حیا: ایمان کا حصہ اور پاکیزہ معاشرے کی بنیاد
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ الْحَيَاءَ مِنَ الْإِيمَانِ، وَزَيَّنَ بِهِ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، الْحَيِيُّ الْكَرِيمُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، الَّذِي كَانَ أَشَدَّ النَّاسِ حَيَاءً، وَعَلَّمَ أُمَّتَهُ أَنَّ الْحَيَاءَ خَيْرٌ كُلُّهُ. صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ الَّذِينَ تَحَلَّوْا بِخُلُقِ الْحَيَاءِ فِي السِّرِّ وَالْعَلَنِ. أَمَّا بَعْدُ!
اللہ کے نیک بندو! ایمان والو! آج میں جس اخلاقی وصف پر تمہیں دعوتِ فکر دے رہا ہوں، وہ کوئی معمولی وصف نہیں! یہ وہ گوہر ہے جسے نبی کریم ﷺ نے "ایمان کا حصہ" فرمایا، یہ وہ خصلت ہے جسے آپ ﷺ نے اپنی امت کی خواتین و حضرات دونوں کے لیے لازمی قرار دیا، یہ وہ چادر ہے جس کے بغیر انسان چاہے کتنی ہی عبادت کر لے، اس کی روح ادھوری رہتی ہے۔ یہ ہے حیا!
بھائیو! حیا صرف شرم یا جھجک کا نام نہیں، یہ ایک مکمل طرزِ احساس ہے جو انسان کو ہر برائی سے روکتا ہے، ہر بے ہودہ حرکت سے باز رکھتا ہے، اور اسے اللہ کی رضا کا پابند بناتا ہے۔ حیا کا تعلق دل سے ہے، آنکھ سے ہے، زبان سے ہے، عمل سے ہے، لباس سے ہے، چال ڈھال سے ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر پورا اسلامی اخلاقی نظام کھڑا ہے۔
آج کا خطبہ اسی عظیم صفت کے بارے میں ہے۔ ہم قرآن و سنت کی روشنی میں جانیں گے کہ حیا کیا ہے، اس کا ایمان سے کیا تعلق ہے، نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرام نے اسے کس طرح اپنایا، بے حیائی کے کیا معاشرتی نقصانات ہیں، اور موجودہ دور میں ہم اپنی زندگیوں میں حیا کو دوبارہ کیسے زندہ کر سکتے ہیں۔ غور سے سنو! کیونکہ جس معاشرے سے حیا اٹھ جاتی ہے، وہ تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے۔
۱. قرآن کریم میں حیا کی اہمیت اور اس کی نظیریں
قرآن مجید میں لفظِ "حیا" تو صراحتاً اسی طرح نہیں آیا جیسے "صبر" یا "شکر"، لیکن اس کے مفہوم اور اس کی ترغیب کئی مقامات پر موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم و حوا علیہما السلام کے واقعے میں بتایا کہ جب ان سے گناہ سرزد ہوا تو انہوں نے فوراً اپنے جسم کو ڈھانپنے کی کوشش کی — یہ حیا کا فطری تقاضا تھا:
﴿فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّةِ﴾
(سورۃ الأعراف: 22)
ترجمہ: "پس جب انہوں نے اس درخت کا مزہ چکھا، تو ان کی شرمگاہیں ظاہر ہو گئیں، اور وہ جنت کے پتوں سے اپنے اوپر ڈھانپنے لگے۔"
یہ آیت بتاتی ہے کہ شرمگاہوں کا چھپانا، لباس کا اہتمام کرنا، یہ فطری حیا ہے جسے شیطان چھیننا چاہتا ہے۔
عورتوں کے لیے پردے اور نگاہوں کی حفاظت کا حکم بھی حیا ہی کی بنیاد پر ہے:
﴿وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا﴾
(سورۃ النور: 31)
ترجمہ: "اور ایمان والی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو خود ظاہر ہو۔"
یہاں نگاہوں کی حیا، جسم کی حیا، لباس کی حیا سب کا حکم دیا گیا۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مردوں کو بھی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا:
﴿قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ اللَّـهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ﴾
(سورۃ النور: 30)
ترجمہ: "ایمان والے مردوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے پاکیزہ تر ہے، بے شک اللہ ان کے کاموں سے خوب باخبر ہے۔"
یہ سب احکامات حیا کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔
۲. احادیث نبویہ میں حیا کا مقام اور اس کے فضائل
نبی کریم ﷺ نے حیا کو ایمان کا لازمی جزو قرار دیا، اور اسے تمام بھلائیوں کی جڑ بتایا۔ سنیے!
