ہوم / مضامین

قربانی کی فضیلت، تاریخ اور احکام قرآن و حدیث کی روشنی میں | خطبہ جمعہ

TITLE: قربانی: حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنتِ جاوداں اور بندگی کا عظیم امتحان SEO TITLE: قربانی کی فضیلت، تاریخ اور احکام قرآن و حدیث کی روشنی میں | خطبہ جمعہ SLUG: qurbani-fazilat-tareekh-ahkam-aur-rooh META DESCRIPTION: قربانی کی حقیقت، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت، قربانی کے احکام و مسائل، اور اس کی روح پر مبنی جامع، علمی اور متوازن خطبہ۔ CONTENT:

قربانی: حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنتِ جاوداں اور بندگی کا عظیم امتحان

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي شَرَعَ لَنَا الشَّعَائِرَ وَالْعِبَادَاتِ، وَجَعَلَ فِيهَا تَزْكِيَةً لِلنُّفُوسِ وَرَفْعَةً لِلدَّرَجَاتِ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، الَّذِي فَدَىٰ إِسْمَاعِيلَ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ، وَأَبْقَىٰ تِلْكَ السُّنَّةَ فِي الْأُمَّةِ إِلَىٰ يَوْمِ الدِّينِ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، الَّذِي ضَحَّىٰ بِيَدِهِ الشَّرِيفَةِ وَقَالَ: "خُذُوا عَنِّي مَنَاسِكَكُمْ". صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ الَّذِينَ بَذَلُوا أَمْوَالَهُمْ وَأَنْفُسَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. أَمَّا بَعْدُ!

اللہ کے نیک بندو! ایمان والو! کیا تم نے کبھی سوچا ہے کہ وہ کون سی عبادت ہے جس کا تعلق براہِ راست حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کے اس عظیم ترین لمحے سے ہے جب انہیں اپنی آنکھوں کا تارا، اپنا بوڑھاپے کا سہارا، اپنا بیٹا اللہ کے حکم پر قربان کرنے کا حکم دیا گیا؟ وہ کون سا عمل ہے جس کے خون کے قطروں سے پہلے بندے کے دل کا خلوص اللہ کے حضور پیش ہوتا ہے؟ وہ کون سی عبادت ہے جسے نبی کریم ﷺ نے ہمیشہ خود بھی ادا فرمایا اور امت کو بھی اس کی ترغیب دی؟

یہ وہ عبادت ہے جو محض ایک رسم نہیں، محض گوشت اور خون نہیں، بلکہ یہ تقویٰ، قربانی، اور بندگی کا وہ اظہار ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا اور قربت کا ذریعہ بنایا۔ یہ قربانی ہے! عید الاضحی کی قربانی، سنتِ ابراہیمی کا وہ احیاء جو ہر سال پوری امتِ مسلمہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جذبۂ تسلیم و رضا کی یاد دلاتا ہے۔

بھائیو! آج کے اس خطبے میں ہم قربانی کی حقیقت، اس کی قرآنی بنیاد، اس کے احکام و مسائل، اور اس کے روحانی پہلوؤں پر روشنی ڈالیں گے۔ ہم جانیں گے کہ قربانی کا مقصد کیا ہے، کن لوگوں پر واجب ہے، اس کے گوشت کی تقسیم کا کیا طریقہ ہے، اور اس عظیم عبادت کو ادا کرتے ہوئے ہمارے دل میں کیا جذبہ ہونا چاہیے۔ غور سے سنو! شاید آج تمہاری قربانی صرف جانور کا خون بہانے سے بڑھ کر اللہ کے حضور تمہارے دل کی پیشی بن جائے۔

۱. قرآنِ کریم میں قربانی کی اصل اور اس کی روح

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں قربانی کی اصل کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کے اس عظیم واقعے سے جوڑا، جو انسانیت کے لیے تسلیم و رضا کی سب سے بلند مثال ہے۔ سنیے! رب العالمین فرماتا ہے:

﴿فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَىٰ ۚ قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّـهُ مِنَ الصَّابِرِينَ ۞ فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ ۞ وَنَادَيْنَاهُ أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ ۞ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا ۚ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ۞ إِنَّ هَـٰذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ ۞ وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ
(سورۃ الصافات: 102-107)

