ہوم / مضامین

عدل و انصاف کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں | خطبہ جمعہ

TITLE: عدل و انصاف: اسلامی معاشرے کی بنیاد اور ہر صاحبِ اختیار کی ذمہ داری SEO TITLE: عدل و انصاف کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں | خطبہ جمعہ SLUG: adal-o-insaf-islami-muasharay-ki-bunyad META DESCRIPTION: عدل و انصاف کی فرضیت، قرآن و سنت میں اس کی اہمیت، صحابہ کرام کے عدل کے نمونے، موجودہ دور میں ناانصافی کے اسباب اور ان کا حل، اور ہر فرد کی ذمہ داری پر جامع اور متوازن خطبہ۔ CONTENT:

عدل و انصاف: اسلامی معاشرے کی بنیاد اور ہر صاحبِ اختیار کی ذمہ داری

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَمَرَ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ، وَنَهَىٰ عَنِ الظُّلْمِ وَالطُّغْيَانِ، وَجَعَلَ الْعَدْلَ قِوَامَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، الْعَدْلُ فِي حُكْمِهِ، الرَّحْمَـٰنُ بِعِبَادِهِ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، الَّذِي كَانَ أَعْدَلَ النَّاسِ فِي قَضَائِهِ، وَأَنْصَفَهُمْ فِي سِيرَتِهِ. صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ الَّذِينَ تَحَرَّوُا الْعَدْلَ فِي كُلِّ شُعَبِ الْحَيَاةِ. أَمَّا بَعْدُ!

اللہ کے نیک بندو! ایمان والو! آج جس اہم دینی اور سماجی موضوع پر ہم بات کریں گے، وہ کوئی معمولی موضوع نہیں، بلکہ یہ وہ عظیم صفت ہے جس پر آسمان و زمین قائم ہیں، جس کے بغیر کوئی معاشرہ فلاح نہیں پا سکتا، اور جس کی بدولت مظلوم کو انصاف ملتا ہے اور ظالم کا ظلم رکتا ہے۔ یہ وہ خصلت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے خود اپنی ذات کے لیے پسند فرمایا، اور اپنے بندوں پر بھی فرض قرار دیا۔ یہ ہے عدل و انصاف!

بھائیو! عدل کا مطلب صرف یہ نہیں کہ کسی عدالت میں جا کر دو فریقوں کے درمیان برابری کا فیصلہ کیا جائے، بلکہ عدل تو ایک مسلمان کی پوری زندگی میں سرایت کر جانا چاہیے — اپنے نفس کے ساتھ عدل، اپنے گھر والوں کے ساتھ عدل، اپنے ملازمین کے ساتھ عدل، اپنی زبان کے ساتھ عدل، اور یہاں تک کہ دشمن کے ساتھ بھی عدل۔ یہی وہ تعلیم ہے جو اسلام نے ہمیں دی، اور جسے چھوڑ دینے کی وجہ سے آج امت ذلت کا شکار ہے۔

آج کے خطبے میں ہم جانیں گے کہ قرآن کریم نے عدل کو کس طرح فرض قرار دیا، نبی کریم ﷺ نے اپنی زندگی میں عدل کا کیسا نمونہ پیش فرمایا، صحابہ کرام نے عدل کے کیا عملی مظاہرے کیے، موجودہ دور میں ناانصافی کے کیا اسباب ہیں، اور ہم بحیثیت افراد اپنی زندگیوں میں عدل کو کیسے نافذ کر سکتے ہیں۔ غور سے سنو! شاید یہ خطبہ تمہارے اندر انصاف کا جذبہ بیدار کر دے، اور تم ظلم کے خلاف کھڑے ہونے والوں میں شامل ہو جاؤ۔

۱. قرآن کریم میں عدل و انصاف کی فرضیت اور تاکید

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں عدل کو صریح الفاظ میں فرض قرار دیا، اور اسے ایمان کے ساتھ لازم و ملزوم بتایا۔ سنیے! رب العالمین کا فرمان ہے:

﴿إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
(سورۃ النحل: 90)

ترجمہ: "بے شک اللہ عدل، احسان، اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے، اور بے حیائی، برائی، اور سرکشی سے روکتا ہے، وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔"

یہ آیت امیر المومنین حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے دور میں جمعہ کے خطبوں میں باقاعدہ پڑھی جانے لگی تھی، اور اسے قرآن کی جامع ترین آیات میں شمار کیا جاتا ہے۔ اللہ نے پہلے عدل کا حکم دیا، پھر احسان کا، یعنی صرف برابری کافی نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر اچھا سلوک بھی مطلوب ہے۔

دوسری جگہ اللہ نے ایمان والوں کو عدل پر قائم رہنے کا حکم دیا، چاہے وہ ان کے خلاف ہی کیوں نہ ہو:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّـهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ ۚ إِن يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًا فَاللَّـهُ أَوْلَىٰ بِهِمَا ۖ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَىٰ أَن تَعْدِلُوا ۚ وَإِن تَلْوُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا
(سورۃ النساء: 135)

