عورت کا مقام: اسلام کی روشنی میں عزت، حقوق اور ذمہ داریاں
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَرَّمَ الْإِنْسَانَ، وَجَعَلَ لِلْمَرْأَةِ مَكَانَةً رَفِيعَةً، وَأَوْصَى بِهَا خَيْرًا، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، الَّذِي قَالَ: "اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا"، وَجَعَلَ الْجَنَّةَ تَحْتَ أَقْدَامِ الْأُمَّهَاتِ. صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَأَزْوَاجِهِ الطَّاهِرَاتِ، وَسَلَّمَ تَسْلِيمًا كَثِيرًا. أَمَّا بَعْدُ!
اللہ کے نیک بندو! ایمان والو! آج کا موضوع وہ ہے جس پر اکثر یا تو زیادتی کی جاتی ہے یا کوتاہی۔ وہ موضوع جس پر مغرب نے اپنی جاہلیت پھیلائی اور بعض مسلمانوں نے اپنی غفلت دکھائی۔ وہ موضوع ہے عورت کا مقام، اس کی عزت، اس کے حقوق، اور اس کی ذمہ داریاں اسلام کی روشنی میں۔
بھائیو! اسلام نے عورت کو وہ مقام دیا جو کسی اور مذہب یا تہذیب نے نہیں دیا۔ اسے ماں کے قدموں میں جنت رکھی، بیٹی کو رحمت بنایا، بیوی کو سکون کا ذریعہ کہا، اور بہن کو عزت کا تاج پہنایا۔ مگر افسوس کہ آج مسلمان بھی اس کی قدر کھو بیٹھے ہیں۔ آئیے قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھیں کہ اسلام میں عورت کا حقیقی مقام کیا ہے۔
۱. قرآن کریم میں عورت کی عزت و منزلت
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں عورت اور مرد کو تخلیق اور اجر کے اعتبار سے برابر قرار دیا۔ سنیے! رب العالمین کا فرمان ہے:
﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً﴾
(سورۃ النساء: 1)
ترجمہ: "اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا، اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں۔"
یعنی اصل میں مرد اور عورت ایک ہی اصل سے ہیں، کوئی کسی سے کمتر یا برتر نہیں، مگر ان کے فرائض مختلف ہیں۔
اعمال کے اجر میں بھی مرد و عورت برابر ہیں:
﴿فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنكُم مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ ۖ بَعْضُكُم مِّن بَعْضٍ﴾
(سورۃ آل عمران: 195)
ترجمہ: "پس ان کے رب نے ان کی دعا قبول کر لی کہ میں کسی عمل کرنے والے کا عمل ضائع نہیں کرتا، خواہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے سے ہو۔"
مومن مرد اور مومن عورت کی صفات کا ذکر بھی قرآن میں برابر کیا گیا:
﴿إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ... أَعَدَّ اللَّـهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا﴾
(سورۃ الأحزاب: 35)
ترجمہ: "بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، مومن مرد اور مومن عورتیں، فرماں بردار مرد اور فرماں بردار عورتیں، سچے مرد اور سچی عورتیں، صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں... اللہ نے ان سب کے لیے بخشش اور بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔"
کتنی خوبصورت مساوات ہے! دین کے ہر شعبے میں عورت مرد کے شانہ بشانہ ہے۔
۲. احادیث نبویہ میں عورت کی عزت اور حقوق
نبی کریم ﷺ نے عورت کو کس قدر عزت دی، اس کا اندازہ ان احادیث سے لگائیے۔ سنیے!
