محبتِ رسول ﷺ: ایمان کی روح اور نجات کا ذریعہ
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ، وَجَعَلَ مَحَبَّتَهُ فَرْضًا عَلَى الْأُمَّةِ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، سَيِّدُ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ، وَحَبِيبُ رَبِّ الْعَالَمِينَ. صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ الَّذِينَ أَحَبُّوهُ أَكْثَرَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ وَأَوْلَادِهِمْ. أَمَّا بَعْدُ!
اللہ کے نیک بندو! ایمان والو! آج میں تم سے ایک سوال کرتا ہوں، ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دینا! کیا تم اللہ کے رسول محمد ﷺ سے محبت کرتے ہو؟ اگر تمہارا جواب ہاں میں ہے تو پھر اس محبت کی نشانیاں کہاں ہیں؟ کیا تمہاری زندگی ان کے نقشِ قدم پر ہے؟ کیا تمہاری نیند ان کے فرمان سے پہلے آتی ہے یا ان کے کسی حکم کو سن کر تمہارا دل دھڑکتا ہے؟ آج کا خطبہ اسی محبت کے بارے میں ہے، اس محبت کے بارے میں جو ایمان کا حصہ ہے، جو نجات کا ذریعہ ہے، جو جنت میں ہمارے ساتھ جانے والی سب سے بڑی پونجی ہے۔ وہ ہے محبتِ رسول ﷺ!
بھائیو! یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لو کہ جب تک اللہ کے رسول ﷺ کی محبت ہمارے دل میں ماں باپ، اولاد، مال اور تمام لوگوں سے بڑھ کر نہ ہو، ہمارا ایمان مکمل نہیں ہو سکتا۔ سنو! قرآن و سنت کی روشنی میں اس محبت کی عظمت، اس کی علامات، اور اس کی برکتوں کا حال۔
۱. قرآنِ کریم میں نبی ﷺ کی اطاعت اور محبت کا حکم
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں ایمان والوں کو حکم دیا کہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرو، کیونکہ ان کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے۔ سنیے! رب ذوالجلال کا فرمان ہے:
﴿مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّـهَ﴾
(سورۃ النساء: 80)
ترجمہ: "جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی۔"
کتنا واضح حکم ہے! اگر کوئی کہے کہ میں اللہ سے محبت کرتا ہوں مگر رسول کی پیروی نہ کرے، تو اس کا دعویٰ جھوٹا ہے۔ اللہ نے فرمایا:
﴿قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّـهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّـهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾
(سورۃ آل عمران: 31)
ترجمہ: "کہہ دیجیے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔"
غور کرو! اللہ کی محبت کے حصول کا واحد راستہ رسول اللہ ﷺ کی پیروی ہے۔ جتنی تمہاری پیروی ہوگی، اتنی ہی اللہ کی محبت تمہیں ملے گی، اور اتنے ہی تمہارے گناہ معاف ہوں گے۔
اور پھر ایک بہت اہم آیت جس نے محبتِ رسول کو ایمان کی کسوٹی قرار دیا:
﴿قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّـهُ بِأَمْرِهِ ۗ وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ﴾
(سورۃ التوبہ: 24)
ترجمہ: "کہہ دیجیے: اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، تمہارا کنبہ، تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے، تمہاری وہ تجارت جس کے نقصان سے تم ڈرتے ہو، اور تمہارے وہ گھر جنہیں تم پسند کرتے ہو، تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ محبوب ہیں، تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے، اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔"
کتنی سخت وعید ہے! اگر اللہ اور اس کے رسول کی محبت تمہارے مال، اولاد، تجارت، گھر بار سے زیادہ نہیں ہے تو اللہ کے عذاب کا انتظار کرو! اس آیت سے معلوم ہوا کہ محبتِ رسول ایمان کے لیے لازم ہے۔
۲. احادیثِ نبویہ میں محبتِ رسول ﷺ کی فرضیت اور اس کی علامات
نبی کریم ﷺ نے خود فرمایا کہ تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اسے اس کے والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ سنیے!
