علم کی اہمیت و فضیلت: دین کی اساس اور ترقی کا زینہ
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَ الْإِنْسَانَ وَعَلَّمَهُ الْبَيَانَ، وَفَضَّلَ الْعُلَمَاءَ عَلَى الْعَابِدِينَ، وَجَعَلَ الْعِلْمَ نُورًا يُهْتَدَىٰ بِهِ فِي الظُّلُمَاتِ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، الَّذِي أُمِرَ بِطَلَبِ الْعِلْمِ وَتَعْلِيمِهِ، وَقَالَ: "الْعُلَمَاءُ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ". صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ الَّذِينَ حَمَلُوا مِشْعَلَ الْعِلْمِ وَأَوْصَلُوهُ إِلَى الْأُمَّةِ. أَمَّا بَعْدُ!
اللہ کے نیک بندو! ایمان والو! آج جس موضوع پر ہم بات کرنے جا رہے ہیں، وہ دراصل دین کی جڑ، عبادات کی روح، اور معاشرے کی ترقی کا ضامن ہے۔ یہ وہ نور ہے جس کے بغیر انسان اندھیروں میں بھٹکتا ہے۔ یہ وہ میراث ہے جو انبیاء نے چھوڑی، جسے حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جو جنت کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ ہے علم!
بھائیو! علم صرف کتابوں میں لکھی ہوئی باتیں نہیں، بلکہ وہ روشنی ہے جو دل و دماغ کو منور کرتی ہے، عمل کی راہ دکھاتی ہے، اور بندے کو اللہ سے قریب کرتی ہے۔ یہ علمِ دین ہی ہے جو انسان کو بتاتا ہے کہ اس کا رب کون ہے، اس کا نبی کون ہے، اس کا دین کیا ہے، اور اسے زندگی کیسے گزارنی ہے۔ جس معاشرے میں علم کی قدر نہ ہو، وہ معاشرہ زندہ نہیں، مردہ ہے۔
آج کے خطبے میں ہم قرآن و سنت کی روشنی میں علم کی اہمیت، علمائے کرام کا مقام، طلبِ علم کی فضیلت، موجودہ دور میں علمِ دین سے دوری کے نقصانات، اور ہماری انفرادی و اجتماعی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالیں گے۔ غور سے سنیے! شاید یہ خطبہ آپ کی زندگی کا رخ بدل دے اور آپ کو علم کی راہ کا مسافر بنا دے۔
۱. قرآن کریم میں علم کی عظمت اور اہلِ علم کا مقام
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر علم کی فضیلت بیان فرمائی، اور صاحبانِ علم کو خاص رتبہ عطا کیا۔ سنیے! رب العالمین کا فرمان ہے:
﴿يَرْفَعِ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ ۚ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ﴾
(سورۃ المجادلة: 11)
ترجمہ: "اللہ تم میں سے ان لوگوں کے درجات بلند فرمائے گا جو ایمان لائے اور جنہیں علم دیا گیا، اور اللہ تمہارے اعمال سے خوب خبردار ہے۔"
یہ آیت بتاتی ہے کہ ایمان کے ساتھ علم رکھنے والوں کے درجات اللہ کے ہاں بلند ہیں۔ صرف ایمان کافی نہیں، علم بھی ضروری ہے تاکہ ایمان صحیح بنیادوں پر قائم ہو۔
دوسری جگہ اللہ نے علم والوں اور بے علم والوں کا فرق واضح فرمایا:
﴿قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ﴾
(سورۃ الزمر: 9)
ترجمہ: "کہہ دیجیے: کیا برابر ہیں وہ لوگ جو جانتے ہیں اور وہ جو نہیں جانتے؟ بے شک نصیحت صرف عقل والے ہی حاصل کرتے ہیں۔"
یقیناً جاننے والا اور نہ جاننے والا برابر نہیں ہو سکتے، جیسے اندھا اور بینا برابر نہیں ہوتے۔ علم انسان کو بصیرت دیتا ہے، اور اسے حق و باطل میں تمیز سکھاتا ہے۔
اللہ نے قرآن کو "ہدایت" اور "نور" قرار دیا، اور اسی کے ساتھ تدبر اور تفقہ کی ترغیب دی:
﴿كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ﴾
(سورۃ ص: 29)
ترجمہ: "یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی، تاکہ لوگ اس کی آیات پر غور و فکر کریں، اور تاکہ عقل والے نصیحت حاصل کریں۔"
غور و فکر، تدبر، سمجھنا — یہ سب علم ہی کی شاخیں ہیں۔ بغیر علم کے قرآن کو سمجھنا ممکن نہیں۔
۲. احادیثِ نبویہ میں علم کی فرضیت اور فضیلت
نبی کریم ﷺ نے علم کو ہر مسلمان پر فرض قرار دیا، اور علماء کو انبیاء کا وارث بتایا۔ سنیے!
