ہوم / مضامین

علم کی فضیلت اور طالب علم کے آداب قرآن و حدیث کی روشنی میں | خطبہ جمعہ

TITLE: علم کی فضیلت اور طالبِ علم کے آداب: قرآن و سنت کی روشنی میں SEO TITLE: علم کی فضیلت اور طالب علم کے آداب قرآن و حدیث کی روشنی میں | خطبہ جمعہ SLUG: ilm-ki-fazilat-aur-talib-e-ilm-ke-adab META DESCRIPTION: علم کی اہمیت، قرآن و سنت میں فضیلت، علمائے سلف کے واقعات، اور طالب علم کے آداب پر مبنی جامع، علمی اور متوازن خطبہ۔ CONTENT:

علم کی فضیلت اور طالبِ علم کے آداب: قرآن و سنت کی روشنی میں

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ، وَفَضَّلَ الْعُلَمَاءَ عَلَى الْعَابِدِينَ، وَجَعَلَ طَلَبَ الْعِلْمِ فَرِيضَةً عَلَى الْمُسْلِمِينَ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، الَّذِي بُعِثَ مُعَلِّمًا وَهَادِيًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا. صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ الَّذِينَ وَرِثُوا عَنْهُ الْعِلْمَ وَبَلَّغُوهُ إِلَى الْأُمَّةِ، وَسَلَّمَ تَسْلِيمًا كَثِيرًا. أَمَّا بَعْدُ!

اللہ کے نیک بندو! ایمان والو! آج کا موضوع وہ ہے جو انسانی زندگی کی بنیاد ہے، ترقی کی کنجی ہے، اور دین و دنیا کی سعادت کا ذریعہ ہے۔ یہ وہ روشنی ہے جس سے اندھیرے دُور ہوتے ہیں، وہ طاقت ہے جس سے جہالت کے طلسم ٹوٹتے ہیں، اور وہ وراثت ہے جو انبیاء کرام سے ہمیں ملی ہے۔ یہ موضوع ہے علم! علم کی فضیلت، اس کی اہمیت، اور علم حاصل کرنے والوں کے آداب۔

بھائیو! علم کے بغیر ایمان ادھورا ہے، عبادت بے لطف ہے، اور زندگی بے مقصد ہے۔ اللہ نے قرآن مجید میں علم والوں کو بلند درجات عطا فرمائے، نبی کریم ﷺ نے علم کو فرض قرار دیا، اور ہمارے اسلاف نے علم کی خاطر سینکڑوں میل کے سفر طے کیے۔ آج ہم اسی علم کی فضیلت اور طالبِ علم کے آداب پر روشنی ڈالیں گے۔ ہم جانیں گے کہ قرآن نے علم کی کتنی اہمیت بیان کی، احادیث میں علم کی کیا فضیلت آئی، ہمارے اکابر نے علم کے لیے کیا قربانیاں دیں، اور آج کے طالب علم کو کن اصولوں کو اپنانا چاہیے۔ غور سے سنو! شاید یہ خطبہ تمہارے لیے علم کی راہ میں نئی توانائی اور عزم کا پیغام بن جائے۔

۱. قرآنِ کریم میں علم کی فضیلت اور اہمیت

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں متعدد مقامات پر علم کی عظمت بیان فرمائی، اور علم والوں کو خاص انعامات سے نوازا۔ سب سے پہلے یہ کہ قرآن کا پہلا حکم ہی "پڑھ" تھا:

﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ۞ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ ۞ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ ۞ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۞ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ
(سورۃ العلق: 1-5)

ترجمہ: "پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، انسان کو خون کی پھٹکی سے پیدا کیا، پڑھ اور تیرا رب سب سے زیادہ کرم والا ہے، جس نے قلم سے علم سکھایا، انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔"

غور کرو! وحی کا پہلا لفظ "اقرأ" ہے، یعنی علم حاصل کرو، پڑھو۔ قلم کی قسم کھائی گئی، جو علم کی علامت ہے۔ اس سے بڑھ کر علم کی اہمیت کا اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے؟

ایک اور مقام پر اللہ نے علم والوں کو بلند درجات کا وعدہ دیا:

﴿يَرْفَعِ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ ۚ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
(سورۃ المجادلة: 11)

ترجمہ: "اللہ تم میں سے ایمان والوں کو اور جنہیں علم دیا گیا ہے ان کے درجات بلند فرمائے گا، اور اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے۔"

یعنی ایمان کے ساتھ علم کی بنیاد پر درجات بلند ہوتے ہیں۔ علم کے بغیر ایمان بھی کمزور رہتا ہے، اس لیے مومن کو عالم بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اللہ نے علم والوں کو گواہِ توحید بھی بنایا:

﴿شَهِدَ اللَّـهُ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلَائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ ۚ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(سورۃ آل عمران: 18)

ترجمہ: "اللہ نے خود گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی، وہ عدل پر قائم ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ غالب، حکمت والا ہے۔"

کتنا بڑا شرف ہے کہ اللہ نے اپنی توحید کی گواہی میں علماء کو اپنے اور فرشتوں کے ساتھ شامل کیا! یہ مقام محض عبادت گزار ہونے سے نہیں ملتا، بلکہ علم کے ساتھ ملتا ہے۔

۲. احادیثِ نبویہ میں علم کی فضیلت اور اس کی ترغیب

نبی کریم ﷺ نے علم کو ہر مسلمان کے لیے لازمی قرار دیا، اور علماء کو انبیاء کا وارث بتایا۔ سنیے!

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَىٰ كُلِّ مُسْلِمٍ»
(سنن ابن ماجه: 224 - حسن، سنن البيهقي)

ترجمہ: "علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔"

یہ حدیث بتاتی ہے کہ دین کے بنیادی احکام کا علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے، تاکہ وہ اپنی عبادات، معاملات اور زندگی کو شریعت کے مطابق ڈھال سکے۔

علماء کی فضیلت کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ وَأَهْلَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرَضِينَ حَتَّى النَّمْلَةَ فِي جُحْرِهَا وَحَتَّى الْحُوتَ لَيُصَلُّونَ عَلَىٰ مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَيْرَ»
(سنن الترمذي: 2685 - حسن صحيح)

ترجمہ: "بے شک اللہ، اس کے فرشتے، آسمانوں اور زمینوں کے رہنے والے، یہاں تک کہ چیونٹی اپنے بل میں اور مچھلی پانی میں، سب لوگوں کو خیر سکھانے والے (عالم) کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔"

سوچو! کائنات کی ہر چیز عالم کے لیے دعاگو ہے۔ کتنا بلند مقام ہے اس شخص کا جو دین کا علم سیکھے اور سکھائے۔

نبی ﷺ نے علم کو انبیاء کی وراثت قرار دیا:

«الْعُلَمَاءُ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ، وَإِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا، وَلَكِنْ وَرَّثُوا الْعِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ»
(سنن أبي داود: 3641 - صحيح، سنن الترمذي: 2682)

ترجمہ: "علماء انبیاء کے وارث ہیں، اور انبیاء نے دینار و درہم نہیں چھوڑے، بلکہ علم چھوڑا، پس جس نے اسے حاصل کیا اس نے بہت بڑا حصہ لیا۔"

یہ وراثت مفت نہیں ملتی، بلکہ اس کے لیے محنت، تقویٰ، اور اخلاص کی ضرورت ہے۔ جو علمِ نبوی کا حامل بن جائے، وہ گویا انبیاء کی میراث کا مالک بن گیا۔

۳. اسلاف کی علم دوستی: قربانیوں اور عملی نمونوں کی روشنی میں

بھائیو! ہمارے اسلاف نے علم کے حصول کے لیے کیا کیا قربانیاں دیں، یہ سن کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: "اگر میں جانتا کہ مجھ سے زیادہ علم کسی اور کے پاس ہے، اور وہ دور دراز علاقے میں ہے، تو میں پیدل چل کر اس کے پاس ضرور جاتا۔"

تابعی بزرگ حضرت سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: "میں ایک حدیث کی طلب میں مسلسل کئی دن اور کئی راتوں کا سفر کرتا تھا۔" امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ایک حدیث کی خاطر کئی مہینوں کا سفر کیا، بغیر کسی سواری کے، اور تنگی و مشکلات جھیلیں۔

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا: "آپ کے دل میں علم کی کتنی محبت ہے؟" فرمایا: "جب میں کوئی نیا مسئلہ سنتا ہوں تو میرے جسم کا ہر حصہ اس سے لذت محسوس کرتا ہے۔" پھر پوچھنے والے نے کہا: "آپ کی علم کی حرص کیسی ہے؟" بولے: "بخیل آدمی جس قدر اپنے مال کو جمع کرنے کا حریص ہوتا ہے، میں علم جمع کرنے کا اس سے زیادہ حریص ہوں۔" پوچھا: "آپ کا شوق کتنا ہے؟" فرمایا: "کسی اکیلی ماں کے اکلوتے بیٹے کو جب کوئی خوشی ملتی ہے تو وہ جس قدر خوش ہوتی ہے، میں اس سے زیادہ خوش ہوتا ہوں جب کوئی نیا مسئلہ سیکھتا ہوں۔"

