ذکر الٰہی: دلوں کا سکون، روح کی غذا اور بخشش کا ذریعہ
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ ذِكْرَهُ حَيَاةَ الْقُلُوبِ وَنُورَ الصُّدُورِ، وَفَتَحَ أَبْوَابَ رَحْمَتِهِ لِلذَّاكِرِينَ وَالذَّاكِرَاتِ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، سُبْحَانَهُ يُحِبُّ الذَّاكِرِينَ، وَيُبَاهِي بِهِمْ مَلَائِكَتَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، الَّذِي كَانَ لِسَانُهُ رَطْبًا بِذِكْرِ اللَّهِ، وَقَلْبُهُ مُتَعَلِّقًا بِالْمَلَإِ الْأَعْلَىٰ. صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ الَّذِينَ كَانُوا يُكْثِرُونَ ذِكْرَ اللَّهِ فِي كُلِّ أَحْوَالِهِمْ. أَمَّا بَعْدُ!
اللہ کے پیارے بندو! ایمان والو! ذرا اپنے دل کی طرف متوجہ ہو کر سوچو! یہ دل کس چیز سے زندہ ہے؟ یہ روح کس چیز سے سیراب ہوتی ہے؟ جسم کی خوراک روٹی اور پانی ہے، لیکن روح کی خوراک کیا ہے؟ وہ خوراک جس کے بغیر دل بے سکون، زندگی بے لذت، اور آخرت بے توشہ رہ جاتی ہے۔ وہ خوراک ہے ذکر الٰہی! اللہ کی یاد! وہ نور جس سے دل روشن ہوتے ہیں، وہ دوا جس سے گناہوں کے زخم مندمل ہوتے ہیں، وہ قلعہ جس میں مومن شیطان کے حملوں سے محفوظ رہتا ہے۔
بھائیو! ذکر الٰہی کوئی معمولی عمل نہیں، یہ عبادت ہے، یہ شکر ہے، یہ محبت ہے، یہ قربت ہے۔ یہ وہ عمل ہے جسے اللہ نے ہر حال میں جاری رکھنے کا حکم دیا — کھڑے، بیٹھے، لیٹے، ہر وقت اللہ کو یاد کرو۔ یہ وہ عمل ہے جسے نبی کریم ﷺ نے تمام عبادات سے افضل قرار دیا۔ یہ وہ عمل ہے جس کی مجالس کو اللہ فرشتوں کے سامنے فخر سے یاد کرتا ہے۔
آج کا خطبہ اسی بابرکت عبادت کے بارے میں ہے۔ ہم جانیں گے کہ قرآن نے ذکر کو کیا مقام دیا، نبی ﷺ نے ذکر کی کیا ترغیب دی، ذکر کی کون کون سی صورتیں ہیں، اس کے دنیوی اور اخروی فوائد کیا ہیں، اور ہم اپنی مصروف زندگیوں میں اسے کیسے اپنا سکتے ہیں۔ سنو! شاید آج کے بعد تمہاری زبان اللہ کی یاد سے تر رہنے لگے، اور تمہارے دل کا سکون لوٹ آئے!
