ہوم / مضامین

معراج النبی ﷺ: ایمان کی آزمائش اور اللہ سے قربت کا عظیم الشان سفر

TITLE: معراج النبی ﷺ: ایمان کی آزمائش اور اللہ سے قربت کا عظیم الشان سفر SEO TITLE: واقعہ معراج النبی ﷺ قرآن و حدیث کی روشنی میں | تفصیلی خطبہ جمعہ SLUG: miraj-un-nabi-eeman-ki-azmaish-aur-qurbat META DESCRIPTION: معراج النبی ﷺ کا ایمان افروز واقعہ، قرآن و حدیث کی روشنی میں تفصیلات، تحفۂ نماز، اور موجودہ دور کے مسلمانوں کے لیے اسباق۔ جامع خطبہ۔ CONTENT:

معراج النبی ﷺ: ایمان کی آزمائش اور اللہ سے قربت کا عظیم الشان سفر

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى، وَعَرَجَ بِهِ إِلَى السَّمَاوَاتِ الْعُلَىٰ، وَشَرَّفَهُ بِالْقُرْبِ وَالدُّنُوِّ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، الَّذِي أَكْرَمَ حَبِيبَهُ بِمَا لَمْ يُكْرِمْ بِهِ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، صَاحِبُ الْمَقَامِ الْمَحْمُودِ وَالْحَوْضِ الْمَوْرُودِ. صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ الَّذِينَ صَدَّقُوا بِخَبَرِ السَّمَاءِ حِينَ كَذَّبَهُ أَهْلُ الْأَرْضِ، وَسَلَّمَ تَسْلِيمًا كَثِيرًا. أَمَّا بَعْدُ!

اللہ کے پیارے بندو! ایمان والو! ذرا آنکھیں بند کرو اور سوچو کہ کیا کوئی انسان ایسا ہے جس نے ایک رات میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ کا سفر کیا ہو، پھر وہاں سے سات آسمانوں کی سیر کرتا ہوا سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچا ہو، اور پھر اللہ رب العزت سے ہم کلام ہونے کا شرف پایا ہو؟ نہیں! ایسا صرف اور صرف ہمارے پیارے نبی محمد ﷺ کے ساتھ ہوا! اس واقعے کو ہم معراج کہتے ہیں، اور اسراء و معراج کی رات وہ عظیم رات ہے جس میں اللہ نے اپنے حبیب کو وہ مقام عطا فرمایا جو کسی اور کو نہیں ملا۔

بھائیو! آج کا خطبہ اسی شاندار، ایمان افروز، اور سبق آموز واقعے کے بارے میں ہے۔ ہم جانیں گے کہ قرآن نے اسراء کے بارے میں کیا فرمایا، احادیث میں معراج کی کیا تفصیلات ہیں، اس سفر کے تحائف کیا تھے، اور ہمارے لیے اس میں کیا اسباق پوشیدہ ہیں۔ سنو! یہ وہ واقعہ ہے جو ایمان والوں کے ایمان کو بڑھاتا ہے اور منافقوں کی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔

۱. قرآن کریم میں واقعہ اسراء کا بیان

اللہ تعالیٰ نے سورہ بنی اسرائیل کا آغاز ہی اس عظیم سفر کے ذکر سے فرمایا۔ یہ آیت اس واقعے کی صداقت پر قرآن کی مہر ہے۔ سنیے! رب العالمین فرماتا ہے:

﴿سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ
(سورۃ الإسراء: 1)

ترجمہ: "پاک ہے وہ ذات جو لے گیا اپنے بندے کو رات کے ایک حصے میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ کی طرف، جس کے گرد ہم نے برکت رکھی ہے، تاکہ ہم اسے اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھائیں۔ بے شک وہی ہے خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا۔"

غور کرو! اللہ نے اپنی تسبیح بیان فرمائی "سُبْحَانَ" یعنی اللہ پاک ہے ہر عجز و نقص سے کہ وہ اپنے بندے کو اتنی بڑی کرامت عطا فرمائے۔ پھر فرمایا "بِعَبْدِهِ" — اپنے بندے کو — یہ لفظ "بندہ" کس قدر محبت اور قرب کا اظہار ہے! پورے قرآن میں صرف یہاں اور ایک اور مقام پر نبی ﷺ کو "عبدہ" کہہ کر اس شرف کا اظہار کیا گیا۔

دوسری جگہ معراج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا:

﴿وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ ۞ عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ ۞ عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ ۞ إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ ۞ مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ ۞ لَقَدْ رَأَىٰ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَىٰ
(سورۃ النجم: 13-18)

ترجمہ: "اور بے شک انہوں نے اس (جبریل) کو دوسری بار اتار پر دیکھا، سدرۃ المنتہیٰ کے پاس، اسی کے قریب جنت المأویٰ ہے، جب کہ سدرۃ کو چھپائے لے رہا تھا جو کچھ اس پر چھا رہا تھا۔ نہ نگاہ بھٹکی نہ حد سے بڑھی، بے شک انہوں نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔"

