فضائل قرآن: کلامِ الٰہی کی عظمت، برکات اور ہماری ذمہ داری
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ الْقُرْآنَ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ، وَجَعَلَهُ رَبِيعَ الْقُلُوبِ وَنُورَ الصُّدُورِ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، تَكَلَّمَ بِكِتَابِهِ حَقًّا، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ، فَكَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ، وَجَعَلَهُ اللَّهُ حُجَّةً لَهُ أَوْ عَلَيْهِ. صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ الَّذِينَ حَمَلُوا الْقُرْآنَ فِي صُدُورِهِمْ وَعَمِلُوا بِهِ. أَمَّا بَعْدُ!
اللہ کے نیک بندو! ایمان والو! آج جس موضوع پر ہم بات کرنے جا رہے ہیں، یہ وہ موضوع ہے جو ہمارے دین کی بنیاد ہے، ہماری زندگی کا دستور ہے، ہماری روح کی غذا ہے، اور ہماری نجات کا ذریعہ ہے۔ یہ وہ کلام ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا کہ اگر یہ پہاڑوں پر نازل ہوتا تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جاتے۔ یہ وہ کتاب ہے جس کے پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے والے کو دنیا و آخرت میں سربلندی عطا کی گئی۔ یہ ہے قرآن مجید — کلامِ الٰہی، اللہ رب العزت کی طرف سے انسانیت کے لیے آخری اور مکمل ہدایت نامہ!
بھائیو! قرآن وہ معجزہ ہے جو قیامت تک کے لیے محفوظ ہے، جس میں باطل کسی طرف سے داخل نہیں ہو سکتا۔ یہ وہ نور ہے جو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ وہ شفا ہے جو دلوں کی بیماریوں کو دور کرتی ہے۔ یہ وہ رحمت ہے جو مومنوں کے لیے سراسر خیر ہے۔ لیکن افسوس کہ ہم میں سے اکثر نے اس قرآن کو محض طاقوں کی زینت بنا دیا، اسے صرف مردوں کے لیے پڑھنے کی کتاب سمجھ لیا، اور اس کی تلاوت، تدبر اور عمل کو چھوڑ دیا۔
آج کے خطبے میں ہم قرآن کی فضیلت، اس کی تلاوت کے آداب، اس سے ہمارے تعلق کی موجودہ صورت حال، اور اس عظیم کتاب سے دوبارہ جڑنے کے عملی طریقوں کے بارے میں جانیں گے۔ غور سے سنو! شاید آج کے بعد تمہارا قرآن سے رشتہ بدل جائے، اور تمہارے دل میں کلامِ الٰہی کی محبت جاگ اٹھے۔
۱. قرآن کریم کی اپنے بارے میں گواہی: صفات اور فضائل
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس کتاب کی عظمت اور اس کی صفات بیان فرمائی ہیں۔ سنیے! رب العالمین فرماتا ہے:
﴿ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ﴾
(سورۃ البقرہ: 2)
ترجمہ: "یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، پرہیزگاروں کے لیے ہدایت ہے۔"
پس قرآن ہدایت ہے — ہر اس شخص کے لیے جو تقویٰ اختیار کرے، جو اللہ سے ڈرے، اور جو حق کی تلاش میں ہو۔
دوسری جگہ اللہ نے قرآن کو شفا اور رحمت قرار دیا:
﴿وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ ۙ وَلَا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَارًا﴾
(سورۃ الإسراء: 82)
ترجمہ: "اور ہم قرآن میں سے وہ چیز نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لیے شفا اور رحمت ہے، اور ظالموں کے لیے تو یہ صرف خسارے میں اضافہ کرتی ہے۔"
شفا — جسمانی بیماریوں کی بھی، روحانی بیماریوں کی بھی، نفسیاتی الجھنوں کی بھی۔ رحمت — دنیا میں بھی، آخرت میں بھی۔ مگر شرط یہ ہے کہ پڑھنے والا مومن ہو، ورنہ ظالم کے لیے یہی قرآن خسارے کا سبب بن جاتا ہے۔
قرآن کو اللہ نے "روح" بھی قرار دیا:
﴿وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا﴾
(سورۃ الشورى: 52)
ترجمہ: "اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے روح (یعنی قرآن) کی وحی کی۔"
روح — جس سے مردہ دل زندہ ہوتے ہیں، جس طرح بارش سے مردہ زمین زندہ ہوتی ہے۔
قرآن کی ایک اور صفت "فرقان" ہے — حق و باطل میں فرق کرنے والا:
﴿تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَىٰ عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا﴾
(سورۃ الفرقان: 1)
۲. احادیث نبویہ میں تلاوتِ قرآن کی فضیلت اور قرآن والوں کا مقام
نبی کریم ﷺ نے قرآن پڑھنے، سیکھنے اور سکھانے والوں کو بہت فضیلت دی۔ سنیے!
