فتنوں کا دور: پہچان، بچاؤ اور ثابت قدمی کا راستہ
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي حَذَّرَنَا مِنَ الْفِتَنِ، وَأَمَرَنَا بِالاعْتِصَامِ بِحَبْلِهِ الْمَتِينِ عِنْدَ الشَّدَائِدِ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، نَجَّىٰ عِبَادَهُ مِنَ الْفِتَنِ بِفَضْلِهِ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، الَّذِي أَخْبَرَنَا عَنْ فِتَنٍ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، وَدَلَّنَا عَلَىٰ سُبُلِ النَّجَاةِ. صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ الَّذِينَ ثَبَتُوا فِي الْمِحَنِ، وَصَبَرُوا عَلَى الْبَلَاءِ. أَمَّا بَعْدُ!
اللہ کے نیک بندو! ایمان والو! خبردار! ہوشیار! سنو! ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جس کے بارے میں ہمارے پیارے نبی ﷺ نے صدیوں پہلے خبر دے دی تھی۔ یہ دور وہ ہے جس میں حق اور باطل کی تمیز مشکل ہو گئی ہے، جس میں فتنے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح چاروں طرف سے آ رہے ہیں، جس میں انسان صبح کو مومن ہوتا ہے اور شام کو کافر، شام کو مومن ہوتا ہے اور صبح کو کافر! آج کا خطبہ اسی ہولناک مگر انتہائی ضروری موضوع پر ہے: فتنوں کا دور، ان کی پہچان، ان سے بچاؤ، اور اس طوفان میں اپنے ایمان کو کیسے بچایا جائے۔
بھائیو! یہ خطبہ بہت اہم ہے، کیونکہ فتنوں میں گھرے ہونے کی وجہ سے ہم انہیں فتنہ سمجھتے ہی نہیں، بلکہ انہیں معمول کی زندگی سمجھ بیٹھے ہیں۔ آئیے قرآن و سنت کی روشنی میں اس گھپ اندھیرے میں روشنی تلاش کریں۔
۱. قرآن کریم میں فتنوں کی سنگینی اور ان سے بچنے کا حکم
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں فتنوں کو قتل سے بھی بڑھ کر سنگین قرار دیا، اور ان سے بچنے کی تاکید فرمائی۔ سنیے! رب العالمین کا فرمان ہے:
﴿وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ﴾
(سورۃ البقرہ: 191)
ترجمہ: "اور فتنہ قتل سے بھی زیادہ سخت ہے۔"
قتل میں ایک شخص کی جان جاتی ہے، لیکن فتنے میں پوری امت کا ایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے، اس لیے یہ زیادہ سنگین ہے۔ فتنہ دین میں خلل ڈالتا ہے، ایمان کو کمزور کرتا ہے، اور انسان کو گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔
پھر اللہ نے فتنوں سے بچنے اور ان کے عام ہونے پر سخت وعید سنائی:
﴿وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَّا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنكُمْ خَاصَّةً ۖ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾
(سورۃ الأنفال: 25)
ترجمہ: "اور اس فتنے سے بچو جو صرف انہی لوگوں تک محدود نہیں رہے گا جنہوں نے تم میں سے ظلم کیا، اور جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔"
یعنی فتنہ جب پھیلتا ہے تو نیک و بد سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، جو اسے روک سکتا تھا مگر خاموش رہا، وہ بھی اس کی آگ میں جلے گا۔
اللہ نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ دنیا فتنوں سے بھری ہوئی ہے اور یہ ہمارے ایمان کا امتحان ہے:
﴿أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ﴾
(سورۃ العنكبوت: 2)
ترجمہ: "کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ انہیں صرف یہ کہنے پر چھوڑ دیا جائے گا کہ ہم ایمان لائے، اور ان کا امتحان نہیں لیا جائے گا؟"
یہ امتحان ہی فتنے ہیں، جن میں ہر دور کے مسلمان مبتلا ہوئے، اور آج ہم بھی مبتلا ہیں۔
۲. احادیثِ نبویہ میں فتنوں کی پیشگوئی اور ان سے نجات کے طریقے
نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو مستقبل میں آنے والے فتنوں سے آگاہ فرما دیا تھا، اور ان سے بچنے کے راستے بھی بتا دیے تھے۔ سنیے! دل دہلا دینے والی احادیث:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا»
(صحيح مسلم: 118)
ترجمہ: "اعمال صالحہ میں جلدی کرو، ان فتنوں کے آنے سے پہلے جو اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح ہوں گے، آدمی صبح کو مومن ہوگا اور شام کو کافر، اور شام کو مومن ہوگا اور صبح کو کافر، وہ اپنا دین دنیا کے تھوڑے سے سامان کے عوض بیچ ڈالے گا۔"
