ہوم / مضامین

صلہ رحمی کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں | خطبہ جمعہ

TITLE: صلہ رحمی: رشتوں کی حفاظت، رزق میں برکت اور جنت کا راستہ SEO TITLE: صلہ رحمی کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں | خطبہ جمعہ SLUG: sila-rehmi-rishton-ki-hifazat-rizq-mein-barkat META DESCRIPTION: صلہ رحمی کی فرضیت، قطع رحمی کی سنگینی، رشتہ داروں کے حقوق، اور موجودہ دور میں صلہ رحمی کی اہمیت پر قرآن و سنت کی روشنی میں جامع اور متوازن خطبہ۔ CONTENT:

صلہ رحمی: رشتوں کی حفاظت، رزق میں برکت اور جنت کا راستہ

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَ الْإِنْسَانَ وَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهْرًا، وَأَمَرَنَا بِصِلَةِ الرَّحِمِ وَحَذَّرَنَا مِنَ الْقَطِيعَةِ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، يَصِلُ مَنْ وَصَلَ رَحِمَهُ، وَيَقْطَعُ مَنْ قَطَعَهَا، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، الَّذِي كَانَ يَصِلُ رَحِمَهُ وَيُكْرِمُ أَقَارِبَهُ، وَقَالَ: "مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ". صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ الَّذِينَ تَرْجَمُوا هَذِهِ الْوَصِيَّةَ إِلَى أَرْوَعِ صُوَرِ الْبِرِّ وَالْإِحْسَانِ. أَمَّا بَعْدُ!

اللہ کے نیک بندو! ایمان والو! آج میں تمہارے سامنے جس موضوع کو رکھنے جا رہا ہوں، یہ وہ موضوع ہے جس کا تعلق تمہارے خونی رشتوں، تمہارے گھر کی برکت، تمہاری عمر کی کشادگی، تمہارے رزق کی فراوانی، اور تمہاری جنت کی ضمانت سے ہے۔ یہ وہ عبادت ہے جس کا بدلہ دنیا میں بھی ملتا ہے اور آخرت میں بھی۔ یہ وہ عمل ہے جسے چھوڑ دینے سے لعنت آتی ہے، اور جسے اپنا لینے سے رحمت نازل ہوتی ہے۔ یہ ہے صلہ رحمی — رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک، ان سے تعلق جوڑے رکھنا، اور ان کے حقوق ادا کرنا!

بھائیو! صلہ رحمی صرف یہ نہیں کہ کوئی رشتہ دار تم سے ملے تو تم بھی مل لو، بلکہ حقیقی صلہ رحمی یہ ہے کہ اگر رشتہ دار تم سے تعلق توڑے تو تم اسے جوڑو، اگر وہ تمہیں محروم کرے تو تم اسے دو، اگر وہ ظلم کرے تو تم اسے معاف کرو۔ یہ ہے وہ بلند اخلاقی معیار جس کی تعلیم ہمارے دین نے دی ہے۔

آج کے خطبے میں ہم جانیں گے کہ قرآن نے صلہ رحمی کا حکم کس تاکید سے دیا، نبی کریم ﷺ نے قطع رحمی کرنے والوں کو کیا وعید سنائی، صحابہ کرام اور اسلاف نے صلہ رحمی کے کیا عملی نمونے پیش کیے، موجودہ دور میں رشتوں کی بے حرمتی کے کیا اسباب ہیں، اور ہم کس طرح اس عظیم عبادت کو اپنی زندگیوں میں زندہ کر سکتے ہیں۔ سنو! شاید تمہارے کسی رشتہ دار سے تمہاری ناراضی برسوں پرانی ہو، اور آج کا خطبہ اس برف کو پگھلا دے، اور تم دوبارہ اس رشتے کو جوڑ لو۔

۱. قرآن کریم میں صلہ رحمی کا حکم اور قطع رحمی کی وعید

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر صلہ رحمی کی تاکید فرمائی، اور اسے تقویٰ کے ساتھ لازم و ملزوم قرار دیا۔ سنیے! رب العالمین کا فرمان ہے:

﴿وَاتَّقُوا اللَّـهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا
(سورۃ النساء: 1)

ترجمہ: "اور اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو، اور رشتہ داروں (کے حقوق) کا بھی خیال رکھو۔ بے شک اللہ تم پر نگہبان ہے۔"

غور کرو! اس آیت میں اللہ نے اپنے تقویٰ کے ساتھ رشتہ داروں کے حقوق کا ذکر فرمایا، یعنی جس طرح اللہ سے ڈرنا فرض ہے، اسی طرح رشتہ داروں کے حقوق کی حفاظت بھی فرض ہے۔

دوسری جگہ اللہ نے صلہ رحمی کرنے والوں کی مدح فرمائی اور قطع رحمی کرنے والوں کی مذمت کی:

