سود: معیشت کی تباہی اور اللہ و رسول سے اعلانِ جنگ
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحَلَّ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا، وَجَعَلَ الْحَلَالَ بَرَكَةً وَالْحَرَامَ وَبَالاً، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، الَّذِي لَعَنَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ. صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ الَّذِينَ تَرَكُوا أَمْوَالَ الرِّبَا خَوْفًا مِنَ اللَّهِ. أَمَّا بَعْدُ!
اللہ کے نیک بندو! ایمان والو! ذرا رک جاؤ اور اپنے مال و کاروبار پر نظر ڈالو! جس رزق کو تم بڑھانے کے لیے سود کا سہارا لیتے ہو، کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ کے نزدیک اس کا انجام کیا ہے؟ کیا تم جانتے ہو کہ سود کا لین دین اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کے برابر ہے؟ آج کا خطبہ ایک ایسے گناہ کے بارے میں ہے جسے اکثر لوگ معمولی سمجھتے ہیں، حالانکہ قرآن میں اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلانِ جنگ قرار دیا گیا ہے۔ وہ گناہ ہے سود، ربا، وہ معاشی لعنت جو معاشروں کو کھوکھلا کر دیتی ہے اور دلوں کو سخت۔
بھائیو! سود صرف بینک کا قرضہ نہیں، ہر وہ اضافہ جو قرض پر شرط کے ساتھ لیا جائے، وہ سود ہے۔ آج ہم اس کی سنگینی قرآن و سنت کی روشنی میں جانیں گے، اور یہ بھی سمجھیں گے کہ ہم خود کو اس وبا سے کیسے بچا سکتے ہیں۔ غور سے سنو! ہو سکتا ہے یہ خطبہ تمہیں جہنم کی آگ سے بچا لے۔
۱. قرآنِ کریم میں سود کی حرمت: اللہ کا اعلانِ جنگ
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں سود کو حرام قرار دینے کے لیے بتدریج آیات نازل فرمائیں، اور آخر میں انتہائی سخت لہجہ اختیار کیا۔ سنیے! رب العالمین کا فرمان ہے:
﴿الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا ۗ وَأَحَلَّ اللَّـهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾
(سورۃ البقرہ: 275)
ترجمہ: "جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ قیامت کے دن اس شخص کی طرح کھڑے ہوں گے جسے شیطان نے چھو کر دیوانہ بنا دیا ہو۔ یہ اس لیے کہ وہ کہتے تھے: تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام کیا ہے۔"
اللہ اکبر! سود خور کا حشر دیوانے جیسا ہوگا۔ اس کی عقل، اس کا اطمینان سب ختم ہو جائے گا۔ وہ قیامت میں اس طرح اٹھے گا کہ لوگ پہچان لیں گے کہ یہ سود خور ہے۔
پھر اللہ نے ایمان والوں کو حکم دیا کہ جو سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو، اور اگر نہ چھوڑو تو تیار ہو جاؤ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کے لیے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ۞ فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ﴾
(سورۃ البقرہ: 278-279)
ترجمہ: "اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو، اگر تم مومن ہو۔ پس اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کا اعلان سن لو، اور اگر تم توبہ کر لو تو تمہارا اصل مال تمہارا ہے، نہ تم ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے۔"
غور کرو! قرآن میں کسی اور گناہ کے لیے اتنی سخت وعید نہیں آئی۔ شرک کے بعد یہ واحد گناہ ہے جس میں اللہ خود جنگ کا اعلان کر رہا ہے۔ کیا تم اللہ سے جنگ کر سکتے ہو؟ ہرگز نہیں! پھر بھی ہم سود کا لین دین جاری رکھے ہوئے ہیں۔
سود میں برکت ختم ہو جاتی ہے، جبکہ صدقہ بڑھتا ہے:
﴿يَمْحَقُ اللَّـهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ ۗ وَاللَّـهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ﴾
(سورۃ البقرہ: 276)
ترجمہ: "اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے، اور اللہ کسی ناشکرے گنہگار کو پسند نہیں کرتا۔"
