توکل علی اللہ: ایمان کی روح، دل کا سکون اور کامیابی کا راستہ
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ التَّوَكُّلَ عَلَيْهِ سَبَبًا لِلْفَلَاحِ وَالنَّجَاحِ، وَأَمَرَنَا بِالْأَخْذِ بِالْأَسْبَابِ مَعَ صِدْقِ الِاعْتِمَادِ عَلَيْهِ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، سَيِّدُ الْمُتَوَكِّلِينَ، الَّذِي قَالَ لِصَاحِبِهِ فِي الْغَارِ: "لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّـهَ مَعَنَا". صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ الَّذِينَ تَعَلَّقَتْ قُلُوبُهُمْ بِاللَّهِ وَحْدَهُ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ. أَمَّا بَعْدُ!
اللہ کے نیک بندو! ایمان والو! آج میں تمہیں جس عظیم صفت کی طرف بلانے آیا ہوں، وہ دراصل ایمان کی جان ہے، عبادات کی روح ہے، اور ہر کامیابی کی کنجی ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو انسان کو مایوسی سے نکالتی ہے، پریشانیوں میں سہارا دیتی ہے، اور بڑے سے بڑے طوفان میں بھی اسے ثابت قدم رکھتی ہے۔ یہ وہ خصلت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندوں کی پہچان قرار دیا، اور جس پر ایمان کی تکمیل کا دارومدار رکھا۔ یہ ہے توکل علی اللہ — اللہ پر بھروسہ، اسی پر اعتماد، اور اسی کے سپرد اپنے تمام معاملات کر دینا!
بھائیو! توکل کا مطلب یہ نہیں کہ ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جاؤ اور کہو کہ اللہ خود ہی سب ٹھیک کر دے گا، بلکہ حقیقی توکل یہ ہے کہ تم اپنی پوری کوشش کرو، تمام مادی اسباب اختیار کرو، اور پھر نتیجہ اللہ پر چھوڑ دو، اس یقین کے ساتھ کہ وہی بہتر کرنے والا ہے۔ یہ وہی توکل ہے جس کا مظاہرہ نبی کریم ﷺ نے ہجرت کی رات کیا — پوری تیاری کی، غار میں چھپے، راستے بدلے، لیکن دل اللہ پر تھا، یہاں تک کہ جب دشمن غار کے دہانے پر تھے، تب بھی آپ نے فرمایا: "لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّـهَ مَعَنَا"۔
آج کے خطبے میں ہم توکل کی حقیقت، قرآن و سنت میں اس کی فضیلت، انبیاء کرام کے توکل کے ایمان افروز واقعات، موجودہ دور میں توکل کی ضرورت، اور اسے اپنی زندگیوں میں نافذ کرنے کے عملی طریقوں کے بارے میں جانیں گے۔ سنو! شاید تمہارے دل میں بھی اللہ پر بھروسے کی وہ قوت پیدا ہو جائے جو پہاڑوں کو ہلا سکتی ہے۔
۱. قرآن کریم میں توکل کی فرضیت اور فضیلت
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر توکل کا حکم دیا، اور متوکلین کی مدح فرمائی۔ سنیے! رب العالمین کا فرمان ہے:
﴿وَعَلَى اللَّـهِ فَتَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ﴾
(سورۃ المائدہ: 23)
ترجمہ: "اور اللہ ہی پر بھروسہ کرو، اگر تم مومن ہو۔"
غور کرو! اللہ نے توکل کو ایمان کی شرط قرار دیا — اگر تم مومن ہو تو اللہ پر بھروسہ کرو۔ یعنی جس کا ایمان جتنا مضبوط ہوگا، اس کا توکل بھی اتنا ہی پختہ ہوگا۔
دوسری جگہ اللہ نے توکل کو اپنی محبت کا ذریعہ بتایا:
﴿فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ﴾
(سورۃ آل عمران: 159)
ترجمہ: "پس جب تم پختہ ارادہ کر لو تو اللہ پر بھروسہ کرو، بے شک اللہ بھروسہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔"
یہاں "عزم" یعنی مشورے اور سوچ بچار کے بعد فیصلہ کر لینا، پھر اس پر عمل کرتے ہوئے اللہ پر بھروسہ کرنا — یہی مومن کا طریقہ ہے۔
اللہ نے توکل کرنے والوں کے لیے کافی ہونے کا وعدہ فرمایا:
﴿وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ۚ إِنَّ اللَّـهَ بَالِغُ أَمْرِهِ ۚ قَدْ جَعَلَ اللَّـهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا﴾
(سورۃ الطلاق: 3)
ترجمہ: "اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے، بے شک اللہ اپنا کام پورا کرنے والا ہے، اور اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔"
کتنی بڑی ضمانت ہے! جو شخص سچے دل سے اللہ پر توکل کرے، اللہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے — اس کا محافظ، اس کا رازق، اس کا مددگار۔
اسی طرح اللہ نے شیطان کے حملوں سے بچنے کے لیے بھی توکل کو ڈھال بنایا:
﴿إِنَّهُ لَيْسَ لَهُ سُلْطَانٌ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ﴾
(سورۃ النحل: 99)
ترجمہ: "بے شک اس (شیطان) کا ان لوگوں پر کوئی زور نہیں جو ایمان لائے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔"
۲. احادیث نبویہ میں توکل کی برکت اور حقیقت
نبی کریم ﷺ نے توکل کی حقیقت کو اونٹنی باندھنے اور پھر اللہ پر بھروسہ کرنے کی مثال سے سمجھایا۔ سنیے!