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَىٰ كُلِّ مُسْلِمٍ»
(سنن ابن ماجه: 224 - حسن)
ترجمہ: "علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔"
یہ حدیث کتنی جامع ہے! ہر مسلمان مرد اور عورت کو وہ بنیادی دینی علم حاصل کرنا فرض ہے جس سے وہ اپنی عبادات اور معاملات درست کر سکے۔
علماء کا مقام بیان کرتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا:
«فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ عَلَىٰ سَائِرِ الْكَوَاكِبِ»
(سنن الترمذي: 2682 - حسن صحيح، سنن أبي داود: 3641)
ترجمہ: "عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے چودھویں رات کے چاند کی فضیلت تمام ستاروں پر۔"
وجہ یہ ہے کہ عالم اپنے علم سے خود بھی فائدہ اٹھاتا ہے اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے، جبکہ عابد کی عبادت کا فائدہ زیادہ تر اس تک محدود رہتا ہے۔
نبی ﷺ نے علم کو جنت کا راستہ بتایا:
«مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا، سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ»
(صحيح مسلم: 2699)
ترجمہ: "جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے کوئی راستہ چلے، اللہ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔"
اور علم کی برکتوں میں سے یہ ہے کہ یہ صدقہ جاریہ ہے:
«إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ: صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ»
(صحيح مسلم: 1631)
ترجمہ: "جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے: صدقہ جاریہ، یا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے، یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔"
پس علم پھیلانا، کتاب لکھنا، شاگردوں کو پڑھانا — یہ مرنے کے بعد بھی جاری رہنے والا عمل ہے۔
۳. علمِ نافع اور علمِ غیر نافع میں فرق
بھائیو! ہر علم قابلِ تعریف نہیں۔ نبی ﷺ نے ہمیشہ "علم نافع" کی دعا فرمائی:
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا»
(سنن ابن ماجه: 925 - صحيح)
علم نافع وہ ہے جو اللہ کی معرفت، اس کی خشیت، اور اس کی اطاعت کی طرف لے جائے۔ وہ علم جو تکبر، جھگڑے، اور گمراہی کا سبب بنے، اس سے پناہ مانگنی چاہیے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دعا فرمائی:
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَقَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَنَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَدُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ»
(صحيح مسلم: 2722)
اس لیے علم حاصل کرتے وقت نیت خالص ہو: اللہ کی رضا کے لیے، عمل کے لیے، دوسروں تک پہنچانے کے لیے، نہ کہ دکھاوے، بحث بازی، یا شہرت کے لیے۔
۴. صحابہ کرام اور اسلاف کا علم سے شغف
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے علم حاصل کرنے میں بے مثال مثالیں قائم کیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی ﷺ کی وفات کے وقت محض تیرہ سال کے تھے، لیکن انہوں نے بڑے بڑے صحابہ سے علم حاصل کیا، یہاں تک کہ "ترجمان القرآن" اور "حبر الامۃ" کہلائے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے صفہ میں رہ کر علم حدیث کے حصول کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی، بھوک برداشت کی، مگر علم سے لپٹے رہے۔ نتیجہ یہ کہ سب سے زیادہ احادیث روایت کرنے والے صحابی قرار پائے۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے مؤطا لکھی، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح بخاری کی تدوین کے لیے ہزاروں میل کا سفر کیا، ایک ایک حدیث کے لیے دو رکعت استخارہ پڑھا۔ یہ ہے علم کی قدر!
۵. موجودہ دور میں علمِ دین سے غفلت اور اس کے نقصانات
اللہ کے بندو! آج کا مسلمان علمِ دین سے بہت دور ہو گیا ہے۔ ہمارے بچے اسکولوں میں دنیاوی تعلیم تو حاصل کرتے ہیں، لیکن قرآن پڑھنا، نماز کے مسائل، عقائد، حلال و حرام کا علم نہیں رکھتے۔ نتیجہ یہ کہ عملی زندگی میں گمراہی پھیل رہی ہے۔
انٹرنیٹ پر ہر قسم کا مواد موجود ہے، لیکن اس میں سے کتنا ہم علمِ دین کے لیے استعمال کرتے ہیں؟ کتنے لوگ ہیں جو قرآن کی تفسیر پڑھتے ہیں، حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں؟ بہت کم!