۲. احادیثِ نبویہ میں سود کی سنگینی اور اس پر لعنت
نبی کریم ﷺ نے سود کو سات ہلاک کرنے والے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا، اور سود کھانے والے، کھلانے والے، لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی۔ سنیے! یہ حدیث ہمارے دلوں کو کانپنے پر مجبور کر دے:
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ:
«لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُوكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ» وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ»
(صحيح مسلم: 1598)
ترجمہ: "رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے، کھلانے والے، لکھنے والے، اور اس کے دونوں گواہوں پر لعنت فرمائی ہے، اور فرمایا: وہ سب (گناہ میں) برابر ہیں۔"
یعنی صرف سود لینے والا ہی مجرم نہیں، بلکہ دینے والا، دستاویز لکھنے والا، اور گواہ بننے والا بھی برابر کا شریکِ جرم ہے۔ لعنت کا مطلب اللہ کی رحمت سے دوری ہے۔ کیا کوئی مسلمان یہ برداشت کر سکتا ہے کہ اس پر اللہ اور اس کے رسول کی لعنت ہو؟
نبی ﷺ نے سود کو ہلاک کرنے والے گناہوں میں شمار کیا:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا هُنَّ؟ قَالَ: «الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ»
(صحيح البخاري: 2766، صحيح مسلم: 89)
ترجمہ: "سات ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچو۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! وہ کیا ہیں؟ فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک، جادو، کسی جان کو ناحق قتل کرنا جسے اللہ نے حرام کیا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، میدانِ جہاد سے پیٹھ پھیرنا، اور پاکدامن بھولی بھالی مومن عورتوں پر تہمت لگانا۔"
دیکھو! سود کا شمار شرک، جادو اور قتل جیسے کبیرہ گناہوں کے ساتھ ہے۔
سود کے عذاب کی ہولناکی نبی ﷺ نے معراج کی رات دیکھی۔ حدیث میں آتا ہے کہ آپ ﷺ کا گزر ایک قوم پر ہوا جن کے پیٹ کمروں کی طرح بڑے بڑے تھے، اور ان میں سانپ باہر سے نظر آ رہے تھے۔ بتایا گیا کہ یہ سود خور ہیں۔ (مسند أحمد، بخاری تعليقاً)
۳. سود کا معاشی اور معاشرتی نقصان: حقیقی تباہی
بھائیو! سود کو حرام کرنے کے پیچھے اللہ کی کتنی حکمتیں ہیں۔ سودی نظام میں دولت چند ہاتھوں میں سمٹ جاتی ہے، امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہو جاتا ہے۔ بینک سے قرضہ لے کر اگر کوئی کاروبار ناکام ہو جائے تو سود کی وجہ سے اس کا قرض پہاڑ بن جاتا ہے، وہ مفلس ہو جاتا ہے۔ سودی قرضوں نے کتنے گھر اجاڑے، کتنی خودکشیاں ہوئیں۔
سود کی وجہ سے معاشرے میں بے چینی، لالچ، اور بے رحمی پھیلتی ہے۔ سود خور کا دل پتھر ہو جاتا ہے، وہ مقروض کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتا ہے۔ جبکہ اسلام قرضِ حسنہ کی تعلیم دیتا ہے، مہلت دینے اور معاف کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
موجودہ عالمی معاشی بحرانوں کی جڑ میں بھی سودی نظام ہے۔ غیر مسلم ممالک بھی اس کی تباہ کاریوں کو تسلیم کرنے لگے ہیں، مگر ہم مسلمان ہو کر اس لعنت کو گلے لگائے ہوئے ہیں۔
۴. موجودہ دور میں سود کی صورتیں: کہیں بھی چھپا ہے
اللہ کے بندو! آج سود صرف روایتی بینک تک محدود نہیں۔ یہ بے شمار شکلوں میں ہمارے گھروں میں داخل ہو چکا ہے:
- بینک کا سودی اکاؤنٹ: سیونگ اکاؤنٹ میں جو سود ملتا ہے، وہ حرام ہے۔ فکسڈ ڈپازٹ، بیچنے والے سودی بانڈز، یہ سب ربا ہیں۔
- کریڈٹ کارڈ: اگر وقت پر ادائیگی نہ کرو تو سود لگتا ہے، اور بعض صورتوں میں فیس بھی سودی ڈھانچے پر مبنی ہے۔
- بینک سے قرض: گھر، کار، یا کاروبار کے لیے لیا جانے والا سودی قرضہ، یہ رب العالمین کے خلاف جنگ ہے۔