۱. قرآن کریم میں ذکر الٰہی کی فضیلت اور حکم
اللہ رب العزت نے قرآنِ مجید میں جگہ جگہ اپنے ذکر کی تاکید فرمائی، اسے فلاح کا ذریعہ بتایا، اور ذاکرین کی مدح فرمائی۔ سنیے! رب العالمین کا فرمان ہے:
﴿فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ﴾
(سورۃ البقرہ: 152)
ترجمہ: "پس تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا، اور میرا شکر ادا کرو، اور میری ناشکری نہ کرو۔"
کتنی عظیم آیت ہے! تم اللہ کو یاد کرو، اللہ تمہیں یاد کرے گا۔ ذرا سوچو! جب کائنات کا خالق تمہیں یاد کرے، تو اس سے بڑی سعادت کیا ہوگی؟ اللہ کا یاد کرنا تمہارے لیے رحمت، بخشش اور بلندی کا سبب بنے گا۔
دوسری جگہ اللہ نے ذکر کو اطمینانِ قلب کا ذریعہ بتایا:
﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّـهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ اللَّـهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ﴾
(سورۃ الرعد: 28)
ترجمہ: "جو لوگ ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں، جان لو کہ اللہ ہی کے ذکر سے دل مطمئن ہوتے ہیں۔"
آج کا انسان مایوسی، ڈپریشن، بے چینی کا شکار ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ ذکر الٰہی سے دور ہے۔ پیسہ، عہدہ، محبوبہ، تفریح — یہ سب وقتی سکون دیتے ہیں، اصلی سکون تو صرف اللہ کی یاد میں ہے۔
غفلت اور ذکر سے اعراض کی مذمت میں اللہ نے فرمایا:
﴿وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَىٰ﴾
(سورۃ طه: 124)
ترجمہ: "اور جو کوئی میرے ذکر سے منہ پھیرے گا تو اس کے لیے تنگ زندگی ہوگی، اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے۔"
معيشة ضنكا — تنگ اور بے سکون زندگی، چاہے وہ ظاہری طور پر کتنا ہی امیر کیوں نہ ہو۔ یہ اس شخص کا انجام ہے جو اللہ کو بھول جائے۔
اللہ نے ذکر کو بہت بڑی عبادت قرار دیا:
﴿وَلَذِكْرُ اللَّـهِ أَكْبَرُ ۗ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ﴾
(سورۃ العنكبوت: 45)
ترجمہ: "اور بے شک اللہ کا ذکر سب سے بڑی چیز ہے، اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔"
۲. احادیث نبویہ میں ذکر الٰہی کے فضائل اور مجالس ذکر کی برکت
نبی کریم ﷺ نے ذکر الٰہی کو بہترین عمل، سب سے پاکیزہ کلام، اور جنت کی نعمتوں میں سے ایک قرار دیا۔ سنیے!
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ، وَأَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ، وَأَرْفَعِهَا فِي دَرَجَاتِكُمْ، وَخَيْرٍ لَّكُمْ مِنْ إِنْفَاقِ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، وَخَيْرٍ لَّكُمْ مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ فَتَضْرِبُوا أَعْنَاقَهُمْ وَيَضْرِبُوا أَعْنَاقَكُمْ؟» قَالُوا: بَلَىٰ. قَالَ: «ذِكْرُ اللَّهِ تَعَالَىٰ»
(سنن الترمذي: 3377 - حسن صحيح، سنن ابن ماجه: 3790)
ترجمہ: "کیا میں تمہیں تمہارا سب سے بہتر عمل، تمہارے مالک کے نزدیک سب سے پاکیزہ، تمہارے درجات میں سب سے بلند، اور تمہارے لیے سونا چاندی خرچ کرنے سے بہتر، اور تمہارے لیے دشمن سے لڑ کر ان کی گردنیں مارنے اور ان کے ہاتھوں تمہاری گردنیں مارے جانے سے بھی بہتر عمل نہ بتاؤں؟ صحابہ نے کہا: کیوں نہیں! فرمایا: اللہ تعالیٰ کا ذکر۔"
غور کرو! اللہ کا ذکر سونا چاندی خرچ کرنے سے، اور جہاد سے بھی افضل ہے! کیونکہ ذکر ہی وہ روح ہے جو تمام اعمال کو زندہ کرتی ہے۔
مجالس ذکر کی فضیلت کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً يَطُوفُونَ فِي الطُّرُقِ يَلْتَمِسُونَ أَهْلَ الذِّكْرِ، فَإِذَا وَجَدُوا قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَنَادَوْا: هَلُمُّوا إِلَىٰ حَاجَتِكُمْ. فَيَحُفُّونَهُمْ بِأَجْنِحَتِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا... فَيَقُولُ اللَّهُ: أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ»