ترجمہ: "اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہنے والے، اللہ کے لیے گواہی دینے والے بن جاؤ، چاہے وہ گواہی خود تمہارے خلاف ہو، یا والدین اور رشتہ داروں کے خلاف، اگر وہ امیر ہو یا غریب، اللہ دونوں کا تم سے زیادہ خیر خواہ ہے، پس خواہش کی پیروی نہ کرو کہ انصاف سے ہٹ جاؤ، اور اگر تم زبان کو مڑو گے یا پہلو تہی کرو گے تو بے شک اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے۔"

یہ آیت عدل کی انتہا ہے: اپنے خلاف، والدین کے خلاف، رشتہ داروں کے خلاف — ہر صورت میں سچی گواہی اور انصاف قائم رکھو، کیونکہ اللہ سب سے بڑا حاکم ہے۔

اللہ نے ظلم کو حرام قرار دیا اور فرمایا کہ وہ ظالموں کو ہرگز پسند نہیں کرتا:

﴿وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ
(سورۃ آل عمران: 192)

۲. احادیث نبویہ میں عدل کی عظمت اور ظلم کی مذمت

نبی کریم ﷺ نے عدل کو اللہ کی رحمت کا سبب اور ظلم کو قیامت کے اندھیروں کا ذریعہ بتایا۔ سنیے!

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«إِنَّ الْمُقْسِطِينَ عِنْدَ اللَّهِ عَلَىٰ مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ، الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهَالِيهِمْ وَمَا وَلُوا»
(صحيح مسلم: 1827)

ترجمہ: "بے شک انصاف کرنے والے اللہ کے نزدیک نور کے منبروں پر ہوں گے، وہ لوگ جو اپنے فیصلوں میں، اپنے گھر والوں میں، اور ہر اس چیز میں جس کے وہ ذمہ دار ہیں، عدل کرتے ہیں۔"

کتنی بڑی فضیلت ہے! نور کے منبروں پر وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے اختیار میں عدل کیا۔ یہ صرف قاضیوں کے لیے نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیے خوشخبری ہے جس کے ماتحت کوئی ہے — گھر کا سربراہ، دفتر کا افسر، استاد، ہر کوئی اپنے دائرے میں عدل کرے تو یہ اعزاز پائے گا۔

ظلم کی سنگینی بیان کرتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا:

«اتَّقُوا الظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
(صحيح مسلم: 2578)

ترجمہ: "ظلم سے بچو، بے شک ظلم قیامت کے دن اندھیرے ہوں گے۔"

ظلم چاہے کسی کی حق تلفی ہو، کسی پر ہاتھ اٹھانا ہو، کسی کی زمین پر قبضہ کرنا ہو، کسی کی عزت پامال کرنا ہو — یہ سب قیامت کے دن ظالم کے لیے تاریکیاں بن کر آئیں گے۔

نبی ﷺ نے مظلوم کی دعا کو رد نہ ہونے والی دعاؤں میں شمار فرمایا:

«وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ»
(صحيح البخاري: 1496، صحيح مسلم: 19)

ترجمہ: "اور مظلوم کی دعا سے ڈرو، کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔"

یعنی مظلوم کی دعا براہِ راست قبول ہوتی ہے، خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو، اس لیے کبھی کسی پر ظلم نہ کرو۔

۳. صحابہ کرام اور سلف صالحین کے عدل کے نمونے

بھائیو! صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عدل کے وہ معیار قائم کیے جو قیامت تک کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک مشہور واقعہ ہے: ایک قبطی عیسائی کا بیٹا مصر کے گورنر کے بیٹے سے ظلم کا شکار ہوا۔ وہ مدینہ پہنچا، اور حضرت عمر نے نہ صرف گورنر کے بیٹے سے بدلہ دلوایا بلکہ یہ تاریخی جملہ فرمایا: "تم لوگوں کو کب سے غلام بنا لیا ہے، حالانکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا؟"

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک یہودی شہری کی زرہ گم ہو گئی، جو حضرت علی کے پاس ایک غیر مسلم شخص کے پاس ملی۔ حضرت علی قاضی کے سامنے مقدمہ لے کر گئے۔ قاضی نے گواہ طلب کیے، حضرت علی نے اپنے بیٹے اور غلام کو گواہ پیش کیا، مگر قاضی نے رشتہ داری کی بنا پر گواہی قبول نہ کی، اور حضرت علی کا مقدمہ کمزور پڑ گیا۔ حضرت علی نے اس فیصلے کو خوش دلی سے قبول کیا، حالانکہ وہ خلیفہ تھے۔ یہ ہے عدل!