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ»
(صحيح البخاري: 5027)
ترجمہ: "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔"
یہ حدیث بتاتی ہے کہ قرآن کی تعلیم اور تعلّم بہترین عمل ہے، اور اس میں مصروف شخص "خیر الناس" ہے۔
تلاوت کا اجر بیان کرتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ، وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، لَا أَقُولُ: الم حَرْفٌ، وَلَٰكِنْ: أَلِفٌ حَرْفٌ، وَلَامٌ حَرْفٌ، وَمِيمٌ حَرْفٌ»
(سنن الترمذي: 2910 - حسن صحيح)
ترجمہ: "جو شخص اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھے اسے اس پر ایک نیکی ملتی ہے، اور نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ 'الم' ایک حرف ہے، بلکہ 'الف' ایک حرف، 'لام' ایک حرف، اور 'میم' ایک حرف ہے۔"
سوچو! صرف "الم" پڑھنے پر تیس نیکیاں! پورا قرآن پڑھنے پر کتنا اجر ہوگا؟
قرآن والوں کو قیامت کے دن خاص مقام ملے گا:
«يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ: اقْرَأْ وَارْتَقِ وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا، فَإِنَّ مَنْزِلَتَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَؤُهَا»
(سنن الترمذي: 2914 - حسن صحيح، سنن أبي داود: 1464)
ترجمہ: "قرآن والے سے کہا جائے گا: پڑھتا جا اور چڑھتا جا، اور اسی طرح ترتیل سے پڑھ جیسے دنیا میں ترتیل سے پڑھتا تھا، بے شک تیرا مقام آخری آیت پر ہوگا جسے تو پڑھے گا۔"
یعنی جنت میں جتنا قرآن یاد ہوگا، اتنی بلندی ملے گی!
۳. قرآن کی تلاوت، تدبر اور عمل: تینوں لازم ہیں
بھائیو! قرآن کے ساتھ ہمارا تعلق صرف تلاوت تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس کے تین حقوق ہیں:
- تلاوت: اسے صحیح مخارج اور تجوید کے ساتھ پڑھنا، کثرت سے پڑھنا، اور ترتیل کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا۔
- تدبر: اس کے معانی کو سمجھنا، اس کی تفسیر پڑھنا، اس کے پیغام پر غور کرنا۔ اللہ نے فرمایا: «أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ» (محمد: 24) — کیا وہ قرآن پر غور نہیں کرتے؟
- عمل: جو کچھ سمجھا، اسے اپنی زندگی میں نافذ کرنا۔ نبی ﷺ کا اخلاق قرآن تھا، یعنی آپ قرآن کو پڑھتے اور اس پر عمل کرتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: "جب تم اللہ کا کلام سنو تو دل لگا کر سنو، اور خاموش رہو، اور جب قرآن پڑھو تو اس پر غور کرو، اور اس کے حلال کو حلال جانو اور حرام کو حرام جانو، اور اس کی مثالوں سے عبرت پکڑو۔"
صحابہ کرام دس آیات پڑھتے، ان پر عمل کرتے، پھر آگے بڑھتے۔ یہ تھا ان کا قرآن سے تعلق!