(صحيح البخاري: 6408، صحيح مسلم: 2689)
ترجمہ: "بے شک اللہ کے کچھ فرشتے ہیں جو راستوں میں پھرتے ہیں اور ذکر کرنے والوں کو تلاش کرتے ہیں، جب وہ کسی قوم کو اللہ کا ذکر کرتے پاتے ہیں تو ایک دوسرے کو پکارتے ہیں: اپنی مطلب کی چیز کی طرف آؤ۔ پھر وہ انہیں اپنے پروں سے آسمانِ دنیا تک ڈھانپ لیتے ہیں... پھر اللہ فرماتا ہے: تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے انہیں بخش دیا۔"
کتنی بڑی بشارت ہے! ذکر کرنے والوں کی مجلس کو فرشتے گھیر لیتے ہیں، اور اللہ ان کی بخشش کا اعلان فرما دیتا ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
«مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ وَالَّذِي لَا يَذْكُرُ رَبَّهُ، مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ»
(صحيح البخاري: 6407)
ترجمہ: "اس شخص کی مثال جو اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور اس کی جو اپنے رب کو یاد نہیں کرتا، زندہ اور مردہ جیسی ہے۔"
ذکر کرنے والا زندہ ہے، ذکر نہ کرنے والا مردہ! روحانی موت اس سے بڑھ کر کیا ہوگی؟
۳. ذکر کی مختلف صورتیں اور ان کا اجر
بھائیو! ذکر صرف تسبیح کے دانے گھمانے کا نام نہیں، اس کی بہت سی صورتیں ہیں، سب کی فضیلت ہے:
- تسبیح: "سبحان اللہ" — اللہ کی پاکی بیان کرنا۔
- تحمید: "الحمد للہ" — اللہ کی تعریف کرنا۔
- تکبیر: "اللہ اکبر" — اللہ کی بڑائی بیان کرنا۔
- تہلیل: "لا إله إلا الله" — توحید کا اقرار، یہ سب سے افضل ذکر ہے۔
- استغفار: "أستغفر الله" — بخشش طلب کرنا۔
- درود شریف: نبی ﷺ پر درود بھیجنا۔
- قرآن کی تلاوت: یہ بھی ذکر ہے، بلکہ سب سے عظیم ذکر ہے۔
- دعا: اللہ سے مانگنا بھی ذکر ہے۔
- وعظ و نصیحت: دین کی بات کرنا بھی ذکر ہے۔
- اللہ کی نعمتوں پر غور و فکر: یہ بھی ذکر ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
«كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ، حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَـٰنِ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ»
(صحيح البخاري: 6682، صحيح مسلم: 2694)
ترجمہ: "دو کلمے زبان پر ہلکے، میزان میں بھاری، رحمن کو بہت محبوب ہیں: سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم۔"
صبح و شام کے اذکار، سونے جاگنے کے اذکار، کھانے پینے کے اذکار — نبی ﷺ نے ہمیں زندگی کے ہر لمحے کے لیے ذکر سکھایا، تاکہ ہم غفلت میں نہ رہیں۔
۴. ذکر الٰہی کے دنیوی اور اخروی فوائد
بھائیو! ذکر الٰہی کے فوائد بے شمار ہیں:
- دل کا سکون: جیسا کہ قرآن نے فرمایا، اللہ کے ذکر سے دل مطمئن ہوتے ہیں۔
- شیطان سے حفاظت: نبی ﷺ نے فرمایا کہ ذکر کرنے والا قلعے میں ہوتا ہے، شیطان اس پر غالب نہیں آ سکتا۔
- گناہوں کی بخشش: ذکر سے گناہ دھلتے ہیں، اللہ بخشش فرماتا ہے۔
- رزق میں برکت: ذکر کرنے والے کے رزق میں اضافہ ہوتا ہے۔
- بلندی درجات: جنت میں بلند مقام ملتا ہے۔
- اللہ کی معیت: اللہ ذکر کرنے والے کے ساتھ ہوتا ہے۔
غفلت کے نقصانات بھی سنگین ہیں: دل کی سختی، ایمان کی کمزوری، شیطان کا تسلط، زندگی کی بے برکتی، اور آخرت کی تباہی۔
۵. موجودہ دور میں ذکر سے غفلت اور اس کا علاج
اللہ کے بندو! آج کے دور میں ہم ذکر سے بہت دور ہو گئے ہیں۔ صبح اٹھتے ہی موبائل ہاتھ میں آتا ہے، دن بھر دنیا کی فکریں، رات کو تفریح — کہیں بھی دل اللہ کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔ ہم نے تسبیح چھوڑ دی، اذکار بھول گئے، اور پھر شکایت کرتے ہیں کہ دل بے سکون ہے۔
