نوجوان: اسلام کی روشنی میں جوانی کی ذمہ داریاں اور فتنوں سے حفاظت
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ الشَّبَابَ زَهْرَةَ الْحَيَاةِ وَأَوْجَبَ عَلَيْهِمِ الِاسْتِعْدَادَ لِلِقَائِهِ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، الَّذِي بُعِثَ وَأَصْحَابُهُ شَبَابٌ حَوْلَهُ، يَذُبُّونَ عَنِ الدِّينِ وَيَنْشُرُونَ الْحَقَّ. صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ الْأَشِدَّاءِ فِي ذَاتِ اللَّهِ، وَسَلَّمَ تَسْلِيمًا كَثِيرًا. أَمَّا بَعْدُ!
اللہ کے پیارے بندو! ایمان والو! آج میرا خطاب خاص طور پر ان سے ہے جن کی رگوں میں گرم خون دوڑ رہا ہے، جن کے بازوؤں میں طاقت ہے، جن کے ذہن تیز ہیں، اور جن کے دل جذبوں سے لبریز ہیں۔ میرا خطاب ہے امت کے نوجوانوں سے! ہاں، وہ نوجوان جو اس امت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، جن پر دین کی بقا اور عروج کا دارومدار ہے۔ لیکن یہی نوجوان آج فتنوں کے طوفان میں گھرے ہوئے ہیں، جنہیں شیطان اپنا ہدف بناتا ہے، اور جن سے قیامت کے دن سب سے پہلے جوانی کا حساب لیا جائے گا۔
بھائیو! آج کا خطبہ اسی اہم موضوع پر ہے۔ ہم جانیں گے کہ قرآن نے جوانی کو کیا مقام دیا، نبی ﷺ نے نوجوانوں کی قدر کیسے کی، صحابہ کرام کے نوجوانوں نے تاریخ کیسے بنائی، آج کے فتنوں سے کیسے بچا جائے، اور ہمارے نوجوان دوبارہ امت کے لیے فخر کیسے بن سکتے ہیں۔ سنو! شاید آج کا خطبہ تمہاری زندگی کا رخ بدل دے!
۱. قرآن کریم میں جوانی کی طاقت اور اس کا امتحان
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں جوانی کو بہت اہمیت دی ہے۔ دیکھو! انبیاء علیہم السلام کو اللہ نے جوانی میں ہی نبوت سے سرفراز فرمایا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا ذکر قرآن میں آیا کہ انہیں جوانی میں ہی ایک بڑے فتنے کا سامنا کرنا پڑا — عزیز مصر کی بیوی کا فتنہ۔ مگر انہوں نے صبر اور تقویٰ کا دامن تھامے رکھا:
﴿وَاسْتَبَقَا الْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِيصَهُ مِن دُبُرٍ﴾
(سورۃ يوسف: 25)
اور جب اس عورت نے انہیں ورغلانے کی کوشش کی تو حضرت یوسف علیہ السلام نے کہا:
﴿مَعَاذَ اللَّـهِ ۖ إِنَّهُ رَبِّي أَحْسَنَ مَثْوَايَ ۖ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ﴾
(سورۃ يوسف: 23)
ترجمہ: "اللہ کی پناہ! بے شک وہ میرا رب ہے جس نے مجھے بہت اچھا رکھا ہے، بے شک ظالم کامیاب نہیں ہوتے۔"
یہ ہے جوانی کی طاقت کا حقیقی مظاہرہ! جب انسان اپنی خواہشات پر قابو پا لیتا ہے، تو اللہ اسے عزت دیتا ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے قید خانہ قبول کر لیا مگر گناہ کو قبول نہیں کیا۔
اسی طرح اصحاب کہف کا واقعہ بھی قرآن میں نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہے:
﴿إِنَّهُمْ فِتْيَةٌ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَزِدْنَاهُمْ هُدًى ۞ وَرَبَطْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ إِذْ قَامُوا فَقَالُوا رَبُّنَا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾
(سورۃ الكهف: 13-14)
ترجمہ: "بے شک وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے، اور ہم نے ان کی ہدایت میں اضافہ کر دیا، اور ہم نے ان کے دلوں کو مضبوط کر دیا جب وہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: ہمارا رب وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔"
دیکھو! نوجوانوں نے باطل نظام کے سامنے حق کا اعلان کیا، اللہ نے ان کے دلوں کو مضبوط کیا، اور انہیں تاریخ میں امر کر دیا۔
۲. احادیث نبویہ میں نوجوان کی قدر اور اس سے سوال
نبی کریم ﷺ نے نوجوانوں کو بہت قدر دی، انہیں ذمہ داریاں سونپیں، اور ان کی اچھی تربیت کی۔ سنیے! قیامت کے دن سب سے پہلے پانچ چیزوں کے بارے میں سوال ہوگا، اور ان میں سے ایک جوانی ہے:
عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«لَا تَزُولُ قَدَمَا عَبْدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ عُمْرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ، وَعَنْ شَبَابِهِ فِيمَا أَبْلَاهُ، وَعَنْ مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيمَا أَنْفَقَهُ، وَعَنْ عِلْمِهِ مَاذَا عَمِلَ فِيهِ»
(سنن الترمذي: 2417 - حسن صحيح)
ترجمہ: "قیامت کے دن بندے کے قدم اس وقت تک نہیں ہٹیں گے جب تک اس سے پوچھ نہ لیا جائے: اس کی عمر کس کام میں گزاری، اس کی جوانی کس چیز میں کھپائی، اس کا مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا، اور اس کے علم پر کتنا عمل کیا۔"
کتنا سخت محاسبہ ہے! جوانی کو خاص طور پر الگ کر کے پوچھا جائے گا، کیونکہ یہ عمر کی بہترین حالت ہے، طاقت اور توانائی کا وقت ہے۔ اس میں اگر بندے نے اللہ کی عبادت کی تو سایہ عرش پانے والوں میں شامل ہوگا:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ... وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ»
(صحيح البخاري: 660، صحيح مسلم: 1031)
ترجمہ: "سات لوگ ہیں جنہیں اللہ اپنے سائے میں جگہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا... (ان میں سے) وہ نوجوان جس نے اللہ کی عبادت میں پرورش پائی۔"
کتنا بڑا اعزاز ہے! وہ نوجوان جس کی پوری جوانی اللہ کی فرماں برداری میں گزری، قیامت کی تپتی دھوپ میں عرش کا سایہ نصیب ہوگا۔
۳. صحابہ کرام کے نوجوان: اسلام کے ہیرو
بھائیو! اسلام کی تاریخ نوجوانوں کی قربانیوں سے بھری ہوئی ہے۔ دیکھو! حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دس سال کی عمر میں اسلام قبول کیا، اور ہجرت کی رات نبی ﷺ کے بستر پر سو کر اپنی جان کو خطرے میں ڈال دیا۔ یہ تھی جوانی کی بہادری!
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو نبی ﷺ نے سترہ یا اٹھارہ سال کی عمر میں اس فوج کا کمانڈر بنایا جس میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما جیسے بزرگ شامل تھے۔ یہ تھی نوجوانوں پر اعتماد!
حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ مکہ کے سب سے نازک پروردہ نوجوان تھے، لیکن جب اسلام قبول کیا تو سب کچھ چھوڑ دیا۔ والدہ نے گھر سے نکال دیا، مگر وہ دین پر جمے رہے۔ احد میں شہید ہوئے تو پاؤں میں گھاس باندھی گئی کیونکہ کفن بھی پورا نہ تھا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک نوجوان چرواہے تھے، لیکن نبی ﷺ نے ان کی قابلیت دیکھ کر انہیں قرآن کا استاد بنا دیا، اور فرمایا: "جو قرآن کو اسی طرح پڑھنا چاہے جیسے نازل ہوا، وہ ابن مسعود سے سیکھے۔"
یہ سب نوجوان تھے، مگر انہوں نے دین کی خاطر سب کچھ قربان کر دیا۔
۴. موجودہ دور میں نوجوانوں کو درپیش فتنے
اللہ کے بندو! آج کے نوجوان کس طوفان میں گھرے ہیں؟ موبائل، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا — یہ وہ ہتھیار ہیں جن سے شیطان نے نوجوانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ فحش مواد، گانے باجے، فلمیں، ڈرامے، گیمنگ کی لت، بری صحبت، بے پردگی، مخلوط ماحول — یہ سب جوانی کی بربادی کا سامان ہیں۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
«مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ»
(صحيح البخاري: 5096، صحيح مسلم: 2740)
ترجمہ: "میں نے اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں سے بڑھ کر کوئی نقصان دہ فتنہ نہیں چھوڑا۔"
یہ فتنہ خاص طور پر نوجوانوں کے لیے بہت بڑا امتحان ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ بے مقصدیت، الحاد، ڈپریشن، اور دین سے دوری بھی نوجوانوں کو کھوکھلا کر رہی ہے۔
نوجوانو! تم سے گزارش ہے کہ اپنی جوانی کو غنیمت جانو، اس سے پہلے کہ بڑھاپا آ جائے۔ نبی ﷺ نے فرمایا:
«اغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ: شَبَابَكَ قَبْلَ هَرَمِكَ، وَصِحَّتَكَ قَبْلَ سَقَمِكَ، وَغِنَاكَ قَبْلَ فَقْرِكَ، وَفَرَاغَكَ قَبْلَ شُغْلِكَ، وَحَيَاتَكَ قَبْلَ مَوْتِكَ»