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً، فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَىٰ عَنِ الطَّرِيقِ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ»
(صحيح البخاري: 9، صحيح مسلم: 35)
ترجمہ: "ایمان کی ستر سے کچھ زائد شاخیں ہیں، ان میں سب سے افضل لا إله إلا اللہ کہنا ہے، اور سب سے کم تر راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا ہے، اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔"
پس حیا ایمان کا حصہ ہے، اور جس کا ایمان جتنا قوی ہوگا، اس کی حیا بھی اتنی ہی مضبوط ہوگی۔
ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے حیا کو کلیۃً خیر قرار دیا:
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ»
(صحيح مسلم: 37)
ترجمہ: "حیا ساری کی ساری خیر ہے۔"
یعنی حیا سے کوئی نقصان نہیں، صرف فائدہ ہی فائدہ ہے۔
نبی ﷺ کی اپنی ذات میں حیا کا کیا عالم تھا؟ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
«كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا»
(صحيح البخاري: 3562، صحيح مسلم: 2320)
ترجمہ: "نبی ﷺ پردے میں بیٹھی کنواری لڑکی سے بھی زیادہ حیاء والے تھے۔"
جب آپ ﷺ کوئی ناپسندیدہ بات دیکھتے تو خاموشی اختیار فرماتے، اس کا اظہار چہرے سے ہو جاتا، آپ براہِ راست ڈانٹتے نہیں تھے۔ یہ بھی حیا کا اعلیٰ درجہ ہے۔
حیا اور بے حیائی کا فرق بتاتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ الْأُولَىٰ: إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ»
(صحيح البخاري: 3483)
ترجمہ: "بے شک لوگوں نے پہلی نبوتوں کے کلام میں سے یہ پایا: جب تجھ میں حیا نہ رہے تو پھر جو چاہے کر۔"
یہ جملہ بظاہر اجازت ہے، لیکن حقیقت میں سخت تنبیہ ہے کہ جب انسان سے حیا اٹھ جاتی ہے تو وہ کسی بھی برائی کا مرتکب ہو سکتا ہے۔
۳. صحابہ کرام اور سلف صالحین کی زندگیوں میں حیا کے نمونے
بھائیو! حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی حیا تو ضرب المثل ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا:
«أَلَا أَسْتَحِي مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ»
(صحيح مسلم: 2401)
ترجمہ: "کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں؟"
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ گھر میں بھی نہاتے وقت بھی مکمل پردہ فرماتے تھے، یہاں تک کہ فرشتے بھی ان کی حیا کی وجہ سے ان کا احترام کرتے تھے۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی حیا کا یہ عالم تھا کہ جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ مجھے اس طریقے سے غسل دینا جس میں پردہ قائم رہے، کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ میت کو بھی بے پردہ کر دیا جاتا ہے۔ یہ ہے حیا کی انتہا!
ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت آدم علیہ السلام سے کہا: آپ ہی کی وجہ سے ہم جنت سے نکلے۔ حضرت آدم علیہ السلام نے جواب دیا: "کیا تم اللہ کے برگزیدہ نبی ہو کر مجھے اس کام پر ملامت کرتے ہو جو میری تقدیر میں لکھا جا چکا تھا؟" یہ سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام خاموش ہو گئے۔ یہ بھی حیا کا مظاہرہ تھا کہ بڑے کے سامنے بحث نہ کی۔
۴. حیا کی اقسام: اللہ سے حیا، لوگوں سے حیا، اور خود سے حیا
علماء نے حیا کی تین اقسام بیان کی ہیں:
- اللہ سے حیا: یہ سب سے اعلیٰ درجہ ہے، کہ بندہ یہ محسوس کرے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے، اس لیے وہ کوئی گناہ نہ کرے۔ یہی وہ "احسان" ہے جسے نبی ﷺ نے "أن تعبد الله كأنك تراه" سے تعبیر فرمایا۔
- لوگوں سے حیا: انسان اپنے اخلاق و اعمال میں اس بات کا خیال رکھے کہ کوئی ایسا کام نہ کرے جس سے لوگوں میں اس کی بے عزتی ہو، لیکن یہ حیا شرعی اصولوں کے خلاف نہ ہو۔
- خود سے حیا: انسان کا اپنا ضمیر اسے برائی سے روکے، اور وہ اپنے نفس کی نظر میں بھی ذلیل نہ ہونا چاہے۔
اللہ سے حیا کا تقاضا ہے کہ بندہ ان اعضاء سے گناہ نہ کرے جو اللہ نے اسے عطا فرمائے۔ لوگوں سے حیا کا تقاضا ہے کہ وہ بد اخلاقی، فحش گوئی، اور بے پردگی سے بچے۔ خود سے حیا کا تقاضا ہے کہ وہ خلوت میں بھی وہی کرے جو جلوت میں کرتا ہے، کیونکہ اسے اپنی روح کی قدر ہے۔