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّىٰ أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ»
(صحيح البخاري: 15، صحيح مسلم: 44)
ترجمہ: "تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔"
دیکھا آپ نے! ایمان کی شرط محبتِ رسول ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سن کر کہا: "یا رسول اللہ! آپ مجھے میری جان سے بڑھ کر محبوب ہیں، سوائے میرے نفس کے۔" تو نبی ﷺ نے فرمایا: "نہیں عمر! جب تک میں تمہیں تمہاری جان سے بھی زیادہ محبوب نہ بن جاؤں۔" تب حضرت عمر نے کہا: "اللہ کی قسم! اب آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "عمر! اب (تمہارا ایمان پورا ہوا)۔" (صحيح البخاري: 6632)
محبت کی علامات کیا ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا:
«ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ: أَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ، وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ»
(صحيح البخاري: 16، صحيح مسلم: 43)
ترجمہ: "تین خصلتیں جس میں پائی جائیں اس نے ایمان کی مٹھاس پا لی: اللہ اور اس کا رسول اسے سب سے زیادہ محبوب ہوں، وہ کسی سے محبت کرے تو صرف اللہ کے لیے، اور کفر کی طرف لوٹنے کو اس طرح ناپسند کرے جیسے آگ میں ڈالے جانے کو ناپسند کرتا ہے۔"
پس محبتِ رسول کا تقاضا ہے کہ آپ ﷺ کی سنت کو ترجیح دی جائے، آپ کی لائی ہوئی شریعت پر عمل کیا جائے، اور ہر وہ چیز جو آپ کے طریقے کے خلاف ہو اسے دل سے برا سمجھا جائے۔
۳. صحابہ کرام کی محبتِ رسول ﷺ: ایمان افروز مثالیں
بھائیو! صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت کا عالم کیا تھا، سنو! ہجرت کے وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے ساتھ غار ثور میں تھے۔ دورانِ سفر وہ کبھی آگے چلتے، کبھی پیچھے، کبھی دائیں، کبھی بائیں۔ نبی ﷺ نے پوچھا: "ابوبکر! یہ کیا کر رہے ہو؟" عرض کیا: "یا رسول اللہ! اگر دشمن سامنے سے آئیں تو میں آگے ہو جاؤں، پیچھے سے آئیں تو میں پیچھے ہو جاؤں، دائیں سے آئیں تو دائیں، بائیں سے آئیں تو بائیں۔" اپنی جان خطرے میں ڈالی مگر رسول اللہ ﷺ پر آنچ نہ آنے دی۔
غزوہ احد میں جب یہ افواہ پھیلی کہ نبی ﷺ شہید ہو گئے، تو حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے کہا: "اگر محمد ﷺ شہید ہو گئے تو تم کیوں جی رہے ہو؟ اس ذات کی قسم جس نے محمد ﷺ کو بھیجا! تم بھی اس تلوار پر مر جاؤ جس پر وہ مرے!" پھر وہ لڑے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔
ایک مرتبہ ایک عورت کا شوہر، باپ اور بھائی سب احد میں شہید ہو گئے۔ لوگوں نے اسے خبر دی۔ اس نے پوچھا: "رسول اللہ ﷺ کیسے ہیں؟" کہا گیا: "الحمدللہ، وہ سلامت ہیں۔" اس نے کہا: "مجھے ان کی زیارت کراؤ۔" جب اس نے دیکھا کہ آپ ﷺ سلامت ہیں تو کہنے لگی: "آپ کے بعد ہر مصیبت آسان ہے۔" (سیرت ابن ہشام)
سوچو! شوہر، باپ، بھائی — سب شہید، مگر اسے غم صرف اس بات کا تھا کہ رسول اللہ ﷺ سلامت ہیں یا نہیں۔ یہ ہے محبت!