یہ تھا ہمارے اسلاف کا علم سے عشق! آج ہم کتابوں سے بھاگتے ہیں، علم کی محفلوں میں بیٹھنا گراں گزرتا ہے، اور موبائل فون پر گھنٹوں فضول گپ شپ میں گزار دیتے ہیں۔ کیا ہم ان لوگوں کے وارث کہلانے کے لائق ہیں؟

۴. طالبِ علم کے آداب: علم کو نافع اور بابرکت بنانے کے اصول

اللہ کے بندو! علم حاصل کرنا صرف کتابیں پڑھ لینے کا نام نہیں، بلکہ اس کے کچھ آداب ہیں جن کے بغیر علم بے برکت اور بے فائدہ ہو جاتا ہے۔ یہ آداب قرآن و سنت اور علماء کے تجربات سے ماخوذ ہیں:

۱. اخلاص: علم صرف اللہ کی رضا کے لیے حاصل کرو، شہرت، عہدہ، یا دنیا کمانے کے لیے نہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: جس نے اللہ کے لیے علم حاصل کیا مگر اس سے دنیا طلب کی، وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا۔ (سنن أبي داود: 3664 - صحيح)

۲. علم پر عمل: جو علم حاصل کرو اس پر عمل کرو، ورنہ قیامت کے دن تم سے پہلے سوال علم کے بارے میں ہوگا۔ حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے جن لوگوں کے خلاف فیصلہ ہوگا ان میں وہ عالم بھی ہوگا جس نے علم اس لیے سیکھا کہ لوگ اسے عالم کہیں۔ (صحيح مسلم: 1905)

۳. اساتذہ کا ادب: استاد کا احترام کرو، ان کے سامنے عاجزی اختیار کرو، ان کی غیر موجودگی میں بھی ان کی عزت کرو۔ علم برکت والا تب ہی ہوتا ہے جب استاد کا ادب کیا جائے۔

۴. صبر و تحمل: علم کا حصول ایک طویل سفر ہے، اس میں صبر کرو، مشکلات کو برداشت کرو، ایک دن میں عالم نہیں بنا جا سکتا۔ امام زہری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "علم قطرہ قطرہ جمع ہوتا ہے، اور جلدی بازی علم کو ضائع کر دیتی ہے۔"

۵. تواضع: علم حاصل کرنے کے بعد تکبر نہ کرو، بلکہ اور زیادہ عاجز بنو۔ جتنا علم بڑھے، یہ یقین بھی بڑھنا چاہیے کہ ہم کچھ نہیں جانتے۔

۶. علم کی نشر و اشاعت: علم حاصل کر کے اسے دوسروں تک پہنچاؤ، یہ زکوٰۃ العلم ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "جو شخص کسی علم کے بارے میں پوچھے جانے پر اسے چھپائے، قیامت کے دن اسے آگ کی لگام دی جائے گی۔" (سنن أبي داود: 3658 - صحيح)

۷. رات کی عبادت: علم والوں کے لیے تہجد اور رات کا قیام بہت اہم ہے، اس سے فہم میں برکت ہوتی ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ رات کو بارہ تیرہ بار اٹھ کر چراغ جلا کر احادیث لکھتے تھے۔

۵. موجودہ دور میں علم کے حوالے سے چیلنجز اور ہماری ذمہ داریاں

بھائیو! آج معلومات کا دور ہے، لیکن علم اور معلومات میں فرق ہے۔ انٹرنیٹ پر بے شمار معلومات موجود ہیں، لیکن یہ معلومات علم نہیں بن جاتیں جب تک ان پر عمل نہ ہو، اور ان کو پرکھنے کی صلاحیت نہ ہو۔

آج کل کا ایک بڑا فتنہ یہ ہے کہ لوگ تھوڑی سی معلومات لے کر خود کو مجتہد سمجھنے لگتے ہیں، قرآن و حدیث کی من مانی تفسیر کرنے لگتے ہیں، اور علماء کرام پر تنقید کرنے کو فیشن سمجھتے ہیں۔ یہ بہت خطرناک رویہ ہے۔ علم صرف کتابیں پڑھنے سے نہیں آتا، بلکہ اساتذہ کی صحبت، سینہ بہ سینہ تعلیم، اور اخلاقی تربیت سے آتا ہے۔

دوسری طرف مسلمانوں نے جدید علوم سے بھی کنارہ کشی اختیار کر رکھی ہے، حالانکہ طب، انجینئرنگ، سائنس، اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی مسلمانوں کو آگے ہونا چاہیے، جیسا کہ ہمارے اسلاف تھے۔ دین اور دنیا دونوں کا علم حاصل کرنا امت کی ضرورت ہے۔

