ہوم / مضامین

امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی فرضیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں | خطبہ جمعہ

TITLE: امر بالمعروف و نہی عن المنکر: دین کی بقا اور معاشرتی اصلاح کا عظیم فریضہ SEO TITLE: امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی فرضیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں | خطبہ جمعہ SLUG: amr-bil-maroof-nahi-anil-munkar-deen-ki-baqa META DESCRIPTION: امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی فرضیت، اس کے آداب، قرآن و سنت سے دلائل، صحابہ و سلف کا طرزِ عمل، موجودہ دور میں اس کی ضرورت اور طریقہ کار پر مشتمل جامع اور متوازن خطبہ۔ CONTENT:

امر بالمعروف و نہی عن المنکر: دین کی بقا اور معاشرتی اصلاح کا عظیم فریضہ

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنكَرِ خَيْرِيَّةَ هَذِهِ الْأُمَّةِ، وَبِهِمَا حُفِظَ الدِّينُ وَاسْتَقَامَتِ الْحَيَاةُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، أَمَرَنَا بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ، وَنَهَانَا عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، الَّذِي كَانَ يَقُومُ بِهَذَا الْفَرِيضَةِ فِي كُلِّ مَرَاحِلِ دَعْوَتِهِ، وَأَوْصَى بِهَا أُمَّتَهُ. صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ الَّذِينَ تَحَمَّلُوا فِي سَبِيلِ الْإِصْلَاحِ الْأَذَى وَالْمَشَقَّةَ. أَمَّا بَعْدُ!

اللہ کے نیک بندو! ایمان والو! آج میں جس فریضے کا تذکرہ کرنے جا رہا ہوں، وہ کوئی معمولی فریضہ نہیں! یہ وہ فریضہ ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس امت کو "خیر امت" یعنی سب سے بہترین امت قرار دیا۔ یہ وہ ذمہ داری ہے جسے چھوڑ دینے سے پچھلی امتیں تباہ ہوئیں۔ یہ وہ مشعل ہے جسے تھامے رکھنا ہر اس مسلمان کا کام ہے جو اپنے دین اور معاشرے کی حفاظت چاہتا ہے۔ یہ ہے امر بالمعروف و نہی عن المنکر — نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا!

بھائیو! یہ فریضہ صرف علماء اور خطباء تک محدود نہیں، بلکہ ہر مسلمان پر اس کی استطاعت کے مطابق فرض ہے۔ یہ وہ دیوار ہے جو معاشرے کو سیلابِ گناہ سے بچاتی ہے۔ جب یہ دیوار گر جاتی ہے تو پھر نیک و بد سب اس سیلاب کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے اس فریضے کی ادائیگی نہ کرنے والوں کو کشتی کے اس مسافر سے تشبیہ دی جو کشتی میں سوراخ کرنے لگتا ہے — اگر اسے روکا گیا تو سب بچ گئے، ورنہ سب ڈوب گئے۔

آج کے خطبے میں ہم اس عظیم فریضے کی حقیقت، قرآن و سنت میں اس کی فرضیت، اس کے آداب و شرائط، ہمارے اسلاف کی عملی مثالیں، اور موجودہ دور میں اسے کس طرح مؤثر طریقے سے انجام دیا جائے، ان سب پہلوؤں پر روشنی ڈالیں گے۔ غور سے سنیے! کیونکہ ہو سکتا ہے کہ آج کی یہ بات تمہارے اندر اصلاح کا جذبہ بیدار کر دے، اور تم اس کشتی کو ڈوبنے سے بچانے والوں میں شامل ہو جاؤ۔

۱. قرآن کریم میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی فرضیت اور اہمیت

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس فریضے کو امتِ مسلمہ کی پہچان قرار دیا، اور اسے ترک کرنے پر لعنت اور ہلاکت کی وعید سنائی۔ سنیے! رب العالمین فرماتا ہے:

﴿كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ
(سورۃ آل عمران: 110)

ترجمہ: "تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے نکالی گئی ہے، تم نیکی کا حکم دیتے ہو، برائی سے روکتے ہو، اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔"

غور کرو! اس آیت میں "خیر امت" ہونے کی سب سے بڑی دلیل امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو قرار دیا گیا، ایمان سے بھی پہلے اس کا ذکر آیا۔ یعنی جب تک یہ فریضہ ادا نہیں ہوگا، امت کی خیریت باقی نہیں رہ سکتی۔

دوسری جگہ اللہ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کی صفات میں ایک دوسرے کا ولی ہونا اور اسی فریضے کو قائم کرنا بیان فرمایا:

﴿وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ
(سورۃ التوبہ: 71)

