دنیا کی حقیقت: بے ثباتی، دھوکہ اور آخرت کی فکر
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ الدُّنْيَا دَارَ فَنَاءٍ، وَالْآخِرَةَ دَارَ بَقَاءٍ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، جَعَلَ الْآخِرَةَ خَيْرًا وَأَبْقَىٰ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، الَّذِي نَامَ عَلَى الْحَصِيرِ حَتَّى أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ، وَقَالَ: "مَا لِي وَلِلدُّنْيَا؟". صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ الَّذِينَ فَهِمُوا حَقِيقَةَ الدُّنْيَا فَزَهِدُوا فِيهَا وَرَغِبُوا فِي الْآخِرَةِ. أَمَّا بَعْدُ!
اللہ کے نیک بندو! ایمان والو! ذرا اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دو! تم صبح اٹھتے ہو تو تمہاری فکر کس چیز کی ہوتی ہے؟ دفتر کی؟ کاروبار کی؟ تنخواہ کی؟ گھر کی؟ بچوں کی؟ ان سب میں کوئی حرج نہیں، لیکن یہ بتاؤ کہ ان میں سے کتنی فکر اس گھر کے لیے ہوتی ہے جو کبھی نہیں ٹوٹے گا؟ کتنی فکر اس زندگی کے لیے ہوتی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگی؟ کتنی فکر اس دولت کے لیے ہوتی ہے جو کبھی کم نہیں ہوگی؟ بہت کم! بہت بہت کم! کیونکہ ہم اس دنیا کی محبت میں ایسے کھو گئے ہیں جیسے ہمیں یہیں ہمیشہ رہنا ہے۔
بھائیو! آج کا خطبہ بہت کڑوا ہے، مگر بہت ضروری ہے۔ یہ اس دنیا کی حقیقت کے بارے میں ہے جس کے پیچھے ہم پاگلوں کی طرح بھاگ رہے ہیں، جبکہ یہ دنیا ایک دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔ ہم جانیں گے کہ قرآن نے اس دنیا کو کیا کہا، نبی ﷺ نے اسے کیا سمجھایا، صحابہ کرام نے اس سے کیا سبق سیکھا، اور ہم نے اسے کیا بنا لیا ہے۔
۱. قرآنِ کریم میں دنیا کی حقیقت: دھوکے کا سامان
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں جگہ جگہ دنیا کی بے حقیقتی اور آخرت کی اہمیت کو بیان فرمایا۔ سنیے! رب العالمین نے دنیا کو کیا کہا:
﴿اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ ۖ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا ۖ وَفِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانٌ ۚ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ﴾
(سورۃ الحديد: 20)
ترجمہ: "جان لو کہ دنیا کی زندگی کھیل، تماشہ، زینت، آپس میں فخر، اور مال و اولاد میں زیادتی کی خواہش کے سوا کچھ نہیں۔ اس کی مثال بارش کی سی ہے جس کی پیداوار کسانوں کو بھلی لگتی ہے، پھر وہ خشک ہو جاتی ہے تو تم اسے زرد دیکھتے ہو، پھر وہ چورا چورا ہو جاتی ہے۔ اور آخرت میں سخت عذاب ہے اور اللہ کی طرف سے بخشش اور رضا مندی بھی۔ اور دنیا کی زندگی دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔"
کتنی جامع آیت ہے! دنیا کو پانچ چیزوں میں محدود کر دیا: کھیل، تماشہ، زینت، فخر، اور زیادتی کی خواہش۔ پھر اس کی مثال ایسی بارش سے دی جو تھوڑی دیر کی ہریالی دکھا کر سب کچھ خشک کر دیتی ہے۔ اور پھر فرمایا کہ آخرت میں یا تو سخت عذاب ہے یا مغفرت — ان دونوں میں سے جو چاہو تیاری کر لو!