- پرائیویٹ فنانسنگ: کچھ لوگ پرائیویٹ طور پر سود پر پیسے دیتے ہیں، یہ بھی حرام ہے۔
- دیر سے ادائیگی پر جرمانہ: اگر شرط یہ ہو کہ مقررہ وقت پر رقم نہ دینے پر اضافی رقم لگے گی، تو یہ سود ہے۔
یاد رکھو! ضرورت شدیدہ کی صورت میں اگر حلال متبادل موجود نہ ہو، تب بھی سود لینا جائز نہیں، البتہ بعض فقہاء اضطرار کی حالت میں صرف بقدرِ ضرورت اجازت دیتے ہیں، مگر آج کل حلال اسلامی بینکاری موجود ہے۔
۵. اصلاحی نکات: سود سے کیسے بچیں؟
- توبہ کریں: اگر آپ سود کے لین دین میں ملوث ہیں، تو فوراً سچی توبہ کریں، اور آئندہ نہ کرنے کا پختہ عزم کریں۔
- اسلامی بینکاری: اپنے اکاؤنٹس اسلامی بینک میں منتقل کریں، جو حلال مضاربہ یا مشارکہ کی بنیاد پر کام کرتے ہیں۔
- قرضِ حسنہ: ضرورت مند کو قرض دو تو بغیر کسی اضافے کے واپس لو، اور اگر وہ تنگدست ہو تو مہلت دو یا معاف کر دو، اس کا بہت اجر ہے۔
- بچت کریں: قرض لینے سے بچنے کے لیے پہلے سے بچت کریں، فضول اخراجات کم کریں۔
- سودی معاملات سے کنارہ کشی: اگر ملازمت میں سودی کاروبار سے براہِ راست تعلق ہو تو کوئی اور جائز روزگار تلاش کریں۔
- علم حاصل کریں: سود کے احکام سیکھیں، اور اپنے کاروبار کو شریعت کے مطابق ڈھالیں۔
- وراثت میں ملی جائیداد: اگر وراثت میں سودی جائیداد یا رقم ملی ہو، تو اصل رقم رکھیں اور سود کا حصہ بغیر ثواب کی نیت سے فقراء پر خرچ کر دیں، اور توبہ کریں۔
- دعا کریں: «اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ» کا ورد رکھیں۔
۶. اختتامی نصیحت: سود چھوڑ دو، برکت پا لو
اللہ کے بندو! سنو! سود میں تمہیں جو نفع نظر آتا ہے، وہ حقیقت میں خسارہ ہے۔ اللہ اسے مٹاتا ہے، اور حلال میں برکت دیتا ہے۔ جو شخص سود چھوڑ دیتا ہے، اللہ اسے اس سے بہتر عطا فرماتا ہے۔ یقین کرو، رزق دینے والا اللہ ہے، سودی قرض نہیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ الرِّبَا وَإِنْ كَثُرَ فَإِنَّ عَاقِبَتَهُ تَصِيرُ إِلَىٰ قُلٍّ»
(مسند أحمد: 1/395 - صحيح، سنن ابن ماجه: 2279)
ترجمہ: "سود اگرچہ بہت زیادہ ہو، مگر اس کا انجام کمی اور نقصان ہی ہے۔"
تو اپنے مال کو پاک کرو، اپنی آخرت کو بچاؤ، اور اللہ کے غضب سے بچنے کے لیے سود سے مکمل اجتناب کرو۔
۷. دعا
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ»
(صحيح البخاري: 2397)
ترجمہ: "اے اللہ! میں گناہ اور قرض (کے بوجھ) سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔"
«اللَّهُمَّ طَهِّرْ أَمْوَالَنَا مِنَ الرِّبَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي الْحَلَالِ، وَأَغْنِنَا بِفَضْلِكَ عَنْ حَرَامِكَ»
(ماثور)
«رَبَّنَا آتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا»
(سورۃ الكهف: 10)
اللهم ارزقنا الكسب الحلال، وجنبنا الربا والحرام، وبارك لنا في الرزق الطيب. اللهم من ابتلي منا بشيء من الربا فتقبل توبته، وأبدله خيرًا مما ترك. اللهم أصلح معاملاتنا، وطهر بيوتنا، ونجنا من النار. ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار. وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.
TAGS JSON: { "tags": ["سود", "ربا", "حرام", "اعلان جنگ", "معیشت", "اسلامی بینکاری", "قرض", "کبیرہ گناہ", "توبہ", "حلال"], "category": "سود", "related_month": null, "related_people": ["حضرت محمد ﷺ"] } FEATURED IMAGE IDEA: ایک بوسیدہ بینک کی عمارت جس پر شگاف پڑے ہوں، آسمان سے آگ کی شعاعیں اتر رہی ہوں، ایک شخص ہاتھ اٹھائے توبہ کر رہا ہو، سامنے عربی خطاطی میں "فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ" اور نیچے "لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ آكِلَ الرِّبَا" لکھا ہو۔