موت: یقینی حقیقت اور آخرت کی تیاری
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ الْمَوْتَ عِبْرَةً لِّلْمُتَّقِينَ، وَذِكْرَىٰ لِلْغَافِلِينَ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، الَّذِي بِيَدِهِ الْحَيَاةُ وَالْمَمَاتُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، الَّذِي أَمَرَنَا بِالِاسْتِعْدَادِ لِلْمَوْتِ قَبْلَ نُزُولِهِ. صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ الَّذِينَ عَاشُوا فِي الدُّنْيَا كَأَنَّهُمْ غُرَبَاءُ وَعَابِرُو سَبِيلٍ، وَسَلَّمَ تَسْلِيمًا كَثِيرًا. أَمَّا بَعْدُ!
اللہ کے نیک بندو! ایمان والو! کیا تم نے کبھی سوچا کہ وہ کون سی حقیقت ہے جس پر کوئی بحث نہیں، جس میں کوئی رعایت نہیں، جس سے کوئی فرار نہیں؟ وہ حقیقت جس نے بادشاہوں کو مٹی میں ملا دیا، جس نے ظالموں کی گردنیں جھکا دیں، جس نے عالموں کو عبرت بنا دیا، اور جس نے ہر زندہ کو ایک دن اس کے رب کے سامنے کھڑا کر دینا ہے؟ کیا تم جانتے ہو وہ کیا ہے؟ وہ ہے موت! ہاں وہی موت، جسے ہم سب جانتے ہیں مگر اس کی تیاری نہیں کرتے۔ وہی موت، جو ہمارے دوستوں، رشتہ داروں، پڑوسیوں کو لے جا چکی ہے، اور ایک دن ہمیں بھی لے جائے گی۔
بھائیو! آج کا خطبہ اسی ہولناک مگر نصیحت آموز حقیقت کے بارے میں ہے۔ ہم جانیں گے کہ قرآن میں موت کو کیسے بیان کیا گیا، نبی ﷺ نے موت کو کتنا یاد رکھا، ہمارے اسلاف کی موت سے پہلے کیا کیفیت تھی، اور ہمیں اپنی موت کی تیاری کیسے کرنی چاہیے۔ سنیے! شاید یہ باتیں سن کر ہمارے دل نرم ہو جائیں، آنکھیں نم ہو جائیں، اور ہم اپنی غفلت کی نیند سے جاگ جائیں!
۱. قرآن کریم میں موت کی یاد اور اس کی حقیقت
اللہ رب العزت نے قرآنِ پاک میں موت کو بار بار یاد دلایا ہے تاکہ انسان غافل نہ ہو جائے۔ سنیے! خالقِ کائنات کا فرمان ہے:
﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۗ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۖ فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ۗ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ﴾
(سورۃ آل عمران: 185)
ترجمہ: "ہر جان موت کا ذائقہ چکھنے والی ہے، اور تمہیں تمہارے اعمال کا پورا بدلہ قیامت کے دن ہی دیا جائے گا۔ پس جو شخص دوزخ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا، وہ کامیاب ہو گیا۔ اور دنیا کی زندگی دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔"
دیکھا آپ نے! "كُلُّ نَفْسٍ" — ہر جان، کوئی استثناء نہیں۔ نبی ہوں، ولی ہوں، بادشاہ ہوں، غریب ہوں، امیر ہوں، جوان ہوں، بوڑھے ہوں — سب کو موت آئے گی۔ اور دنیا کی زندگی کو "متاع الغرور" فرمایا، یعنی وہ دھوکے کا سامان جو انسان کو اصل مقصد سے غافل کر دے۔
پھر اللہ نے موت کی ہولناکی اور اس کے بعد کی زندگی کا منظر دکھایا:
﴿وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ۖ ذَٰلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ﴾
(سورۃ ق: 19)
ترجمہ: "اور موت کی بے ہوشی حق لے کر آ پہنچی، یہی ہے وہ چیز جس سے تو بھاگتا تھا۔"
کتنا سچ ہے! انسان زندگی بھر موت سے بھاگتا ہے، اس کا ذکر سننا پسند نہیں کرتا، لیکن جب وہ آتی ہے تو کوئی بچ نہیں سکتا۔ اس "سكرۃ الموت" کا کیا عالم ہوگا؟ اذیت، تکلیف، روح کا کھینچنا — یہ سب وہ لمحہ ہے جو ہر ایک پر آئے گا۔
