غیبت اور چغلی: زبان کی آفت اور معاشرتی تباہی کا راستہ
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَ الْإِنْسَانَ وَعَلَّمَهُ الْبَيَانَ، وَأَمَرَهُ بِحِفْظِ اللِّسَانِ وَالْجَنَانِ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَىٰ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، الَّذِي قَالَ: "وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ فِي النَّارِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ". صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ الَّذِينَ طَهَّرُوا أَلْسِنَتَهُمْ عَنِ الْفُحْشِ وَالْغِيبَةِ وَالنَّمِيمَةِ. أَمَّا بَعْدُ!
اللہ کے نیک بندو! ایمان والو! آج میں تمہارے سامنے ایک ایسی بیماری کا ذکر کرنے جا رہا ہوں جو ہمارے معاشروں میں وبا کی طرح پھیلی ہوئی ہے، جسے ہم گناہ بھی نہیں سمجھتے، جسے ہم محفلوں کی رونق، دوستوں کی دلچسپی، اور گھروں کی عادت بنا چکے ہیں۔ یہ وہ بیماری ہے جسے نبی کریم ﷺ نے جہنم میں چہروں کے بل گرائے جانے کا سب سے بڑا سبب بتایا۔ یہ وہ آگ ہے جو انسان کے اعمال کو اس طرح کھا جاتی ہے جیسے آگ خشک لکڑی کو کھا جاتی ہے۔
یہ بیماری ہے غیبت اور چغلی! جی ہاں، وہی غیبت جسے قرآن نے "مردہ بھائی کا گوشت کھانے" سے تشبیہ دی، اور وہی چغلی جس کے بارے میں نبی ﷺ نے فرمایا کہ چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
بھائیو! یہ موضوع بہت گہرا اور بہت سنگین ہے۔ آج ہم قرآن و سنت کی روشنی میں جانیں گے کہ غیبت کیا ہے، چغلی کیا ہے، ان کی ممانعت کیوں آئی، ان کے انفرادی و اجتماعی نقصانات کیا ہیں، کن صورتوں میں غیبت جائز ہے، اور ہم اپنی زبانوں کو اس عظیم آفت سے کیسے بچا سکتے ہیں۔ غور سے سنو! کیونکہ ہو سکتا ہے تمہاری زبان آج تک جو کچھ بولتی رہی ہے، وہی تمہاری بخشش میں رکاوٹ بن رہی ہو۔
۱. قرآن کریم میں غیبت اور چغلی کی سنگینی
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں غیبت کی مذمت کرتے ہوئے ایک ایسی مثال بیان فرمائی جس سے انسان کا ضمیر کانپ جاتا ہے۔ سنیے! رب العالمین فرماتا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ﴾
(سورۃ الحجرات: 12)
ترجمہ: "اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہیں، اور جاسوسی نہ کرو، اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔ کیا تم میں سے کوئی شخص پسند کرے گا کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ اس سے تو تم گھن کھاتے ہو۔ اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔"
کتنی بھیانک تصویر ہے! غیبت کرنے والا گویا اپنے مسلمان بھائی کا گوشت کھا رہا ہے، اور وہ بھی مردہ! جب کوئی شخص زندہ ہو تو وہ اپنا دفاع کر سکتا ہے، لیکن غیبت میں اس کی غیر موجودگی میں اس کا گوشت نوچا جاتا ہے، گویا وہ مردہ ہے اور اپنی بے بسی میں تمہارے سامنے بے بس ہے۔ کتنی گھناؤنی حرکت ہے!
اس آیت میں غیبت سے منع کرنے سے پہلے بدگمانی اور تجسس سے بھی روکا گیا، کیونکہ بدگمانی اور تجسس ہی غیبت کا سبب بنتے ہیں۔ جب دل میں کسی کے بارے میں بدگمانی پیدا ہوتی ہے، پھر اس کی خامیاں ڈھونڈنے کے لیے تجسس کیا جاتا ہے، اور پھر جو عیب نظر آئے اسے دوسروں کے سامنے بیان کر کے غیبت کی جاتی ہے۔
چغلی اور نمّامی کے بارے میں بھی قرآن نے سخت لہجہ اختیار کیا ہے:
﴿وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ﴾
(سورۃ الهمزة: 1)
ترجمہ: "بربادی ہے ہر اس شخص کے لیے جو طعنہ زنی کرنے والا، عیب جوئی کرنے والا ہے۔"
مفسرین فرماتے ہیں کہ "ہمزہ" سے مراد وہ ہے جو سامنے طعنہ زنی کرے، اور "لمزہ" سے مراد وہ ہے جو پیٹھ پیچھے برائی کرے، یعنی غیبت کرنے والا۔ دونوں کے لیے "ویل" کی وعید ہے، جو جہنم کی ایک وادی کا نام بھی ہے، یا ہلاکت کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے۔
اسی طرح سورۃ القلم میں ایک اور آیت ہے:
﴿هَمَّازٍ مَّشَّاءٍ بِنَمِيمٍ﴾
(سورۃ القلم: 11)
ترجمہ: "بہت طعنہ زنی کرنے والا، چغل خوری کرتا پھرنے والا۔"
یہ ان لوگوں کی صفات ہیں جن سے اللہ نے منع فرمایا، اور یہ بتایا کہ ایسے لوگ اللہ کے نزدیک ذلیل اور مردود ہیں۔
۲. احادیث نبویہ میں غیبت اور چغلی کی تعریف اور وعید
نبی کریم ﷺ نے غیبت اور چغلی کی واضح تعریف بیان فرمائی، اور ان کے مرتکب پر سخت ترین وعیدیں سنائیں۔ سنیے!