یہ آیات بتاتی ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنے رب کی عظیم نشانیوں کا مشاہدہ فرمایا، جبریل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دیکھا، اور یہ سب کچھ اس قدر سکون و اطمینان سے ہوا کہ نگاہ نہ بھٹکی نہ حد سے آگے بڑھی۔

۲. احادیث صحیحہ میں تفصیلِ معراج

نبی کریم ﷺ نے معراج کی تفصیلات صحابہ کرام کو بیان فرمائیں، جو صحیح بخاری و مسلم میں محفوظ ہیں۔ سنیے! کیا ہوا تھا اس مبارک رات:

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:
«أُتِيتُ بِالْبُرَاقِ، وَهُوَ دَابَّةٌ أَبْيَضُ طَوِيلٌ فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ، يَضَعُ حَافِرَهُ عِنْدَ مُنْتَهَىٰ طَرْفِهِ»
(صحيح مسلم: 162)

ترجمہ: "میرے پاس براق لایا گیا، وہ ایک سفید جانور ہے جو گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا ہے، اپنا قدم وہاں رکھتا ہے جہاں اس کی نگاہ ختم ہوتی ہے۔"

براق پر سوار ہو کر آپ ﷺ مسجدِ اقصیٰ پہنچے، وہاں تمام انبیاء کرام کو نماز پڑھائی۔ یہ امامت اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ تمام انبیاء کے سردار ہیں، اور آپ کا دین سب پر ناسخ ہے۔

پھر جبریل علیہ السلام آپ کو سات آسمانوں کی سیر کراتے لے گئے۔ پہلے آسمان پر حضرت آدم علیہ السلام ملے، دوسرے پر حضرت یحییٰ اور عیسیٰ علیہما السلام، تیسرے پر حضرت یوسف علیہ السلام، چوتھے پر حضرت ادریس علیہ السلام، پانچویں پر حضرت ہارون علیہ السلام، چھٹے پر حضرت موسیٰ علیہ السلام، اور ساتویں پر حضرت ابراہیم علیہ السلام بیت المعمور سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ ہر نبی نے آپ کو خوش آمدید کہا اور "مرحباً بالأخ الصالح والنبي الصالح" کہا۔

پھر آپ کو سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا، اور پھر وہ مقام آیا جہاں سے جبریل علیہ السلام بھی رک گئے، اور عرض کیا:

«تَقَدَّمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَلَوْ تَقَدَّمْتُ لَاحْتَرَقْتُ»

یہاں سے نبی ﷺ اکیلا اللہ کے حضور پہنچے، جہاں اللہ نے آپ سے کلام فرمایا، اور آپ کو اور آپ کی امت کو بیشمار انعامات سے نوازا۔

۳. تحفۂ نماز: معراج کا سب سے بڑا انعام

بھائیو! معراج کا سب سے قیمتی تحفہ نماز تھی۔ اللہ نے پہلے پچاس نمازیں فرض فرمائیں، لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مشورے پر نبی ﷺ بارگاہِ الٰہی میں گئے اور تخفیف کی درخواست کی، یہاں تک کہ پانچ نمازیں رہ گئیں۔ اللہ نے فرمایا:

«هِيَ خَمْسٌ وَهِيَ خَمْسُونَ، لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ»
(صحيح البخاري: 349، صحيح مسلم: 163)

ترجمہ: "یہ پانچ ہیں اور اجر میں پچاس ہیں، میرے ہاں بات بدلی نہیں جاتی۔"

سوچو! پانچ نمازیں پڑھنے پر پچاس کا اجر۔ یہ نماز کی عظمت کی دلیل ہے۔ نماز ہی وہ عبادت ہے جو معراج میں بلا واسطہ فرض ہوئی، اس لیے یہ مومن کی معراج ہے۔ جو نماز میں خشوع و خضوع کے ساتھ اللہ کے حضور کھڑا ہوتا ہے، وہ روحانی معراج سے گزرتا ہے۔

۴. جنت اور جہنم کا مشاہدہ اور دیگر مشاہدات

اس سفر میں نبی ﷺ کو جنت اور جہنم بھی دکھائی گئی۔ آپ ﷺ نے جنت کی نعمتیں دیکھیں، اور جہنم کے عذاب بھی ملاحظہ فرمائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

  • سود خوروں کے پیٹ بڑے بڑے تھے جن میں سانپ دکھائی دے رہے تھے۔
  • زنا کاروں کے سامنے تازہ اور سڑا ہوا گوشت رکھا تھا، اور وہ سڑا ہوا گوشت کھا رہے تھے۔
  • جھوٹے خطیبوں اور واعظوں کے ہونٹ لوہے کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے۔
  • بے نمازیوں کے سر پتھروں سے توڑے جا رہے تھے۔