۴. محبتِ رسول ﷺ کی عملی علامات
بھائیو! محبت کا دعویٰ کرنا آسان ہے، مگر اس کی علامات ہوتی ہیں۔ اگر تم سچے محب ہو تو یہ باتیں اپنے اندر پیدا کرو:
پہلی علامت: اتباعِ سنت۔ نبی ﷺ کی چھوٹی سے چھوٹی سنت پر بھی عمل کرنا، چاہے وہ مسواک ہو، داڑھی ہو، کھانے کے آداب ہوں، سونے کے طریقے ہوں۔
دوسری علامت: قرآن سے محبت۔ کیونکہ قرآن آپ ﷺ کا معجزہ ہے، اسے پڑھنا، سمجھنا، اس پر عمل کرنا۔
تیسری علامت: آل و اصحاب سے محبت۔ آپ کی آل اور صحابہ سے دل میں بغض نہ رکھنا، ان کی عزت کرنا۔
چوتھی علامت: شریعت کی تعظیم۔ جب کوئی شرعی حکم سنو تو دل میں تنگی نہ محسوس کرو، بلکہ خوشی سے قبول کرو۔
پانچویں علامت: آپ ﷺ کا نام سن کر آنکھوں کا نم ہونا۔ آپ کا ذکر ہو تو دل میں محبت کی لہر دوڑے۔
چھٹی علامت: آپ ﷺ پر کثرت سے درود پڑھنا۔ یہ محبت کا سب سے آسان اور بڑا اظہار ہے۔
۵. موجودہ دور میں محبتِ رسول کی بے حرمتی اور اس کا سدباب
اللہ کے بندو! آج ہم پر کون سے فتنے ہیں؟ آج ہم نے محبتِ رسول کے بجائے فلمی ستاروں، کرکٹرز، ٹک ٹاکرز اور گلوکاروں کو اپنا آئیڈیل بنا لیا ہے۔ بچے ان کی زندگیوں کو جانتے ہیں مگر اپنے نبی ﷺ کی سیرت نہیں جانتے۔ لوگ گھنٹوں فلمیں دیکھتے ہیں مگر شمائل ترمذی کا مطالعہ نہیں کرتے۔ یہ سب محبت کے دعوے کی تردید ہے۔
دوسری طرف کچھ لوگ محبت کے نام پر غلو کرتے ہیں، نبی ﷺ کو اللہ کی صفات دیتے ہیں، انہیں عالم الغیب مانتے ہیں، ان کے لیے سجدہ کرتے ہیں۔ یہ بھی محبت نہیں، شرک ہے۔ محبتِ رسول کا مطلب ہے کہ ہم انہیں اللہ کا بندہ اور رسول مانیں، ان کی عبادت نہ کریں بلکہ ان کی اطاعت کریں۔
محبت کا عملی ثبوت ان کی سنتوں کو زندہ کرنا ہے۔ آج کے دور میں جب کفار اور مشرکین آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں، تو ہماری غیرت جاگنی چاہیے، لیکن جواب بھی آپ کے بتائے ہوئے طریقے سے دینا چاہیے، نہ کہ فساد اور توڑ پھوڑ سے۔
۶. اصلاحی نکات: محبتِ رسول کیسے بڑھائیں؟
- سیرت کا مطالعہ: روزانہ سیرت کی کتاب سے کچھ صفحات پڑھیں، آپ کی زندگی کا کوئی واقعہ سنیں اور اس پر غور کریں۔
- شمائل کا ورد: آپ کے حلیہ مبارک، اخلاق، عادات کا مطالعہ کریں تاکہ دل میں محبت پیدا ہو۔
- کثرتِ درود: ہر وقت درود شریف پڑھنے کا معمول بنائیں، خاص کر جمعہ کے دن اور رات۔ «اللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ عَلَىٰ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ»
- سنتوں پر عمل: زندگی کے ہر شعبے میں سنت کو تلاش کریں اور اس پر عمل کریں، چاہے پہلے مشکل لگے۔
- محبت کی دعا: اللہ سے دعا کریں کہ "اے اللہ! ہمارے دلوں میں اپنے نبی ﷺ کی محبت بڑھا دے۔"
- اولاد کو سیرت سکھائیں: بچپن سے بچوں کو نبی ﷺ کی زندگی کے واقعات سنائیں، ان کی شخصیت کو آئیڈیل بنائیں۔
- نبی ﷺ کے لیے بے چینی: جب آپ کا تذکرہ ہو تو دل میں ایک خاص کیفیت پیدا کریں، جیسے کسی محبوب کا ذکر ہو رہا ہو۔
