ہوم / مضامین

محرم الحرام کی فضیلت، عاشورہ کے روزے اور واقعہ کربلا قرآن و حدیث کی روشنی میں | خطبہ جمعہ

TITLE: محرم الحرام اور عاشورہ: قربانی، صبر اور نجات کا مہینہ SEO TITLE: محرم الحرام کی فضیلت، عاشورہ کے روزے اور واقعہ کربلا قرآن و حدیث کی روشنی میں | خطبہ جمعہ SLUG: muharram-aur-ashura-qurbani-sabr-aur-nijat META DESCRIPTION: محرم الحرام کی حرمت، عاشورہ کے روزے کی فضیلت، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نجات، واقعہ کربلا سے اسباق، اور بدعات سے بچنے کی تلقین پر جامع خطبہ۔ CONTENT:

محرم الحرام اور عاشورہ: قربانی، صبر اور نجات کا مہینہ

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ الْأَشْهُرَ الْحُرُمَ مَوَاسِمَ لِلْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ، وَفَضَّلَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ بِالنَّجَاةِ وَالْغُفْرَانِ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، نَجَّىٰ مُوسَىٰ وَمَنْ آمَنَ مَعَهُ، وَأَغْرَقَ فِرْعَوْنَ وَجُنُودَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، الَّذِي صَامَ عَاشُورَاءَ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، وَقَالَ: "لَئِنْ بَقِيتُ إِلَىٰ قَابِلٍ لَأَصُومَنَّ التَّاسِعَ". صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ، وَخَاصَّةً عَلَى سِبْطِهِ الْحُسَيْنِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ الطَّاهِرِينَ، وَسَلَّمَ تَسْلِيمًا كَثِيرًا. أَمَّا بَعْدُ!

اللہ کے نیک بندو! ایمان والو! ہم اللہ کے ایک نہایت محترم اور مقدس مہینے کے سایہ میں داخل ہو چکے ہیں۔ وہ مہینہ جسے اللہ نے "شہر اللہ" یعنی اللہ کا مہینہ قرار دیا، جس میں ظلم و زیادتی کی سختی سے ممانعت کی گئی، جس میں ایک ایسا دن ہے جس کے بارے میں نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ وہ مہینہ ہے محرم الحرام، اور وہ عظیم دن ہے عاشورہ۔

بھائیو! یہ مہینہ اسلامی تاریخ کے دو عظیم واقعات کی یاد دلاتا ہے: ایک اللہ کی نصرت اور حق کی فتح کا واقعہ — حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کی فرعون سے نجات۔ دوسرا صبر، استقامت اور حق کے لیے جان قربان کرنے کا واقعہ — نواسہ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل بیت کی کربلا میں عظیم قربانی۔ آج کا خطبہ انہی دونوں پہلوؤں پر روشنی ڈالے گا، اور یہ سمجھائے گا کہ اس مہینے میں ہمارا صحیح طرزِ عمل کیا ہونا چاہیے۔

۱. قرآن کریم میں محرم اور حرمت والے مہینوں کا بیان

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں چار مہینوں کو حرمت والا قرار دیا، جن میں سے ایک محرم ہے۔ سنیے! رب العالمین فرماتا ہے:

﴿إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّـهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّـهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ ۚ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ
(سورۃ التوبہ: 36)

ترجمہ: "بے شک اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے، اللہ کی کتاب میں اسی دن سے جب سے اس نے آسمان اور زمین پیدا کیے، ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔ یہی سیدھا دین ہے، پس تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔"

نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع میں ان چار مہینوں کی وضاحت فرمائی: "رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ، اور محرم"۔ (بخاری: 3197، مسلم: 1679) یہ مہینے اس لیے حرمت والے ہیں کہ ان میں لڑائی جھگڑا حرام ہے، اور گناہوں کی سنگینی بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے اللہ نے خاص طور پر فرمایا: ان میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو، یعنی گناہوں سے خاص طور پر بچو۔

۲. احادیث میں محرم کی فضیلت اور عاشورہ کے روزے کا اجر

نبی کریم ﷺ نے محرم کے مہینے کو "شہر اللہ" یعنی اللہ کا مہینہ قرار دیا، اور اس کے روزوں کو رمضان کے بعد سب سے افضل قرار دیا۔ سنیے!

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمُ، وَأَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ صَلَاةُ اللَّيْلِ»
(صحيح مسلم: 1163)

ترجمہ: "رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے ہیں، اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز (تہجد) ہے۔"

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ محرم کے پورے مہینے میں روزے رکھنے کی بہت فضیلت ہے، اور خاص طور پر عاشورہ کا روزہ تو گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہے۔

عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«صِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ»
(صحيح مسلم: 1162)

ترجمہ: "عاشورہ کے دن کے روزے کے بارے میں مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ گزشتہ سال کے گناہ مٹا دے گا۔"

کتنی بڑی رحمت ہے! ایک دن کا روزہ پورے سال کے گناہوں کا کفارہ! اس لیے کوئی بھی مسلمان اس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دے۔