﴿وَالَّذِينَ يَصِلُونَ مَا أَمَرَ اللَّـهُ بِهِ أَن يُوصَلَ وَيَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَيَخَافُونَ سُوءَ الْحِسَابِ
(سورۃ الرعد: 21)

ترجمہ: "اور جو لوگ اللہ کے حکم سے جس چیز کو ملانا ضروری ہے اسے ملاتے ہیں (یعنی صلہ رحمی کرتے ہیں)، اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں، اور برے حساب سے خوف کھاتے ہیں۔"

یہ صفت ان نیک لوگوں کی ہے جو جنت میں داخل ہوں گے۔

قطعی رحمی کرنے والوں کے بارے میں اللہ نے سخت وعید سنائی:

﴿فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِن تَوَلَّيْتُمْ أَن تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ ۞ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّـهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَىٰ أَبْصَارَهُمْ
(سورۃ محمد: 22-23)

ترجمہ: "تو کیا تم سے یہ توقع ہے کہ اگر تم حاکم بن جاؤ تو زمین میں فساد پھیلاؤ گے اور اپنے رشتوں کو کاٹ ڈالو گے؟ یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی، پس انہیں بہرا بنا دیا اور ان کی آنکھیں اندھی کر دیں۔"

کتنی سخت آیت ہے! قطع رحمی کرنے والے پر اللہ کی لعنت، اس کا دل بہرا، اس کی آنکھیں اندھی — یہ وہ انجام ہے جو اس شخص کا ہوتا ہے جو اپنے رشتہ داروں سے تعلق توڑ لیتا ہے۔

۲. احادیث نبویہ میں صلہ رحمی کی فضیلت اور قطع رحمی کی سنگینی

نبی کریم ﷺ نے صلہ رحمی کو ایمان کے ساتھ جوڑا، اسے عمر اور رزق میں برکت کا سبب بتایا، اور قطع رحمی کو جہنم میں جلدی داخلے کا ذریعہ قرار دیا۔ سنیے!

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ»
(صحيح البخاري: 6138، صحيح مسلم: 47)

ترجمہ: "جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت کرے، اور جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرے، اور جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔"

پس صلہ رحمی ایمان کا لازمی تقاضا ہے، جو شخص رشتہ داروں سے تعلق توڑے، اس کا دعویٰ ایمان کمزور ہے۔

صلہ رحمی کے دنیوی فوائد بیان کرتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ، وَأَنْ يُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ، فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ»
(صحيح البخاري: 5986، صحيح مسلم: 2557)

ترجمہ: "جو شخص چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں کشادگی ہو، اور اس کی عمر دراز ہو (یا اس کا ذکر خیر باقی رہے)، تو وہ صلہ رحمی کرے۔"

کتنی بڑی بشارت ہے! رزق میں برکت، عمر میں اضافہ — صرف صلہ رحمی کرنے سے! آج ہم رزق کی تنگی کا رونا روتے ہیں، مگر کبھی یہ نہیں سوچتے کہ شاید ہم نے کسی رشتہ دار کا دل دکھایا ہو، کسی سے ناراضگی رکھی ہو، اور اسی وجہ سے برکت رکی ہوئی ہو۔

حقیقی صلہ رحمی کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:

«لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ، وَلَٰكِنَّ الْوَاصِلَ الَّذِي إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا»
(صحيح البخاري: 5991)

ترجمہ: "حقیقی صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو بدلہ دے، بلکہ حقیقی صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس سے تعلق توڑا جائے تو وہ خود تعلق جوڑے۔"

یہ ہے بلند اخلاقی معیار! اگر وہ نہ ملے تو تم ملو، اگر وہ تمہیں چھوڑے تو تم اسے نہ چھوڑو، اگر وہ برا کہے تو تم اچھا کہو۔

قطعی رحمی کی سنگینی کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا:

«لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ»
(صحيح البخاري: 5984، صحيح مسلم: 2556)

ترجمہ: "جنت میں داخل نہیں ہوگا قطع رحمی کرنے والا۔"

اس وعید سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے! جس نے رشتہ داروں سے تعلق توڑا، اس کے لیے جنت کے دروازے بند ہو سکتے ہیں۔

