ربیع الاول: میلاد النبی ﷺ — شمعِ ہدایت کا ظہور اور عالمِ انسانیت پر رحمت
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ، وَجَعَلَ مِيلَادَهُ فَجْرًا لِلْبَشَرِيَّةِ وَنُورًا لِلْعَالَمِينَ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، تَنَزَّهَ عَنِ الشَّبِيهِ وَالْمَثِيلِ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، الَّذِي وُلِدَ فِي رَبِيعِ الْأَوَّلِ، فَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا، وَبُعِثَ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ. صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ الطَّيِّبِينَ الطَّاهِرِينَ، وَأَصْحَابِهِ الْأَبْرَارِ الَّذِينَ حَمَلُوا مِشْعَلَ التَّوْحِيدِ إِلَى الْآفَاقِ، وَسَلَّمَ تَسْلِيمًا كَثِيرًا دَائِمًا إِلَىٰ يَوْمِ الدِّينِ. أَمَّا بَعْدُ!
اللہ کے پیارے بندو! ایمان والو! دل کو خوشی سے معمور کرنے والی خبر! وہ مہینہ آ گیا جس میں آسمانِ ہدایت پر رحمت کا سورج طلوع ہوا، جس میں زمین کو وہ نور ملا جس سے ظلمتِ کفر چھٹ گئی، جس میں حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کی گود میں وہ شہزادہ آیا جس کے لیے سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی تھی، جس کی بشارت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے دی تھی، اور جس کا ذکر تورات و انجیل میں موجود تھا۔ وہ مہینہ ہے ربیع الاول، اور وہ ہستی ہیں ہمارے آقا، ہمارے محبوب، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ!
بھائیو! آج کا خطبہ اسی عظیم ہستی کی ولادت باسعادت کے بارے میں ہے۔ ہم جانیں گے کہ قرآن نے آپ ﷺ کو دنیا والوں کے لیے کیا قرار دیا، آپ کی آمد سے پہلے دنیا کیا حالت تھی، آپ کی ولادت کے وقت کیا معجزات ظاہر ہوئے، ہم اس مہینے میں خوشی کیسے منائیں، اور ہمارے لیے اس مہینے کا حقیقی پیغام کیا ہے۔ سنو! شاید آج کے خطبے سے تمہارے دلوں میں اپنے نبی ﷺ کی محبت کا وہ جذبہ بیدار ہو جائے جو ایمان کی معراج ہے!
۱. قرآن کریم میں نبی ﷺ کی شان: رحمۃ للعالمین اور سراج منیر
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں اپنے حبیب ﷺ کی شان کو بہت بلند فرمایا۔ آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت قرار دیا، آپ کو روشن چراغ کہا، اور آپ کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا۔ سنیے! رب العالمین فرماتا ہے:
﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ﴾
(سورۃ الأنبياء: 107)
ترجمہ: "اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے۔"
غور کرو! صرف انسانوں کے لیے نہیں، صرف مسلمانوں کے لیے نہیں، بلکہ تمام جہانوں — انسان، جنات، چرند پرند، سب کے لیے رحمت! آپ کی تعلیمات میں عدل، رحم، انصاف، اور شفقت ہے۔ آپ ﷺ نے جانوروں پر رحم کیا، پودوں کی حفاظت کا حکم دیا، دشمنوں کو معاف کیا، اور انسانیت کو ایک لڑی میں پرو دیا۔
دوسری جگہ اللہ نے آپ کو روشن چراغ فرمایا:
﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا ۞ وَدَاعِيًا إِلَى اللَّـهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُّنِيرًا﴾
(سورۃ الأحزاب: 45-46)
ترجمہ: "اے نبی! بے شک ہم نے آپ کو گواہ، خوشخبری دینے والا، ڈرانے والا، اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلانے والا، اور روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے۔"
روشن چراغ! جس سے تاریکیاں دور ہو گئیں۔ عرب کی سرزمین پر جہالت، شرک، زنا، قتل، ظلم کی گھٹا ٹوپ اندھیری چھائی ہوئی تھی۔ لیکن جب ربیع الاول کا وہ مبارک دن آیا، تو اس چراغ نے ایسا نور پھیلایا کہ آج اس کی روشنی چودہ سو سال بعد بھی ہر دل کو منور کیے ہوئے ہے۔
۲. احادیث میں نبی ﷺ کی ولادت اور اس کی فضیلت کا بیان
نبی کریم ﷺ نے خود اپنی ولادت اور اپنی فضیلت کو بیان فرمایا۔ سنیے! کیا فرماتے ہیں ہمارے آقا:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَوَّلُ مَنْ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ»