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا، فَإِنَّهُنَّ عَوَانٌ عِنْدَكُمْ»
(سنن الترمذي: 1163 - حسن صحيح، سنن ابن ماجه: 1851)
ترجمہ: "عورتوں کے ساتھ بھلائی کی وصیت قبول کرو، بے شک وہ تمہارے پاس امانت ہیں۔"
یہ حجۃ الوداع کا خطبہ ہے، جہاں آپ ﷺ نے زندگی کے آخری ایام میں امت کو عورتوں کے بارے میں وصیت فرمائی۔
ماں کا درجہ باپ سے تین گنا زیادہ ہے، جیسا کہ پہلے بیان ہوا:
«أُمُّكَ، ثُمَّ أُمُّكَ، ثُمَّ أُمُّكَ، ثُمَّ أَبُوكَ»
(صحيح البخاري: 5971، صحيح مسلم: 2548)
بیٹیوں کی پرورش کو جنت کا ٹکٹ بنایا:
«مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْنِ حَتَّى تَبْلُغَا، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَا وَهُوَ كَهَاتَيْنِ» وَضَمَّ أَصَابِعَهُ
(صحيح مسلم: 2631)
ترجمہ: "جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائیں، تو وہ قیامت کے دن میرے ساتھ اس طرح آئے گا، اور آپ نے اپنی انگلیاں ملائیں۔"
بیوی کے بارے میں فرمایا:
«خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي»
(سنن الترمذي: 3895 - حسن صحيح)
ترجمہ: "تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے بہترین ہوں۔"
۳. عورت کے مختلف روپ: ماں، بیٹی، بیوی، بہن
ماں: اس کے قدموں تلے جنت ہے۔ اس کی خدمت جہاد سے بھی افضل ہے۔ ایک صحابی نے نبی ﷺ سے جہاد کی اجازت چاہی تو آپ نے پوچھا: "کیا تمہاری ماں زندہ ہے؟" کہا: ہاں۔ فرمایا: "انہی کے قدموں میں جنت ڈھونڈو۔" (سنن النسائي: 3104 - صحيح)
بیٹی: بیٹی کو بوجھ نہ سمجھو، یہ اللہ کی رحمت ہے۔ زمانہ جاہلیت میں لڑکیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا، قرآن نے اس کی مذمت کی:
﴿وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ ۞ بِأَيِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ﴾
(سورۃ التكوير: 8-9)
بیوی: وہ شوہر کے لیے سکون، محبت اور رحمت ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے لباس کی مانند ہیں:
﴿هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ﴾
(سورۃ البقرہ: 187)
بہن: بہن کے حقوق بھی اہم ہیں، اسے وراثت میں حصہ دار بنایا، اس کی عصمت کی حفاظت کی، اس کی شادی کا اہتمام کیا۔
۴. پردہ: عورت کی عزت کا حصار
بھائیو! اسلام نے عورت کی عصمت و عزت کی حفاظت کے لیے پردے کا حکم دیا، جو اسے ظاہری و باطنی فتنوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ قرآن کا حکم سنیے:
﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورًا رَّحِيمًا﴾
(سورۃ الأحزاب: 59)
ترجمہ: "اے نبی! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مسلمان عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی چادریں اپنے اوپر لٹکا لیا کریں، یہ اس بات کے قریب تر ہے کہ وہ پہچان لی جائیں (کہ وہ شریف عورتیں ہیں) تو انہیں ایذاء نہ دی جائے، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔"
پردہ قید نہیں، حفاظت ہے۔ یہ عورت کو بازار کی چیز بننے سے بچاتا ہے، اسے عزت دیتا ہے، اور فتنوں سے دور رکھتا ہے۔
۵. موجودہ دور میں عورت کے مسائل اور اسلام کا حل
اللہ کے بندو! آج مغربی پروپیگنڈے نے عورت کو آزادی کے نام پر بے پردگی، مخلوط محفلوں اور معاشی استحصال کا شکار بنا دیا ہے۔ عورت کا جسم اشتہارات کی زینت بنا، اس کی عزت کو پامال کیا جا رہا ہے، اور اسے "آزاد عورت" کہا جا رہا ہے، حالانکہ یہ حقیقی آزادی نہیں، غلامی ہے۔