آج علماء کی بے قدری بھی عام ہے، جبکہ نبی ﷺ نے علماء کو زمین کا نور اور انبیاء کا وارث قرار دیا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم علمِ دین کی طرف واپس لوٹیں، اور اپنے بچوں کو بھی دینی تعلیم سے آراستہ کریں۔
۶. اصلاحی نکات: علم حاصل کرنے اور پھیلانے کے عملی اقدامات
- فرض علم سیکھنا: ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ عقائد، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، حلال و حرام کے بنیادی مسائل سیکھے۔
- روزانہ مطالعہ: کم از کم پندرہ منٹ قرآن اور حدیث کی کسی کتاب کا مطالعہ کریں۔
- علماء کی صحبت: کسی عالم دین یا مستند استاد سے باقاعدہ اسباق لیں، یا ان کے دروس سنیں۔
- سوال کرنے کی عادت: جو بات سمجھ میں نہ آئے، اہل علم سے پوچھیں، شرم محسوس نہ کریں۔
- سوشل میڈیا کا مثبت استعمال: مستند علماء کے چینلز، ویب سائٹس سے علم حاصل کریں، جھوٹی اور گمراہ کن معلومات سے بچیں۔
- بچوں کی دینی تعلیم: بچوں کو قرآن، تجوید، اور بنیادی اسلامیات ضرور سکھائیں، یہ والدین کی ذمہ داری ہے۔
- علم پھیلانا: جو کچھ سیکھیں، دوسروں کو سکھائیں، چاہے ایک آیت ہی کیوں نہ ہو، یہ صدقہ جاریہ ہے۔
- نیت کی اصلاح: علم صرف اللہ کی رضا کے لیے حاصل کریں، شہرت اور بحث بازی کے لیے نہیں۔
- عمل کے ساتھ علم: جو سیکھیں اس پر عمل کریں، بغیر عمل کے علم وبال بن سکتا ہے۔
۷. اختتامی نصیحت: علم روشنی ہے، جہالت اندھیرا
اللہ کے بندو! سنو! علم وہ نور ہے جس سے دل روشن ہوتے ہیں، راستے کھلتے ہیں، اور زندگی سنورتی ہے۔ جہالت وہ اندھیرا ہے جس میں انسان بھٹکتا ہے، گمراہ ہوتا ہے، اور شیطان اس کا شکار کر لیتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ الْعِبَادِ، وَلَٰكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ، حَتَّىٰ إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا، اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا»
(صحيح البخاري: 100، صحيح مسلم: 2673)
ترجمہ: "بے شک اللہ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ اسے بندوں سے چھین لے، بلکہ وہ علماء کو اٹھا کر علم کو اٹھائے گا، یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا، لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے، ان سے سوال کیا جائے گا، اور وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے، تو گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔"
یہ ہمارے لیے تنبیہ ہے کہ علماء کی قدر کرو، علم حاصل کرو، اور علم کی محفلوں کو زندہ رکھو۔
۸. دعا
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا»
«رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا»
(سورۃ طه: 114)
«اللَّهُمَّ فَقِّهْنَا فِي الدِّينِ، وَعَلِّمْنَا مَا يَنْفَعُنَا، وَانْفَعْنَا بِمَا عَلَّمْتَنَا»
«اللَّهُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَهُ، وَأَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَارْزُقْنَا اجْتِنَابَهُ»
اللهم املأ مساجدنا ومدارسنا وبيوتنا بنور العلم، وأعز أمتنا بالعلماء العاملين. اللهم اجعلنا من الذين يستمعون القول فيتبعون أحسنه. اللهم انفع بنا الإسلام والمسلمين، واجعلنا هداة مهتدين. ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار. وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.
TAGS JSON: { "tags": ["علم", "علم دین", "طلب علم", "عالم", "قرآن", "حدیث", "تعلیم", "جہالت", "نور", "ہدایت"], "category": "اصلاحی بیانات", "related_month": null, "related_people": ["حضرت محمد ﷺ", "حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ", "حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ", "حضرت عمر رضی اللہ عنہ"] } FEATURED IMAGE IDEA: ایک روشن کتاب (قرآن) جس سے نور پھوٹ رہا ہو، پاس ہی قلم اور دوات، پس منظر میں ایک مسجد کا محراب اور طالب علم حلقہ بنا کر بیٹھے ہوں، اوپر عربی خطاطی میں "يَرْفَعِ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ" اور نیچے "طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَىٰ كُلِّ مُسْلِمٍ" لکھا ہو۔