ترجمہ: "پھر جب وہ (اسماعیل) ان کے ساتھ دوڑنے کی عمر کو پہنچا تو ابراہیم نے کہا: اے میرے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، سو تو بتا تیری کیا رائے ہے؟ اس نے کہا: اے میرے ابا! جو آپ کو حکم دیا جا رہا ہے کر ڈالیے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔ پھر جب دونوں نے سر تسلیم خم کر دیا اور اس نے اسے ماتھے کے بل لٹا دیا۔ اور ہم نے اسے آواز دی: اے ابراہیم! تو نے اپنا خواب سچ کر دکھایا، بے شک ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔ بے شک یہ بہت بڑی آزمائش تھی۔ اور ہم نے اس کا فدیہ ایک عظیم قربانی سے دے دیا۔"

غور کرو! باپ نے خواب دیکھا، اور انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں، مگر اس نے بیٹے سے پوچھا: "تیری کیا رائے ہے؟" یہ شریعت میں مشورے کی اہمیت ہے۔ بیٹے نے کہا: "جو حکم ہے بجا لائیے، آپ مجھے صابر پائیں گے۔" یہ ہے اطاعت کی انتہا! نہ کوئی سوال، نہ کوئی اعتراض، نہ کوئی ہچکچاہٹ۔

پھر جب دونوں نے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دیا، اور ابراہیم علیہ السلام نے چھری چلانے کا ارادہ کیا، تو اللہ نے آواز دی: "ٹھہر جاؤ! تم نے اپنا امتحان پاس کر لیا۔" اور اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ایک مینڈھا ذبح کر دیا گیا۔

اسی واقعے کی یاد میں امتِ محمدیہ کے لیے قربانی مشروع ہوئی۔ اللہ نے قربانی کی روح کو یوں بیان فرمایا:

﴿لَن يَنَالَ اللَّـهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَـٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللَّـهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ ۗ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِينَ
(سورۃ الحج: 37)

ترجمہ: "اللہ تک ہرگز نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون، بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اسی طرح اس نے انہیں تمہارے لیے مسخر کر دیا ہے تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو اس بات پر کہ اس نے تمہیں ہدایت دی، اور نیکی کرنے والوں کو خوشخبری دے دو۔"

یہ قربانی کی اصل روح ہے! اللہ کو گوشت یا خون کی ضرورت نہیں، وہ تو دلوں کا تقویٰ دیکھتا ہے۔ کتنا اچھا ہوتا کہ ہم قربانی کرتے ہوئے یہ سوچیں کہ اس جانور کے ساتھ ہم اپنی حیوانی خواہشات کو بھی ذبح کر رہے ہیں، اپنا تکبر، اپنا بخل، اپنی دنیا پرستی — سب اللہ کے حضور قربان کر رہے ہیں!

۲. احادیثِ نبویہ میں قربانی کی اہمیت، فضیلت اور احکام

نبی کریم ﷺ نے قربانی کو عید الاضحی کا سب سے اہم عمل قرار دیا، اور اسے ترک کرنے پر سخت وعید سنائی۔ سنیے!

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:
«ضَحَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ، وَسَمَّىٰ وَكَبَّرَ، وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَىٰ صِفَاحِهِمَا»
(صحيح البخاري: 5565، صحيح مسلم: 1966)

ترجمہ: "نبی ﷺ نے دو مینڈھوں کی قربانی کی، جو چتکبرے، سینگوں والے تھے، انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا، بسم اللہ اور اللہ اکبر کہا، اور اپنا قدم ان کے پہلو پر رکھا۔"

دیکھو! نبی ﷺ نے خود اپنے دستِ مبارک سے قربانی کی۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ عمل کتنا عظیم ہے۔ آپ نے دو مینڈھے ذبح کیے: ایک اپنی طرف سے اور ایک اپنی امت کی طرف سے، خاص طور پر ان لوگوں کی طرف سے جو توحید پر قائم ہیں مگر قربانی کی استطاعت نہیں رکھتے۔

قربانی کی فرضیت یا وجوب کے بارے میں نبی ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ وَلَمْ يُضَحِّ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا»
(سنن ابن ماجه: 3123 - حسن، مسند أحمد: 2/321)

ترجمہ: "جس شخص کے پاس استطاعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے، تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔"

