ہوم / مضامین

میڈیا کے اثرات اور اسلامی تعلیمات قرآن و حدیث کی روشنی میں | خطبہ جمعہ

TITLE: میڈیا اور اس کے اثرات: اسلامی نقطہ نظر سے ذمہ داری اور احتیاط SEO TITLE: میڈیا کے اثرات اور اسلامی تعلیمات قرآن و حدیث کی روشنی میں | خطبہ جمعہ SLUG: media-ke-asraat-islami-nuqta-nazar META DESCRIPTION: میڈیا کے مثبت و منفی اثرات، اسلامی اصولوں کی روشنی میں میڈیا کی ذمہ داریاں، فحاشی اور جھوٹ کی مذمت، اور والدین و نوجوانوں کے لیے رہنمائی پر مبنی جامع اور متوازن خطبہ۔ CONTENT:

میڈیا اور اس کے اثرات: اسلامی نقطہ نظر سے ذمہ داری اور احتیاط

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَ الْإِنْسَانَ وَعَلَّمَهُ الْبَيَانَ، وَجَعَلَ الْكَلِمَةَ أَمَانَةً وَالْقَوْلَ مَسْئُولِيَّةً، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، الَّذِي أَرْسَلَهُ اللَّهُ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا، فَبَلَّغَ الرِّسَالَةَ وَأَدَّى الْأَمَانَةَ. صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ الَّذِينَ حَمَلُوا رِسَالَةَ الْحَقِّ إِلَى الْعَالَمِينَ. أَمَّا بَعْدُ!

اللہ کے نیک بندو! ایمان والو! ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں صبح کی شروعات خبروں سے ہوتی ہے، رات کا اختتام اسکرینوں پر ہوتا ہے، اور دن بھر معلومات، تصاویر، آوازوں اور پیغامات کا ایک سیلاب ہمارے ذہنوں کو اپنی لپیٹ میں لیے رہتا ہے۔ اس سیلاب کا نام ہے میڈیا — وہ ذرائع ابلاغ جو ہمارے خیالات، ہمارے اخلاق، ہمارے عقائد، اور ہمارے فیصلوں پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔

بھائیو! میڈیا بذات خود ایک غیر جانبدار آلہ ہے، جیسے تلوار۔ یہ اسی کے ہاتھ میں مفید ہے جو اسے حق کے لیے استعمال کرے، اور اسی کے ہاتھ میں خطرناک ہے جو اسے باطل کے لیے اٹھائے۔ اسلام نے ہمیشہ حق بات پہنچانے، سچی گواہی دینے، اور معاشرے کی اصلاح کے ذرائع کو سراہا ہے، مگر جھوٹ، فحاشی، بہتان، اور فساد پھیلانے والے ذرائع کی سخت مذمت کی ہے۔

آج کا خطبہ اسی نازک موضوع پر ہے۔ ہم جانیں گے کہ قرآن و سنت نے لفظ اور اطلاع کی کیا ذمہ داری عائد کی ہے، میڈیا کے مثبت اور منفی پہلو کیا ہیں، موجودہ میڈیا کے چیلنجز سے کیسے نمٹا جائے، اور ہماری انفرادی و اجتماعی ذمہ داری کیا ہے۔ غور سے سنو! کیونکہ جو آنکھیں دیکھتی ہیں، جو کان سنتے ہیں، اور جو دل محسوس کرتا ہے، اس سب کا حساب قیامت کے دن لیا جائے گا۔

۱. قرآن کریم میں خبر، گواہی اور قول کی ذمہ داری

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ہر اس شخص کو سخت تنبیہ فرمائی ہے جو بغیر تحقیق کے کوئی بات پھیلائے، جھوٹی خبریں بنائے، یا فحاشی کو عام کرے۔ سنیے! رب العالمین کا فرمان ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ
(سورۃ الحجرات: 6)

ترجمہ: "اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کر لو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔"

یہ آیت میڈیا کے لیے ایک بنیادی اصول ہے: تحقیق کے بغیر خبر پھیلانا منع ہے۔ آج کے دور میں سوشل میڈیا پر ایک کلک سے جھوٹی خبریں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہیں، اور بعد میں پچھتانے کا بھی موقع نہیں ملتا۔ یہ آیت ہر اس شخص کے لیے تنبیہ ہے جو کوئی بھی بات سن کر آگے بھیج دیتا ہے۔

دوسری جگہ اللہ نے فحاشی کی تشہیر کرنے والوں کے لیے دردناک عذاب کا وعدہ فرمایا:

﴿إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۚ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
(سورۃ النور: 19)

ترجمہ: "بے شک جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں فحاشی پھیلے، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے، اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔"

کتنی سخت وعید ہے! آج کا میڈیا جو فحش فلموں، ڈراموں، گانوں، اشتہارات، اور ویب سیریز کے ذریعے بے حیائی کو عام کر رہا ہے، اس آیت کی زد میں آتا ہے۔

اسی طرح قرآن نے سچی گواہی اور عدل کے ساتھ خبر دینے کا حکم دیا:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّـهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ
(سورۃ النساء: 135)

ترجمہ: "اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہنے والے، اللہ کے لیے گواہی دینے والے بن جاؤ، چاہے وہ گواہی خود تمہارے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔"

میڈیا کا بنیادی فریضہ سچ بولنا اور انصاف کے ساتھ خبر دینا ہے، لیکن آج اکثر میڈیا سنسنی پھیلانے، جھوٹے پروپیگنڈے اور جانبدارانہ رپورٹنگ میں مصروف ہے۔

۲. احادیث نبویہ میں جھوٹی خبر، فحاشی اور زبان کی ذمہ داری

نبی کریم ﷺ نے زبان اور خبر کی ذمہ داری پر بہت زور دیا۔ سنیے!