ذکر کا مطلب یہ نہیں کہ آپ سب کام چھوڑ کر بیٹھ جائیں، بلکہ کام کرتے ہوئے بھی زبان اللہ کی یاد میں لگی رہے۔ نبی ﷺ ہر وقت اللہ کا ذکر کرتے تھے، خواہ کسی بھی حالت میں ہوں۔
ہمیں چاہیے کہ صبح و شام کے اذکار کی پابندی کریں، نمازوں کے بعد کے اذکار کو نہ چھوڑیں، سوتے جاگتے، کھاتے پیتے مسنون دعائیں پڑھیں، اور دن میں کچھ وقت صرف ذکر کے لیے نکالیں، چاہے چند منٹ ہی کیوں نہ ہوں۔
۶. اصلاحی نکات: زندگی میں ذکر الٰہی کو شامل کرنے کے عملی طریقے
- صبح و شام کے اذکار: صبح کی دعائیں اور شام کی دعائیں یاد کریں اور پابندی سے پڑھیں۔
- تسبیح کا معمول: ہر نماز کے بعد "سبحان اللہ 33، الحمد للہ 33، اللہ اکبر 34" کا ورد کریں۔
- زبان کو تر رکھیں: چلتے پھرتے، گاڑی چلاتے، کام کرتے "سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم" یا "لا إله إلا الله" کا ورد کرتے رہیں۔
- مسنون دعائیں: کھانے، سونے، جاگنے، گھر سے نکلنے، مسجد میں داخل ہونے کی دعائیں یاد کریں اور پڑھیں۔
- قرآن کی تلاوت: روزانہ کم از کم چند آیات کی تلاوت کریں، یہ بھی ذکر ہے۔
- مجالس ذکر میں شرکت: ہفتے میں کم از کم ایک بار کسی ایسی محفل میں بیٹھیں جہاں اللہ کا ذکر ہو، وعظ ہو، قرآن کی تفسیر ہو۔
- استغفار کا ورد: "أستغفر الله وأتوب إليه" دن میں سو بار پڑھنے کی عادت ڈالیں۔
- درود شریف: جمعہ کے دن اور ہر روز کچھ وقت درود پاک پڑھنے کا معمول بنائیں۔
- غفلت سے بچاؤ: فضول موبائل اسکرولنگ، گپ شپ، اور غیبت سے بچیں، ان کی جگہ ذکر کو دیں۔
۷. اختتامی نصیحت: ذکر کو مت چھوڑو، زندگی سنور جائے گی
اللہ کے بندو! سنو! ذکر الٰہی ایسی عبادت ہے جس میں نہ وضو کی شرط ہے، نہ وقت کی پابندی، نہ قبلہ رخ ہونے کی ضرورت — ہر حال میں، ہر وقت کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایسی دولت ہے جسے جتنا خرچ کرو بڑھتی ہے۔ یہ ایسی تجارت ہے جس میں خسارہ نہیں، صرف منافع ہے۔
تو اے مسلمانو! اپنی زبانوں کو ذکر الٰہی سے تر رکھو، اپنے دلوں کو اللہ کی یاد سے زندہ رکھو، اور دیکھو کہ تمہاری زندگی کیسے بدل جاتی ہے — سکون، برکت، رحمت، بخشش، سب تمہاری طرف دوڑ آئیں گے۔
۸. دعا
«اللَّهُمَّ أَعِنَّا عَلَىٰ ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ»
(سنن أبي داود: 1522 - صحيح)
«سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ»
(ماثور)
«اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنَ الذَّاكِرِينَ لَكَ كَثِيرًا، وَالْمُسَبِّحِينَ بِحَمْدِكَ بُكْرَةً وَأَصِيلًا»
«رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ»
اللهم إنا نعوذ بك من قلوب لا تخشع، وألسن لا تذكر، وأعين لا تدمع. اللهم ارزقنا لساناً ذاكراً، وقلباً شاكراً، وبدناً على البلاء صابراً. اللهم أنر قبورنا بذكره، واجعل ذكره أنيسنا في وحدتنا، ورفيقنا في سفرنا. وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.
TAGS JSON: { "tags": ["ذکر الہی", "ذکر اللہ", "تسبیح", "استغفار", "مجالس ذکر", "صبح و شام", "دعا", "سکون", "قلب", "غفلت"], "category": "اصلاحی بیانات", "related_month": null, "related_people": ["حضرت محمد ﷺ", "حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ"] } FEATURED IMAGE IDEA: ایک شخص تسبیح ہاتھ میں لیے، آنکھیں بند، چہرے پر سکون اور مسکراہٹ، دل سے نور پھوٹ رہا ہو، پس منظر میں مسجد اور فطرت کا خوبصورت منظر، اوپر عربی خطاطی میں "أَلَا بِذِكْرِ اللَّـهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ" اور نیچے "ذِكْرُ اللَّهِ تَعَالَىٰ" لکھا ہو۔