دوسری جگہ اللہ نے ان لوگوں کو ملامت کی جو دنیا کی زندگی پر مغرور ہیں:
﴿وَفَرِحُوا بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مَتَاعٌ﴾
(سورۃ الرعد: 26)
ترجمہ: "اور وہ دنیا کی زندگی پر خوش ہو گئے، حالانکہ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں بہت تھوڑا سا فائدہ ہے۔"
اسی طرح اللہ نے آخرت کی زندگی کو بہتر اور باقی رہنے والی قرار دیا:
﴿وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ﴾
(سورۃ الأعلى: 17)
ترجمہ: "اور آخرت بہتر ہے اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔"
غور کرو! آخرت "بہتر" بھی ہے اور "باقی" بھی۔ دنیا تھوڑی سی بھلی لگے تو "باقی" نہیں، اور "بہتر" بھی نہیں، صرف دھوکہ ہے۔
۲. احادیثِ نبویہ: نبی ﷺ کا زہد اور دنیا کی بے وقعتی
نبی کریم ﷺ نے دنیا کی مثال ایک مسافر سے دی جو درخت کے سائے میں تھوڑی دیر آرام کر کے آگے بڑھ جاتا ہے۔ سنیے!
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْكِبِي فَقَالَ:
«كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ، أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ»
(صحيح البخاري: 6416)
ترجمہ: "دنیا میں اس طرح رہو جیسے تم ایک مسافر ہو، یا کوئی راہ چلتا ہوا۔"
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے: "جب شام ہو تو صبح کا انتظار نہ کرو، اور جب صبح ہو تو شام کا انتظار نہ کرو، اور اپنی صحت سے بیماری کے لیے، اور اپنی زندگی سے موت کے لیے کچھ تیاری کر لو۔" (بخاری: 6416)
نبی ﷺ نے خود دنیا سے بے رغبتی کا کیا نمونہ دکھایا؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن وہ نبی ﷺ کے پاس گئے تو دیکھا کہ آپ چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں، اور چٹائی کے نشانات آپ کے پہلو پر پڑ گئے ہیں۔ ان کی آنکھیں بھر آئیں۔ نبی ﷺ نے پوچھا: "کیا ہوا عمر؟" عرض کیا: "یا رسول اللہ! کسریٰ اور قیصر ریشم اور مخمل میں رہتے ہیں، اور آپ اللہ کے رسول ہو کر چٹائی پر لیٹے ہیں!"
«أَمَا تَرْضَىٰ أَنْ تَكُونَ لَهُمُ الدُّنْيَا وَلَنَا الْآخِرَةُ؟»
(صحيح البخاري: 4913، صحيح مسلم: 1479)
ترجمہ: "کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ ان کے لیے دنیا ہو اور ہمارے لیے آخرت؟"
ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:
«لَوْ كَانَتِ الدُّنْيَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللَّهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ مَا سَقَىٰ كَافِرًا مِنْهَا شَرْبَةَ مَاءٍ»
(سنن الترمذي: 2320 - صحيح)
ترجمہ: "اگر دنیا اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو وہ کسی کافر کو اس میں سے ایک گھونٹ پانی بھی نہ پلاتا۔"
کتنی حقیر ہے یہ دنیا! جسے کفار کو دے کر اللہ نے بتا دیا کہ اس کی کوئی وقعت نہیں۔
۳. صحابہ و صالحین کا زہد: عملی نمونے
بھائیو! دیکھو صحابہ کرام نے اس حدیث کو کیسے اپنی زندگیوں میں نافذ کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ ہونے کے باوجود کپڑے بیچنے بازار جاتے تھے۔ ان کے پاس جب مال آتا تو سب راہِ خدا میں خرچ کر دیتے۔ انتقال کے وقت انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: "یہ اونٹنی جو ہمارے پاس ہے، یہ برتن جو ہم استعمال کرتے ہیں، یہ سب بیت المال کو لوٹا دو۔"
حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب خلیفہ تھے، ایک بار دیر تک خطبہ دے رہے تھے، ان کے کرتے پر چودہ پیوند لگے ہوئے تھے، جن میں سے ایک سرخ چمڑے کا تھا۔ یہ تھی ان کی دنیا!