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:
«أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ؟» قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ» قِيلَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ؟ قَالَ: «إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ»
(صحيح مسلم: 2589)
ترجمہ: "کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے؟ صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ فرمایا: تمہارا اپنے بھائی کا ذکر اس طرح کرنا جسے وہ ناپسند کرے۔ پوچھا گیا: اگر میرے بھائی میں وہ عیب موجود ہو جو میں کہہ رہا ہوں تب بھی؟ فرمایا: اگر اس میں وہ عیب ہے تو تم نے غیبت کی، اور اگر وہ عیب اس میں نہیں ہے تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔"
غور کرو! غیبت صرف جھوٹ بولنے کا نام نہیں، بلکہ سچی بات بھی اگر کسی کی غیر موجودگی میں اس طرح کی جائے جسے وہ سن کر ناپسند کرے، تو وہ غیبت ہے۔ چاہے وہ اس کے جسم، حسب نسب، اخلاق، لباس، گھر، سواری، یا کسی بھی چیز سے متعلق ہو۔
چغلی کی تعریف سنیے:
«لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ نَمَّامٌ»
(صحيح البخاري: 6056، صحيح مسلم: 105)
ترجمہ: "چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔"
نَمّام یعنی وہ شخص جو لوگوں کے درمیان فساد ڈالنے کے لیے ایک کی بات دوسرے کو پہنچائے۔ یہ غیبت سے بھی زیادہ سنگین جرم ہے، کیونکہ اس سے آپس کی محبت ختم ہوتی ہے، رشتے ٹوٹتے ہیں، اور معاشرہ بکھر جاتا ہے۔
نبی ﷺ نے زبان کی آفتوں کی سنگینی بیان کرتے ہوئے فرمایا:
«وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ فِي النَّارِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ أَوْ عَلَىٰ مَنَاخِرِهِمْ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ»
(سنن الترمذي: 2616 - حسن صحيح، سنن ابن ماجه: 3973)
ترجمہ: "اور لوگوں کو ان کے چہروں یا ناکوں کے بل جہنم میں ڈالنے والی ان کی زبانوں کی کاٹی ہوئی فصلیں ہی ہوں گی۔"
کتنا ہولناک منظر ہے! جس زبان سے ہم ذکر الٰہی کرتے ہیں، تلاوت کرتے ہیں، اسی زبان سے کسی کی برائی بیان کی، کسی کی عزت پر حملہ کیا، تو یہی زبان ہمیں جہنم کی آگ میں گرا دے گی۔
۳. غیبت اور چغلی کے انفرادی و معاشرتی نقصانات
بھائیو! غیبت اور چغلی صرف گناہ ہی نہیں، بلکہ یہ پورے معاشرے کے لیے تباہ کن ہیں۔ ذرا سوچو:
انفرادی نقصانات:
- غیبت کرنے والے کی نیکیاں قیامت کے دن اس شخص کو منتقل کر دی جائیں گی جس کی اس نے غیبت کی، اور اگر نیکیاں نہ ہوئیں تو مظلوم کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے۔ یہ دیوالیہ ہونے کا سبب ہے۔
- غیبت دل کو سخت کرتی ہے، عبادت کی لذت ختم کر دیتی ہے، اور اللہ سے دوری کا سبب بنتی ہے۔
- غیبت کرنے والا اللہ کے نزدیک ذلیل ہوتا ہے، فرشتے اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔
اجتماعی نقصانات:
- غیبت اور چغلی سے باہمی اعتماد ختم ہو جاتا ہے، بھائی بھائی سے بدظن ہو جاتا ہے۔
- خاندانوں میں پھوٹ پڑ جاتی ہے، رشتے ٹوٹ جاتے ہیں، دوستیاں دشمنیوں میں بدل جاتی ہیں۔
- چغل خور کی وجہ سے معاشرے میں بے چینی، بے اعتمادی اور نفاق پھیلتا ہے۔
۴. کیا غیبت کبھی جائز بھی ہوتی ہے؟ شرعی استثناء