۴. قرآن سے غفلت: اسباب اور انجام
اللہ کے بندو! آج امت کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم قرآن سے دور ہو گئے ہیں۔ قرآن گھروں میں موجود ہے، لیکن تلاوت نہیں ہوتی۔ موبائل میں موجود ہے، لیکن اس کی طرف توجہ نہیں۔ ہم گھنٹوں فضول چیزیں پڑھتے ہیں، لیکن قرآن کھولنے کی فرصت نہیں۔
نبی کریم ﷺ نے اس دور کی خبر دی تھی:
«يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ، الْقُرْآنُ فِي وَادٍ وَهُمْ فِي وَادٍ آخَرَ»
(رواه الحاكم، وصححه)
ترجمہ: "لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ قرآن ایک وادی میں ہوگا اور لوگ دوسری وادی میں۔"
آج یہی حال ہے! قرآن کے احکامات ایک طرف، ہماری زندگیاں دوسری طرف۔
قرآن سے غفلت کا انجام یہ ہے کہ دلوں پر زنگ لگ جاتا ہے، ایمان کمزور ہو جاتا ہے، اور انسان گمراہی کی طرف چلا جاتا ہے۔ قیامت کے دن قرآن خود اپنے ترک کرنے والوں کے خلاف شکایت کرے گا:
﴿وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَـٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا﴾
(سورۃ الفرقان: 30)
۵. اصلاحی نکات: قرآن سے تعلق کیسے مضبوط کریں؟
- روزانہ تلاوت: کم از کم ایک ربع (ربع پارہ) یا چند صفحات روزانہ پڑھنے کا معمول بنائیں، چاہے مصروفیت ہی کیوں نہ ہو۔
- ترجمہ و تفسیر: روزانہ چند آیات کا ترجمہ اور تفسیر پڑھیں، تاکہ سمجھ بھی آئے اور دل بھی لگے۔
- حفظ قرآن: اگر ممکن ہو تو قرآن حفظ کریں، یا کم از کم چھوٹی سورتیں، روزانہ کی دعائیں، اور اہم آیات یاد کریں۔
- نماز میں تلاوت: نماز میں نئی نئی سورتیں پڑھیں، تاکہ قرآن سے تعلق تازہ رہے۔
- سننے کا معمول: کام کرتے ہوئے، گاڑی چلاتے ہوئے قرآن کی تلاوت سنیں۔
- قرآن سیکھنا سکھانا: بچوں کو قرآن پڑھائیں، تجوید سکھائیں، یہ صدقہ جاریہ ہے۔
- قرآنی مجلس: ہفتے میں کم از کم ایک بار اہل خانہ کے ساتھ بیٹھ کر قرآن پڑھیں، اس پر بات کریں۔
۶. اختتامی نصیحت: قرآن کو مت چھوڑو!
اللہ کے بندو! سنو! قرآن اللہ کا تمہیں پیغام ہے۔ یہ تمہارے خالق کی طرف سے ایک خط ہے۔ کیا تمہیں پسند ہے کہ تمہارا خالق تمہیں خط لکھے اور تم اسے پڑھو ہی نہیں؟ اسے سمجھو ہی نہیں؟ اس پر عمل کرو ہی نہیں؟
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ لِلَّهِ أَهْلِينَ مِنَ النَّاسِ» قِيلَ: مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «أَهْلُ الْقُرْآنِ هُمْ أَهْلُ اللَّهِ وَخَاصَّتُهُ»
(سنن ابن ماجه: 215 - صحيح)
ترجمہ: "بے شک اللہ کے کچھ لوگوں میں سے خاص بندے ہیں۔ پوچھا گیا: وہ کون ہیں یا رسول اللہ؟ فرمایا: قرآن والے، وہی اللہ کے خاص بندے اور اس کے چنے ہوئے لوگ ہیں۔"
پس قرآن کو پڑھو، سمجھو، اور اس پر عمل کر کے اللہ کے خاص بندوں میں شامل ہو جاؤ۔
۷. دعا
«اللَّهُمَّ اجْعَلِ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قُلُوبِنَا، وَنُورَ صُدُورِنَا، وَجِلَاءَ أَحْزَانِنَا، وَذَهَابَ هُمُومِنَا»
(مسند أحمد: 1/391 - صحيح)
«اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا تِلَاوَتَهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَأَطْرَافَ النَّهَارِ، وَفَهْمَهُ وَالْعَمَلَ بِهِ»
«اللَّهُمَّ ذَكِّرْنَا مِنْهُ مَا نُسِّينَا، وَعَلِّمْنَا مِنْهُ مَا جَهِلْنَا، وَارْزُقْنَا تِلَاوَتَهُ عَلَى النَّحْوِ الَّذِي يُرْضِيكَ عَنَّا»
«رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ»
اللهم اجعلنا من أهل القرآن، وارزقنا تلاوته وتدبره والعمل به. اللهم أنر به بصائرنا، واشرح به صدورنا، وطهر به قلوبنا. اللهم اجعله حجة لنا لا علينا، وقائداً لنا إلى جنتك ورضوانك. اللهم شفع فينا القرآن، وشفع فينا نبيك محمداً ﷺ. وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.
TAGS JSON: { "tags": ["قرآن", "فضائل قرآن", "تلاوت", "تدبر", "حفظ قرآن", "کلام اللہ", "ہدایت", "شفا", "رحمت", "عمل"], "category": "اصلاحی بیانات", "related_month": "رمضان", "related_people": ["حضرت محمد ﷺ", "حضرت عثمان رضی اللہ عنہ", "حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ"] } FEATURED IMAGE IDEA: ایک خوبصورت مصحف (قرآن) کھلا ہوا، اس سے نور پھوٹ رہا ہو، پس منظر میں مسجد کا محراب اور ستارے، اوپر عربی خطاطی میں "ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ" اور نیچے "خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ" لکھا ہو۔