۶. اصلاحی نکات: علم کی راہ میں قدم کیسے بڑھائیں؟

  • علم کی نیت درست کریں: ہر روز اپنی نیت کا جائزہ لیں کہ علم صرف اللہ کی رضا کے لیے سیکھ رہے ہیں۔
  • قرآن سمجھ کر پڑھیں: قرآن کا ترجمہ اور تفسیر پڑھنے کا معمول بنائیں، یہ علم کی بنیاد ہے۔
  • روزانہ حدیث کا مطالعہ: روزانہ کم از کم ایک حدیث مع تشریح پڑھیں، ریاض الصالحین جیسی کتابوں سے آغاز کریں۔
  • اساتذہ سے جڑیں: کسی مستند عالم دین کی مجلس میں باقاعدگی سے شرکت کریں، علم کے لیے سفر کریں۔
  • علم پر عمل کریں: جو بھی نیا حکم سیکھیں، فوراً اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں، یہ علم میں برکت دیتا ہے۔
  • فضول مشاغل چھوڑیں: سوشل میڈیا، گیمنگ، اور فضول گپ شپ کا وقت کم سے کم کریں، اور اس وقت کو علم کے حصول میں لگائیں۔
  • حلم اور بردباری: علم کے ساتھ حلم (بردباری) ضروری ہے، بغیر حلم کے علم وبال بن جاتا ہے۔
  • نشر علم: جو کچھ سیکھو، دوسروں کو سکھاؤ، یہ علم کو قبر میں روشنی بنائے گا۔
  • دعا: «رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا» (طٰه: 114) کا ورد کثرت سے کریں۔

۷. اختتامی نصیحت: علم حاصل کرو، عمل کرو، اور پھیلاؤ

اللہ کے بندو! سنو! علم وہ دولت ہے جو خرچ کرنے سے بڑھتی ہے، وہ روشنی ہے جو اندھیروں کو مٹاتی ہے، اور وہ طاقت ہے جو قوموں کو عروج دیتی ہے۔ ہمارے زوال کی ایک بڑی وجہ علم سے دوری ہے۔ اگر ہم دوبارہ عروج چاہتے ہیں تو ہمیں علم کی طرف لوٹنا ہوگا، قرآن و سنت کے علم کے ساتھ ساتھ دنیا کے وہ علوم بھی حاصل کرنے ہوں گے جو امت کی خدمت کے لیے ضروری ہیں۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا، سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ»
(صحيح مسلم: 2699)

ترجمہ: "جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے راستہ چلے، اللہ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔"

تو آج ہی سے علم کی راہ میں قدم بڑھاؤ، کسی کتاب کا مطالعہ شروع کرو، کسی عالم کی مجلس میں بیٹھو، اور اپنی زندگی کو علم کی برکتوں سے منور کرو۔

۸. دعا

«رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا»
(سورۃ طه: 114)
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا»
(سنن ابن ماجه: 925 - صحيح)
«اللَّهُمَّ انْفَعْنَا بِمَا عَلَّمْتَنَا، وَعَلِّمْنَا مَا يَنْفَعُنَا، وَزِدْنَا عِلْمًا»
(سنن الترمذي: 3599 - حسن)
«اللَّهُمَّ فَقِّهْنَا فِي الدِّينِ، وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مُهْتَدِينَ»

اللهم أخرجنا من ظلمات الجهل إلى نور العلم، وارزقنا الإخلاص في طلبه، والعمل به، وتبليغه. اللهم أصلح علماء المسلمين، وارزقهم التقوى والورع، واجعلهم سببا لهداية الخلق. اللهم اغفر لنا، ولوالدينا، ولمشايخنا، ولجميع المسلمين. ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار. وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.


TAGS JSON: { "tags": ["علم", "طلب علم", "فضیلت علم", "علماء", "طالب علم", "اخلاص", "عمل", "قرآن", "حدیث", "تعلیم"], "category": "اصلاحی بیانات", "related_month": null, "related_people": ["حضرت محمد ﷺ", "امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ", "امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ", "حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ"] } FEATURED IMAGE IDEA: ایک روشن چراغ کے گرد کتابیں پھیلی ہوئی ہوں، پس منظر میں مسجد یا مدرسہ، ایک شخص ہاتھ میں قلم اور کتاب لیے بیٹھا ہو، اوپر عربی خطاطی میں "يَرْفَعِ اللَّـهُ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ" اور نیچے "طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَىٰ كُلِّ مُسْلِمٍ" لکھا ہو۔