کتنی سخت وعید ہے! استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنے والا گویا عید کی خوشی سے محروم رہنے کی دھمکی پا رہا ہے۔ جمہور علماء کے نزدیک قربانی صاحبِ استطاعت پر واجب ہے، اور بعض کے نزدیک سنتِ مؤکدہ ہے، لیکن سب کا اتفاق ہے کہ اسے بغیر عذر شرعی کے ترک نہیں کرنا چاہیے۔

قربانی کے جانور کے بارے میں بھی ہدایات آئی ہیں:

«لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً، إِلَّا أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ، فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْنِ»
(صحيح مسلم: 1963)

ترجمہ: "صرف مسنہ (دانتا) جانور ہی ذبح کرو، ہاں اگر تم پر مشکل ہو تو بھیڑ کا جذعہ (چھ ماہ سے ایک سال) ذبح کر سکتے ہو۔"

اسی طرح عیب دار جانوروں سے منع فرمایا: نہ ایسا جانور جس کا کانا پن واضح ہو، نہ ایسا جو لنگڑا کر چلتا ہو، نہ بیمار، نہ کمزور۔ (سنن الترمذي: 1497 - صحيح) یعنی قربانی میں اچھے سے اچھا جانور پیش کرو، کیونکہ یہ اللہ کے لیے ہے۔

ایامِ قربانی کے بارے میں فرمایا:

«أَيَّامُ التَّشْرِيقِ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرٍ لِلَّهِ»
(صحيح مسلم: 1141)

یہ دن کھانے پینے اور اللہ کے ذکر کے دن ہیں، اس لیے ان میں روزہ رکھنا منع ہے۔

۳. قربانی کے فقہی احکام: کن پر واجب ہے اور کیا طریقہ ہے؟

بھائیو! قربانی کے چند بنیادی احکام جاننا ضروری ہیں:

کس پر واجب ہے؟ ہر وہ مسلمان، عاقل، بالغ، مقیم، جو صاحبِ نصاب ہو (یعنی جس کے پاس ضروریاتِ زندگی سے زائد اتنا مال ہو جس پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، یا قربانی کے ایام میں اس کے پاس نصاب کے برابر رقم یا سامان موجود ہو)۔

قربانی کا وقت: عید الاضحی کی نماز کے بعد سے لے کر 12 ذی الحجہ کے سورج غروب ہونے تک، یعنی تین دن (ایام تشریق)۔ نماز سے پہلے ذبح کرنا قربانی شمار نہیں ہوگا، بلکہ وہ عام ذبیحہ ہوگا۔

جانور کی اقسام: اونٹ (کم از کم 5 سال)، گائے یا بھینس (کم از کم 2 سال)، بکرا، بکری، مینڈھا یا دنبہ (کم از کم 1 سال)۔ البتہ دنبہ یا بھیڑ 6 ماہ کا بھی ہو تو جائز ہے اگر وہ صحت مند اور فربہ ہو۔

حصص: اونٹ اور گائے میں سات حصے دار ہو سکتے ہیں، یعنی سات آدمی مل کر ایک جانور میں شریک ہو سکتے ہیں۔ بکرا یا مینڈھا صرف ایک آدمی کی طرف سے کافی ہے، البتہ ایک شخص اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کی طرف سے ایک بکرا ذبح کر سکتا ہے، جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا۔

گوشت کی تقسیم: مستحب یہ ہے کہ گوشت کے تین حصے کیے جائیں: ایک حصہ اپنے اور اہلِ خانہ کے لیے، ایک حصہ رشتہ داروں اور دوستوں کے لیے، اور ایک حصہ غریبوں اور مسکینوں کے لیے۔ اگر کوئی پورا گوشت ہی غرباء میں تقسیم کر دے تو بھی جائز ہے، اور اگر ضرورت ہو تو پورا گوشت اپنے لیے بھی رکھ سکتا ہے، لیکن بہتر یہی ہے کہ غریبوں کا خاص خیال رکھا جائے۔

قربانی کا جانور اور کھال فروخت نہیں کرنا: نبی ﷺ نے قربانی کے جانور کا گوشت یا کھال فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے، البتہ کھال کو خود استعمال کیا جا سکتا ہے یا صدقہ کیا جا سکتا ہے، لیکن قصائی کو اس کی مزدوری گوشت یا کھال میں سے نہیں دی جا سکتی، بلکہ اسے علیحدہ اجرت دینا ضروری ہے۔ (صحيح البخاري: 1717)

