پڑوسی کے حقوق: ایمان کی معراج اور اسلامی بھائی چارے کی بنیاد
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ الْإِيمَانَ قَوْلًا وَعَمَلًا، وَأَمَرَنَا بِالْإِحْسَانِ إِلَى الْجَارِ وَالضَّيْفِ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، شَهَادَةً تَجْمَعُ بَيْنَ حَقِّ الْخَالِقِ وَحَقِّ الْخَلْقِ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، الَّذِي وَصَّى بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَّ الصَّحَابَةُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ. صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ الَّذِينَ تَرْجَمُوا تِلْكَ الْوَصَايَا إِلَى وَاقِعٍ عَمَلِيٍّ فِي حَيَاتِهِمْ. أَمَّا بَعْدُ!
اللہ کے نیک بندو! ایمان والو! ذرا اپنے گھر سے باہر نکلیں، دائیں بائیں دیکھیں! جو گھر تمہارے گھر سے متصل ہیں، جو لوگ تمہارے آس پاس رہتے ہیں، کیا تم جانتے ہو کہ ان کا تم پر کتنا حق ہے؟ کیا تم جانتے ہو کہ ان کی خوشی تمہارے ایمان کی تکمیل کا ذریعہ ہے اور ان کی تکلیف تمہارے ایمان کی نفی؟ آج میں تمہیں جس موضوع پر توجہ دلانے جا رہا ہوں، وہ کوئی معمولی موضوع نہیں! یہ وہ موضوع ہے جس پر نبی کریم ﷺ نے اس قدر زور دیا کہ جبریل علیہ السلام بار بار اس کی تاکید لے کر آئے، یہاں تک کہ صحابہ کرام سمجھنے لگے کہ شاید پڑوسی کو وراثت میں بھی حصہ دار بنا دیا جائے گا۔
یہ موضوع ہے پڑوسی کے حقوق! ہمسائے کی حرمت! اُس شخص کا مقام جو تمہارے گھر کے سب سے قریب رہتا ہے، جس سے تمہارا روزانہ واسطہ پڑتا ہے، جس کی خوشی و غم میں تم شریک ہوتے ہو یا ہونا چاہیے۔
آج کے اس خطبے میں ہم قرآن و سنت کی روشنی میں یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ پڑوسی کون ہے؟ اسلام میں اس کا مقام کیا ہے؟ اس کے کیا حقوق ہیں؟ پڑوسی کو تکلیف دینا کتنا بڑا گناہ ہے؟ اور آج کے اس خود غرضی کے دور میں ہم کس طرح ان تعلیمات کو زندہ کر سکتے ہیں۔ غور سے سنو! شاید آج کے بعد تمہارا اپنے پڑوسیوں کے ساتھ برتاؤ بدل جائے، اور یہ تبدیلی تمہاری نجات کا سبب بن جائے۔
۱. قرآنِ کریم میں پڑوسی کے حقوق کا بنیادی خاکہ
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں اپنی عبادت اور والدین کے حقوق کے بعد پڑوسیوں کے حقوق کو نہایت اہمیت کے ساتھ بیان فرمایا۔ سنیے! رب العالمین کا فرمان ہے:
﴿وَاعْبُدُوا اللَّـهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۖ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا﴾
(سورۃ النساء: 36)
ترجمہ: "اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو، اور رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، رشتہ دار ہمسائے، اجنبی ہمسائے، پہلو کے ساتھی، مسافر اور اپنے غلاموں کے ساتھ (اچھا سلوک کرو)۔ بے شک اللہ اس شخص کو پسند نہیں کرتا جو مغرور اور فخر کرنے والا ہو۔"
غور کرو! اللہ نے اس آیت میں عبادت اور توحید کا حکم دیا، پھر والدین، پھر رشتہ دار، پھر یتیم اور مساکین، اور پھر پڑوسی کا ذکر آیا۔ اور پڑوسی کی بھی دو قسمیں بیان فرمائیں: "الجار ذي القربى" یعنی رشتہ دار پڑوسی، اور "الجار الجنب" یعنی اجنبی پڑوسی۔ یعنی چاہے وہ تمہارا رشتہ دار ہو یا غیر رشتہ دار، مسلمان ہو یا غیر مسلم، اس کے حقوق یکساں طور پر تم پر عائد ہوتے ہیں۔
مفسرین فرماتے ہیں کہ "الصاحب بالجنب" سے کچھ نے مراد بیوی لی ہے، کچھ نے سفر کا ساتھی، لیکن بعض نے اس سے مراد وہ پڑوسی بھی لیا ہے جو تمہارے بالکل قریب رہتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ پڑوسی کا تصور اسلام میں کتنا وسیع اور اہم ہے۔
اس آیت کا اختتام "إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا" پر ہوا، یعنی جو شخص مغرور اور گھمنڈی ہو، اللہ اسے پسند نہیں کرتا۔ تکبر انسان کو پڑوسیوں کے حقوق ادا کرنے سے روکتا ہے، اس لیے اللہ نے اس آیت کے آخر میں عاجزی اختیار کرنے کی طرف اشارہ فرمایا۔
۲. احادیثِ نبویہ میں پڑوسی کی عظمت اور اس پر ایمان کا انحصار
نبی کریم ﷺ نے پڑوسی کے حقوق کو ایمان کے ساتھ جوڑ دیا، اور اسے جنت میں داخلے کا ذریعہ بتایا۔ سنیے!