(صحيح مسلم: 2278)
ترجمہ: "میں قیامت کے دن اولادِ آدم کا سردار ہوں گا، اور سب سے پہلے میری قبر کھلے گی، اور میں سب سے پہلا شفاعت کرنے والا ہوں اور سب سے پہلا جس کی شفاعت قبول ہوگی۔"
آپ ﷺ نے اپنی ولادت کے بارے میں فرمایا:
«إِنِّي عِنْدَ اللَّهِ مَكْتُوبٌ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ، وَإِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِي طِينَتِهِ»
(مسند أحمد: 4/128 - صحيح)
ترجمہ: "میں اللہ کے ہاں خاتم النبیین لکھا ہوا تھا جب کہ آدم ابھی اپنی مٹی میں گندھے ہوئے تھے۔"
یعنی آپ کی نبوت اور آپ کی ولادت کا فیصلہ تخلیقِ آدم سے پہلے ہو چکا تھا۔ آپ کی والدہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا کہ ولادت کے وقت ایسا نور نکلا جس نے شام کے محلات تک روشن کر دیا۔ (سیرت ابن ہشام)۔ حضرت عثمان بن ابو العاص کی والدہ نے فرمایا کہ ولادت کے وقت گھر میں ایسی خوشبو پھیلی جو کبھی نہیں سونگھی تھی۔
یہ مہینہ وہ ہے جس میں پیر کے دن آپ کی ولادت ہوئی، اور آپ ﷺ پیر کے دن روزہ رکھا کرتے تھے، فرماتے:
«ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ»
(صحيح مسلم: 1162)
ترجمہ: "یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی۔"
آپ ﷺ نے اپنی ولادت کے دن روزہ رکھ کر شکرانہ ادا فرمایا، یہی سنت ہے۔
۳. نبی ﷺ کی ولادت: عالمِ انسانیت کے لیے رحمت کا ظہور
بھائیو! جب نبی ﷺ کی ولادت ہوئی، اس وقت دنیا کی حالت کیا تھی؟ روم اور فارس کی سلطنتیں ظلم و فساد میں ڈوبی ہوئی تھیں۔ عرب میں شرک، زنا، شراب، قتل، لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا عام تھا۔ انسان انسان کا خون پیتا تھا، کمزور کا کوئی پرسانِ حال نہ تھا۔ تاریخ اس دور کو "ایامِ جاہلیت" کہتی ہے۔
لیکن جب آپ ﷺ کی ولادت ہوئی تو قدرت نے گویا اعلان کر دیا کہ ظلمت کا خاتمہ قریب ہے۔ اصحابِ سیر لکھتے ہیں کہ اس رات کسریٰ کے محل کے چودہ کنگرے گر گئے، فارس کا ہزار سالہ آتش کدہ بجھ گیا، اور بحیرہ ساوہ خشک ہو گیا۔ یہ سب اس بات کی علامت تھی کہ باطل کا نظام اب ٹوٹنے والا ہے۔
نبی ﷺ نے اپنی زندگی میں وہ انقلاب برپا کیا کہ انہی جاہل عربوں کو دنیا کا بہترین معاشرہ بنا دیا۔ انہی خونخوار لوگوں کے دل میں ایسی محبت اور بھائی چارہ ڈالا کہ انصار نے مہاجرین کو اپنا مال و گھر پیش کیا۔ یہ تھا نورِ محمدی کا کمال!
۴. ربیع الاول میں خوشی منانے کا شرعی طریقہ
اللہ کے بندو! نبی ﷺ کی ولادت پر خوشی منانا ایمان کا حصہ ہے، لیکن اس خوشی کا طریقہ وہی ہونا چاہیے جو قرآن و سنت سے ثابت ہو۔ نبی ﷺ نے اپنی ولادت کے دن روزہ رکھا، اپنی نبوت کا اظہار کیا، اور اللہ کا شکر ادا کیا۔
ہمارے لیے اس مہینے میں خوشی منانے کا بہترین طریقہ یہ ہے:
- سیرت النبی ﷺ کا مطالعہ: آپ کی زندگی کے واقعات پڑھیں، ان پر غور کریں، اور ان سے اسباق لیں۔
- درود شریف کی کثرت: یہ مہینہ درود و سلام کا مہینہ ہے، زیادہ سے زیادہ درود پڑھیں، مجالس میلاد میں شریک ہو کر درود و سلام پڑھیں۔
- صدقہ و خیرات: غریبوں، یتیموں، مسکینوں کی مدد کریں، یہ نبی ﷺ کی سنت ہے اور آپ کی خوشی کا بہترین اظہار۔
- روزہ رکھنا: پیر کے دن روزہ رکھنا سنت ہے، اس مہینے میں خاص طور پر اہتمام کریں۔
- عبادات کا اہتمام: نوافل، تہجد، تلاوت قرآن، ذکر و اذکار کا خاص اہتمام کریں۔
لیکن افسوس کہ آج کل کچھ لوگ اس مہینے میں ایسی رسومات اپناتے ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں: گانے باجے، مخلوط محفلیں، فضول خرچی، اسراف، اور شرکیہ کام۔ یہ سب نبی ﷺ کی تعلیمات کے خلاف ہیں۔ نبی ﷺ کی محبت کا تقاضا ہے کہ ہم ان کی سنت پر عمل کریں، نہ کہ بدعات ایجاد کریں۔
۵. موجودہ دور میں ربیع الاول کا پیغام
بھائیو! آج ہم امتِ محمدیہ اس وقت بحرانوں میں گھری ہوئی ہے۔ ظلم، قتل، غربت، جہالت، اور الحاد پھیل رہا ہے۔ نبی ﷺ کی توہین کے واقعات ہوتے ہیں، اور ہمارے دل کانپ جاتے ہیں۔ لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ نبی ﷺ نے توہین کا بدلہ کس طرح لیا تھا؟ طائف میں جب پتھر برسائے گئے تو آپ نے ان کے لیے دعا فرمائی۔ فتحِ مکہ کے موقع پر آپ نے کسی سے انتقام نہیں لیا بلکہ عام معافی کا اعلان فرمایا۔