۴. قربانی کی روح: تقویٰ، قربانی، اور ایثار کا جذبہ

اللہ کے بندو! قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں۔ اس کی اصل روح یہ ہے کہ بندہ اپنی ہر چیز اللہ کے لیے قربان کرنے کو تیار ہو جائے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیٹے کو قربان کیا، ہم سے تو صرف ایک جانور مانگا گیا ہے۔ کیا ہم یہ بھی خوش دلی سے نہیں دے سکتے؟

قربانی کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے اندر تقویٰ پیدا کریں، اللہ کے حکم کو بلا چوں و چراں ماننے کی مشق کریں، اور یہ ثابت کریں کہ ہمارے نزدیک اللہ کا حکم ہماری محبوب ترین چیزوں سے بڑھ کر ہے۔

قربانی کے ذریعے ہم غریبوں اور مسکینوں کو بھی عید کی خوشیوں میں شامل کرتے ہیں، یہ معاشرتی ہم آہنگی اور بھائی چارے کا درس ہے۔ اس دن امیر اور غریب سب گوشت کھاتے ہیں، سب عید مناتے ہیں۔

۵. موجودہ دور میں قربانی کی کوتاہیاں اور ان کا تدارک

افسوس! آج کچھ لوگ قربانی کو بوجھ سمجھتے ہیں، اس سے بچنے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں، حالانکہ استطاعت موجود ہوتی ہے۔ کچھ لوگ دکھاوے کی قربانی کرتے ہیں — جانور مہنگے سے مہنگا خریدتے ہیں، اس پر فخر کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر تصویریں ڈالتے ہیں، لیکن دل میں اخلاص اور تقویٰ نہیں ہوتا۔

کچھ لوگ قصائی کو اس کی مزدوری گوشت میں سے دیتے ہیں، جو کہ ناجائز ہے۔ کچھ لوگ کھالیں بیچ کر ان کی رقم اپنی جیب میں ڈال لیتے ہیں، حالانکہ انہیں بھی صدقہ کرنا چاہیے یا مسجد یا مدرسے کو دینا چاہیے۔

کچھ لوگ قربانی کے دوران صفائی کا خیال نہیں رکھتے، گلیوں اور نالیوں میں خون اور آلائشیں بہا کر دوسروں کو تکلیف دیتے ہیں۔ یہ بھی قربانی کی روح کے خلاف ہے۔ صفائی کا خاص خیال رکھیں، باقیات کو ٹھکانے لگائیں، اور پڑوسیوں کو ایذاء نہ پہنچائیں۔

۶. اصلاحی نکات: اپنی قربانی کو مقبول کیسے بنائیں؟

  • نیت خالص کریں: صرف اللہ کی رضا کے لیے قربانی کریں، دکھاوے اور شہرت سے بچیں۔
  • سنتی طریقہ اپنائیں: خود اپنے ہاتھ سے ذبح کریں، اگر ممکن نہ ہو تو کسی مسلمان سے ذبح کرائیں اور خود وہاں موجود رہیں۔
  • تکبیرات پڑھیں: ذبح کرتے وقت "بِسْمِ اللَّهِ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ" ضرور کہیں۔ ذی الحجہ کے پہلے دس دنوں میں اور ایام تشریق میں کثرت سے تکبیرات کہیں۔
  • گوشت کی تقسیم: غریبوں، مسکینوں، یتیموں، رشتہ داروں، اور پڑوسیوں کو ضرور حصہ پہنچائیں، انہیں بھی عید کی خوشی میں شامل کریں۔
  • جانور سے حسنِ سلوک: قربانی کے جانور کو اچھی طرح کھلائیں پلائیں، ذبح کرتے وقت تیز چھری استعمال کریں تاکہ اسے کم سے کم تکلیف ہو، اور اسے دوسرے جانوروں کے سامنے ذبح نہ کریں۔
  • کھال کا صحیح استعمال: کھال کو فروخت نہ کریں، بلکہ کسی فلاحی ادارے، مسجد یا مدرسے کو دے دیں، یا خود استعمال کریں۔
  • صفائی کا اہتمام: ذبح کے بعد جگہ کو اچھی طرح صاف کریں، خون اور آلائشوں کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگائیں۔
  • قربانی کے ساتھ عبادات: عید کی نماز پڑھیں، تکبیرات کہیں، اللہ کا شکر ادا کریں، اور اہلِ خانہ کے ساتھ خوشیاں منائیں۔

