ہوم / مضامین

غزوہ احد کے اسباب، واقعات اور اسباق قرآن و حدیث کی روشنی میں | خطبہ جمعہ

TITLE: غزوہ احد: اطاعت، صبر اور اللہ پر بھروسے کا عظیم امتحان SEO TITLE: غزوہ احد کے اسباب، واقعات اور اسباق قرآن و حدیث کی روشنی میں | خطبہ جمعہ SLUG: ghazwa-uhud-itaat-sabr-tawakkul META DESCRIPTION: غزوہ احد کا تاریخی پس منظر، شاندار فتح کا غم انگیز انجام، شہداء کی قربانیاں، اور قرآن و سنت سے ملنے والے لازوال اسباق۔ علمی اور متوازن خطبہ۔ CONTENT:

غزوہ احد: اطاعت، صبر اور اللہ پر بھروسے کا عظیم امتحان

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْجِهَادِ عِزَّةَ الْأُمَّةِ وَكَرَامَتَهَا، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، نَصَرَ عِبَادَهُ الصَّادِقِينَ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، الَّذِي جُرِحَ وَجْهُهُ الشَّرِيفُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ: "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ". صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ الَّذِينَ صَبَرُوا وَصَدَقُوا، وَخَاصَّةً عَلَى حَمْزَةَ سَيِّدِ الشُّهَدَاءِ وَمُصْعَبِ بْنِ عُمَيْرٍ وَسَائِرِ شُهَدَاءِ أُحُدٍ. أَمَّا بَعْدُ!

اللہ کے نیک بندو! ایمان والو! تاریخِ اسلام میں بعض واقعات ایسے ہیں جو فتح کی خوشخبری دیتے ہیں، اور بعض ایسے ہیں جو زخموں، قربانیوں اور سبق آموز یادوں کے حامل ہیں۔ غزوہ احد ان دونوں کا ایک عجیب امتزاج ہے۔ یہ وہ معرکہ ہے جس میں پہلے فتح نے مسلمانوں کے قدم چومے، پھر ایک چھوٹی سی غلطی نے ساری صورت حال کو پلٹ دیا۔ یہ وہ میدان ہے جہاں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ جیسے شیرِ خدا نے شہادت پائی، جہاں نبی کریم ﷺ کا چہرہ مبارک زخمی ہوا، اور جہاں ستر سے زائد صحابہ نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔

بھائیو! غزوہ احد کوئی محض ایک تاریخی حادثہ نہیں، بلکہ یہ اطاعتِ رسول، صبر، توکل، اور نافرمانی کے انجام کا ایک زندہ سبق ہے۔ آج کا خطبہ اسی عظیم غزوے کے اسباب، واقعات، اور اس سے ملنے والے اسباق پر مبنی ہے۔ ہم جانیں گے کہ بدر کے بعد قریش کیسے انتقام کے جذبے سے بھڑک اٹھے، کس طرح مسلمانوں نے پہاڑ کے دامن میں مورچہ بندی کی، تیر اندازوں کی ایک غلطی نے کیسے فتح کو ماتم میں بدل دیا، اور قرآن نے اس دن کے واقعات پر کیا روشنی ڈالی۔ غور سے سنو! شاید یہ خطبہ تمہیں زندگی کے فیصلوں میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی لازمی اہمیت کا سبق سکھا دے۔

۱. غزوہ احد کے اسباب: بدلہ، انتقام اور تیاری

غزوہ بدر میں قریش کو ذلت آمیز شکست ہوئی تھی۔ ان کے بڑے بڑے سردار مارے گئے، اور ان کی تجارت کو زبردست دھچکا لگا۔ ابوسفیان بن حرب، جو اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے، نے بدر میں اپنے قافلے کی حفاظت نہ کر سکنے اور شکست کا بدلہ لینے کی قسم کھائی۔ انہوں نے اگلے ایک سال تک مسلسل جنگی تیاریاں کیں۔

چنانچہ 3 ہجری، شوال کے مہینے میں قریش نے تین ہزار سے زائد جنگجوؤں کا لشکر تیار کیا، جس میں دو سو گھوڑ سوار، سات سو زرہ پوش، اور تین ہزار اونٹ شامل تھے۔ ان کے ساتھ پندرہ عورتیں بھی تھیں، جن میں ابوسفیان کی بیوی ہندہ بنت عتبہ بھی تھی، جو بدر کے مقتولین کا بدلہ لینے اور جنگجوؤں کو اشتعال دلانے کے لیے آئی تھیں۔ یہ لشکر مدینہ کی طرف بڑھا اور پہاڑِ احد کے دامن میں خیمہ زن ہوا۔

