سیرتِ فاروقِ اعظم حضرت عمر رضی اللہ عنہ: عدل، حق گوئی اور انقلاب کی لازوال داستان
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَعَزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَأَيَّدَ بِهِ الدِّينَ وَأَظْهَرَ بِهِ الْحَقَّ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، جَعَلَ الْعَدْلَ قِوَامَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، الَّذِي قَالَ عَنْ عُمَرَ: "إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَىٰ لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ". صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ الْكِرَامِ، وَخَاصَّةً عَلَى عُمَرَ الْفَارُوقِ الَّذِي فَرَّقَ اللَّهُ بِهِ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ. أَمَّا بَعْدُ!
اللہ کے نیک بندو! ایمان والو! آج میں تمہیں جس عظیم شخصیت کا تذکرہ سنانے جا رہا ہوں، اس سے پہلے ایک بات سمجھ لو! یہ محض ایک تاریخ کا بیان نہیں، محض ایک واقعہ نہیں، محض ایک قصہ نہیں! یہ اس شخصیت کا تذکرہ ہے جس کی زندگی ہمارے لیے چراغِ راہ ہے، جس کا عدل دنیا میں ضرب المثل ہے، جس کی حق گوئی نے فرعونوں کے محلوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا، جس کی تلوار نے باطل کی گردنیں کاٹیں، اور جس کی زبان نے حق کو اتنی بلندی بخشی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "اللہ نے حق کو عمر کی زبان اور دل پر جاری فرما دیا"۔
یہ کون ہے؟ یہ ہے وہ شخص جس کے اسلام لانے سے کعبہ میں پہلی بار اعلانیہ نماز ہوئی۔ یہ ہے وہ شخص جس کی خلافت میں روم و فارس کی سلطنتیں خاک میں مل گئیں۔ یہ ہے وہ شخص جس نے خلیفہ ہوتے ہوئے بھی پیوند لگے کپڑے پہنے اور بھوکے پیٹ رات گزاری۔ یہ ہے فاروقِ اعظم، امیر المؤمنین، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ!
بھائیو! آج کے اس خطبے میں ہم اس عظیم ہستی کی زندگی کے تین پہلوؤں پر روشنی ڈالیں گے: قبولِ اسلام کا وہ لمحہ جس نے تاریخ بدل دی، خلافت میں عدل و انصاف کی وہ مثالیں جو قیامت تک کے حکمرانوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں، اور ان کا وہ زہد و تقویٰ اور اللہ کا خوف جس نے انسانیت کو شرمندہ کر دیا۔ سنو! اور اپنے دلوں کو فاروقی غیرت اور ایمانی حمیت سے بھر لو!
۱. حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قبولِ اسلام: حق و باطل کے درمیان فرق کا لمحہ
اسلام سے پہلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ قریش کے سخت ترین افراد میں شمار ہوتے تھے۔ کعبہ کی چھ دہلیز والی تلوار کے مالک، پہلوان، خطیب، اور اسلام کے سخت مخالف۔ لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ دعا فرمائی تھی:
«اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَحَبِّ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ، عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَوْ عَمْرِو بْنِ هِشَامٍ»
(سنن الترمذي: 3681 - حسن صحيح)
ترجمہ: "اے اللہ! اسلام کو ان دونوں میں سے اپنے نزدیک محبوب تر شخص کے ذریعے عزت بخش: عمر بن خطاب یا عمرو بن ہشام (ابوجہل)۔"
اللہ نے عمر بن خطاب کو چن لیا! اور کیا خوب چنا!
قبولِ اسلام کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کو قتل کرنے کے ارادے سے نکلے۔ راستے میں نعیم بن عبداللہ ملے، پوچھا: کہاں جا رہے ہو؟ بولے: محمد کو قتل کرنے! انہوں نے کہا: پہلے اپنے گھر کی خبر لو، تیری بہن اور بہنوئی مسلمان ہو گئے ہیں۔
غضبناک ہو کر وہ بہن کے گھر پہنچے۔ دروازے پر سورہ طہٰ کی تلاوت کی آواز آ رہی تھی۔ اندر گھسے، بہنوئی کو مارا، بہن کو تھپڑ مارا یہاں تک کہ ان کے چہرے سے خون بہنے لگا۔ بہن اور بہنوئی نے کہا: "ہاں عمر! ہم مسلمان ہو گئے ہیں، تجھے جو کرنا ہے کر لے!"