نبی ﷺ نے صرف دس محرم کا ہی نہیں بلکہ نویں تاریخ (تاسوعہ) کا روزہ رکھنے کی بھی ترغیب دی تاکہ یہود کی مشابہت سے بچا جا سکے، کیونکہ وہ بھی عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے:

«لَئِنْ بَقِيتُ إِلَىٰ قَابِلٍ لَأَصُومَنَّ التَّاسِعَ»
(صحيح مسلم: 1134)

ترجمہ: "اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو میں نویں تاریخ کا بھی روزہ ضرور رکھوں گا۔"

اس لیے علماء نے فرمایا کہ بہتر یہ ہے کہ نویں اور دسویں دونوں کا روزہ رکھا جائے، یا دسویں اور گیارہویں کا، تاکہ یہود و نصاریٰ کی مخالفت ہو جائے۔

۳. عاشورہ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نجات کا واقعہ

بھائیو! عاشورہ کے دن کی ایک اہم وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اسی دن اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات بخشی، اور فرعون کو اس کے لشکر سمیت دریا میں غرق کر دیا۔

نبی کریم ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہود عاشورہ کا روزہ رکھتے ہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: یہ کون سا دن ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہ دن ہے جس میں اللہ نے موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دی، تو ہم اس دن کا روزہ شکرانے کے طور پر رکھتے ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا:

«نَحْنُ أَوْلَىٰ بِمُوسَىٰ مِنْكُمْ»
(صحيح البخاري: 2004، صحيح مسلم: 1130)

ترجمہ: "ہم تم سے زیادہ موسیٰ (کی پیروی) کے حقدار ہیں۔"

پھر آپ ﷺ نے خود بھی روزہ رکھا اور صحابہ کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ اس دن روزہ رکھنا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نجات کا شکرانہ ہے، اور اس بات کا اعلان ہے کہ ہم تمام انبیاء کی پیروی کرنے والے ہیں۔

۴. واقعہ کربلا: حق و باطل کی لازوال داستان

بھائیو! محرم کے مہینے کا ایک اور پہلو بھی ہے، جو دل کو زخمی کر دیتا ہے، اور وہ ہے واقعہ کربلا۔ ہجرت کے اکسٹھ سال بعد، دس محرم کو، رسول اللہ ﷺ کے پیارے نواسے حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے میدانِ کربلا میں اپنے اہل بیت اور اصحاب کے ساتھ شہادت کا جام نوش فرمایا۔

یہ واقعہ ظلم کے خلاف حق کی آواز بلند کرنے کی لازوال مثال ہے۔ یزید بن معاویہ کی ظالم حکومت کے سامنے حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے سر جھکانے سے انکار کر دیا۔ آپ نے فرمایا:

«إِنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشِرًا وَلَا بَطِرًا وَلَا مُفْسِدًا وَلَا ظَالِمًا، إِنَّمَا خَرَجْتُ لِطَلَبِ الْإِصْلَاحِ فِي أُمَّةِ جَدِّي، أُرِيدُ أَنْ آمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَأَنْهَىٰ عَنِ الْمُنكَرِ»
(تاريخ الطبري، المعجم الكبير للطبراني)

ترجمہ: "میں تکبر، سرکشی، فساد یا ظلم کے لیے نہیں نکلا، میں صرف اپنے نانا کی امت میں اصلاح کے لیے نکلا ہوں، میں نیکی کا حکم دینا چاہتا ہوں اور برائی سے روکنا چاہتا ہوں۔"

کربلا میں ان کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ تاریخ کا دردناک ترین باب ہے۔ آپ نے اپنے چھوٹے بچے علی اصغر سے لے کر جوانوں اور بوڑھوں تک، سب کو اللہ کی راہ میں قربان کر دیا۔

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حق پر قائم رہنے والا کبھی تنہا نہیں ہوتا، چاہے اس کے ساتھی تھوڑے ہوں۔ ظلم کے سامنے خاموشی اختیار کرنا جائز نہیں۔ باطل نظام کے آگے جھکنا مومن کا شیوہ نہیں ہو سکتا۔

لیکن بھائیو! اس سانحے پر ہمارے ردعمل کا طریقہ وہی ہونا چاہیے جو قرآن و سنت نے سکھایا، یعنی صبر، استغفار، اور اصلاح کا جذبہ۔

۵. محرم میں بدعات اور ان سے بچنے کی تلقین

اللہ کے بندو! اس ماہ میں کچھ لوگ ایسی رسومات اپناتے ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ماتم کرنا، گریبان چاک کرنا، سینہ کوبی، زنجیر زنی، اور ہیئت کذائی بنانا — یہ سب جاہلیت کی رسمیں ہیں۔ نبی ﷺ نے صاف فرمایا:

«لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ، وَشَقَّ الْجُيُوبَ، وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ»
(صحيح البخاري: 1294، صحيح مسلم: 103)

ترجمہ: "وہ شخص ہم میں سے نہیں جو رخسار پیٹے، گریبان پھاڑے، اور جاہلیت کی سی پکار پکارے۔"