(صحيح البخاري تعليقاً، الحاكم: 4/306 - صحيح)
ترجمہ: "پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو: جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، صحت کو بیماری سے پہلے، مالداری کو غربت سے پہلے، فرصت کو مشغولیت سے پہلے، اور زندگی کو موت سے پہلے۔"
۵. اصلاحی نکات: نوجوان اپنی جوانی کی حفاظت کیسے کریں؟
- عبادت کی عادت: نمازوں کی پابندی، خاص کر فجر کی نماز باجماعت، یہ پورے دن کی حفاظت کرتی ہے۔
- قرآن سے تعلق: روزانہ کم از کم کچھ آیات کی تلاوت، ترجمہ اور تفسیر پڑھیں، یہ دل کو مضبوط کرتا ہے۔
- نیک صحبت: ایسے دوست بنائیں جو دین کی طرف لے جائیں، بری صحبت سے فرار کریں۔
- نگاہوں کی حفاظت: انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر نظر نیچی رکھیں، فحش مواد سے خود کو بچائیں، یہ روح کو تباہ کرتا ہے۔
- روزے رکھیں: نبی ﷺ نے نوجوانوں کو روزے رکھنے کی نصیحت فرمائی، یہ شہوت کو قابو کرتا ہے۔
- جلد نکاح: اگر استطاعت ہو تو نکاح کر لیں، یہ بے شمار فتنوں سے بچاؤ ہے۔
- مشق و ریاضت: جسمانی ورزش کریں، کھیل کود میں حصہ لیں، لیکن حدود میں رہتے ہوئے۔
- دعا: ہر وقت یہ دعا مانگیں: «اللَّهُمَّ طَهِّرْ قَلْبِي، وَاحْفَظْ فَرْجِي»۔
- وقت کا صحیح استعمال: اپنے دن کا ایک شیڈول بنائیں، فضول چیزوں سے پرہیز کریں، کوئی ہنر سیکھیں۔
- مرشد یا استاد: کسی نیک عالم یا بزرگ کی صحبت اختیار کریں، جو آپ کی رہنمائی کر سکیں۔
۶. اختتامی نصیحت: تم کل کے قائد ہو!
نوجوانو! سنو! تم وہ ہو جن کے ہاتھوں میں اس امت کا مستقبل ہے۔ اگر تم نے اپنی جوانی کو اللہ کے لیے وقف کر دیا، تو تاریخ تمہیں یاد رکھے گی، جیسے اصحاب کہف کو یاد رکھا گیا، جیسے حضرت علی اور حضرت مصعب کو یاد رکھا گیا۔ اور اگر تم نے شیطان کے بہکاوے میں آ کر اپنی جوانی کو گناہوں میں ضائع کر دیا، تو قیامت کے دن تم سے اس کا حساب ہوگا، اور وہ دن بہت سخت ہے۔
نبی ﷺ نے نوجوانوں کو خوشخبری دی:
«إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الشَّابَّ التَّائِبَ»
(مسند أحمد: 4/151 - صحيح)
ترجمہ: "بے شک اللہ توبہ کرنے والے نوجوان سے محبت کرتا ہے۔"
تو اگر تم سے غلطیاں ہوئی ہیں، آج ہی توبہ کرو، اپنی زندگی کا رخ بدلو، اور اللہ کی محبت کے مستحق بنو۔
۷. دعا
«اللَّهُمَّ أَصْلِحْ شَبَابَ الْمُسْلِمِينَ، وَاهْدِهِمْ سُبُلَ السَّلَامِ، وَجَنِّبْهُمُ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ»
«اللَّهُمَّ طَهِّرْ قُلُوبَهُمْ، وَاحْفَظْ فُرُوجَهُمْ، وَارْزُقْهُمُ الصُّحْبَةَ الصَّالِحَةَ»
«اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ»
(سورۃ البقرہ: 201)
«اللَّهُمَّ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلَىٰ دِينِكَ»
(سنن الترمذي: 3522 - حسن صحيح)
اللهم أعز الإسلام والمسلمين بشبابنا، واجعلهم قرة عين لنا، وأعذهم من شرور الفتن، ووفقهم لطاعتك. اللهم أصلح حالهم، ويسر أمورهم، واغفر لهم ولوالديهم. ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار. وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.
TAGS JSON: { "tags": ["نوجوان", "جوانی", "فتنے", "صحابہ", "یوسف علیہ السلام", "اصحاب کہف", "توبہ", "شباب", "تربیت", "نسل نو"], "category": "نوجوان", "related_month": null, "related_people": ["حضرت یوسف علیہ السلام", "حضرت علی رضی اللہ عنہ", "حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ", "حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ"] } FEATURED IMAGE IDEA: ایک نوجوان مسجد میں ہاتھ اٹھائے دعا کر رہا ہو، پس منظر میں قرآن اور تلوار (علم اور طاقت کی علامت)، آسمان سے روشنی کی کرن اتر رہی ہو، اوپر عربی خطاطی میں "إِنَّهُمْ فِتْيَةٌ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ" اور نیچے "وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ" لکھا ہو۔