خون میں تر بہن کو دیکھ کر حضرت عمر کا دل پسیج گیا۔ کہنے لگے: "یہ صحیفہ مجھے دکھاؤ جو تم پڑھ رہے تھے۔" بہن نے کہا: "تم مشرک ہو، اسے نہیں چھو سکتے۔" حضرت عمر نے غسل کیا، پھر وہ صحیفہ لیا اور پڑھنا شروع کیا:
﴿طه ۞ مَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَىٰ ۞ إِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَن يَخْشَىٰ﴾
(سورۃ طه: 1-3)
پڑھتے ہی پڑھتے حضرت عمر کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہو گئے: "ما أحسن هذا الكلام وأكرمه" — کتنا خوبصورت اور کتنا بزرگ کلام ہے یہ!
یہ سن کر بہن اور بہنوئی نے کہا: "عمر! ہمیں امید ہے کہ اللہ تجھے ہدایت دے گا، کیونکہ نبی ﷺ کی دعا ہے: اے اللہ! اسلام کو عمر بن خطاب سے عزت بخش۔"
یہ سن کر حضرت عمر سیدھے دارِ ارقم پہنچے، جہاں نبی ﷺ موجود تھے۔ صحابہ کرام گھبرا گئے، لیکن حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے کہا: "آنے دو! اگر نیکی کے لیے آئے ہیں تو ٹھیک، ورنہ ہم ان کی تلوار کا جواب اپنی تلوار سے دیں گے۔"
نبی ﷺ نے حضرت عمر کو پکڑ کر ہلایا اور فرمایا: "عمر! کب تک؟ کب تک تم حق سے منہ پھیرو گے؟" حضرت عمر نے کہا: "أشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمدًا رسول الله"۔
یہ سن کر دارِ ارقم میں موجود صحابہ نے اتنی بلند آواز سے "اللہ اکبر" کا نعرہ لگایا کہ کعبہ کی گلیوں میں آواز گونج گئی۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
«مَا زِلْنَا أَعِزَّةً مُنْذُ أَسْلَمَ عُمَرُ»
(صحيح البخاري: 3863)
ترجمہ: "جب سے عمر اسلام لائے، ہم ہمیشہ عزت والے رہے۔"
اسلام لانے کے بعد حضرت عمر نے کہا: "یا رسول اللہ! کیا ہم حق پر نہیں؟" فرمایا: "کیوں نہیں!" بولے: "پھر کیوں چھپ چھپ کر عبادت کریں؟" اور پھر پہلی بار مسلمانوں نے دو صفیں بنا کر — ایک کی قیادت حضرت عمر، دوسری کی حضرت حمزہ رضی اللہ عنہما کر رہے تھے — کعبہ میں کھلے عام نماز پڑھی۔ اس دن سے ان کا لقب "فاروق" پڑ گیا، یعنی حق و باطل میں فرق کرنے والا!
۲. خلافتِ فاروقی: عدل و انصاف کی وہ مثالیں جو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی گئیں
بھائیو! جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے صحابہ سے مشورے کے بعد حضرت عمر کو خلیفہ نامزد فرمایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دس سال حکومت کی۔ یہ دس سال تاریخِ انسانی کے وہ سنہرے دور ہیں جن میں عدل اپنے عروج پر تھا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا عدل کیا تھا؟ سنو! ایک مرتبہ ایک قبطی عیسائی کا بیٹا مصر کے گورنر عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بیٹے کے ہاتھوں زخمی ہو گیا۔ گورنر کے بیٹے نے گھوڑ دوڑ میں قبطی لڑکے کو کوڑا مارا اور کہا: "میں گورنر کا بیٹا ہوں، مجھے کون پکڑے گا؟"
یہ مظلوم اپنے باپ کے ساتھ مدینہ پہنچا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے مقدمہ پیش ہوا۔ آپ نے کیا کیا؟ عمرو بن العاص اور ان کے بیٹے دونوں کو مدینہ بلوایا۔ جب وہ آئے تو قبطی لڑکے کو کوڑا دیا اور فرمایا: "اسے بھی مارو جس طرح اس نے تمہیں مارا تھا!" پھر عمرو بن العاص سے فرمایا: "تم نے لوگوں کو کب سے غلام بنا لیا ہے، حالانکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا؟"
یہ ہے فاروقی عدل! گورنر کا بیٹا ہو یا عام شہری، قانون سب کے لیے برابر!