کتنی بھیانک تصویر ہے! فتنے ایسے ہوں گے کہ انسان کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ اس کا ایمان کب چلا گیا۔ اس لیے فرمایا: نیک اعمال میں جلدی کرو، یعنی پہلے سے ایمان کی مضبوط بنیاد رکھو، ورنہ فتنے تمہیں بہا لے جائیں گے۔
ان فتنوں سے بچنے کا کیا طریقہ ہے؟ نبی ﷺ نے بتایا:
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْرِ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي... قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَٰلِكَ؟ قَالَ:
«تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ»
قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلَا إِمَامٌ؟ قَالَ:
«فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا، وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ بِأَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّىٰ يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَىٰ ذَٰلِكَ»
(صحيح البخاري: 3606، صحيح مسلم: 1847)
ترجمہ: "میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! اگر میں اس دور کو پاؤں تو مجھے کیا حکم ہے؟ فرمایا: تم مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کو لازم پکڑنا۔ میں نے کہا: اگر ان کی کوئی جماعت نہ ہو اور نہ کوئی امام ہو؟ فرمایا: تو ان تمام گروہوں سے الگ ہو جانا، چاہے تمہیں درخت کی جڑ چبانی پڑے، یہاں تک کہ تمہیں موت آ جائے اور تم اسی حالت پر ہو۔"
یعنی سب سے پہلے اہل حق کی جماعت کے ساتھ رہو، لیکن اگر حق واضح نہ رہے اور ہر طرف گمراہی ہو، تو فتنوں سے کنارہ کشی اختیار کرو، اپنے ایمان کو بچاؤ، اور اپنی عبادت میں مشغول رہو۔
دجال کے فتنے سے بچنے کے لیے سورہ کہف پڑھنے کا حکم بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے:
«مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْكَهْفِ عُصِمَ مِنَ الدَّجَّالِ»
(صحيح مسلم: 809)
۳. فتنوں کی اقسام: نفس، شیطان، مال، عورت، اور شبہات
بھائیو! فتنے صرف باہر سے نہیں آتے، بہت سے فتنے ہمارے اندر ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا:
- نفس کا فتنہ: انسان کو برائی پر آمادہ کرنے والا نفس، جسے قرآن نے "إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ" کہا۔
- شیطان کا فتنہ: جو ہر وقت گھات لگائے بیٹھا ہے اور انسان کو بہکانے کی کوشش میں لگا ہے۔
- مال کا فتنہ: نبی ﷺ نے فرمایا: "ہر امت کا کوئی فتنہ ہے، اور میری امت کا فتنہ مال ہے۔" (ترمذي: 2336 - صحيح)
- عورت کا فتنہ: جیسا کہ پہلے ذکر ہوا۔
- شبہات کا فتنہ: دین میں شکوک، الحادی افکار، اور گمراہ کن نظریات، جن کا دور آج عروج پر ہے۔
شبہات کا فتنہ بہت خطرناک ہے، کیونکہ یہ عقل کو نشانہ بناتا ہے اور ایمان کی جڑ کاٹتا ہے۔ نبی ﷺ اس سے پناہ مانگتے تھے:
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفِتَنِ، مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ»
(صحيح مسلم: 2867)
۴. موجودہ دور کے فتنے: میڈیا، سوشل میڈیا، اور الحاد
اللہ کے بندو! آج ہم جس فتنے میں جی رہے ہیں، وہ ان تمام فتنوں کا مجموعہ ہے۔ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں، فحش مواد، گمراہ کن نظریات، اسلام کے خلاف پروپیگنڈا، اور الحاد کا زہر گھول کر نوجوانوں کو دیا جا رہا ہے۔
میڈیا نے فتنے کو ہر گھر تک پہنچا دیا ہے۔ ٹی وی سیریلز، فلمیں، گانے، اشتہارات — سب فحاشی اور بے حیائی پھیلا رہے ہیں۔ دین کا مذاق اڑایا جاتا ہے، حلال و حرام کی تمیز مٹائی جا رہی ہے، اور ہم خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔
نبی ﷺ نے فرمایا تھا:
«سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ، الصَّابِرُ فِيهِمْ عَلَىٰ دِينِهِ كَالْقَابِضِ عَلَى الْجَمْرِ»
(سنن الترمذي: 2260 - حسن صحيح)
ترجمہ: "لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اس میں اپنے دین پر ثابت قدم رہنے والا ایسے ہوگا جیسے ہاتھ میں انگارہ پکڑے ہوئے ہو۔"