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "دنیا نے ہماری طرف پیٹھ کر لی ہے اور آخرت نے ہماری طرف منہ۔ تو تم اس کی طرف کیوں متوجہ ہو جو پیٹھ پھیر چکی، اور اسے کیوں چھوڑ رہے ہو جو منہ کر کے قریب آ گئی ہے؟"
تابعی بزرگ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے: "میں نے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جن کے نزدیک دنیا اس ریت سے بھی زیادہ حقیر تھی جس پر تم چلتے ہو۔"
۴. موجودہ دور میں دنیا کی محبت اور اس کا انجام
اللہ کے بندو! آج ہم پر کیا گزری؟ ہم نے دنیا کو اپنا مقصد بنا لیا ہے۔ ہر صبح ہماری فکر یہ ہوتی ہے کہ بینک بیلنس کتنا ہے، گاڑی کون سی ہے، گھر کیسا ہے، موبائل کون سا ہے۔ ہم نے آخری گھر کے لیے کچھ نہیں بھیجا، مگر اس گھر کے لیے جو دو دن میں ڈھے گا، ساری عمر کھپا دی۔
سوشل میڈیا نے ہمیں دوسروں کی ظاہری زندگیوں سے جلا دیا ہے۔ فخرو تکاثر کی دوڑ میں ہم اتنے مصروف ہیں کہ قبر کی تنہائی بھول گئے۔ ہم موت کو بھول گئے، آخرت کو بھول گئے، حساب کتاب کو بھول گئے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
«مَا الْفَقْرَ أَخْشَىٰ عَلَيْكُمْ، وَلَٰكِنْ أَخْشَىٰ عَلَيْكُمْ أَنْ تُبْسَطَ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا كَمَا بُسِطَتْ عَلَىٰ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَتَنَافَسُوهَا كَمَا تَنَافَسُوهَا، وَتُهْلِكَكُمْ كَمَا أَهْلَكَتْهُمْ»
(صحيح البخاري: 3158، صحيح مسلم: 2961)
ترجمہ: "مجھے تم پر محتاجی کا خوف نہیں، بلکہ مجھے یہ خوف ہے کہ تم پر دنیا اس طرح پھیلا دی جائے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر پھیلائی گئی، پھر تم اس میں اسی طرح مقابلہ کرنے لگو جیسے انہوں نے کیا، اور وہ تمہیں اسی طرح ہلاک کر دے جیسے اس نے انہیں ہلاک کیا۔"
دیکھو! یہی ہو رہا ہے۔ دنیا پھیلی ہوئی ہے، اور ہم مسابقت میں لگے ہیں، اور یہ ہمیں ہلاک کر رہی ہے۔
۵. اصلاحی نکات: دنیا میں رہتے ہوئے آخرت والے کیسے بنیں؟
- دنیا کو مقصد نہ بناؤ: دنیا کو ہاتھ میں رکھو، دل میں نہیں۔ اسے آخرت کی کھیتی سمجھو۔
- موت کو یاد رکھو: روزانہ موت کا تصور کرو، یہ دنیا کی محبت کو توڑ دے گا۔
- قبر کی زیارت کرو: قبرستان جاؤ، عبرت پکڑو، وہاں جا کر سوچو کہ یہ لوگ بھی کبھی ہماری طرح دنیا میں مگن تھے۔
- آخرت کا توشہ جمع کرو: تسبیحات، صدقات، نوافل، قرآن کی تلاوت — یہ وہ دولت ہے جو قبر میں ساتھ جائے گی۔
- فضول خرچی چھوڑو: جس چیز کی ضرورت نہ ہو اسے نہ خریدو، اسراف سے بچو، اور بچت کو آخرت میں لگاؤ۔
- غریبوں اور مسکینوں کے پاس جاؤ: ان کی زندگی دیکھو تاکہ تمہیں اپنی زندگی کی قدر ہو، اور شکر بڑھے۔
- ہر نعمت کو اللہ کا تحفہ سمجھو: مال، اولاد، صحت — سب اللہ کی امانت ہیں، ان میں غرور نہ کرو۔
- دعا مانگو: «اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا» — اے اللہ! دنیا کو ہماری سب سے بڑی فکر نہ بنا۔
۶. اختتامی نصیحت: دنیا فانی ہے، آخرت باقی ہے