جب نبی کریم ﷺ کو اس کی اطلاع ملی تو آپ نے صحابہ کرام سے مشورہ فرمایا۔ آپ کی رائے تھی کہ مدینہ میں رہ کر دفاعی جنگ لڑی جائے، لیکن بہت سے نوجوان صحابہ، خاص طور پر وہ جو بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے، کھلے میدان میں لڑنے کے خواہش مند تھے۔ نبی ﷺ نے جمہور کی رائے کا احترام کرتے ہوئے باہر نکلنے کا فیصلہ فرمایا۔ یہاں سے ہمیں مشورے اور شوریٰ کا درس ملتا ہے، نیز یہ کہ امیر کو جمہور کی رائے کا احترام کرنا چاہیے، چاہے اس کی اپنی رائے کچھ اور ہو۔

نبی ﷺ نے ایک ہزار صحابہ کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہونے کے بعد پہاڑِ احد کے دامن میں پہنچ کر حکمتِ عملی اپنائی۔ آپ نے پیچھے کی طرف پچاس تیر اندازوں کو ایک ٹیلے پر مقرر فرمایا، جن کی قیادت حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کر رہے تھے، اور انہیں انتہائی تاکیدی حکم دیا:

«لَا تَبْرَحُوا مَكَانَكُمْ، إِنْ رَأَيْتُمُونَا ظَهَرْنَا عَلَيْهِمْ فَلَا تَتْرُكُوا مَكَانَكُمْ، وَإِنْ رَأَيْتُمُوهُمْ ظَهَرُوا عَلَيْنَا فَلَا تَنْصُرُونَا»

ترجمہ: "تم اپنی جگہ سے ہرگز نہ ہٹنا، اگر دیکھو کہ ہم کافروں پر غالب آ گئے ہیں تب بھی اپنی جگہ نہ چھوڑنا، اور اگر دیکھو کہ وہ ہم پر غالب آ گئے ہیں تب بھی ہماری مدد کو نہ آنا۔"

یہ حکم انتہائی واضح تھا اور اس کی حکمت بعد میں کھل کر سامنے آئی۔

۲. قرآنِ کریم میں غزوہ احد کا ذکر اور مسلمانوں کی تربیت

اللہ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں احد کے معرکے کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی، اور اسے مسلمانوں کی تربیت اور اصلاح کا ذریعہ بنایا۔ سنیے! رب العالمین فرماتا ہے:

﴿وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللَّـهُ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُم بِإِذْنِهِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِي الْأَمْرِ وَعَصَيْتُم مِّن بَعْدِ مَا أَرَاكُم مَّا تُحِبُّونَ ۚ مِنكُم مَّن يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنكُم مَّن يُرِيدُ الْآخِرَةَ ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ ۖ وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ ۗ وَاللَّـهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ
(سورۃ آل عمران: 152)

ترجمہ: "اور بے شک اللہ نے تم سے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، جب تم اس کے حکم سے انہیں قتل کر رہے تھے، یہاں تک کہ جب تم نے کمزوری دکھائی اور معاملے میں اختلاف کیا اور اللہ کے حکم کی نافرمانی کی، اس کے بعد کہ اس نے تمہیں وہ چیز دکھا دی جو تم پسند کرتے تھے، تم میں سے کوئی دنیا چاہتا تھا اور کوئی آخرت چاہتا تھا، پھر اس نے تمہیں ان سے پھیر دیا تاکہ تمہیں آزمائے، اور بے شک اس نے تمہیں معاف کر دیا، اور اللہ مومنوں پر بڑے فضل والا ہے۔"

یہ آیت اس دن کی پوری کہانی بیان کر رہی ہے۔ ابتدا میں مسلمان غالب تھے، کفار پسپا ہو رہے تھے، مالِ غنیمت بکھرا پڑا تھا۔ لیکن جب تیر اندازوں نے مالِ غنیمت دیکھا تو ان میں سے اکثر اپنی جگہ چھوڑ کر مال اکٹھا کرنے میں لگ گئے، اور یہی وہ لمحہ تھا جب خالد بن ولید (جو اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے) نے پیچھے سے حملہ کر دیا اور فتح کا پانسہ پلٹ گیا۔