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ، وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ، وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ» قِيلَ: مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الَّذِي لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ»
(صحيح البخاري: 6016)
ترجمہ: "اللہ کی قسم! وہ مومن نہیں! اللہ کی قسم! وہ مومن نہیں! اللہ کی قسم! وہ مومن نہیں! پوچھا گیا: کون یا رسول اللہ؟ فرمایا: وہ شخص جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے محفوظ نہ ہو۔"
تین بار قسم کھا کر نبی ﷺ نے یہ فرمان جاری کیا! کتنی سخت وعید ہے اس شخص کے لیے جس کے شر سے اس کا پڑوسی محفوظ نہیں! اس کا مطلب ہے کہ کامل ایمان کا دعویٰ وہی کر سکتا ہے جس کا پڑوسی اس کی طرف سے مطمئن ہو، اسے کوئی تکلیف نہ پہنچے، اس کے مال، عزت اور گھر کو اس سے کوئی خطرہ نہ ہو۔
ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے پڑوسی کی عزت کو اپنی عزت کے برابر قرار دیا:
«مَا آمَنَ بِي مَنْ بَاتَ شَبْعَانَ وَجَارُهُ جَائِعٌ إِلَىٰ جَنْبِهِ وَهُوَ يَعْلَمُ بِهِ»
(المعجم الكبير للطبراني: 751 - حسن)
ترجمہ: "وہ شخص مجھ پر ایمان نہیں لایا جو پیٹ بھر کر سوئے اور اس کا پڑوسی اس کے پہلو میں بھوکا ہو، حالانکہ وہ اسے جانتا ہو۔"
کتنی بڑی ذمہ داری ہے! اگر تمہارے پڑوسی کے گھر میں کھانے کو نہ ہو اور تم پیٹ بھر کر کھانا کھاؤ اور اس کی خبر بھی رکھو مگر مدد نہ کرو، تو تمہارا دعویٰ ایمان مشکوک ہے۔ یہ اسلامی بھائی چارے کا وہ بلند معیار ہے جس کی مثال دنیا کے کسی اور نظام میں نہیں ملتی۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:
«مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّىٰ ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ»
(صحيح البخاري: 6015، صحيح مسلم: 2624)
ترجمہ: "جبریل علیہ السلام مسلسل مجھے پڑوسی کے بارے میں وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ وہ اسے وارث بنا دیں گے۔"
جبریل امین کا بار بار آنا اور پڑوسی کے حقوق کی تاکید کرنا بتاتا ہے کہ یہ معاملہ دین میں کس قدر اہمیت رکھتا ہے۔
۳. پڑوسی کے حقوق کا دائرہ: نیکی، ایذا سے بچاؤ، اور خبر گیری
بھائیو! علماء نے پڑوسی کے حقوق کو تین درجوں میں تقسیم کیا ہے:
پہلا درجہ: ایذا رسانی سے بچنا۔ یہ کم از کم حق ہے، اور اس کے بغیر ایمان کامل نہیں۔ اپنی زبان، اپنے ہاتھ، اپنی گاڑی، اپنے مہمانوں، اپنے بچوں، حتیٰ کہ اپنی دیوار سے بھی پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچے۔
دوسرا درجہ: بھلائی کرنا۔ اگر پڑوسی بیمار ہو تو عیادت کرنا، غم میں تسلی دینا، خوشی میں مبارکباد دینا، کھانے میں سے ہدیہ بھیجنا۔ نبی ﷺ نے فرمایا:
«يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ، لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ»
(صحيح البخاري: 2566، صحيح مسلم: 1030)
ترجمہ: "اے مسلمان عورتو! کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کے لیے (ہدیہ بھیجنے میں) بکری کے کھر کو بھی حقیر نہ سمجھے۔"
یعنی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی دے کر پڑوسی کا دل جیتو، اسے حقیر مت سمجھو۔
تیسرا درجہ: ایثار، یعنی اپنی ضرورت کے باوجود پڑوسی کو ترجیح دینا۔ یہ اعلیٰ درجے کا ایمان ہے، جیسا کہ انصار نے مہاجرین کے ساتھ کیا۔
پڑوسی کون ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ چالیس گھر تک کے لوگ پڑوسی ہیں۔ (صحيح البخاري في الأدب المفرد: 109 - حسن) یہ وسعت ہے اسلام کی تعلیمات کی!