ترجمہ: "اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں، وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں، برائی سے روکتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں، اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔"

یہ آیت بتاتی ہے کہ یہ فریضہ صرف مردوں پر نہیں، بلکہ مومن خواتین پر بھی عائد ہے، ہر ایک اپنی استطاعت کے مطابق۔

اس فریضے کو ترک کرنے پر سخت وعید بھی قرآن میں موجود ہے۔ بنی اسرائیل کے بارے میں فرمایا:

﴿لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَىٰ لِسَانِ دَاوُودَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۚ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوا وَّكَانُوا يَعْتَدُونَ ۞ كَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَن مُّنكَرٍ فَعَلُوهُ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ
(سورۃ المائدہ: 78-79)

ترجمہ: "بنی اسرائیل میں سے جنہوں نے کفر کیا ان پر داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی، یہ اس لیے کہ انہوں نے نافرمانی کی اور حد سے تجاوز کیا۔ وہ ایک دوسرے کو برائی سے نہیں روکتے تھے جو وہ کرتے تھے، بہت برا تھا جو وہ کرتے تھے۔"

پس جب کوئی قوم اس فریضے کو چھوڑ دیتی ہے، تو وہ لعنت، غضب، اور تباہی کی مستحق ہو جاتی ہے۔

۲. احادیث نبویہ میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی عظمت اور طریقہ

نبی کریم ﷺ نے اس فریضے کو ایمان کا لازمی تقاضا قرار دیا، اور اسے چھوڑنے والوں کو ہلاکت سے ڈرایا۔ سنیے!

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«مَنْ رَأَىٰ مِنكُم مُّنكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِن لَّمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِن لَّمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَٰلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ»
(صحيح مسلم: 49)

ترجمہ: "تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے تو وہ اسے اپنے ہاتھ سے روکے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اور اگر وہ بھی نہ کر سکے تو دل سے (اسے برا جانے)، اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔"

یہ حدیث واضح طور پر تین درجے بیان کرتی ہے: حکمران اور ذمہ داران کے لیے ہاتھ سے روکنا، علماء اور عام افراد کے لیے زبان سے نصیحت، اور کمزور ایمان والے کے لیے دل میں برا جاننا، مگر اس سے کم تر کوئی درجہ نہیں۔ جو دل سے بھی برا نہ جانے، اس کا ایمان خطرے میں ہے۔

ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے کشتی کی مثال سے سمجھایا، جیسا کہ پہلے بیان ہوا:

«مَثَلُ الْقَائِمِ عَلَىٰ حُدُودِ اللَّهِ وَالْوَاقِعِ فِيهَا، كَمَثَلِ قَوْمٍ اسْتَهَمُوا عَلَىٰ سَفِينَةٍ... فَإِنْ أَخَذُوا عَلَىٰ أَيْدِيهِمْ نَجَوْا وَنَجَوْا جَمِيعًا، وَإِنْ تَرَكُوهُمْ هَلَكُوا وَهَلَكُوا جَمِيعًا»
(صحيح البخاري: 2493)

ترجمہ: "اللہ کی حدود پر قائم رہنے والے اور انہیں توڑنے والوں کی مثال ایسے لوگوں کی سی ہے جنہوں نے ایک کشتی میں قرعہ اندازی کی... اگر اوپر والے نیچے والوں کو (کشتی میں سوراخ کرنے سے) روک دیں تو سب بچ جائیں گے، اور اگر انہیں چھوڑ دیں تو سب ہلاک ہو جائیں گے۔"

یہ حدیث بتاتی ہے کہ خاموش رہنے والے بھی مجرم کے شریک ہوتے ہیں، کیونکہ جب برائی عام ہو جائے تو عذاب سب کو آتا ہے۔

نبی ﷺ نے اس فریضے کو چھوڑنے والوں کے بارے میں فرمایا:

«إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوُا الظَّالِمَ فَلَمْ يَأْخُذُوا عَلَىٰ يَدَيْهِ أَوْشَكَ أَن يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ»
(سنن الترمذي: 2168 - حسن صحيح، سنن أبي داود: 4338)

ترجمہ: "بے شک جب لوگ ظالم کو دیکھیں اور اس کا ہاتھ نہ پکڑیں (اسے نہ روکیں)، تو قریب ہے کہ اللہ ان سب کو اپنے عذاب میں لپیٹ لے۔"

۳. امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے آداب اور حکمت

بھائیو! یہ فریضہ ادا کرتے وقت کچھ ضروری آداب ہیں، ورنہ فائدے کے بجائے نقصان ہو سکتا ہے۔ علماء نے کئی آداب بیان فرمائے ہیں:

  • نرمی اور حکمت: قرآن میں ہے: «ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ» (نحل: 125)۔ سختی سے پہلے نرمی، ڈانٹ سے پہلے محبت۔
  • خود اس برائی سے پاک ہونا: جس برائی سے روک رہے ہو، خود بھی اس سے بچو، ورنہ وعید ہے: «لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ» (صف: 2)۔
  • انکار کا امکان قبول کرنا: ہو سکتا ہے تمہاری بات نہ مانی جائے، اس پر صبر کرو اور ناراض نہ ہو، نبی ﷺ نے فرمایا: "جو صبر کرے، اللہ اسے صبر دے گا"۔
  • موقع کی مناسبت: بعض اوقات براہِ راست ٹوکنا نقصان دہ ہو، تو بالواسطہ طریقے سے سمجھاؤ، یا کسی ایسے شخص سے کہلواؤ جس کا اثر ہو۔
  • فساد سے بچنا: اگر تمہارے روکنے سے بڑا فساد ہونے کا اندیشہ ہو، تو زبان سے کہنے کے بجائے دل میں برا جانو، یہ بھی ایمان کی علامت ہے۔

یاد رکھو! مقصد اصلاح ہے، انتقام نہیں۔ اللہ نے لوط علیہ السلام کی قوم کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ایک دوسرے کو برائی سے نہیں روکتے تھے، اور یہی ان کی تباہی کا سبب بنا۔

۴. صحابہ کرام اور سلف صالحین کا طرزِ عمل

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس فریضے کو اپنی زندگیوں میں نافذ کیا، چاہے انہیں کتنی ہی تکالیف کیوں نہ اٹھانی پڑیں۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ کچھ لوگ دولت جمع کر رہے ہیں، تو انہوں نے کھل کر اس کی مذمت کی، یہاں تک کہ انہیں ربذہ کی طرف جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا، مگر انہوں نے حق گوئی نہ چھوڑی۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں گشت لگا کر معاشرے کی نگرانی کی، اور جہاں کہیں برائی دیکھی، فوراً اسے روکا۔ ایک دفعہ انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اپنی سواری پر بہت زیادہ بوجھ لاد رہا ہے، تو انہوں نے اسے ٹوکا کہ جانور پر رحم کرو۔

امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں مشہور ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ شراب پی رہا ہے، تو انہوں نے حکمت سے اسے نصیحت کی، اور وہ شخص تائب ہو گیا۔

اسلاف کا طریقہ یہ تھا کہ پہلے خود اس برائی سے بچتے، پھر دوسروں کو روکتے، اور انتہائی نرمی و محبت سے پیش آتے، مگر دین کے معاملے میں کوئی مداہنت نہیں کرتے تھے۔

۵. موجودہ دور میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے چیلنجز اور عملی حکمت عملی

اللہ کے بندو! آج کے دور میں یہ فریضہ ادا کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ معاشرے میں برائیاں عام ہیں، میڈیا اور سوشل میڈیا نے بے حیائی کو ہر گھر تک پہنچا دیا ہے، اور اگر کوئی ٹوکنے لگے تو اسے "مولوی"، "انتہا پسند" یا "دقیانوسی" کہہ کر چپ کرا دیا جاتا ہے۔

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم خاموش ہو جائیں۔ ہمیں حکمت کے ساتھ، نرمی کے ساتھ، اور مثبت انداز میں یہ فریضہ جاری رکھنا ہے۔ آج کے دور میں "ہاتھ سے روکنا" حکومت کا کام ہے، عوام پر "زبان سے روکنا" اور "دل سے برا جاننا" فرض ہے۔

والدین اپنے گھروں میں، اساتذہ اپنے تعلیمی اداروں میں، آجر اپنے ملازمین کے درمیان، اور ہر شخص اپنے دائرہ اثر میں یہ فریضہ انجام دے سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی مثبت انداز میں اچھائی پھیلا کر، برائی کا جواب دینے کے بجائے برائی کو نظر انداز کر کے اور اچھائی کو فروغ دے کر ہم اس فریضے کو جدید دور میں زندہ رکھ سکتے ہیں۔

۶. اصلاحی نکات: امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو اپنانے کے عملی اقدامات