ایک اور واقعہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ رات کو مدینہ کی گلیوں میں گشت لگاتے تھے۔ ایک رات ایک خیمے سے بچے کے رونے کی آواز سنی۔ قریب گئے تو دیکھا ایک عورت آگ پر دیگچی چڑھائے ہے اور بچہ رو رہا ہے۔ پوچھا: "کیا مسئلہ ہے؟" اس نے کہا: "بچہ بھوکا ہے، میں اسے بہلانے کے لیے پانی گرم کر رہی ہوں، کچھ کھانے کو نہیں ہے۔"
حضرت عمر رضی اللہ عنہ واپس آئے، بیت المال سے آٹا، گھی اور کھجوریں لے کر خود اپنی پیٹھ پر رکھ کر لے گئے۔ اس عورت نے کہا: "آپ یہ مجھے دے دیجیے، میں خود اٹھا لوں گی۔" فرمایا: "نہیں! قیامت کے دن تمہارا بوجھ میں اٹھاؤں گا تب کیا جواب دوں گا؟" پھر وہیں بیٹھ گئے، کھانا پکایا، بچے کو کھلایا، جب وہ خوش ہو کر ہنسنے لگا تو فرمایا: "اے عمر! تو کیا جانے تھا کہ یہ بچہ بھوکا ہے؟"
کتنا بڑا دل تھا! کتنا بڑا خوفِ الٰہی تھا!
اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عہد نامہ لکھوا کر دیا کہ "کوئی گورنر گھوڑے پر نہیں بیٹھے گا، نہ باریک کپڑے پہنے گا، نہ دربان رکھے گا، اور ہر سال حج کے موقع پر عوام سے حساب دیا جائے گا۔"
۳. حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زہد اور خوفِ الٰہی
بھائیو! دس سال کی خلافت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے روم اور فارس کی عظیم سلطنتوں کو شکست دی، لیکن ان کی زندگی کیا تھی؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کے کرتے میں چودہ پیوند گنے، جن میں سے کچھ چمڑے کے تھے۔
وہ فرمایا کرتے تھے: "لوگ جو کھاتے ہیں، پہنتے ہیں، اگر میں وہ نہ کھاؤں، نہ پہنوں، تو حرج نہیں۔ لیکن اگر کسی مسلمان کے گھر میں چولھا نہ جلے، تو عمر کے لیے کوئی عذر نہیں!"
ایک مرتبہ خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:
«أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي وَاللَّهِ مَا أُرْسِلْتُ بِكُمْ إِلَىٰ نَفْسِي، وَلَكِنْ أُرْسِلْتُ بِكُمْ إِلَىٰ رَبِّي»
ترجمہ: "اے لوگو! اللہ کی قسم! میں تمہارے ذریعے اپنے نفس کی خواہش نہیں چلا رہا، بلکہ تمہارے ساتھ اپنے رب کی طرف جانا چاہتا ہوں۔"
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خوفِ الٰہی کا یہ عالم تھا کہ وہ راتوں کو اٹھ کر نماز میں اتنا روتے کہ ان کی آہ و زاری دور تک سنی جاتی۔ کبھی راکھ پر ہاتھ رکھ کر فرماتے: "اے عمر! تجھے کیا خبر کہ تیرا نام کس فہرست میں ہے؟"
۴. فتوحاتِ فاروقی: روم و فارس کی سرکشیاں خاک میں مل گئیں
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں اسلامی فتوحات کا دائرہ بہت وسیع ہوا۔ شام، فلسطین، مصر، عراق، فارس — سب فتح ہوئے۔ یروشلم کی فتح کا واقعہ تو تاریخ میں بے مثال ہے۔ جب یروشلم کے عیسائیوں نے کہا کہ ہم شہر صرف خلیفہ کے ہاتھوں دینا چاہتے ہیں، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک غلام کے ساتھ باری باری اونٹنی پر سوار ہوتے ہوئے یروشلم پہنچے۔ جب وہ پہنچے تو غلام اونٹنی پر تھا اور حضرت عمر اس کی لگام پکڑے چل رہے تھے۔ عیسائی پادریوں نے جب یہ منظر دیکھا تو حیران رہ گئے کہ یہ ہے وہ بادشاہ جس کا رعب دنیا پر چھایا ہوا ہے!