۳. صلہ رحمی کا دائرہ: کون کون سے رشتہ دار اس میں شامل ہیں؟

بھائیو! صلہ رحمی کا تعلق صرف والدین یا بہن بھائیوں سے نہیں، بلکہ ہر اس رشتہ دار سے ہے جو نسب یا رضاعت کے ذریعے تم سے جڑا ہو۔ چچا، پھوپھی، ماموں، خالہ، ان کی اولاد، اور دور کے رشتہ دار بھی اس میں شامل ہیں۔ بعض علماء نے کہا کہ محرم رشتہ داروں سے صلہ رحمی اور بھی زیادہ مؤکد ہے، اور غیر محرم رشتہ داروں سے بھی صلہ رحمی کرنا سنت ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی شخص صلہ رحمی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "میں بھی اس سے جڑتا ہوں"، اور جب کوئی قطع رحمی کرتا ہے تو اللہ فرماتا ہے: "میں بھی اس سے علیحدہ ہو جاتا ہوں"۔ (بخاری: 5988، مسلم: 2554)

پس صلہ رحمی کا تعلق صرف انسانوں سے نہیں بلکہ اس کا تعلق براہِ راست اللہ سے جڑتا ہے۔ جو رشتہ داروں کو جوڑتا ہے، اللہ اسے اپنی رحمت سے جوڑتا ہے، اور جو رشتہ داروں کو کاٹتا ہے، اللہ اسے اپنی رحمت سے کاٹ دیتا ہے۔

۴. صحابہ کرام اور اسلاف کے صلہ رحمی کے عملی نمونے

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیاں صلہ رحمی کی بہترین مثالوں سے بھری ہوئی ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ایک مشہور واقعہ ہے: ان کے رشتہ دار مسطح بن اثاثہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت کے واقعے میں حصہ لیا تھا۔ حضرت ابوبکر غصے میں آ کر ان کی مالی امداد بند کر دی۔ اس پر اللہ نے آیت نازل فرمائی:

﴿وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنكُمْ وَالسَّعَةِ أَن يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَىٰ وَالْمَسَاكِينَ
(سورۃ النور: 22)

یہ سن کر حضرت ابوبکر نے فوراً کہا: "ہاں، اللہ کی قسم! میں چاہتا ہوں کہ اللہ مجھے بخش دے۔" اور انہوں نے مسطح کی امداد پہلے سے بھی بڑھا دی۔ یہ ہے صلہ رحمی!

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خلافت کے دوران اپنے رشتہ داروں کو خصوصی مراعات نہیں دیں، لیکن ان کے حقوقِ رحمی پوری طرح ادا کیے، ان کی خبر گیری کرتے، ان کی ضرورتوں کا خیال رکھتے، اور عیدوں پر ان سے ملنے جاتے۔

ایک تابعی بزرگ کا واقعہ ہے کہ ان کی ایک پھوپھی ان سے بہت سخت کلامی کرتی تھیں، مگر وہ ہمیشہ ان کی عزت کرتے، ان کے پاس جاتے، اور ان کی خدمت کرتے۔ کسی نے پوچھا: آپ ان کی اذیت پر صبر کیوں کرتے ہیں؟ بولے: "میں ڈرتا ہوں کہ کہیں اللہ مجھے قطع رحمی کرنے والا نہ لکھ دے۔"

۵. موجودہ دور میں صلہ رحمی کے چیلنجز

اللہ کے بندو! آج کے دور میں صلہ رحمی بہت سے چیلنجز کا شکار ہو گئی ہے۔ لوگ اپنی مصروفیات میں اتنے گم ہیں کہ رشتہ داروں کو فون کرنا بھی بھول جاتے ہیں۔ شہروں میں منتقل ہو کر لوگ اپنے آبائی رشتوں سے کٹ گئے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراضگیاں جنم لیتی ہیں، اور پھر سالوں تک رشتے منقطع رہتے ہیں۔

جائیداد کی تقسیم، وراثت کے جھگڑے، مالی لین دین کے مسائل — ان سب نے بھائیوں کو ایک دوسرے سے دور کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کو بلاک کر دینا، دیکھ کر سلام نہ کرنا، عیدوں پر بھی نہ ملنا — یہ سب قطع رحمی کی صورتیں ہیں۔

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ رشتے داروں سے تعلق جوڑنا عبادت ہے، اور اس میں چاہے کتنی ہی تلخی کیوں نہ ہو، ہمیں معاف کرنے، درگزر کرنے، اور جوڑنے والا بننا چاہیے، توڑنے والا نہیں۔