اللہ نے فرمایا: "منکم من یرید الدنیا و منکم من یرید الآخرۃ" — تم میں سے کوئی دنیا چاہتا تھا، یعنی مالِ غنیمت، اور کوئی آخرت چاہتا تھا، یعنی اللہ کی رضا اور شہادت۔ یہ فرق تھا جو مصیبت کا سبب بنا۔

اس دن کی سختیوں کے باوجود اللہ نے اپنی رحمت کا پہلو بھی دکھایا:

﴿وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ۞ إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهُ ۚ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ
(سورۃ آل عمران: 139-140)

ترجمہ: "اور تم سستی نہ دکھاؤ اور نہ غمگین ہو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔ اگر تمہیں کوئی زخم پہنچا ہے تو ان لوگوں کو بھی ایسا ہی زخم پہنچ چکا ہے، اور یہ دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں۔"

۳. میدانِ احد کے عظیم کردار: قربانی اور وفا کی مثالیں

بھائیو! احد کے دن کئی عظیم ہستیوں نے شہادت پائی، جن میں سب سے نمایاں حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ہیں، جنہیں نبی ﷺ نے "سید الشہداء" کا لقب دیا۔ وہ شیرِ خدا تھے، کفار کے دل ان کے نام سے لرزتے تھے۔ احد کے دن انہوں نے تن تنہا کفار کی صفیں الٹ دیں، لیکن وحشی غلام نے نیزہ مار کر انہیں شہید کر دیا۔ ان کی لاش کو مثلہ کیا گیا، کان، ناک کاٹے گئے، پیٹ چاک کیا گیا۔ جب نبی ﷺ نے ان کا جنازہ دیکھا تو آپ بہت غمگین ہوئے، اور فرمایا:

«رَحِمَكَ اللَّهُ يَا عَمِّ، فَلَقَدْ كُنْتَ وَصُولًا لِلرَّحِمِ، فَعُولًا لِلْخَيْرَاتِ»

ترجمہ: "اللہ تجھ پر رحم فرمائے اے چچا! تو بہت صلہ رحمی کرنے والا اور بہت نیکیاں کرنے والا تھا۔"

حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی شہادت بھی اسی دن ہوئی۔ وہ مکہ کے نہایت نازک اندام اور خوشحال نوجوان تھے، لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد ان کی زندگی کا انداز یکسر بدل گیا۔ احد میں انہوں نے اسلام کا پرچم تھاما۔ دشمن نے ان کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا تو انہوں نے بائیں ہاتھ سے پرچم پکڑا، وہ بھی کاٹا گیا تو مونڈھوں سے پرچم کو تھاما۔ آخر کار وہ شہید ہو گئے، اور جب انہیں دفنایا گیا تو اتنا کپڑا بھی نہ تھا کہ پورے جسم کو ڈھانپا جا سکے — سر ڈھانپا جاتا تو پاؤں کھل جاتے، پاؤں ڈھانپے جاتے تو سر کھل جاتا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "ان کا سر ڈھانپ دو اور پاؤں پر گھاس ڈال دو۔"

حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ کا جذبہ بھی لازوال ہے۔ جب انہوں نے سنا کہ مسلمانوں میں پسپائی آ گئی ہے، تو وہ میدان میں نکلے، حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے ملے اور کہا: "واہ! جنت کی خوشبو! میں احد کے اس طرف جنت کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں!" پھر وہ لڑے اور شہید ہو گئے۔ ان کے جسم پر اسّی سے زائد زخم تھے، یہاں تک کہ ان کی بہن نے انگلیوں کے نشانات سے ہی انہیں پہچانا۔

سب سے زیادہ دل دہلا دینے والا منظر وہ تھا جب نبی کریم ﷺ خود زخمی ہوئے۔ ایک پتھر لگنے سے آپ کا چہرہ مبارک زخمی ہو گیا، دندان مبارک شہید ہو گیا، اور آپ ﷺ گر پڑے۔ افواہ پھیل گئی کہ "محمد ﷺ شہید ہو گئے!" اس لمحے میں بھی کچھ صحابہ ثابت قدم رہے، کچھ نے ہتھیار ڈال دیے، اور منافقین نے کہنا شروع کر دیا کہ "اگر وہ نبی ہوتے تو شہید نہ ہوتے"۔