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«كَفَىٰ بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ»
(صحيح مسلم: 5)

ترجمہ: "آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی بات (بغیر تحقیق) آگے بیان کر دے۔"

یہ حدیث آج کے سوشل میڈیا کے کلچر پر پورے طور پر صادق آتی ہے، جہاں لوگ بغیر تصدیق کے ہر پیغام فارورڈ کر دیتے ہیں، ہر افواہ پھیلا دیتے ہیں، اور ہر ویڈیو شیئر کر دیتے ہیں۔ نبی ﷺ نے ایسے شخص کو جھوٹا قرار دیا۔

فحاشی کی مذمت میں آپ ﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ»
(سنن الترمذي: 1977 - صحيح)

ترجمہ: "بے شک اللہ فحش بات کو اور فحش کام کو پسند نہیں کرتا۔"

اور جو فحاشی پھیلائے اس کے بارے میں فرمایا:

«وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ»
(صحيح مسلم: 1017)

ترجمہ: "اور جس نے اسلام میں کوئی برا طریقہ ایجاد کیا، اس پر اس کا گناہ ہوگا اور ان سب کا گناہ جو اس کے بعد اس پر عمل کریں، بغیر اس کے کہ ان کے گناہوں میں سے کچھ کم کیا جائے۔"

یہ میڈیا والوں کے لیے بہت بڑی تنبیہ ہے۔ جو فحش مواد بناتے ہیں، گانے ریکارڈ کرتے ہیں، فلمیں بناتے ہیں، جب تک لوگ انہیں دیکھیں گے، سنیں گے، اس کا گناہ ان کے نامہ اعمال میں لکھا جاتا رہے گا۔

۳. میڈیا کے مثبت اور منفی پہلو: ایک توازن

بھائیو! میڈیا بذات خود برا نہیں، بلکہ اس کا استعمال اچھا یا برا ہوتا ہے۔ مثبت پہلوؤں میں دعوتِ دین، تعلیم، اصلاح، اور حق کی آواز بلند کرنا شامل ہے۔ آج بہت سے اسلامی اسکالرز، داعی، اور نیک لوگ یوٹیوب، سوشل میڈیا اور ویب سائٹس کے ذریعے قرآن و سنت کی تعلیمات عام کر رہے ہیں، جو کہ قابلِ تحسین ہے۔

لیکن منفی پہلوؤں میں:

  • فحاشی اور عریانی: فلموں، ڈراموں، گانوں، اشتہارات کے ذریعے بے حیائی پھیلائی جا رہی ہے۔
  • جھوٹ اور افواہیں: خبروں کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا، سنسنی پھیلانا، جھوٹے پروپیگنڈے کرنا۔
  • وقت کا ضیاع: گھنٹوں فضول ویڈیوز، گیمنگ، سوشل میڈیا اسکرولنگ میں وقت برباد ہوتا ہے۔
  • خاندانی نظام کی تباہی: میڈیا کی وجہ سے میاں بیوی، والدین اور بچوں کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔
  • الحاد اور لبرل ازم کا فروغ: کچھ میڈیا پلیٹ فارمز دین کے خلاف پروپیگنڈا، الحاد، اور بے حیائی کو آزادی کے نام پر فروغ دیتے ہیں۔

اسلام ہمیں میانہ روی کا حکم دیتا ہے۔ ہمیں میڈیا کے مثبت استعمال کو اپنانا چاہیے اور منفی سے بچنا چاہیے۔

۴. موجودہ دور میں میڈیا کے چیلنجز اور ہماری ذمہ داری

اللہ کے بندو! آج کا میڈیا صرف ٹی وی اور ریڈیو تک محدود نہیں، بلکہ ہر ہاتھ میں موجود اسمارٹ فون ایک مکمل میڈیا ہاؤس ہے۔ بچے، نوجوان، بوڑھے، سب اس کی زد میں ہیں۔

والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے اسکرین ٹائم کو کنٹرول کریں، ان کے دیکھے جانے والے مواد پر نظر رکھیں، اور انہیں بتائیں کہ جھوٹی خبریں پھیلانا گناہ ہے، فحش مواد دیکھنا حرام ہے، اور فضول چیزوں میں وقت برباد کرنا احمقانہ ہے۔

نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ میڈیا کے مثبت استعمال کی طرف آئیں: اسلامی مواد بنائیں، اچھی تعلیمی ویڈیوز دیکھیں، دینی پروگرام سنیں، اور سوشل میڈیا کو دعوت و اصلاح کا ذریعہ بنائیں، نہ کہ فضول اور گناہ کا۔