دوسری طرف بعض مسلمان معاشروں میں عورت پر ظلم ہوتا ہے، اسے وراثت سے محروم کیا جاتا ہے، جہیز کے لیے ستایا جاتا ہے، طلاق کو کھلونا بنا لیا گیا ہے۔ یہ سب اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔
اسلام کا راستہ میانہ روی ہے: عورت کو تعلیم دو، دین سکھاؤ، پردے میں رکھو، اس کی عزت کرو، اس کے حقوق ادا کرو، اور اسے خاندان کی بنیاد سمجھو۔
۶. اصلاحی نکات: عورت کے ساتھ حسنِ سلوک
- ماں کی خدمت: ماں کو کبھی بڑھاپے میں تنگ نہ کرو، اس کی خدمت عبادت سمجھو۔
- بیٹیوں کی قدر: بیٹی کو رحمت جانو، اس کی تعلیم و تربیت پر توجہ دو، اس کی شادی میں آسانی کرو۔
- بیوی سے اچھا سلوک: گھر میں نرمی کرو، اس کی غلطیوں کو معاف کرو، اس کی ضروریات کا خیال رکھو۔
- مہر ادا کرو: مہر عورت کا حق ہے، اسے خوش دلی سے دو، اس کا دباؤ نہ ڈالو۔
- پردے کا اہتمام: اپنی خواتین کو پردے کی تلقین کرو، اور خود بھی نگاہیں نیچی رکھو۔
- وراثت کا حق: بیٹیوں، بہنوں، بیواؤں کو ان کا شرعی حق دو، انہیں محروم نہ کرو۔
- طلاق سے گریز: طلاق کو ہلکا نہ سمجھو، یہ اللہ کے نزدیک مبغوض ترین حلال ہے۔
- تعلیم و تربیت: عورتوں کو دینی تعلیم دو، قرآن و حدیث سکھاؤ، یہ ان کا حق ہے۔
- گھریلو تشدد سے بچاؤ: عورت پر ہاتھ نہ اٹھاؤ، نبی ﷺ نے کبھی کسی عورت کو نہیں مارا۔
۷. اختتامی نصیحت: عورت کا احترام ایمان کی علامت ہے
اللہ کے بندو! سنو! عورت کے ساتھ تمہارا برتاؤ تمہارے ایمان کا پیمانہ ہے۔ جس نے ماں کی خدمت کی، وہ کامیاب ہوا۔ جس نے بیٹی کو بوجھ سمجھا، وہ جاہلیت میں جی رہا ہے۔ جس نے بیوی کو پیار دیا، وہ نبی ﷺ کی سنت پر ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
«أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا، وَخِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسَائِهِمْ»
(سنن الترمذي: 1162 - حسن صحيح)
ترجمہ: "ایمان میں سب سے کامل وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں، اور تم میں بہترین وہ ہے جو اپنی عورتوں کے لیے بہترین ہو۔"
۸. دعا
«رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا»
(سورۃ الفرقان: 74)
«اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا بِرَّ أُمَّهَاتِنَا، وَاحْفَظْ بَنَاتِنَا، وَأَكْرِمْ أَزْوَاجَنَا، وَارْحَمْ أَخَوَاتِنَا»
«اللَّهُمَّ أَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا، وَاجْعَلْ بُيُوتَنَا مَنَازِلَ رَحْمَةٍ وَسَكِينَةٍ»
اللهم ارزق نساءنا العفة والحياء، وجنبهن الفواحش، وارزقهن العمل بكتابك وسنة نبيك. اللهم حرر نساء المسلمين من ظلم الظالمين، ورده إليهن حقوقهن. اللهم أصلح نساء المسلمين وأبناءهم. ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار. وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.
TAGS JSON: { "tags": ["عورت", "اسلام میں عورت", "حقوق", "ماں", "بیٹی", "بیوی", "پردہ", "حجاب", "عصمت", "آزادی"], "category": "عورت", "related_month": null, "related_people": ["حضرت محمد ﷺ", "حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا", "حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا", "حضرت مریم علیہا السلام"] } FEATURED IMAGE IDEA: ایک مسلمان عورت حجاب میں، اس کے گرد روشنی کا ہالہ، پس منظر میں مسجد اور گھر کا پرسکون منظر، اوپر عربی خطاطی میں "وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ" اور نیچے "اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا" لکھا ہو۔