لیکن جب صحابہ نے دیکھا کہ نبی ﷺ زندہ ہیں، تو ان کا حوصلہ لوٹ آیا۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اپنے دانتوں سے نبی ﷺ کے چہرے سے لوہے کی دو کڑیاں نکالیں، جس سے ان کے دو دانت گر گئے۔ اسی شدتِ محبت کے باوجود نبی ﷺ نے کفار کے حق میں بددعا نہیں کی، بلکہ فرمایا:

«اللَّهُمَّ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ»

ترجمہ: "اے اللہ! میری قوم کو ہدایت دے، بے شک وہ نہیں جانتے۔"

۴. غزوہ احد کے اسباق: اطاعت، صبر اور شکر

اللہ کے بندو! غزوہ احد سے کئی قیمتی اسباق ملتے ہیں جو قیامت تک کی امت کے لیے رہنما ہیں:

  • اطاعتِ رسول کی فرضیت: تیر اندازوں نے اپنی معمولی سی غلطی سے پوری فوج کو مصیبت میں ڈال دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب اللہ اور اس کے رسول کا حکم آ جائے تو اس میں اپنی عقل اور خواہش کو دخل نہیں دینا چاہیے، چاہے حکمت سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔
  • دنیا اور آخرت کا فرق: جب نگاہیں مالِ غنیمت پر پڑیں تو تیر انداز اپنی ذمہ داری بھول گئے۔ جو شخص دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتا ہے، وہ دونوں سے محروم ہو سکتا ہے۔
  • صبر اور استقامت: آزمائش کے لمحات میں ہمت نہ ہاری جائے، ثابت قدم رہنے والوں کا اجر بہت بڑا ہے۔
  • نبی ﷺ کا اسوۂ حسنہ: دشمنوں کے لیے بھی ہدایت کی دعا کرنا، انتقام کے بجائے درگزر کرنا — یہی اخلاقِ نبوی کا کمال ہے۔
  • فتح اور شکست اللہ کے ہاتھ میں ہے: تعداد یا طاقت اصل معیار نہیں، بلکہ اللہ کی تائید اور نصرت اصل چیز ہے۔
  • منافقین کی پہچان: احد نے مدینہ کے منافقین کو بھی بے نقاب کر دیا، جو بہانے بنا کر واپس چلے گئے تھے، اور مشکل وقت میں مسلمانوں کا ساتھ نہیں دیا۔

۵. موجودہ دور میں امتِ مسلمہ کو احد کا پیغام

بھائیو! آج کی امت مسلمہ غزوہ احد کے کس پہلو کی تصویر ہے؟ کہیں ہم تیر اندازوں کی طرح نبی ﷺ کے حکم سے روگردانی تو نہیں کر رہے؟ کہیں مال و دولت، شہرت اور دنیاوی مفادات کی خاطر ہم نے دین کے مسلمہ اصولوں پر سمجھوتہ تو نہیں کر لیا؟

جب آج ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان تعداد میں ایک ارب سے زیادہ ہونے کے باوجود عالمی سطح پر کمزور ہیں، تو اس کی جڑ احد جیسے ہی اسباب میں ہے — اختلاف، نافرمانی، اور دنیا کی محبت۔ احد کا سبق یہی ہے کہ جب تک مسلمان اپنی صفوں میں اتحاد، اللہ کے حکم کی تعمیل، اور رسول اللہ ﷺ کی کامل اطاعت کو اپنا شعار نہیں بناتے، حقیقی فتح نصیب نہیں ہوگی۔

۶. اصلاحی نکات: اپنی زندگی میں احد کے اسباق کو کیسے نافذ کریں؟

  • دینی احکام کی تعمیل: شریعت کے کسی بھی حکم کو ہلکا نہ سمجھو، خواہ وہ چھوٹا لگے، اس کی پابندی ضروری ہے۔
  • دنیا کو مقصد نہ بناؤ: مال و دولت، عہدہ و شہرت کو آخرت پر ترجیح مت دو۔
  • مشورے کا احترام: اجتماعی معاملات میں مشورہ کرو، لیکن جب فیصلہ ہو جائے تو اس پر ڈٹ جاؤ، اختلاف نہ کرو۔
  • مشکلات میں صبر: جب مصیبت آئے تو مایوس نہ ہو، بلکہ سمجھو کہ یہ اللہ کی طرف سے آزمائش ہے اور اس میں کوئی حکمت پوشیدہ ہے۔
  • رسول اللہ ﷺ سے محبت: ان کی حیاتِ طیبہ کے واقعات پڑھو، ان کے دکھوں کو یاد کرو، اور ان کی سنت کو اپنی زندگی میں زندہ کرو۔
  • شہداء کا مقام یاد رکھو: شہادت کی فضیلت کو پہچانو، اور شہداء کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کرو۔
  • منافقت سے بچو: اپنے ایمان کا جائزہ لو، کہیں تمہارا ظاہر و باطن یکساں ہے یا نہیں۔