۵. موجودہ دور میں بے حیائی کے مظاہر اور ان کا علاج
اللہ کے بندو! آج کا دور حیا کے فقدان کا دور ہے۔ میڈیا، سوشل میڈیا، فلمیں، ڈرامے، اشتہارات — سب نے مل کر بے حیائی کو عام کیا ہے۔ لباس میں بے حیائی، گفتگو میں بے حیائی، میل جول میں بے حیائی، آن لائن رویوں میں بے حیائی — ہر طرف بے حیائی کا طوفان ہے۔
نوجوان نسل یہ سمجھتی ہے کہ حیا اور شرم ایک پرانی اور دقیانوسی چیز ہے، جبکہ جدیدیت بے حیائی میں ہے۔ حالانکہ نبی ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ الْحَيَاءَ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ»
(صحيح البخاري: 6117، صحيح مسلم: 37)
ترجمہ: "بے شک حیا صرف بھلائی لاتی ہے۔"
ہم نے دیکھا کہ جن معاشروں نے حیا کو چھوڑ دیا، وہاں خاندان ٹوٹ گئے، رشتے بکھر گئے، جرائم بڑھ گئے، عزتیں لٹ گئیں۔ اس کا علاج یہ ہے کہ ہم دوبارہ دین کی تعلیمات کی طرف لوٹیں، اپنے گھروں میں حیا کا ماحول بنائیں، اور بچوں کو بچپن سے ہی شرم و حیا کی تعلیم دیں۔
۶. اصلاحی نکات: زندگی میں حیا کو شامل کرنے کے عملی طریقے
- اللہ کی نگرانی کا احساس: ہر وقت یہ یقین رکھیں کہ اللہ آپ کو دیکھ رہا ہے، یہ سب سے بڑی ڈھال ہے۔
- نگاہوں کی حفاظت: قرآن کے حکم کے مطابق نگاہیں نیچی رکھیں، موبائل اور انٹرنیٹ پر بھی۔
- لباس میں حیا: مرد و خواتین دونوں شرعی پردے کا اہتمام کریں، فیشن کے نام پر بے حیائی نہ پھیلائیں۔
- گفتگو میں حیا: فحش لطیفے، گالیاں، اور بے ہودہ باتیں نہ کریں، نہ سنیں۔
- محفلوں میں حیا: مخلوط پارٹیاں، بے پردہ تقریبات، اور غیر شرعی اجتماعات سے بچیں۔
- بچوں کی تربیت: بچپن سے بچوں کو ستر و پردے کی اہمیت سکھائیں، اور خود بھی عملی نمونہ بنیں۔
- پرہیزگار صحبت: با حیاء لوگوں کی صحبت اختیار کریں، کیونکہ صحبت کا اثر پڑتا ہے۔
- دعا کریں: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَىٰ وَالتُّقَىٰ وَالْعَفَافَ وَالْغِنَىٰ» (مسلم: 2721)۔
۷. اختتامی نصیحت: حیا ایمان کا زیور ہے
اللہ کے بندو! سنو! حیا وہ زیور ہے جو مومن کو دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔ جب یہ زیور اتر جائے تو انسان اور حیوان میں کوئی فرق نہیں رہتا۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ لِكُلِّ دِينٍ خُلُقًا، وَخُلُقُ الْإِسْلَامِ الْحَيَاءُ»
(سنن ابن ماجه: 4181 - حسن)
ترجمہ: "بے شک ہر دین کا ایک خاص خلق ہوتا ہے، اور اسلام کا خاص خلق حیا ہے۔"
پس اگر تم مسلمان ہو، تو حیا کو اپنا شعار بنا لو۔ اپنی عورتوں میں، اپنے مردوں میں، اپنے بچوں میں، اپنے کاروبار میں، ہر جگہ حیا کو زندہ کرو۔
۸. دعا
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَىٰ وَالتُّقَىٰ وَالْعَفَافَ وَالْغِنَىٰ»
(صحيح مسلم: 2721)
«اللَّهُمَّ زَيِّنَّا بِزِينَةِ الْإِيمَانِ، وَاجْعَلْنَا مِنَ الْمُسْتَحْيِينَ الْمُتَعَفِّفِينَ»
«اللَّهُمَّ طَهِّرْ قُلُوبَنَا وَأَبْصَارَنَا وَأَلْسِنَتَنَا مِنَ الْفَوَاحِشِ، وَاحْفَظْ بِلَادَنَا مِنْ زَوَالِ النِّعَمِ بِسَبَبِ قِلَّةِ الْحَيَاءِ»
«رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ»
اللهم إنا نسألك حياءً في السر والعلن، وعفةً في النفس والبدن، وطهرًا في القلب واللسان. اللهم أعد إلينا حياء نسائنا وشبابنا، واجعل مجتمعاتنا منارة للفضيلة والطهر. اللهم من تهاون في الحجاب أو نشر الفاحشة فاهده ورده إليك رداً جميلاً. وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.
TAGS JSON: { "tags": ["حیا", "حیاء", "شرم", "پردہ", "بے حیائی", "فحاشی", "ایمان", "اخلاق", "معاشرہ", "عفت"], "category": "اخلاق", "related_month": null, "related_people": ["حضرت محمد ﷺ", "حضرت عثمان رضی اللہ عنہ", "حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا", "حضرت موسیٰ علیہ السلام"] } FEATURED IMAGE IDEA: ایک مسلمان عورت حجاب میں اور ایک مرد نگاہیں نیچی کیے ہوئے، پس منظر میں ایک روشن مسجد، اوپر عربی خطاطی میں "الْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ" اور نیچے "وَقُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ" لکھا ہو، فضا میں سکون اور پاکیزگی کا نور پھیلا ہو۔