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں مشہور ہے کہ جب وہ خلیفہ بنے تو انہوں نے ظلم سے حاصل کردہ تمام اموال واپس کر دیے، یہاں تک کہ اپنی بیوی کا زیور بھی بیت المال میں جمع کروا دیا، کیونکہ وہ اسے ناجائز سمجھتے تھے۔

۴. موجودہ دور میں ناانصافی کے مظاہر اور ان کا حل

اللہ کے بندو! آج کے دور میں عدل کا جنازہ نکل چکا ہے۔ دفتروں میں رشوت، عدالتوں میں سفارش، کاروبار میں دھوکہ، گھروں میں بیوی بچوں پر ظلم، وراثت میں عورتوں کی حق تلفی، مزدور کی مزدوری مارنا — یہ سب ناانصافی کے وہ پہلو ہیں جو ہمارے معاشرے کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔

سیاسی اور سماجی ناانصافی نے عوام کا نظام سے اعتماد اٹھا دیا ہے۔ جہاں انصاف نہ ہو، وہاں بے چینی، فساد، اور جرائم پروان چڑھتے ہیں۔ ہمیں بحیثیت امت یہ سمجھنا ہوگا کہ جب تک ہم انصاف قائم نہیں کریں گے، اللہ کی رحمت نہیں اترے گی۔

عدل کا حل یہ ہے کہ ہم پہلے اپنے گھروں سے انصاف شروع کریں — اولاد میں برابری، بیوی کے حقوق کی ادائیگی، ملازمین کے ساتھ حسن سلوک، کاروبار میں دیانت داری، اور زبان میں سچائی۔ جب افراد بدلیں گے تو معاشرہ بدلے گا۔

۵. اصلاحی نکات: زندگی میں عدل کو کیسے نافذ کریں؟

  • اپنے نفس پر عدل: اپنی خواہشات کو اللہ کے احکام کے تابع کریں، نفس کو گناہوں سے روکیں۔
  • گھر میں عدل: بیوی بچوں کے درمیان برابری کریں، کسی کو کسی پر ترجیح نہ دیں، اولاد میں لڑکا لڑکی میں فرق نہ کریں۔
  • کاروبار میں عدل: ناپ تول پورا کریں، عیب نہ چھپائیں، مزدور کی مزدوری وقت پر دیں۔
  • زبان کا عدل: سچ بولیں، جھوٹی گواہی نہ دیں، غیبت اور بہتان سے بچیں۔
  • دشمن سے بھی عدل: دشمنی میں بھی انصاف کا دامن نہ چھوڑیں، اللہ کا فرمان ہے: «وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ» (مائدہ: 8)۔
  • مظلوم کی مدد: جہاں کہیں ظلم ہوتا دیکھیں، استطاعت کے مطابق اسے روکیں، یا کم از کم دل سے برا جانیں۔
  • دعا اور استغفار: اللہ سے مدد مانگیں کہ وہ ہمیں عدل کرنے والا بنائے، اور ظلم سے بچنے کی توفیق دے۔

۶. اختتامی نصیحت: عدل ہی بقا ہے

اللہ کے بندو! سنو! تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے عدل قائم کیا، اللہ نے انہیں عزت بخشی، اور جنہوں نے ظلم کو اپنا شعار بنایا، انہیں نیست و نابود کر دیا۔ عدل صرف حکمرانوں کا کام نہیں، یہ ہر مسلمان کا فریضہ ہے، اپنے دائرہ اختیار میں۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ»
(صحيح البخاري: 893، صحيح مسلم: 1829)

ترجمہ: "تم میں سے ہر کوئی نگران ہے، اور ہر کوئی اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہے۔"

پس اپنی رعیت کے ساتھ عدل کرو، خواہ وہ تمہارے گھر والے ہوں، ماتحت ہوں، یا جانور ہوں۔

۷. دعا

«اللَّهُمَّ اهْدِنَا لِأَحْسَنِ الْأَعْمَالِ وَأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ، لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ»
«اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنَ الْمُقْسِطِينَ الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي أَهَالِيهِمْ وَمَا وَلُوا»
«اللَّهُمَّ انْصُرِ الْمَظْلُومِينَ، وَأَخِذْ لَهُمْ حَقَّهُمْ، وَرُدَّ كَيْدَ الظَّالِمِينَ فِي نُحُورِهِمْ»
«رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ»

اللهم أصلح ولاة أمور المسلمين، وارزقهم العدل في الرعية، وبطانة صالحة تعينهم على الحق. اللهم أدم الأمن والإيمان في بلادنا، واكفنا شر الظلم والطغيان. اللهم من ظلمنا أو ظلم أحداً من عبادك فرده عن ظلمه، وخذ لنا بحقنا. وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.


TAGS JSON: { "tags": ["عدل", "انصاف", "ظلم", "حقوق", "قسط", "مساوات", "معاشرہ", "اخلاق", "حکمرانی", "اصلاح"], "category": "اصلاحی بیانات", "related_month": null, "related_people": ["حضرت محمد ﷺ", "حضرت عمر رضی اللہ عنہ", "حضرت علی رضی اللہ عنہ", "حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ"] } FEATURED IMAGE IDEA: ایک ترازو کے دونوں پلڑے بالکل برابر، پس منظر میں عدالت کا کمرہ یا مسجد، اوپر عربی خطاطی میں "إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ" اور نیچے "الْمُقْسِطِينَ عِنْدَ اللَّهِ عَلَىٰ مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ" لکھا ہو، فضا میں روشنی اور سکون۔