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«لَوْ أَنَّكُمْ تَتَوَكَّلُونَ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ، تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا»
(سنن الترمذي: 2344 - حسن صحيح، سنن ابن ماجه: 4164)
ترجمہ: "اگر تم اللہ پر اس طرح بھروسہ کرو جیسا کہ بھروسہ کرنے کا حق ہے، تو وہ تمہیں اسی طرح رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے، وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں۔"
غور کرو! پرندے صبح گھونسلے سے نکلتے ہیں، ان کے پاس کوئی ذخیرہ نہیں، کوئی تنخواہ نہیں، لیکن وہ اڑتے ہیں، دانہ چنتے ہیں، اور اللہ انہیں بھرپور رزق دیتا ہے۔ یہی توکل ہے: کوشش کرو، اللہ رزق دے گا۔
ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے توکل کرنے والوں کی فضیلت بیان فرمائی:
«يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ» قَالُوا: مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «هُمُ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَلَا يَكْتَوُونَ، وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ»
(صحيح البخاري: 6472، صحيح مسلم: 220)
ترجمہ: "میری امت کے ستر ہزار لوگ بغیر حساب جنت میں داخل ہوں گے۔ صحابہ نے پوچھا: وہ کون ہیں یا رسول اللہ؟ فرمایا: وہ جو جھاڑ پھونک نہیں کراتے، بدشگونی نہیں لیتے، داغ نہیں لگواتے، اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔"
یہ لوگ اسباب سے بے نیاز نہیں ہوتے، لیکن ان کا اصل بھروسہ اللہ پر ہوتا ہے، وہ غیر شرعی علاج اور بدفالیوں سے بچتے ہیں، اور اللہ کی تقدیر پر راضی رہتے ہیں۔
۳. انبیاء کرام کا توکل: ایمان افروز مثالیں
بھائیو! انبیاء کرام علیہم السلام کی زندگیاں توکل کی سب سے بڑی مثالیں ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب آگ میں ڈالا گیا تو انہوں نے کسی مدد کو نہیں پکارا، بلکہ اللہ پر بھروسہ رکھا، اور اللہ نے آگ کو گلزار بنا دیا۔ قرآن میں ہے:
﴿قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ﴾
(سورۃ الأنبياء: 69)
حضرت موسیٰ علیہ السلام جب بنی اسرائیل کو لے کر نکلے، اور سامنے سمندر، پیچھے فرعون کا لشکر، تو ان کے ساتھی پکار اٹھے: "ہم تو پکڑے گئے!" مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا:
﴿كَلَّا ۖ إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ﴾
(سورۃ الشعراء: 62)
ترجمہ: "ہرگز نہیں! بے شک میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری رہنمائی فرمائے گا۔"
اور پھر اللہ نے سمندر کو چیر دیا۔ یہ ہے توکل کی طاقت!