۷. اختتامی نصیحت: احد کا زخم بھی رحمت بنا

اللہ کے بندو! سنو! غزوہ احد بظاہر ایک نقصان تھا، لیکن اللہ نے اس میں بھی امت کے لیے بھلائی رکھی تھی۔ اس معرکے نے منافقین کو بے نقاب کر دیا، مخلص مومنوں کی پہچان ہو گئی، اور مسلمانوں کو اپنی کمزوریوں کا احساس ہوا۔ اس کے بعد اللہ نے انہیں مزید فتوحات سے نوازا۔

حدیث میں آتا ہے کہ ایک صحابی نے پوچھا: "یا رسول اللہ! کیا کوئی اس سے زیادہ سخت آزمائش آپ پر آئی ہے؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "احد کا دن، جب لوگوں نے مجھے چھوڑ دیا، اور میں زخمی ہو کر ایک طرف گرا ہوا تھا۔" پھر آپ نے اس کٹھن گھڑی کا حال بیان کیا، اور یہ بھی بتایا کہ اس میں بھی اللہ نے آپ کو تسلی دی۔

اس لیے مایوسی کفر ہے۔ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے، ہر رات کے بعد صبح ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ ہم اپنی اصلاح کریں، اللہ سے لو لگائیں، اور رسول اللہ ﷺ کی پیروی کو مضبوطی سے تھامے رہیں۔

۸. دعا

«اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِشُهَدَاءِ أُحُدٍ، وَارْفَعْ دَرَجَاتِهِمْ فِي عِلِّيِّينَ، وَاحْشُرْنَا مَعَهُمْ فِي زُمْرَةِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ»
«اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا كَمَالَ الِاتِّبَاعِ لِنَبِيِّكَ، وَصِدْقَ التَّوَكُّلِ عَلَيْكَ، وَالثَّبَاتَ عِنْدَ الْمِحَنِ»
«اللَّهُمَّ طَهِّرْ قُلُوبَنَا مِنْ حُبِّ الدُّنْيَا، وَزَيِّنَّا بِحُبِّ الْآخِرَةِ، وَاجْعَلْنَا مِنَ الصَّابِرِينَ عِنْدَ الْبَلَاءِ»
«رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ»
(سورۃ آل عمران: 8)
«اللَّهُمَّ أَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِ الْمُسْلِمِينَ، وَاجْمَعْ كَلِمَتَهُمْ عَلَى الْحَقِّ، وَانْصُرْهُمْ عَلَى أَعْدَائِكَ»

اللهم تقبل منا صالح الأعمال، واغفر لنا ذنوبنا وإسرافنا في أمرنا، وثبت أقدامنا، وانصرنا على القوم الكافرين. اللهم أحيي في أمة محمد ﷺ روح الجهاد في سبيلك، والاستعداد للتضحية في طريق مرضاتك. ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار. وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.


TAGS JSON: { "tags": ["غزوہ احد", "احد", "شہداء احد", "حمزہ", "مصعب بن عمیر", "اطاعت", "صبر", "توکل", "نافرمانی", "اسلامی تاریخ"], "category": "اسلامی تاریخ", "related_month": "شوال", "related_people": ["حضرت محمد ﷺ", "حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ", "حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ", "حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ"] } FEATURED IMAGE IDEA: پہاڑِ احد کا منظر، دامن میں مسلمانوں اور کفار کے لشکر آمنے سامنے، آسمان پر غروب آفتاب کا سُرخ رنگ، شہداء کے لہو کی علامت، اوپر عربی خطاطی میں "وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ" اور نیچے "وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ" لکھا ہو۔ ساتھ ہی شہداء کی قبروں کے مزارات کی جھلک بھی ہو۔