ہم حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کرتے ہیں، لیکن ان کی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں، نہ کہ بدعات کا ارتکاب کریں۔ ان کی یاد منانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم ظلم کے خلاف حق کی آواز بلند کریں، نیکی کا حکم دیں، برائی سے روکیں، اور اپنی جان و مال کو دین کی سربلندی کے لیے قربان کرنے کا جذبہ پیدا کریں۔

۶. اصلاحی نکات: محرم اور عاشورہ کو کیسے گزاریں؟

  • کثرت سے روزے رکھیں: خاص کر نو اور دس محرم کو، یا دس اور گیارہ کو، تاکہ سنت کی پیروی ہو۔
  • نفل عبادات کا اہتمام: اس ماہ میں زیادہ سے زیادہ تہجد، تلاوت، ذکر اور صدقہ و خیرات کریں۔
  • کربلا کے شہداء کے لیے دعا: حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور اہل بیت کے لیے مغفرت اور رفع درجات کی دعا کریں، یہی سنت طریقہ ہے۔
  • بدعات سے مکمل اجتناب: ماتم، نوحہ، سینہ کوبی، تعزیہ داری وغیرہ سے بچیں، یہ غیر اسلامی رسوم ہیں۔
  • حق گوئی کا عزم: حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے مشن کو یاد کرتے ہوئے، ظلم کے خلاف کلمہ حق کہنے کا عزم کریں۔
  • صبر و توکل: یہ مہینہ صبر کا مہینہ ہے، مشکلات میں اللہ پر بھروسہ رکھنے کی مشق کریں۔
  • اپنے گھر والوں کو تعلیم دیں: اپنے بچوں کو محرم کی حقیقی تعلیمات بتائیں، انہیں صحیح تاریخ سے آگاہ کریں۔
  • صلہ رحمی: رشتہ داروں سے ملاقات اور ان کے حقوق ادا کرنے کا خاص اہتمام کریں۔
  • توبہ و استغفار: اس مقدس مہینے میں اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور آئندہ گناہوں سے بچنے کا عزم کریں۔

۷. اختتامی نصیحت: صبر، شکر، اور سنت پر استقامت

اللہ کے بندو! سنو! محرم کا مہینہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حق اور باطل کی کشمکش ہمیشہ سے رہی ہے، اور ہمیشہ رہے گی۔ لیکن اللہ کا وعدہ ہے کہ آخر کار حق غالب ہوگا، باطل مٹ جائے گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نجات ملی، فرعون غرق ہوا۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شہادت ملی، لیکن ان کا نام قیامت تک کے لیے زندہ ہو گیا، اور یزید کا نام لعنت کے سوا کچھ نہ رہا۔

نبی کریم ﷺ نے اپنے نواسوں کے بارے میں فرمایا تھا:

«حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ، أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا»
(سنن الترمذي: 3775 - حسن صحيح)

ترجمہ: "حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس سے محبت کرے جو حسین سے محبت کرے۔"

تو ہم ان سے محبت کرتے ہیں، لیکن اس محبت کا حق یہ ہے کہ ہم ان کی سنت پر چلیں، ان کی قربانیوں کو یاد کر کے اپنے ایمان کو تازہ کریں، اور بدعات و خرافات سے بچیں۔

۸. دعا

«اللَّهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ، وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ، وَالتَّوْفِيقِ لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضَىٰ»
(دعا ماثور)
«اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا صِيَامَ عَاشُورَاءَ عَلَىٰ وَجْهِهِ الَّذِي يُرْضِيكَ عَنَّا، وَاغْفِرْ لَنَا سَنَةً كَامِلَةً مِنْ ذُنُوبِنَا»
«اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنَ الْمُتَّبِعِينَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَنِّبْنَا الْبِدَعَ وَالضَّلَالَاتِ»
«اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْحُسَيْنَ وَأَهْلَ بَيْتِهِ، وَارْفَعْ دَرَجَاتِهِمْ فِي الْمَهْدِيِّينَ، وَانْصُرْنَا عَلَى الظَّلَمَةِ وَالْفَسَقَةِ»
«رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ»

اللهم بارك لنا في محرم، وارزقنا فيه الصيام والقيام، وتقبل منا صالح الأعمال. اللهم انصر إخواننا المستضعفين في كل مكان، وثبت أقدامهم، وانصرهم على القوم الظالمين. اللهم اجعلنا من المحبين للحق وأهله، المبغضين للباطل وأهله. وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.


TAGS JSON: { "tags": ["محرم", "عاشورہ", "کربلا", "حسین رضی اللہ عنہ", "موسیٰ علیہ السلام", "روزہ", "تاسوعہ", "بدعات", "صبر", "شہادت"], "category": "محرم", "related_month": "محرم", "related_people": ["حضرت حسین رضی اللہ عنہ", "حضرت موسیٰ علیہ السلام", "حضرت محمد ﷺ", "حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ"] } FEATURED IMAGE IDEA: میدان کربلا کا ایک علامتی منظر، جہاں ایک جانب فرات کی لہریں اور دوسری جانب خیمے، درمیان میں ایک شمع روشن (حق کی علامت)، پس منظر میں غروب آفتاب، اوپر عربی خطاطی میں "إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ" اور نیچے "صِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ يُكَفِّرُ السَّنَةَ" لکھا ہو۔