ایک اور مقام پر اللہ نے ہمیں موت کی تیاری کرنے اور اسے یاد رکھنے کا حکم دیا:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۖ وَاتَّقُوا اللَّـهَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ۞ وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّـهَ فَأَنسَاهُمْ أَنفُسَهُمْ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾
(سورۃ الحشر: 18-19)
ترجمہ: "اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور ہر شخص دیکھے کہ اس نے کل (قیامت) کے لیے کیا بھیجا ہے، اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے۔ اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو اللہ کو بھول گئے، تو اللہ نے انہیں اپنی جانوں سے ہی غافل کر دیا، یہی لوگ نافرمان ہیں۔"
کیا ہم نے کبھی یہ دیکھا کہ ہم نے "کل" کے لیے کیا آگے بھیجا ہے؟ موت کے بعد کا سفر کتنا تیار ہے؟ نمازوں کا حساب، روزوں کا ذخیرہ، صدقات کا سرمایہ، قرآن کی شفاعت — یہ سب ہم نے کتنا جمع کیا ہے؟
۲. احادیثِ نبویہ: موت کو کثرت سے یاد کرنے کا حکم
نبی کریم ﷺ نے موت کو کثرت سے یاد کرنے کا حکم دیا اور اسے غفلت توڑنے والی چیز قرار دیا۔ سنیے! چند احادیث جو ہمارے دلوں کو جھنجھوڑ دیں:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَادِمِ اللَّذَّاتِ» يَعْنِي الْمَوْتَ
(سنن الترمذي: 2307 - حسن صحيح، سنن النسائي: 1824، سنن ابن ماجه: 4258)
ترجمہ: "لذتوں کو توڑنے والی چیز (یعنی موت) کو کثرت سے یاد کرو۔"
نبی ﷺ نے موت کو "ہادم اللذات" فرمایا، یعنی لذتوں کو ڈھا دینے والی۔ جو موت کو یاد رکھے گا، وہ گناہوں کی لذتوں میں نہیں پھنسے گا، اس کی دنیا کی محبت ٹوٹ جائے گی، اور وہ آخرت کے لیے تیار ہو جائے گا۔
ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے عقلمند کی پہچان بتائی:
عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ، وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ، وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهَا، وَتَمَنَّىٰ عَلَى اللَّهِ الْأَمَانِيَّ»
(سنن الترمذي: 2459 - حسن، سنن ابن ماجه: 4260)
ترجمہ: "عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے، اور عاجز وہ ہے جو اپنی خواہشات کی پیروی کرے اور اللہ سے لمبی امیدیں رکھے۔"
اس لیے اپنے آپ سے پوچھیے: میں عقلمند ہوں یا عاجز؟ کیا میں نے موت کے بعد کے لیے کچھ بھیجا ہے، یا بس دنیا کی خواہشات میں پڑا ہوا ہوں؟
موت کی یاد کی برکت کے بارے میں بھی سنیے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«أَكْثِرُوا ذِكْرَ الْمَوْتِ، فَإِنَّهُ يُمْحِصُ الذُّنُوبَ، وَيُزَهِّدُ فِي الدُّنْيَا»
(سنن ابن ماجه: 4259 - حسن، رواه أبو نعيم في الحلية وغيرهم)
ترجمہ: "موت کو کثرت سے یاد کرو، کیونکہ یہ گناہوں کو مٹاتی ہے اور دنیا میں زہد پیدا کرتی ہے۔"
یعنی جب انسان کو موت یاد رہے گی تو وہ گناہوں سے بچے گا، اور اگر گناہ ہو جائیں تو توبہ کر کے انہیں مٹائے گا۔ اور دنیا کی حرص، مال کی محبت، عہدے کی خواہش — یہ سب دل سے نکل جائیں گے جب موت کو یاد رکھے گا۔
۳. قبر کا سفر: پہلی منزل اور اس کی ہولناکی
بھائیو! موت کے بعد کا سب سے پہلا پڑاؤ قبر ہے۔ قبر یا تو جنت کا باغیچہ ہے یا جہنم کا گڑھا۔ نبی ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ الْقَبْرَ أَوَّلُ مَنَازِلِ الْآخِرَةِ، فَإِنْ نَجَا مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَيْسَرُ مِنْهُ، وَإِنْ لَمْ يَنْجُ مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَشَدُّ مِنْهُ»