یہ سب مناظر آپ ﷺ نے امت کے سامنے بیان فرما دیے تاکہ ہم عبرت حاصل کریں اور گناہوں سے بچیں۔

۵. معراج کا پیغام: ایمان، صبر، اور آزمائش

بھائیو! جب نبی ﷺ نے صبح کو یہ واقعہ بیان فرمایا، تو مشرکین نے اس کا خوب مذاق اڑایا۔ کچھ لوگ جو پہلے مسلمان ہوئے تھے، وہ بھی مرتد ہو گئے۔ لیکن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کیا کہا؟ جب انہیں خبر دی گئی تو انہوں نے فرمایا:

«إِنْ كَانَ قَالَهُ فَقَدْ صَدَقَ»
(صحيح البخاري معلقاً، الحاكم: 3/62)

ترجمہ: "اگر انہوں نے یہ کہا ہے تو یقیناً سچ کہا ہے۔"

اسی دن سے ان کا لقب "صدیق" پڑ گیا۔ یہ ہے ایمان کی مضبوطی! جب اللہ اور اس کے رسول کی بات پر یقین ہو تو عقلیں دنگ رہ جائیں تب بھی دل "صدقنا" کہتا ہے۔

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ایمان کا امتحان بعض اوقات ایسے واقعات سے ہوتا ہے جو ہماری عقل کی گرفت میں نہیں آتے، لیکن ہمارا کام یقین رکھنا ہے، کیونکہ اللہ کی قدرت پر کوئی چیز باہر نہیں۔

۶. موجودہ دور میں معراج کے اسباق

اللہ کے بندو! آج کے سائنسی دور میں کچھ لوگ معراج کے جسمانی ہونے پر شک کرتے ہیں، حالانکہ قرآن و حدیث اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ جسم اور روح دونوں کے ساتھ ہوا۔ اللہ جس نے زمین و آسمان پیدا کیے، اس کے لیے اپنے حبیب کو راتوں رات سیر کرانا کیا مشکل ہے؟

معراج کا پیغام یہ ہے کہ نماز ہماری روحانی غذا ہے، اسے مت چھوڑو۔ پانچ وقت کی نماز تمہیں ہر روز اللہ سے جوڑتی ہے، جیسے نبی ﷺ کو معراج میں اللہ سے ملایا گیا۔

دوسرا سبق: براق کی سواری کا مطلب ہے کہ اللہ اپنے بندوں کی مدد ایسے اسباب سے کرتا ہے جو عقل میں نہیں آتے۔ تم اپنی کوشش کرو، اللہ مدد بھیج دے گا۔

۷. اختتامی نصیحت: نماز کو قائم رکھو، معراج کی یاد تازہ رہے گی

اللہ کے بندو! سنو! معراج کی رات اللہ نے ہمیں نماز کا تحفہ دیا۔ یہ وہ عبادت ہے جو نبی ﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھی۔ جب بھی کوئی مشکل آتی، آپ ﷺ نماز میں کھڑے ہو جاتے۔

کیا ہم نے اس تحفے کی قدر کی؟ کیا ہماری نمازیں ایسی ہیں جو ہمیں اللہ سے قریب کرتی ہیں؟ کیا ہم نماز میں معراج کا لطف محسوس کرتے ہیں؟ آج ہی سے عہد کرو کہ اپنی نمازوں کو سنوارو گے، خشوع سے پڑھو گے، اور اس تحفے کی قدر کرو گے۔

۸. دعا

«اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ»
«اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبٍ وَشَعْبَانَ، وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ»
«اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِنَا مِعْرَاجًا لِأَرْوَاحِنَا، وَقُرَّةَ عَيْنٍ لَنَا، وَارْزُقْنَا فِيهَا الْخُشُوعَ وَالْحُضُورَ»
«رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ»

اللهم ارزقنا كمال الإيمان بك وبرسولك، وثبتنا على دينك، واجعلنا من المحافظين على الصلوات. اللهم ارزقنا شفاعة نبيك محمد ﷺ، واسقنا من حوضه شربة لا نظمأ بعدها أبداً. اللهم آمين. وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.


TAGS JSON: { "tags": ["معراج", "اسراء", "معراج النبی", "براق", "سدرۃ المنتہی", "نماز", "پانچ وقتہ نماز", "جنت", "جہنم", "ابوبکر صدیق"], "category": "اسلامی تاریخ", "related_month": "رجب", "related_people": ["حضرت محمد ﷺ", "حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ", "حضرت موسیٰ علیہ السلام", "حضرت جبریل علیہ السلام"] } FEATURED IMAGE IDEA: براق پر سوار نبی ﷺ آسمانوں کی طرف جاتے ہوئے، پیچھے مسجدِ اقصیٰ اور مسجدِ حرام کا منظر، آسمان میں سات طبقات، اوپر ناقابلِ بیان نور، درمیان میں عربی خطاطی میں "سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ" اور نیچے "ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ" لکھا ہو۔