یاد رکھو! نبی ﷺ نے فرمایا:

«نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ»
(صحيح البخاري: 6412)

ترجمہ: "دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں بہت سے لوگ خسارے میں ہیں: صحت اور فرصت۔"

فرصت کا مطلب ہے فارغ وقت، جو آج کل زیادہ تر میڈیا اور اسکرین پر ضائع ہو رہا ہے۔

۵. اصلاحی نکات: میڈیا کے ساتھ اسلامی طرزِ عمل

  • تحقیق کے بغیر خبر نہ پھیلائیں: کوئی بھی میسج، ویڈیو، یا خبر شیئر کرنے سے پہلے اس کی سچائی جانچ لیں۔
  • فحش مواد سے آنکھیں بند کریں: جو بھی پلیٹ فارم فحاشی پھیلائے، اسے بلاک کریں، اسے دیکھنا، سننا، اور شیئر کرنا سب حرام ہے۔
  • وقت کی پابندی: میڈیا کے استعمال کے لیے وقت مقرر کریں، اسے اپنی زندگی پر حاوی نہ ہونے دیں۔
  • گھر میں میڈیا کا ماحول اسلامی بنائیں: ٹی وی پر دینی چینلز دیکھیں، بچوں کو اسلامی کارٹون اور تعلیمی پروگرام دکھائیں۔
  • مثبت مواد بنائیں: اگر صلاحیت ہے تو قرآن و حدیث کی روشنی میں ویڈیوز، پوسٹس، اور مضامین بنائیں، یہ صدقہ جاریہ بن سکتا ہے۔
  • والدین کی نگرانی: بچوں کے فون اور انٹرنیٹ کے استعمال کی سختی سے نگرانی کریں، پیرنٹل کنٹرول استعمال کریں۔
  • دعا کریں: اللہ سے آنکھ، کان اور دل کی حفاظت مانگیں، نبی ﷺ کی دعا پڑھیں: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ سَمْعٍ لَا يُسْمَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ»۔

۶. اختتامی نصیحت: میڈیا کو ذریعہ نجات بنائیں، ذریعہ ہلاکت نہیں

اللہ کے بندو! سنو! یہ میڈیا کی دنیا حقیقت نہیں، سراب ہے۔ جو لوگ اس کے پیچھے اپنی زندگیاں خراب کر رہے ہیں، وہ بہت بڑے خسارے میں ہیں۔ اور جو لوگ اسے دین کی خدمت کے لیے استعمال کر رہے ہیں، وہ بہت بڑی کمائی کر رہے ہیں۔

قرآن کا فرمان یاد رکھو:

﴿وَقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللَّـهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ ۖ وَسَتُرَدُّونَ إِلَىٰ عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(سورۃ التوبہ: 105)

ترجمہ: "اور کہہ دو: تم عمل کرو، اللہ تمہارے عمل کو دیکھے گا، اور اس کا رسول اور مومنین بھی، اور تم عنقریب اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے جو غیب اور ظاہر کا جاننے والا ہے، پھر وہ تمہیں بتا دے گا جو کچھ تم کرتے تھے۔"

ہر کلک، ہر ویڈیو، ہر پوسٹ، ہر شیئر — سب لکھا جا رہا ہے۔ قیامت کے دن تمہارے اعمال تمہارے سامنے پیش کیے جائیں گے۔

۷. دعا

«اللَّهُمَّ طَهِّرْ أَسْمَاعَنَا وَأَبْصَارَنَا وَقُلُوبَنَا مِنْ كُلِّ مَا يُغْضِبُكَ»
«اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِمَّنْ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ»
«اللَّهُمَّ أَلْهِمْنَا رُشْدَنَا، وَقِنَا شُرُورَ أَنْفُسِنَا، وَاهْدِنَا لِلْحَقِّ»
«رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ»

اللهم إنا نعوذ بك من فتنة الإعلام، ومن شر ما يبث فيه، ونسألك أن تجعل الإعلام وسيلة خير وهداية. اللهم اهد شبابنا إلى ما تحب وترضى، وجنبهم الفواحش ما ظهر منها وما بطن. اللهم أصلح أحوال المسلمين، واجعل كلمتهم على الحق، وانصرهم على من بغى عليهم. وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.


TAGS JSON: { "tags": ["میڈیا", "سوشل میڈیا", "فحاشی", "جھوٹ", "خبر", "اسلامی تعلیمات", "نگرانی", "والدین", "نوجوان", "وقت کی قدر"], "category": "میڈیا", "related_month": null, "related_people": ["حضرت محمد ﷺ", "حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ"] } FEATURED IMAGE IDEA: ایک ہاتھ میں اسمارٹ فون، جس کی اسکرین سے ایک طرف نور اور دوسری طرف دھواں نکل رہا ہو، پس منظر میں کعبہ اور مسجد، اوپر عربی خطاطی میں "إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا" اور نیچے "كَفَىٰ بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ" لکھا ہو۔