اللہ کے بندو! یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دینِ اسلام عدل و حکمت پر مبنی ہے۔ علماء نے چند مخصوص صورتوں میں غیبت کو جائز قرار دیا ہے، جب اس میں کوئی شرعی مصلحت ہو۔ یہ کوئی کھلی چھٹی نہیں، بلکہ محدود استثناء ہیں:
- مظلوم کی فریاد: اگر کسی پر ظلم ہوا ہے، تو وہ قاضی یا حاکم کے سامنے ظالم کا ذکر کر سکتا ہے، تاکہ اسے انصاف ملے۔
- برائی کے خلاف مدد طلب کرنا: اگر کوئی شخص کسی برائی میں ملوث ہے اور اسے روکنے کے لیے کسی ایسے شخص کو بتانا ضروری ہو جو اسے روک سکتا ہو، تو بقدرِ ضرورت بتایا جا سکتا ہے۔
- فتویٰ طلب کرنا: مفتی کے سامنے مسئلہ بیان کرتے ہوئے ضروری تفصیلات بتانا، مثلاً "میرے شوہر نے مجھے طلاق دی" وغیرہ۔
- نکاح یا معاملات میں مشورہ: اگر کسی سے شادی کا مشورہ مانگا جائے، یا کاروباری شراکت داری کے بارے میں پوچھا جائے، تو دیانت داری کے ساتھ اس شخص کے عیب بتانا ضروری ہے۔ نبی ﷺ نے حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو معاویہ اور ابوجہم کے نکاح کے بارے میں مشورہ دیتے ہوئے ان کا عیب بیان فرمایا۔ (مسلم: 1480)
- گمراہ شخص سے لوگوں کو بچانا: اگر کوئی شخص کھلم کھلا گناہ کرتا ہے یا بدعتی ہے اور اس سے دوسروں کے بہکنے کا اندیشہ ہو، تو اس کی حقیقت بیان کرنا جائز ہے، تاکہ لوگ بچیں۔
لیکن ان صورتوں میں بھی ضروری ہے کہ صرف اتنا کہا جائے جتنی ضرورت ہو، زیادتی نہ کی جائے، اور نیت صرف اصلاح یا انصاف کی ہو، بغض و عناد کی نہ ہو۔
۵. موجودہ دور میں غیبت اور چغلی کی نئی شکلیں
اللہ کے بندو! آج کا دور سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل کمیونیکیشن کا دور ہے، اور غیبت و چغلی نے نئے نئے روپ دھار لیے ہیں۔
واٹس ایپ گروپس میں کسی کی تصویر لگا کر اس کا مذاق اڑانا، بغیر تحقیق کے کسی کے بارے میں میسج فارورڈ کرنا، فیس بک پر کمنٹ میں کسی کی کردار کشی کرنا، یوٹیوب پر کسی کی نجی زندگی کے بارے میں ویڈیوز بنانا، ٹویٹر پر کسی کو ذلیل کرنے کے لیے ٹرینڈ چلانا — یہ سب جدید غیبت اور بہتان کی صورتیں ہیں۔
کتنی عجیب بات ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ جنہیں کسی کی زبان سے برا بھلا کہنا پسند نہیں، وہ کی بورڈ کے ذریعے اپنی انگلیوں سے وہی کر رہے ہوتے ہیں جو زبان سے کرنا گناہ ہے! اور زیادہ خطرناک یہ ہے کہ لکھا ہوا باقی رہتا ہے، اور گناہ جاری رہتا ہے۔
اسی طرح ٹی وی چینلز پر ٹاک شوز میں سیاسی اور ذاتی کردار کشی کی جاتی ہے، جسے لاکھوں لوگ دیکھتے ہیں۔ یہ گناہِ جاریہ ہے، کیونکہ اس سے بہت بڑے پیمانے پر غیبت پھیلتی ہے۔
۶. اصلاحی نکات: غیبت اور چغلی سے بچنے کے عملی طریقے
- زبان کی حفاظت: خاموشی اختیار کرنا سیکھیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ» (بخاری: 6018) یعنی خیر کی بات کرو ورنہ خاموش رہو۔
- مجلس میں غیبت ہو تو روکو: اگر محفل میں کسی کی غیبت ہو رہی ہو تو حکمت سے اسے روکنے کی کوشش کرو، یا کم از کم وہاں سے اٹھ جاؤ۔
- دوسروں کے عیوب پر پردہ ڈالو: نبی ﷺ نے فرمایا: «وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» (مسلم: 2699) جو کسی مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالے، اللہ اس کے عیوب پر پردہ ڈالے گا۔
- گمان کو تحقیق میں بدلو: کسی کے بارے میں کوئی منفی بات سنو تو تحقیق کرو، بغیر تحقیق اسے آگے نہ پھیلاؤ۔