۶. اصلاحی نکات: صلہ رحمی کو اپنانے کے عملی طریقے

  • ہفتہ وار رابطہ: کم از کم ہفتے میں ایک بار اپنے قریبی رشتہ داروں سے فون یا ملاقات کریں، ان کی خیریت دریافت کریں۔
  • عیدوں اور خوشیوں میں شرکت: عید، شادی بیاہ، اور خوشی کے موقعوں پر رشتہ داروں سے ضرور ملیں، تحائف دیں، تہنیت کہیں۔
  • غم میں شریک ہونا: بیماری، موت، یا پریشانی میں رشتہ داروں کے پاس جائیں، تسلی دیں، اور عملی مدد کریں۔
  • مالی مدد: اگر کوئی رشتہ دار غریب ہے تو استطاعت کے مطابق اس کی مالی مدد کریں، یہ صلہ رحمی کا اعلیٰ درجہ ہے۔
  • قطع تعلق کرنے والے سے خود ملیں: اگر کوئی رشتہ دار ناراض ہو اور ملنا چھوڑ دے، تو آپ خود پہل کریں، اس سے ملیں، اس کے دل کی سختی کو اپنی نرمی سے توڑیں۔
  • معافی مانگنے میں پہل: اگر غلطی آپ کی ہے تو معافی مانگیں، اور اگر غلطی اس کی ہے تو معاف کر دیں اور تعلق بحال کریں۔
  • رشتہ داروں کے لیے دعا: اپنی دعاؤں میں رشتہ داروں کو خاص طور پر یاد رکھیں، ان کی مغفرت، صحت، اور ہدایت کے لیے دعا کریں۔
  • بچوں کو صلہ رحمی سکھائیں: بچوں کو بچپن سے رشتہ داروں کی عزت اور ان سے ملنے جلنے کی عادت ڈالیں، تاکہ یہ صفت ان میں راسخ ہو جائے۔

۷. اختتامی نصیحت: رشتے جوڑو، رحمت پاؤ

اللہ کے بندو! سنو! رشتے دار وہ رشتے ہیں جنہیں اللہ نے تمہارے لیے چنا ہے، تم نے خود نہیں چنے۔ اللہ نے ان رشتوں کو اپنی رحمت سے جوڑا ہے، اور انہیں توڑنا اللہ کی رحمت کو ٹھکرانے کے مترادف ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ الرَّحِمَ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ تَقُولُ: مَنْ وَصَلَنِي وَصَلَهُ اللَّهُ، وَمَنْ قَطَعَنِي قَطَعَهُ اللَّهُ»
(صحيح البخاري: 5989، صحيح مسلم: 2555)

ترجمہ: "بے شک رحم (یعنی رشتہ داری) عرش سے لٹکی ہوئی ہے، وہ کہتی ہے: جس نے مجھے جوڑا اللہ اسے جوڑے، اور جس نے مجھے کاٹا اللہ اسے کاٹے۔"

پس اپنے رشتوں کو جوڑو، اپنے گھر کی برکت کو واپس لاؤ، اپنے رزق میں کشادگی چاہتے ہو تو صلہ رحمی کرو، اپنی عمر میں برکت چاہتے ہو تو صلہ رحمی کرو، جنت میں داخلہ چاہتے ہو تو صلہ رحمی کرو۔

۸. دعا

«اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنَ الْوَاصِلِينَ لِأَرْحَامِهِمْ، الْمُحْسِنِينَ إِلَىٰ أَقَارِبِهِمْ، الْمُتَجَاوِزِينَ عَنْ زَلَّاتِهِمْ»
«اللَّهُمَّ أَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِ أَقَارِبِنَا، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِهِمْ، وَاهْدِهِمْ سُبُلَ السَّلَامِ»
«اللَّهُمَّ مَنْ قَطَعَنَا مِنْ ذَوِي أَرْحَامِنَا فَأَلِّفْ قَلْبَهُ، وَمَنْ أَسَاءَ إِلَيْنَا مِنْهُمْ فَاغْفِرْ لَهُ، وَارْزُقْنَا بِرَّهُمْ وَصِلَتَهُمْ»
«رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِوَالِدِينَا وَلِجَمِيعِ أَقَارِبِنَا، وَاجْمَعْنَا بِهِمْ فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ»

اللهم إنا نعوذ بك من قطع الأرحام، ومن عقوق الأقارب، ومن جفاء الأهل والجيران. اللهم بارك في أرحامنا، وأدم بيننا المحبة والمودة. اللهم من مات من أقاربنا فأكرم نزله، واغفر له، وارحمه، واجمعنا به في الفردوس الأعلى. ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار. وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.


TAGS JSON: { "tags": ["صلہ رحمی", "رشتہ دار", "قطع رحمی", "رزق", "عمر", "برکت", "معافی", "والدین", "بھائی", "رشتے"], "category": "معاشرت", "related_month": null, "related_people": ["حضرت محمد ﷺ", "حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ", "حضرت عمر رضی اللہ عنہ", "حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا"] } FEATURED IMAGE IDEA: ایک درخت جس کی جڑیں مضبوط اور شاخیں پھیلی ہوئی ہوں، ہر شاخ پر ایک رشتے کا نام لکھا ہو، درخت سے نور پھوٹ رہا ہو، پس منظر میں آسمان سے رحمت کی بارش ہو رہی ہو، اوپر عربی خطاطی میں "وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَذِي الْقُرْبَىٰ" اور نیچے "مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ" لکھا ہو۔