  • اپنے گھر سے شروع کریں: پہلے اپنے اہل و عیال کو نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں، جیسا کہ قرآن نے فرمایا: «وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ»۔
  • نرمی اور محبت سے بات کریں: جب کسی کو ٹوکیں تو ڈانٹ ڈپٹ نہ کریں، بلکہ پیار سے سمجھائیں، محسوس کریں کہ آپ اس کے خیرخواہ ہیں۔
  • خود بھی اس برائی سے بچیں: جس برائی سے دوسروں کو روک رہے ہیں، پہلے خود اسے چھوڑیں، ورنہ آپ کی بات بے اثر ہو جائے گی۔
  • حکمت کے ساتھ موقع دیکھیں: بعض اوقات تنہائی میں سمجھانا زیادہ مؤثر ہوتا ہے، مجمع میں ٹوکنا شرمندگی کا باعث بنتا ہے اور الٹا ردعمل ہوتا ہے۔
  • فساد سے بچیں: اگر آپ کی کوشش سے بڑا فتنہ کھڑا ہونے کا اندیشہ ہو، تو زبان سے کچھ نہ کہیں، دل میں برا جانیں، یہ بھی فرض ادا کرنے کے لیے کافی ہے۔
  • اچھائی کا فروغ: صرف برائی کو روکنا ہی کافی نہیں، بلکہ اچھائی کی ترغیب بھی دینی ہے، مثلاً قرآن کی تلاوت، نیک لوگوں کی صحبت، علمِ دین کی تعلیم۔
  • صبر اور استقامت: لوگ آپ کی بات نہ مانیں تو مایوس نہ ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا: جس نے صبر کیا، اللہ اسے صبر دے گا۔

۷. اختتامی نصیحت: خاموشی ہلاکت کا سبب ہے

اللہ کے بندو! سنو! جب تک اس امت میں ایک بھی شخص نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے والا موجود ہے، اللہ کا عذاب عام نہیں آتا۔ لیکن جب خاموشی کی وبا پھیل جائے، تو پھر عذاب نیک و بد سب کو گھیر لیتا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ اللَّهَ لَا يُعَذِّبُ الْعَامَّةَ بِعَمَلِ الْخَاصَّةِ حَتَّىٰ يَرَوُا الْمُنكَرَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ وَهُمْ قَادِرُونَ عَلَىٰ أَن يُنكِرُوهُ فَلَا يُنكِرُوهُ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَٰلِكَ عَذَّبَ اللَّهُ الْخَاصَّةَ وَالْعَامَّةَ»
(مسند أحمد: 1/192 - صحيح)

ترجمہ: "بے شک اللہ عام لوگوں کو خاص لوگوں کے گناہ کی وجہ سے اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک وہ اپنے سامنے برائی دیکھیں اور اسے روکنے پر قادر ہوں مگر نہ روکیں، پھر جب وہ ایسا کرنے لگیں تو اللہ خاص و عام سب کو عذاب دیتا ہے۔"

پس خاموشی موت ہے، بولنا زندگی ہے۔ دین کی سربلندی کے لیے بولنا عبادت ہے، اور حق کی خاطر چپ رہنا گناہ۔

۸. دعا

«اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِمَّن يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْمُنكَرِ، وَأَعِنَّا عَلَىٰ أَنْفُسِنَا وَأَهْلِينَا وَمَنْ تَحْتَ أَيْدِينَا»
«اللَّهُمَّ رُدَّنَا إِلَىٰ دِينِكَ رَدًّا جَمِيلًا، وَاهْدِنَا وَاهْدِ بِنَا»
«اللَّهُمَّ مَنْ أَرَادَ بِالْمُسْلِمِينَ سُوءًا فَاشْغَلْهُ فِي نَفْسِهِ، وَاجْعَلْ كَيْدَهُ فِي نَحْرِهِ»
«رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ»

اللهم أصلح أحوال المسلمين، وقهم شرور الفتن ما ظهر منها وما بطن. اللهم اجعلنا مفاتيح للخير مغاليق للشر، ولا تجعلنا مفاتيح للشر مغاليق للخير. اللهم رد شبابنا ونساءنا إلى دينك رداً جميلاً، وطهر مجتمعاتنا من الفواحش والمنكرات. وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.


TAGS JSON: { "tags": ["امر بالمعروف", "نہی عن المنکر", "اصلاح", "دعوت", "نیکی", "برائی", "حکمت", "صبر", "معاشرہ", "حفاظت"], "category": "اصلاحی بیانات", "related_month": null, "related_people": ["حضرت محمد ﷺ", "حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ", "حضرت عمر رضی اللہ عنہ", "حضرت لوط علیہ السلام"] } FEATURED IMAGE IDEA: ایک ہاتھ جو لوگوں کو نیکی کی طرف اشارہ کر رہا ہو، اور دوسرا ہاتھ برائی کو روکتا ہوا، پس منظر میں ایک کشتی اور سمندر (حدیث کی مثال)، اوپر عربی خطاطی میں "كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ" اور نیچے "مَنْ رَأَىٰ مِنكُم مُّنكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ" لکھا ہو۔