۷. اختتامی نصیحت: قربانی صرف ایک دن کا عمل نہیں، بلکہ پوری زندگی کا سبق ہے

اللہ کے بندو! سنو! قربانی کا سبق صرف عید الاضحی کے تین دنوں تک محدود نہیں۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی کے ہر موڑ پر اللہ کے حکم کو اپنی خواہش پر ترجیح دو۔ جب نماز کا وقت ہو اور نیند پیاری لگ رہی ہو، اس وقت اپنی نیند قربان کرو۔ جب مالِ حرام کا لالچ ہو اور حلال کمائی مشکل لگے، اس وقت حرام کو قربان کرو۔ جب زبان غیبت کرنا چاہے اور خاموشی مشکل لگے، اس وقت اپنی زبان کی لذت قربان کرو۔ یہی حقیقی قربانی ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«مَا عَمِلَ ابْنُ آدَمَ يَوْمَ النَّحْرِ عَمَلًا أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ إِهْرَاقَةِ دَمٍ، وَإِنَّهَا لَتَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقُرُونِهَا وَأَشْعَارِهَا وَأَظْلَافِهَا، وَإِنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ اللَّهِ بِمَكَانٍ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ، فَطِيبُوا بِهَا نَفْسًا»
(سنن الترمذي: 1493 - حسن، سنن ابن ماجه: 3126)

ترجمہ: "عید الاضحی کے دن ابن آدم کا کوئی بھی عمل اللہ کے نزدیک خون بہانے (قربانی) سے زیادہ محبوب نہیں، اور وہ جانور قیامت کے دن اپنی سینگوں، بالوں اور کھروں سمیت آئے گا، اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے ہاں قبولیت کا مقام پا لیتا ہے، پس تم خوش دلی سے قربانی کرو۔"

تو اپنی قربانیاں خوش دلی سے کرو، اللہ کی رضا کے لیے کرو، اور اسے اپنے لیے آخرت کا ذخیرہ بناؤ۔

۸. دعا

«اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنَّا ضَحَايَانَا، وَاجْعَلْهَا كَفَّارَةً لِذُنُوبِنَا، وَرَحْمَةً لِأَمْوَاتِنَا»
«اللَّهُمَّ هَذِهِ الضَّحِيَّةُ مِنْكَ وَلَكَ، فَتَقَبَّلْهَا مِنَّا كَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِكَ وَمُحَمَّدٍ حَبِيبِكَ»
«اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا الْإِخْلَاصَ فِي الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ، وَطَهِّرْ قُلُوبَنَا مِنَ الرِّيَاءِ وَالْكِبْرِ»
«رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ»
(سورۃ البقرہ: 127)
«اللَّهُمَّ أَطْعِمْ جَائِعَنَا، وَاكْسُ عَارِيَنَا، وَارْحَمْ ضَعِيفَنَا، وَاشْفِ مَرْضَانَا، وَفُكَّ أَسْرَانَا»

اللهم تقبل منا صالح الأعمال، واغفر لنا الذنوب، وتب علينا إنك أنت التواب الرحيم. اللهم اجعلنا من عبادك المخلصين، وارزقنا الإقتداء بسنة نبيك وخليلك إبراهيم عليهما الصلاة والسلام. اللهم وحد صفوف المسلمين، وأزل الغمة عن هذه الأمة. ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار. وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.


TAGS JSON: { "tags": ["قربانی", "عید الاضحی", "ذی الحجہ", "حج", "ابراہیم علیہ السلام", "اسماعیل علیہ السلام", "ایام تشریق", "تکبیرات", "گوشت", "صدقہ"], "category": "حج", "related_month": "ذی الحجہ", "related_people": ["حضرت ابراہیم علیہ السلام", "حضرت اسماعیل علیہ السلام", "حضرت محمد ﷺ"] } FEATURED IMAGE IDEA: حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنے کے لیے چھری چلاتے ہوئے، آسمان سے جبریل علیہ السلام مینڈھا لے کر اتر رہے ہوں، پس منظر میں کعبہ کی جھلک، اوپر عربی خطاطی میں "وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ" اور نیچے "لَن يَنَالَ اللَّـهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَـٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ" لکھا ہو۔