اللہ کے بندو! سنو! یہ دنیا جنت اور جہنم کے سوا کوئی تیسری جگہ نہیں۔ یہ دارالعمل ہے، دارالجزا نہیں۔ یہاں کی خوشی دو دن کی ہے، یہاں کا غم بھی دو دن کا ہے۔ اصل کامیابی جنت ہے، اصل ناکامی جہنم ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ كَانَتِ الْآخِرَةُ هَمَّهُ جَعَلَ اللَّهُ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ، وَجَمَعَ لَهُ شَمْلَهُ، وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ، وَمَنْ كَانَتِ الدُّنْيَا هَمَّهُ جَعَلَ اللَّهُ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَفَرَّقَ عَلَيْهِ شَمْلَهُ، وَلَمْ يَأْتِهِ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا مَا كُتِبَ لَهُ»
(سنن الترمذي: 2465 - صحيح)
ترجمہ: "جس کی فکر آخرت ہو، اللہ اس کے دل کو غنی کر دیتا ہے، اس کے بکھرے ہوئے کام جمع کر دیتا ہے، اور دنیا اس کے پاس ذلیل ہو کر آتی ہے۔ اور جس کی فکر دنیا ہو، اللہ اس کی محتاجی اس کی آنکھوں کے سامنے رکھ دیتا ہے، اس کے کام بکھیر دیتا ہے، اور دنیا میں سے اسے صرف اتنا ملتا ہے جو اس کے مقدر میں لکھا ہے۔"
تو فیصلہ کرو! تمہیں کس کی فکر ہے؟ آخرت کی یا دنیا کی؟
۷. دعا
«اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا، وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا، وَلَا تُسَلِّطْ عَلَيْنَا مَنْ لَا يَرْحَمُنَا»
(سنن الترمذي: 3502 - حسن)
ترجمہ: "اے اللہ! دنیا کو ہماری سب سے بڑی فکر نہ بنا، نہ ہمارے علم کی انتہا بنا، اور ہم پر کسی ایسے شخص کو مسلط نہ فرما جو ہم پر رحم نہ کرے۔"
«اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ»
(سورۃ البقرہ: 201)
«اللَّهُمَّ زَهِّدْنَا فِي الدُّنْيَا، وَرَغِّبْنَا فِي الْآخِرَةِ، وَحَبِّبْ إِلَيْنَا لِقَاءَكَ»
اللهم ارزقنا حبك، وارزقنا الاستعداد للقائك، ولا تجعل الدنيا أكبر همنا. اللهم من كان منا مغرورًا بالدنيا فبصره بعيوبها، ومن كان غافلاً عن الآخرة فنبهه بقرب أجله. اللهم توفنا مسلمين، وألحقنا بالصالحين، غير خزايا ولا مفتونين. ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار. وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.
TAGS JSON: { "tags": ["دنیا", "آخرت", "زہد", "موت", "غرور", "فخرو تکاثر", "مسافر", "محبت دنیا", "آخرت کی تیاری", "فکر آخرت"], "category": "اصلاحی بیانات", "related_month": null, "related_people": ["حضرت محمد ﷺ", "حضرت عمر رضی اللہ عنہ", "حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ", "حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ"] } FEATURED IMAGE IDEA: ایک مسافر ایک درخت کے نیچے تھوڑی دیر کے لیے سایہ لینے بیٹھا ہو، پس منظر میں ایک طویل سڑک اور غروب ہوتا سورج، قریب ہی قبرستان کے کچھ نشانات، اوپر عربی خطاطی میں "كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ" اور نیچے "وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ" لکھا ہو۔