یروشلم میں آپ نے عیسائیوں کو ان کی جان، مال، عبادت گاہوں کا تحفظ دیا، اور وہ مشہور "میثاقِ عمر" لکھا جو اقلیتوں کے حقوق کا پہلا عالمی چارٹر تھا۔
۵. حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت: المناک اختتام، مگر عظیم انجام
بھائیو! 26 ذی الحجہ 23 ہجری کو فجر کی نماز میں ایک مجوسی غلام ابو لؤلؤہ فیروز نے دھوکے سے حملہ کر کے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔ شہادت سے پہلے آپ نے فرمایا: "الحمدللہ کہ میں کسی ایسے شخص کے ہاتھوں شہید نہیں ہوا جس نے اللہ کو سجدہ کیا ہو۔"
زخمی حالت میں بھی ان کی فکر امت کی تھی، چھ افراد کی ایک کمیٹی بنائی تاکہ اگلے خلیفہ کا انتخاب ہو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اجازت طلب کی کہ نبی ﷺ کے پہلو میں دفن ہوں، اور وہ رخصت بھی مل گئی۔
شہادت کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: "میں اللہ سے یہی چاہتا تھا کہ میرا نامہ اعمال انہی جیسے اعمال سے بھرا ہو۔"
۶. اصلاحی نکات: ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سیرت سے کیا سیکھیں؟
- حق گوئی: کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرو، حق بات کہو، چاہے وہ کتنی ہی کڑوی کیوں نہ ہو۔
- عدل: اپنے دائرہ اختیار میں ہر ایک کے ساتھ انصاف کرو، خواہ وہ قریبی ہو یا دور کا، مسلمان ہو یا غیر مسلم۔
- محاسبہ نفس: حضرت عمر روزانہ اپنا محاسبہ کرتے تھے، ہمیں بھی ہر رات اپنے دن بھر کے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے۔
- امت کی فکر: حاکم ہو یا عام آدمی، امت مسلمہ کے دکھ درد کو اپنا دکھ سمجھو، بھوکوں کو کھلاؤ، ننگوں کو پہناؤ۔
- زہد اور سادگی: عہدہ اور مال تمہیں مغرور نہ کر دے، حضرت عمر جیسے خلیفہ کی زندگی کو یاد کر کے اپنی اصلاح کرو۔
- غیر مسلموں کے حقوق: ان کے ساتھ بھی عدل و انصاف اور رحم دلی کا معاملہ کرو، یہی اسلام کی تعلیم ہے۔
- عبادت میں گریہ و زاری: نمازوں، تہجد اور دعاؤں میں اللہ کے سامنے رونے کی عادت ڈالو، یہ دل کو نرم رکھتی ہے۔
۷. اختتامی نصیحت: فاروقیت زندہ رہنی چاہیے!
اللہ کے بندو! سنو! حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ ایک عام انسان بھی اگر اللہ کی توفیق شامل حال ہو تو تاریخ بدل سکتا ہے۔ ظلم کی تاریکیوں میں حق کی شمع جلا سکتا ہے۔ آج امت مسلمہ کو پھر سے فاروقی غیرت، فاروقی عدل، اور فاروقی حق گوئی کی ضرورت ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«لَقَدْ كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ رِجَالٌ يُكَلَّمُونَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونُوا أَنْبِيَاءَ، فَإِنْ يَكُنْ فِي أُمَّتِي مِنْهُمْ أَحَدٌ فَعُمَرُ»
(صحيح البخاري: 3689، صحيح مسلم: 2398)
ترجمہ: "تم سے پہلی امتوں میں کچھ ایسے لوگ تھے جن سے (حق کی) باتیں کہلوائی جاتی تھیں حالانکہ وہ نبی نہیں تھے، اگر میری امت میں کوئی ایسا ہے تو وہ عمر ہے۔"
تو اے امتِ محمدیہ! فاروق کے نقش قدم پر چل کر اپنی زندگیوں کو منور کر لو۔
۸. دعا
«اللَّهُمَّ ارْضَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَعَنْ سَائِرِ الصَّحَابَةِ أَجْمَعِينَ»
«اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا حُبَّهُمْ وَاتِّبَاعَ آثَارِهِمْ بِإِحْسَانٍ»
«اللَّهُمَّ أَقِمْ فِينَا الْعَدْلَ كَمَا أَقَمْتَهُ فِي زَمَنِ عُمَرَ، وَانْشُرْ فِينَا الْحَقَّ وَالْإِنْصَافَ»
«رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا»
(سورۃ الحشر: 10)
«اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ»
اللهم ثبتنا على دينك، وارزقنا الصدق في القول والعمل، واجعلنا ممن يستمعون القول فيتبعون أحسنه. اللهم أصلح أحوال المسلمين، واجمع كلمتهم على الحق، وارزقهم قادة عادلين. وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.
TAGS JSON: { "tags": ["حضرت عمر", "فاروق اعظم", "سیرت صحابہ", "عدل", "حق گوئی", "خلافت", "فتوحات", "یروشلم", "زہد", "شہادت"], "category": "سیرت صحابہ", "related_month": null, "related_people": ["حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ", "حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ", "حضرت محمد ﷺ", "حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ"] } FEATURED IMAGE IDEA: مسجد نبوی کا ایک منظر، جہاں ایک جانب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا روضہ ہے، سامنے ترازو میں عدل کا نشان، پس منظر میں یروشلم کا قبہ صخرہ اور مدینہ کی کھجوریں، اوپر عربی خطاطی میں "إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَىٰ لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ" اور نیچے "وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا" لکھا ہو۔