۴. ہمارے اسلاف اور پڑوسی کے حقوق کی عملی مثالیں
بھائیو! اسلاف نے پڑوسی کے حقوق کو کس طرح نبھایا، سنو! حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک بکری ذبح کی اور بار بار اپنے خادم سے پوچھتے: "کیا تم نے ہمارے یہودی پڑوسی کو بھیجا؟" کیونکہ انہوں نے نبی ﷺ کو فرماتے سنا تھا کہ جبریل پڑوسی کی اتنی تاکید کرتے رہے کہ مجھے گمان ہوا کہ وہ اسے وارث بنا دیں گے۔
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو نبی ﷺ نے وصیت فرمائی:
«يَا أَبَا ذَرٍّ، إِذَا طَبَخْتَ مَرَقَةً فَأَكْثِرْ مَاءَهَا، وَتَعَاهَدْ جِيرَانَكَ»
(صحيح مسلم: 2625)
ترجمہ: "اے ابوذر! جب تم شوربہ پکاؤ تو اس کا پانی زیادہ کر لیا کرو، اور اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھا کرو۔"
کتنی خوبصورت تعلیم ہے! شوربے میں پانی بڑھا کر پڑوسیوں کو بھیجو، یہ نہ سوچو کہ وہ امیر ہیں یا غریب، مسلمان ہیں یا غیر مسلم۔ حق ادا کرو!
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا ایک پڑوسی شراب پیتا تھا اور رات کو شور مچاتا تھا۔ امام صاحب نے کبھی اسے برا بھلا نہیں کہا۔ ایک رات آواز نہ آئی، پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ شراب کے جرم میں پکڑا گیا ہے۔ امام صاحب فوراً امیر کے پاس گئے اور اس کی رہائی کی سفارش کی، اور اس کے بعد وہ شخص تائب ہو گیا۔ یہ ہے پڑوسی کے حقوق کی ادائیگی کا عملی نمونہ!
۵. موجودہ دور میں پڑوسی کے حقوق کی ادائیگی کے چیلنجز
اللہ کے بندو! آج کا دور ترقی کا دور ہے، لیکن ہمارے دلوں کے درمیان فاصلے بڑھ گئے ہیں۔ فلک بوس عمارتوں میں رہنے والے ایک دوسرے کو نہیں جانتے۔ کئی کئی سال گزر جاتے ہیں، پڑوسی کا نام تک معلوم نہیں ہوتا۔ کسی کی موت ہو جائے تو پتہ چلتا ہے۔ کسی کے گھر میں بیماری ہو تو کوئی پوچھنے والا نہیں۔
اس خود غرضی اور انفرادیت نے معاشرے کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ نبی ﷺ کی تعلیمات کو بھلا کر ہم نے پڑوسی کو اجنبی بنا دیا ہے۔ حالانکہ سچا مسلمان وہ ہے جس سے اس کا پڑوسی محفوظ رہے، بلکہ فائدہ اٹھائے۔
دوسری طرف کچھ لوگ اپنے پڑوسیوں کو تنگ کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ اونچی آواز میں میوزک بجانا، گاڑیوں کی پارکنگ سے تکلیف دینا، کوڑا کرکٹ دوسرے کے دروازے پر ڈالنا، دیواروں پر قبضہ کرنا — یہ سب پڑوسی کی ایذاء رسانی کی صورتیں ہیں، جن پر سخت وعید ہے۔
یاد رکھو! قیامت کے دن مظلوم پڑوسی ظالم پڑوسی کا گریبان پکڑے گا، اور اللہ کی عدالت میں اس سے بدلہ لے گا۔
۶. اصلاحی نکات: پڑوسی کے حقوق ادا کرنے کا عملی پروگرام
- پڑوسی کو جانیں: سب سے پہلے اپنے دائیں، بائیں، سامنے اور پیچھے والے پڑوسیوں کا نام، ان کا حال احوال جانیں۔
- سلام میں پہل: ملاقات پر پہلے سلام کریں، مسکرا کر ملیں، خیریت دریافت کریں۔
- ہدیہ اور کھانا: کبھی کبھار کھانے میں سے، پھلوں میں سے، یا کوئی بھی چیز تحفے میں بھیجیں، چاہے معمولی ہی کیوں نہ ہو۔
- بیماری میں عیادت: اگر پڑوسی بیمار ہوں تو ان کی عیادت کریں، دوا دارو میں مدد کریں۔
- خوشی اور غم میں شرکت: شادی بیاہ، عید، یا کسی بھی خوشی میں شریک ہوں، غم میں تسلی دیں، جنازے میں ضرور جائیں۔
