ترجمہ: "یہ وہ جنت ہے جس کا ہم اپنے بندوں میں سے اسے وارث بنائیں گے جو متقی ہوگا۔"
پس تقویٰ کو اپنا شعار بنا لو، اللہ سے ڈرنا سیکھ لو، اور زندگی کے ہر قدم پر یہ سوچ کر چلو کہ اللہ دیکھ رہا ہے، اللہ حساب لے گا۔ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔
۸. دعا
«اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا، وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا، أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا»
(صحيح مسلم: 2722)
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَىٰ وَالتُّقَىٰ وَالْعَفَافَ وَالْغِنَىٰ»
(صحيح مسلم: 2721)
«اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا تَقْوَاكَ، وَخَشْيَتَكَ فِي السِّرِّ وَالْعَلَنِ، وَاجْعَلْنَا مِنَ الْمُتَّقِينَ»
«رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ»
اللهم يا من خلق الخلق وأمرهم بتقواه، ارزقنا تقوى تصلح بها أحوالنا، وتغفر بها ذنوبنا، وترفع بها درجاتنا. اللهم اجعل التقوى زادنا في سفر الحياة، ونور قبورنا، وأنيس وحدتنا. اللهم رد الأمة إلى دينك رداً جميلاً، وطهر مجتمعاتنا بالتقوى والإيمان. وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.
TAGS JSON: { "tags": ["تقوی", "تقویٰ", "خشیت", "خوف خدا", "پرہیزگاری", "ایمان", "اخلاق", "گناہ", "توبہ", "کامیابی"], "category": "اصلاحی بیانات", "related_month": null, "related_people": ["حضرت محمد ﷺ", "حضرت عمر رضی اللہ عنہ", "حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ", "حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ"] } FEATURED IMAGE IDEA: ایک دل جس پر "التقوىٰ" لکھا ہو، اس سے نور پھوٹ رہا ہو، پس منظر میں قرآن اور کعبہ، اوپر عربی خطاطی میں "إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّـهِ أَتْقَاكُمْ" اور نیچے "اتَّقِ اللَّهَ حَيْثُمَا كُنْتَ" لکھا ہو، فضا میں سکون اور روحانیت۔