- اللہ کا خوف: بولنے سے پہلے سوچو کہ کیا یہ بات اللہ کے حضور پیش کرنے کے قابل ہے؟ کیا میں اس بات کا قیامت کے دن جواب دے سکوں گا؟
- غیبت کا کفارہ: اگر کسی کی غیبت کر بیٹھے ہو تو اس کے لیے استغفار کرو، اور اگر ممکن ہو تو اسے بتا کر معافی مانگو، ورنہ اس کے لیے دعا کرو اور صدقہ کر کے اس کے گناہوں کی بخشش مانگو۔
- سوشل میڈیا کا محتاط استعمال: شیئر کرنے سے پہلے سوچو، کمنٹ کرنے سے پہلے سوچو، کسی کی تصویر یا پوسٹ پر ہنسی مذاق سے پہلے اللہ کا خوف کرو۔
۷. اختتامی نصیحت: اپنی زبان کو جہنم سے بچاؤ
اللہ کے بندو! سنو! یہ زبان ایک چھوٹی سی گوشت کی لوتھڑی ہے، لیکن یہی انسان کو جنت میں لے جا سکتی ہے اور یہی جہنم میں گرا سکتی ہے۔
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ نبی ﷺ سے پوچھا: "یا رسول اللہ! کیا ہم اپنی باتوں پر بھی پکڑے جائیں گے؟" آپ ﷺ نے فرمایا:
«ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا مُعَاذُ، وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ فِي النَّارِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ»
(سنن الترمذي: 2616 - صحيح)
ترجمہ: "تیری ماں تجھ پر روئے اے معاذ! اور لوگوں کو ان کے چہروں کے بل جہنم میں ڈالنے والی ان کی زبانوں کی کاٹی ہوئی فصلیں ہی تو ہیں۔"
تو اپنی زبانوں کو لگام دو، غیبت اور چغلی سے بچو، اور اپنی محفلوں کو ذکر الٰہی اور خیر کی باتوں سے آباد کرو۔ جس کی غیبت تم کرتے ہو، وہ تمہیں چھوڑ سکتا ہے، لیکن اللہ نہیں چھوڑے گا۔
۸. دعا
«اللَّهُمَّ طَهِّرْ أَلْسِنَتَنَا مِنَ الْغِيبَةِ وَالنَّمِيمَةِ وَالْفُحْشِ، وَزَيِّنَّا بِالصِّدْقِ وَحُسْنِ الْقَوْلِ»
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ لِسَانًا صَادِقًا، وَقَلْبًا سَلِيمًا، وَخُلُقًا حَسَنًا»
«اللَّهُمَّ مَنْ آذَيْنَاهُ بِأَلْسِنَتِنَا أَوْ بِأَيْدِينَا فَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ، وَتَجَاوَزْ عَنَّا وَعَنْهُ»
«رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا»
(سورۃ الحشر: 10)
«اللَّهُمَّ أَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا، وَاهْدِنَا سُبُلَ السَّلَامِ»
اللهم إنا نعوذ بك من شرور ألسنتنا، ونستغفرك من كل قول ساء وكل فعل شان. اللهم سخر ألسنتنا لذكرك وشكرك وحسن عبادتك. اللهم أدم المحبة بيننا، وأذهب عنا البغضاء والغل والحسد. ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار. وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.
TAGS JSON: { "tags": ["غیبت", "چغلی", "زبان", "گناہ", "اخلاق", "سوشل میڈیا", "بہتان", "معذرت", "اصلاح", "توبہ"], "category": "اخلاق", "related_month": null, "related_people": ["حضرت محمد ﷺ", "حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ", "حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ"] } FEATURED IMAGE IDEA: ایک شخص منہ پر ہاتھ رکھے ہوئے، اس کے پیچھے زبان سے آگ کے شعلے نکل رہے ہوں، پس منظر میں قرآن اور حدیث کی کتابیں، اوپر عربی خطاطی میں "أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا" اور نیچے "لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ نَمَّامٌ" لکھا ہو۔