- تکلیف سے بچیں: گھر کی مرمت، گاڑی کی پارکنگ، بچوں کے شور، کچرا پھینکنے میں پڑوسی کا خیال رکھیں۔
- قرض اور ضرورت: اگر پڑوسی ضرورت مند ہو اور مدد مانگے تو حتی الامکان اس کی حاجت پوری کریں، اگر نہ مانگے مگر ضرورت ظاہر ہو تو خود پیش قدمی کریں۔
- صلہ رحمی: اگر پڑوسی رشتہ دار بھی ہو تو اس کے دوہرے حقوق ہیں، اس سے صلہ رحمی کا خاص اہتمام کریں۔
- غیر مسلم پڑوسی: غیر مسلم پڑوسی کے ساتھ بھی عدل، احسان، اور ہمدردی کا معاملہ کریں، اسے اسلام کی عملی تصویر دکھائیں۔
۷. اختتامی نصیحت: پڑوسی جنت کا راستہ ہے
اللہ کے بندو! سنو! پڑوسی کے حقوق کی ادائیگی جنت میں لے جانے والا عمل ہے۔ اور پڑوسی کو تکلیف دینا جہنم میں لے جانے کا سبب ہے۔ ایک شخص نے نبی ﷺ سے پوچھا: "یا رسول اللہ! فلاں عورت دن کو روزے رکھتی ہے، رات کو قیام کرتی ہے، لیکن اپنے پڑوسیوں کو زبان سے ایذاء پہنچاتی ہے۔" آپ ﷺ نے فرمایا:
«لَا خَيْرَ فِيهَا، هِيَ فِي النَّارِ»
(صحيح البخاري في الأدب المفرد: 119 - صحيح)
ترجمہ: "اس میں کوئی خیر نہیں، وہ جہنم میں ہے۔"
عبادت گزار ہونے کے باوجود پڑوسی کو تکلیف دینے کی وجہ سے وہ جہنمی قرار پائی۔ اس لیے محض نماز روزہ کافی نہیں، جب تک پڑوسی محفوظ نہ ہو، ایمان ادھورا ہے۔
تو آج ہی سے عہد کرو کہ اپنے پڑوسیوں کے حقوق پہچانو گے، ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرو گے، اور اپنے گھر کو امن و محبت کا گہوارہ بناؤ گے۔
۸. دعا
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ جَارِ السُّوءِ فِي دَارِ الْمُقَامَةِ، فَإِنَّ جَارَ الْبَادِيَةِ يَتَحَوَّلُ»
(سنن النسائي: 5496 - حسن)
ترجمہ: "اے اللہ! میں مستقل رہائش میں برے پڑوسی سے تیری پناہ چاہتا ہوں، کیونکہ صحرا کا پڑوسی تو بدل جاتا ہے۔"
«اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنَ الْمُحْسِنِينَ إِلَى جِيرَانِنَا، وَارْزُقْنَا حُبَّهُمْ وَحُبَّ الْخَيْرِ لَهُمْ»
«اللَّهُمَّ أَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا، وَاهْدِنَا سُبُلَ السَّلَامِ»
«رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ»
اللهم طهر قلوبنا من الغل والحسد والبغضاء، واملأها بحب الجار والإحسان إليه. اللهم من أساء منا إلى جاره فاغفر له، ومن أحسن فتقبل منه وزد في إحسانه. اللهم اجعل بيوتنا بيوت سلام ومحبة، وطهر مجتمعاتنا من القطيعة والتدابر. وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.
TAGS JSON: { "tags": ["پڑوسی", "ہمسایہ", "حقوق الجار", "ایمان", "معاشرت", "اخلاق", "بھائی چارہ", "احسان", "تکلیف", "اسلامی معاشرہ"], "category": "معاشرت", "related_month": null, "related_people": ["حضرت محمد ﷺ", "حضرت جبریل علیہ السلام", "حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا", "حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ"] } FEATURED IMAGE IDEA: ایک گلی میں صاف ستھرے گھر، دو پڑوسی مسکراتے ہوئے ایک دوسرے کو ہدیہ دیتے ہوئے، پس منظر میں مسجد، اوپر عربی خطاطی میں "وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ" اور نیچے "لَا يُؤْمِنُ مَنْ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ" لکھا ہو، فضا میں سکون اور محبت کی علامت روشنی پھیلی ہوئی ہو۔