ہمارے نبی ﷺ کا توکل تو سب سے اعلیٰ تھا۔ غارِ ثور میں جب دشمن سر پر تھے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا: "لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّـهَ مَعَنَا" — غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ یہ وہ توکل تھا جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔
۴. توکل اور اسباب میں فرق: ہاتھ پر ہاتھ دھرنا توکل نہیں
بھائیو! کچھ لوگ توکل کا غلط مطلب نکالتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب اللہ پر بھروسہ ہے تو پھر محنت کیوں کریں، دوا کیوں کھائیں، حفاظت کیوں کریں؟ یہ سوچ غلط ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "اونٹنی کو باندھو، پھر اللہ پر بھروسہ کرو۔" (ترمذي: 2517 - حسن)
اسباب اختیار کرنا عین عبادت ہے، بشرطیکہ دل میں یہ یقین ہو کہ اصل کام کرنے والا اللہ ہے، سبب صرف ایک ظاہری وسیلہ ہے۔ کسان ہل چلاتا ہے، بیج ڈالتا ہے، پانی دیتا ہے، یہ اسباب ہیں، لیکن حقیقت میں فصل اگانے والا اللہ ہے۔ تاجر محنت کرتا ہے، مگر رزق دینے والا اللہ ہے۔ مریض دوا کھاتا ہے، مگر شفا دینے والا اللہ ہے۔
۵. موجودہ دور میں توکل کی ضرورت اور اس کی کمی کے اثرات
اللہ کے بندو! آج کے دور میں بے چینی، ڈپریشن، مایوسی، اور پریشانی عام ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اسباب پر تو بہت بھروسہ کر لیا ہے، لیکن مسبب الاسباب یعنی اللہ پر بھروسہ چھوڑ دیا ہے۔ جب اسباب ناکام ہوتے ہیں تو ہم ٹوٹ جاتے ہیں، حالانکہ اگر اللہ پر توکل ہو تو انسان جانتا ہے کہ ناکامی بھی اللہ کی طرف سے ایک حکمت ہے، اور وہ اس میں بھی خیر تلاش کرتا ہے۔
آج لوگ نوکری، کاروبار، صحت، اولاد کی فکر میں گھلے جا رہے ہیں، اور اس فکر کا حل صرف یہ ہے کہ وہ اپنی پوری کوشش کریں اور پھر معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں، اس یقین کے ساتھ کہ وہ بہتر کرے گا۔
۶. اصلاحی نکات: زندگی میں توکل کیسے پیدا کریں؟
- اللہ کی صفات پر ایمان: اللہ کے رازق، قادر، حکیم ہونے پر پختہ یقین رکھیں۔
- اسباب کے ساتھ توکل: ہر جائز سبب اختیار کریں، لیکن دل میں یہ ہو کہ کامیابی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
- دعا کے ساتھ توکل: ہر معاملے میں اللہ سے مدد مانگیں، استخارہ کریں، اور پھر جو فیصلہ ہو اس پر اللہ پر بھروسہ کر کے عمل کریں۔
- ماضی پر افسوس نہ کریں: نبی ﷺ نے فرمایا: "اگر تجھے کوئی نقصان پہنچے تو یہ نہ کہہ: کاش میں نے ایسے کیا ہوتا تو ایسے ہوتا، بلکہ یہ کہہ: اللہ نے تقدیر لکھ دی اور جو اس نے چاہا کیا۔" (مسلم: 2664)
- روز مرہ کی زندگی میں مشق: چھوٹے چھوٹے معاملات میں بھی اللہ پر بھروسہ کریں، نتیجہ اس پر چھوڑ دیں۔
- توکل کی دعائیں: «حَسْبُنَا اللَّـهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» (آل عمران: 173) اور «اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ» (بخاری) کا ورد کریں۔
۷. اختتامی نصیحت: اللہ پر بھروسہ رکھو، کبھی مایوس نہ ہو
اللہ کے بندو! سنو! توکل وہ جذبہ ہے جو مومن کو کبھی شکست تسلیم نہیں کرنے دیتا۔ اگر اسے دنیا میں کامیابی ملتی ہے تو شکر کرتا ہے، اور اگر ناکامی ملتی ہے تو صبر کرتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ کی ہر بات میں حکمت ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ... إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ»
(صحيح مسلم: 2999)
پس اللہ پر توکل کرو، اپنی کوشش جاری رکھو، اور کبھی مایوس نہ ہو۔
۸. دعا
«حَسْبُنَا اللَّـهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ»
(سورۃ آل عمران: 173)
«اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْ تُضِلَّنِي»
(صحيح البخاري: 7388، صحيح مسلم: 2717)
«اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا صِدْقَ التَّوَكُّلِ عَلَيْكَ، وَحُسْنَ الظَّنِّ بِكَ، وَالرِّضَا بِقَضَائِكَ»
«رَبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْكَ أَنَبْنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ»
(سورۃ الممتحنة: 4)
اللهم إنا نسألك توكلاً صادقاً، ويقيناً خالصاً، وقلباً سليماً، ولساناً ذاكراً. اللهم اكفنا بحلالك عن حرامك، وأغننا بفضلك عمن سواك. اللهم من أراد بنا سوءاً فاشغله بنفسه، واجعل تدبيره تدميراً عليه. اللهم فرج هم المهمومين، ونفس كرب المكروبين، واشف مرضانا ومرضى المسلمين. وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.