ربیع الاول کا مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ نبی ﷺ کی تعلیمات کو عام کرو، ان کے اخلاق کو اپناؤ، اور ان کی سیرت کو دنیا کے سامنے پیش کرو۔ یہی ان توہینوں کا حقیقی جواب ہے۔
۶. اصلاحی نکات: ربیع الاول کو سنت کے مطابق کیسے گزاریں؟
- روزانہ سیرت کا مطالعہ: ہر روز سیرت کی کتاب سے کم از کم ایک واقعہ پڑھیں اور اس پر عمل کریں۔
- درود پاک کا ورد: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ» کثرت سے پڑھیں۔
- مجالس میلاد: ایسی محفلوں میں شرکت کریں جہاں سنت کے مطابق نبی ﷺ کی سیرت بیان کی جائے، اور درود و سلام پڑھا جائے۔
- نبی ﷺ کی سنتوں کو زندہ کریں: مسواک، داڑھی، کھانے کے آداب، سونے کے آداب، سلام عام کرنا — ان چیزوں کا خاص اہتمام کریں۔
- اولاد کو سیرت سکھائیں: بچوں کو نبی ﷺ کی زندگی کے واقعات سنائیں، انہیں آپ کا ادب سکھائیں۔
- غریبوں کی مدد: اس مہینے میں زیادہ سے زیادہ صدقہ و خیرات کریں، کھانا کھلائیں، کپڑے دیں۔
- بدعات سے بچیں: گانے باجے، فضول خرچی، مخلوط محفلیں، اور شرکیہ امور سے پرہیز کریں۔
- نبی ﷺ کی تعلیمات کو عام کریں: دوستوں، رشتہ داروں، پڑوسیوں میں اسلامی کتابیں تقسیم کریں، آن لائن مثبت پیغام پھیلائیں۔
- شکرانے کے روزے: پیر کے دن روزہ رکھ کر اللہ کا شکر ادا کریں، جیسا کہ نبی ﷺ کرتے تھے۔
۷. اختتامی نصیحت: محبتِ رسول ہی اصل سرمایہ ہے
اللہ کے بندو! سنو! ربیع الاول کا مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمارے پاس سب سے قیمتی چیز کیا ہے — اپنے نبی ﷺ سے محبت! یہ وہ دولت ہے جو قبر میں، حشر میں، پل صراط پر، اور جنت کے دروازے پر ہمارے کام آئے گی۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ»
(صحيح البخاري: 6170، صحيح مسلم: 2639)
ترجمہ: "آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے اس نے محبت کی۔"
اگر تم واقعی نبی ﷺ سے محبت کرتے ہو، تو ان کی سنت کو اپناؤ، ان کے اخلاق کو اپناؤ، اور ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلو۔ تبھی تمہارا دعویٰ سچا ہوگا، اور تبھی قیامت کے دن تمہیں ان کا ساتھ نصیب ہوگا۔
۸. دعا
«اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ»
«اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا حُبَّ نَبِيِّكَ، وَاتِّبَاعَ سُنَّتِهِ، وَالْمَوْتَ عَلَىٰ مِلَّتِهِ»
«اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ أَتْبَاعِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاحْشُرْنَا فِي زُمْرَتِهِ، وَاسْقِنَا مِنْ حَوْضِهِ شَرْبَةً لَا نَظْمَأُ بَعْدَهَا أَبَدًا»
«رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ»
اللهم بلغنا شفاعة نبيك محمد ﷺ، واجعلنا ممن يدخلون الجنة بغير حساب ولا عذاب. اللهم أعلِ كلمة الإسلام والمسلمين، وأذل الشرك والمشركين. اللهم انصر من نصر الدين، واخذل من خذل المسلمين. وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.
TAGS JSON: { "tags": ["ربیع الاول", "میلاد النبی", "میلاد", "ولادت نبوی", "سیرت", "درود شریف", "محبت رسول", "بارہ ربیع الاول", "سنتیں", "بدعات"], "category": "ربیع الاول", "related_month": "ربیع الاول", "related_people": ["حضرت محمد ﷺ", "حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا", "حضرت ابراہیم علیہ السلام", "حضرت عیسیٰ علیہ السلام"] } FEATURED IMAGE IDEA: آسمان پر ایک روشن چاند اور ستارے، زمین پر عرب کا صحرائی منظر، جہاں ایک روشن گھر سے نور پھوٹ رہا ہو، سامنے کھجور کے درخت، اوپر عربی خطاطی میں "وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ" اور نیچے "أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ" لکھا ہو، درمیان میں گنبد خضریٰ کی جھلک۔