آج ایسا ہی ہے! دین پر عمل کرنا مشکل ہو گیا ہے، ماحول دشمن ہے، لیکن ثابت قدمی کا اجر بھی بہت بڑا ہے۔
۵. اصلاحی نکات: فتنوں کے دور میں اپنے ایمان کی حفاظت کیسے کریں؟
- قرآن سے تعلق مضبوط کریں: قرآن فتنوں میں سب سے بڑی ڈھال ہے، اسے پڑھیں، سمجھیں، اور اس کے احکام پر عمل کریں۔
- دعا کا التزام: فتنوں سے بچنے کی دعائیں صبح و شام پڑھیں، خاص طور پر: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ»۔
- جماعت سے جڑے رہیں: اہل حق کی جماعت کو نہ چھوڑیں، تنہائی میں شیطان زیادہ غالب آتا ہے۔
- شبہات سے دور رہیں: دین میں شکوک پیدا کرنے والی محفلوں، کتابوں، ویب سائٹس سے مکمل اجتناب کریں۔
- نگاہیں نیچی رکھیں: انٹرنیٹ اور میڈیا کے استعمال میں تقویٰ اپنائیں، فحش مواد سے بچنے کے لیے ٹیکنالوجی کے فلٹرز استعمال کریں۔
- نیک صحبت: ایسے دوستوں کا انتخاب کریں جو دین کی طرف بلائیں، تنہائی سے بچیں۔
- عبادات کا اہتمام: فرائض کے ساتھ ساتھ نوافل، تہجد، اور روزوں کا اہتمام کریں، یہ گناہوں سے ڈھال ہیں۔
- موت کو یاد رکھیں: دنیا کے فتنوں سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان کو یاد رہے کہ اس نے مر کر اللہ کے پاس جانا ہے۔
- اللہ پر توکل: اپنی طاقت پر نہیں، اللہ پر بھروسہ رکھیں، وہی فتنوں سے بچانے والا ہے۔
۶. اختتامی نصیحت: فتنوں سے نجات کا واحد راستہ
اللہ کے بندو! سنو! فتنوں کا یہ دور گزر جائے گا، لیکن اس دور میں ہمارا ردعمل ہماری آخرت کا فیصلہ کرے گا۔ جو شخص فتنوں میں اپنے دین کو بچا لے گا، وہی حقیقی کامیاب ہے۔
نبی کریم ﷺ نے خوشخبری دی:
«إِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ زَمَانًا، الْقَاعِدُ فِيهِ خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ فِيهِ خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي فِيهِ خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي. قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: فِتَنٌ، فَمَنْ وَجَدَ مِنْكُمْ مَلْجَأً أَوْ مَعَاذًا فَلْيَعُذْ بِهِ»
(صحيح البخاري: 7081، صحيح مسلم: 2886)
ترجمہ: "تمہارے بعد ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اس میں بیٹھا رہنے والا کھڑے رہنے والے سے بہتر ہوگا، اور کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا۔ پوچھا گیا: یا رسول اللہ! وہ کیسا زمانہ ہوگا؟ فرمایا: فتنوں کا زمانہ، تو تم میں سے جو کوئی پناہ گاہ پائے تو اس میں پناہ لے لے۔"
اس لیے فتنوں سے دور رہو، اپنے دین کو بچاؤ، اور اللہ سے مدد مانگو۔
۷. دعا
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفِتَنِ، مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ»
(صحيح مسلم: 2867)
«اللَّهُمَّ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلَىٰ دِينِكَ»
(سنن الترمذي: 3522 - حسن صحيح)
«اللَّهُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَىٰ طَاعَتِكَ»
(صحيح مسلم: 2654)
«رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ»
(سورۃ آل عمران: 8)
اللهم إنا نعوذ بك من الفتن ما ظهر منها وما بطن، اللهم قنا شر الفتن، ونجنا من المهلكات، وثبتنا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة. اللهم ردنا إليك رداً جميلاً، ولا تجعلنا من الغاوين. ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار. وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.
TAGS JSON: { "tags": ["فتنے", "فتنوں کا دور", "ثابت قدمی", "دجال", "شبہات", "میڈیا", "سوشل میڈیا", "الحاد", "ایمان", "دعا"], "category": "فتنوں کا دور", "related_month": null, "related_people": ["حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ", "حضرت محمد ﷺ"] } FEATURED IMAGE IDEA: ایک اندھیری رات میں ٹوٹے ہوئے بادل، نیچے ایک شخص ہاتھ میں قرآن مضبوطی سے پکڑے ہوئے، پس منظر میں شعلے اور دھواں، لیکن اس شخص کے گرد روشنی کا ایک حلقہ، اوپر عربی خطاطی میں "فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ" اور نیچے "ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلَىٰ دِينِكَ" لکھا ہو۔