- مدینہ کی زیارت کی تڑپ: مدینہ منورہ جانے کی حسرت دل میں رکھیں، اور نیت کریں کہ ایک دن ضرور روضہ اقدس پر حاضر ہوں گے۔
۷. اختتامی نصیحت: قیامت کے دن محبوب کا ساتھ
اللہ کے بندو! سنو! قیامت کے دن ہر شخص اس کے ساتھ ہوگا جس سے اس نے محبت کی۔ نبی ﷺ نے فرمایا:
«الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ»
(صحيح البخاري: 6170، صحيح مسلم: 2639)
ترجمہ: "آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے اس نے محبت کی۔"
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "ہم نبی ﷺ سے جتنی محبت کرتے تھے اتنی تو کسی چیز سے نہیں کرتے تھے، مگر پھر بھی ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے اس حدیث پر اتنی خوشی منائی جتنی اس پر منائی۔" (مسلم: 2639)
کیونکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ ہم قیامت میں بھی اپنے محبوب ﷺ کے ساتھ ہوں گے! تو اگر تم چاہتے ہو کہ جنت میں نبی ﷺ کا پڑوس ملے، تو ان سے سچی محبت کرو، ان کی سنت پر عمل کرو، اور ان کے لیے دل میں تعظیم اور محبت رکھو۔
۸. دعا
«اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا حُبَّكَ، وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ، وَحُبَّ كُلِّ عَمَلٍ يُقَرِّبُنَا إِلَىٰ حُبِّكَ»
(سنن الترمذي: 3490 - حسن)
ترجمہ: "اے اللہ! ہمیں اپنی محبت عطا فرما، اور اس شخص کی محبت جو تجھ سے محبت کرتا ہے، اور ہر اس عمل کی محبت جو ہمیں تیری محبت کے قریب لے جائے۔"
«اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ»
(صحيح البخاري: 3370)
«رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ»
(سورۃ آل عمران: 53)
اللهم حبب إلينا الإيمان وزينه في قلوبنا، وكره إلينا الكفر والفسوق والعصيان، واجعلنا من الراشدين. اللهم اجمعنا بنبيك محمد ﷺ في جنات النعيم، واسقنا من يده الشريفة شربة لا نظمأ بعدها أبدًا. ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار. وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.
TAGS JSON: { "tags": ["محبت رسول", "رسول اللہ", "محمد ﷺ", "سیرت", "اتباع سنت", "درود شریف", "صحابہ", "ایمان", "مدینہ", "محبت"], "category": "سیرت النبی ﷺ", "related_month": "ربیع الاول", "related_people": ["حضرت محمد ﷺ", "حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ", "حضرت عمر رضی اللہ عنہ", "حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ"] } FEATURED IMAGE IDEA: گنبد خضریٰ کا خوبصورت منظر، سامنے ایک دل بنا ہو جس میں "محمد ﷺ" لکھا ہو، دل سے روشنی کی شعاعیں نکل رہی ہوں، پس منظر میں مدینہ منورہ کی گلیاں، اوپر عربی خطاطی میں "لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّىٰ أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ" اور نیچے "الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ" لکھا ہو۔