(سنن الترمذي: 2308 - حسن، سنن ابن ماجه: 4267)
ترجمہ: "قبر آخرت کی پہلی منزل ہے، جو اس سے نجات پا گیا اس کے بعد کی منازل آسان ہیں، اور جو اس سے نہ بچ سکا اس کے بعد کی منازل زیادہ سخت ہیں۔"
کیا ہم نے قبر کی تیاری کی ہے؟ قبر کی تاریکی، قبر کا تنہائی، فرشتوں کے سوالات، "مَنْ رَبُّكَ؟ وَمَا دِينُكَ؟ وَمَنْ نَبِيُّكَ؟" ان سوالوں کے جواب کیا ہوں گے؟ کیا ہم نے ان کے جوابوں کی مشق کی ہے؟
نبی ﷺ قبر کے عذاب سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
«كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ»
(صحيح البخاري: 1377، صحيح مسلم: 588)
ترجمہ: "رسول اللہ ﷺ نماز میں دعا کرتے تھے: اے اللہ! میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور زندگی اور موت کے فتنوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔"
ہم بھی یہ دعا سیکھ لیں، اور ہر نماز میں تشہد کے بعد پڑھیں۔ قبر کا عذاب برحق ہے، اور اس سے بچنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ہم اللہ کی فرماں برداری کریں اور گناہوں سے بچیں۔
۴. ہمارے اسلاف کی موت کی تیاری اور ان کی کیفیت
بھائیو! صحابہ کرام اور صالحین کی زندگیاں دیکھو، وہ ہر وقت موت کے لیے تیار رہتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے:
«حَاسِبُوا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ تُحَاسَبُوا، وَزِنُوا أَعْمَالَكُمْ قَبْلَ أَنْ تُوزَنُوا، وَتَزَيَّنُوا لِلْعَرْضِ الْأَكْبَرِ»
(سنن الترمذي: 2459 - أثر حسن)
ترجمہ: "اپنے نفسوں کا محاسبہ کرو اس سے پہلے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے، اور اپنے اعمال کو تولو اس سے پہلے کہ وہ تولے جائیں، اور اس بڑی پیشی (قیامت) کے لیے سنور جاؤ۔"
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جب قبرستان سے گزرتے تو اتنا روتے کہ داڑھی مبارک تر ہو جاتی۔ لوگوں نے پوچھا: آپ جنت و دوزخ کا ذکر سن کر نہیں روتے، قبرستان دیکھ کر روتے ہیں؟ فرمایا: "میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: قبر آخرت کی پہلی منزل ہے... الخ"۔
تابعی بزرگ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے: "اے ابن آدم! تو صرف دنوں کا مجموعہ ہے، جب ایک دن گزر جاتا ہے تو تیرا ایک حصہ ختم ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ تو مکمل ختم ہو جاتا ہے۔"
حضرت رابعہ بصریہ رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے کہا: "ہم آپ کے پاس آتے ہیں اور آپ کا کوئی سامان نہیں دیکھتے۔" انہوں نے فرمایا: "میرے پاس ایسی دولت ہے جس کا تم تصور بھی نہیں کر سکتے — وہ موت کی تیاری ہے!"
۵. موجودہ دور میں موت سے غفلت اور لمبی امیدیں
اللہ کے بندو! آج کا دور عجیب ہے۔ ہم موت کو بھول گئے ہیں۔ شادی بیاہ، کاروبار، پلاٹ، گاڑی، بنگلہ — ہماری ساری منصوبہ بندی اسی دنیا کے لیے ہے۔ قبر کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں۔ لوگ قبرستان جاتے ہیں، میت کو دفناتے ہیں، مگر یہ نہیں سوچتے کہ کل میری باری ہے!
سوشل میڈیا پر گھنٹوں ضائع کرنا، فلمیں اور ڈرامے دیکھنا، گانے سننا، فضول مشاغل — یہ سب غفلت کی علامتیں ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ابھی بہت وقت ہے، ابھی تو ہم جوان ہیں، ابھی تو عیش کر لیں، بوڑھے ہو کر توبہ کر لیں گے۔ لیکن کیا کسی کو اپنی موت کا وقت معلوم ہے؟ کتنے جوان صبح اٹھے، شام کو کفن میں لپٹے! کتنے صحت مند تھے، یکایک دل کا دورہ پڑا اور سب ختم!
نبی ﷺ نے فرمایا:
«مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ»
(سنن الترمذي: 2317 - حسن صحيح، سنن ابن ماجه: 3976)
یعنی فضول چیزوں کو چھوڑ دینا ہی انسان کے اسلام کی خوبی ہے۔ تو کیا ہم اپنی زندگیوں کو فضول چیزوں سے پاک کر رہے ہیں؟
۶. اصلاحی نکات: موت کی تیاری کا عملی پروگرام
- روزانہ موت کی یاد: دن میں کم از کم ایک بار موت اور قبر کا تصور کریں، سوچیں کہ اگر آج رات میری موت ہو جائے تو کیا میرے اعمال درست ہیں؟
- توبہ کی عادت: ہر نماز کے بعد اور رات کو سوتے وقت سچی توبہ کریں، کہیں: "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ"۔
- وصیت تیار رکھیں: اپنی وصیت لکھ لیں، قرضوں کی ادائیگی کا انتظام کریں، ورثاء کے حقوق متعین کریں۔
- عبادات میں محاسبہ: ہر رات سونے سے پہلے اس دن کی نمازوں، معاملات، اور زبان کی نگرانی کریں، اور کوتاہیوں پر استغفار کریں۔
- جنازوں میں شرکت: جب بھی کسی مسلمان کا جنازہ ہو، شرکت کریں، یہ موت کی یاد دلاتا ہے اور عبرت کا باعث ہے۔
- قبرستان کی زیارت: کبھی کبھار قبرستان جائیں، وہاں جا کر غور کریں کہ یہ لوگ بھی کبھی ہماری طرح زندہ تھے، آج یہاں سوتے ہیں۔
- قرآن کی تلاوت اور اس پر عمل: قرآن شفاعت کرے گا، اسے پڑھیں، سمجھیں، اور اس کے احکامات پر عمل کریں۔
- صدقہ جاریہ: کوئی ایسا کام کریں جو مرنے کے بعد بھی جاری رہے: مسجد کی تعمیر، کنواں کھدوانا، علمی کتابیں شائع کرنا، وغیرہ۔
- حقوق العباد کی ادائیگی: کسی کا قرض، کسی کی امانت، کسی کی دل آزاری — یہ سب آج ہی ختم کر لیں، کل بہت دیر ہو جائے گی۔
- موت کے بارے میں کتابیں پڑھیں: "کتاب الروح" لابن قیم، "القيامة الصغرى" وغیرہ پڑھیں تاکہ آخرت کا منظر آنکھوں کے سامنے رہے۔
۷. اختتامی نصیحت: دنیا فانی ہے، آخرت باقی ہے!
اللہ کے بندو! سنو! یہ دنیا چند روزہ مہمان خانہ ہے، اصل گھر تو جنت یا جہنم ہے۔ دنیا کی زندگی دھوکے کا سامان ہے، جیسا کہ قرآن نے فرمایا:
﴿اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ ۖ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا ۖ وَفِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانٌ ۚ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ﴾
(سورۃ الحديد: 20)
ترجمہ: "جان لو کہ دنیا کی زندگی کھیل، تماشہ، زینت، آپس میں فخر، اور مال و اولاد میں زیادتی کی خواہش ہے، اس کی مثال بارش کی ہے جس کی پیداوار کسانوں کو بھلی لگتی ہے، پھر وہ خشک ہو جاتی ہے تو تم اسے زرد دیکھتے ہو، پھر وہ چورا چورا ہو جاتی ہے۔ اور آخرت میں سخت عذاب ہے اور اللہ کی طرف سے بخشش اور رضا مندی بھی۔ اور دنیا کی زندگی دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔"
تو آئیے! اپنی موت کو یاد رکھیے، اس کی تیاری کیجیے، اور اس سے پہلے کہ "يَا حَسْرَتَا عَلَىٰ مَا فَرَّطتُ فِي جَنبِ اللَّـهِ" کہنا پڑے، ابھی جاگ جائیے!
۸. دعا
«اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا»
(سنن أبي داود: 1601 - صحيح)
«اللَّهُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا، وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْآخِرَةِ»
(مسند أحمد: 4/181 - صحيح)
«اللَّهُمَّ اجْعَلْ خَيْرَ أَعْمَالِنَا خَوَاتِمَهَا، وَخَيْرَ أَيَّامِنَا يَوْمَ نَلْقَاكَ»
(مستدرك الحاكم: 1/540 - صحيح)
اللهم ارزقنا حسن الخاتمة، وتوفنا وأنت راضٍ عنا، وثبتنا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة. اللهم اجعل قبورنا روضة من رياض الجنة، ولا تجعلها حفرة من حفر النار. اللهم يا مقلب القلوب ثبت قلوبنا على دينك. ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار. وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.
TAGS JSON: { "tags": ["موت", "قبر", "آخرت", "توبہ", "وصیت", "جنازہ", "غفلت", "محاسبہ", "قیامت", "حسن خاتمہ"], "category": "موت", "related_month": null, "related_people": ["حضرت عمر رضی اللہ عنہ", "حضرت عثمان رضی اللہ عنہ", "حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ"] } FEATURED IMAGE IDEA: ایک قبرستان کا منظر، جس میں ایک قبر پر روشنی کی کرن پڑ رہی ہو، پس منظر میں غروب آفتاب، ایک شخص ہاتھ اٹھائے دعا کر رہا ہو، اوپر عربی خطاطی میں "كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ" اور نیچے "أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَادِمِ اللَّذَّاتِ" لکھا ہو۔