ہوم / مضامین

والدین کی خدمت: جنت کا راستہ اور رب کی رضا کا ذریعہ

TITLE: والدین کی خدمت: جنت کا راستہ اور رب کی رضا کا ذریعہ SEO TITLE: والدین کے حقوق و خدمت قرآن و حدیث کی روشنی میں | خطبہ جمعہ SLUG: walidain-ki-khidmat-jannat-ka-rasta META DESCRIPTION: والدین کے حقوق، ان کی خدمت کی اہمیت، قرآن و سنت کی روشنی میں احادیث، حضرت اویس قرنی کا واقعہ، اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک پر مکمل خطبہ۔ CONTENT:

والدین کی خدمت: جنت کا راستہ اور رب کی رضا کا ذریعہ

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ بِرَّ الْوَالِدَيْنِ مَفْتَاحَ الْجَنَّةِ، وَأَوْصَانَا بِهِمَا فِي مُحْكَمِ التَّنْزِيلِ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، الَّذِي أَمَرَ بِالْبِرِّ وَحَذَّرَ مِنَ الْعُقُوقِ. صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ الَّذِينَ ضَرَبُوا الْمَثَلَ فِي بِرِّ الْوَالِدَيْنِ، وَسَلَّمَ تَسْلِيمًا كَثِيرًا. أَمَّا بَعْدُ!

اللہ کے نیک بندو! ایمان والو! آپ میں سے کون ہے جو جنت کا طالب نہیں؟ کون ہے جو اللہ کی رضا چاہتا ہے؟ کون ہے جو اپنی زندگی میں برکت اور رزق میں کشادگی کا خواہش مند ہے؟ اگر آپ یہ سب چاہتے ہیں تو سنیے! سنیے اور دل سے توجہ دیجیے! کیونکہ آج میں جس موضوع پر بات کرنے جا رہا ہوں، وہ جنت کا سب سے آسان اور سیدھا راستہ ہے۔ وہ راستہ جسے ہم میں سے بہت سے لوگ بھول چکے ہیں، نظرانداز کر چکے ہیں۔ وہ ہے والدین کی خدمت، ان کے حقوق کی ادائیگی، ان کے ساتھ حسنِ سلوک۔

بھائیو! آج کا خطبہ انہی مقدس ہستیوں کے بارے میں ہے جنہوں نے ہمیں راتوں کو جاگ کر پالا، اپنی نیندیں حرام کر کے ہمیں سلایا، اپنا پیٹ کاٹ کر ہمیں کھلایا، اور آج ہم جوان ہو کر انہیں بوجھ سمجھنے لگے۔ سنیے! شاید آپ کے دل میں والدین کی محبت تازہ ہو جائے، شاید آپ کی آنکھیں نم ہو جائیں، شاید آپ واپس جا کر اپنی ماں کے پاؤں چومنے لگیں!

۱. قرآن کریم میں والدین کے حقوق کا حکم

اللہ رب العزت نے قرآن پاک میں اپنی عبادت کے فوراً بعد والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا۔ دیکھیے! خالق کائنات کیسے والدین کو اپنے ساتھ ذکر فرماتا ہے:

﴿وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا ۞ وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
(سورۃ الإسراء: 23-24)

ترجمہ: "اور آپ کے رب نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔ اگر تمہارے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں 'اُف' بھی نہ کہو، اور انہیں نہ جھڑکو، اور ان سے نرم بات کہو۔ اور ان کے لیے رحمت کے ساتھ عاجزی کا بازو جھکا دو، اور کہو: اے میرے رب! ان پر رحم فرما جس طرح انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔"

اللہ اکبر! دیکھا آپ نے کتنی عظیم وصیت ہے! اللہ نے اپنی عبادت کے ساتھ والدین کا ذکر کیا۔ پھر فرمایا کہ جب وہ بوڑھے ہو جائیں تو اُن کے لیے عاجزی اختیار کرو، اُن سے نرمی سے بات کرو، اور اُن کے لیے دعا کرو۔ بوڑھے والدین کو جھڑکنا، ان سے اونچی آواز میں بات کرنا، ان کے سامنے منہ بنانا — یہ سب قرآن کی اس آیت کی خلاف ورزی ہے۔

ایک اور مقام پر اللہ نے ماں کی قربانیوں کا خصوصی ذکر فرمایا:

﴿وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا ۖ وَإِن جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۚ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(سورۃ العنکبوت: 8)

ترجمہ: "اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی وصیت کی، اور اگر وہ تجھے اس بات پر مجبور کریں کہ تو میرے ساتھ شریک ٹھہرائے جس کا تجھے کوئی علم نہیں، تو ان کی اطاعت نہ کر، میری ہی طرف تم سب کو لوٹ کر آنا ہے، پھر میں تمہیں بتا دوں گا جو کچھ تم کرتے تھے۔"

یہاں بتایا گیا کہ اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں، لیکن اس کے باوجود والدین کے ساتھ حسنِ سلوک بدستور جاری رکھنا ہے۔ یعنی اگر والدین شرک کا حکم دیں تو بھی ان سے نرمی برتو، گالی نہ دو، ہاتھ نہ اٹھاؤ، بلکہ دنیاوی معاملات میں ان کی خدمت کرتے رہو۔

اور ماں کی تکالیف کا ذکر تو اللہ نے یوں فرمایا:

﴿وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا ۖ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا ۖ وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا
(سورۃ الأحقاف: 15)

ترجمہ: "اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید کی، اس کی ماں نے اسے تکلیف کے ساتھ پیٹ میں اٹھائے رکھا، اور تکلیف کے ساتھ اسے جنا، اور اس کا حمل اور دودھ چھڑانا تیس مہینے کا عرصہ ہے۔"

سوچیے! نو مہینے پیٹ میں رکھنا، وضع حمل کی تکلیف، پھر دو سال تک دودھ پلانا، راتوں کو جاگنا۔ کیا اس کا کوئی بدلہ ہو سکتا ہے؟ نہیں! لیکن اللہ نے پھر بھی ان کی خدمت کو فرض قرار دیا۔

۲. احادیثِ مبارکہ میں والدین کی خدمت کی فضیلت

نبی کریم ﷺ نے والدین کے حقوق کو بہت بڑا مقام دیا، ان کی نافرمانی کو کبیرہ گناہ قرار دیا، اور ان کی خدمت کو جنت کا راستہ بتایا۔ سنیے! چند دل لرزا دینے والی احادیث:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَىٰ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِي؟ قَالَ: «أُمُّكَ» قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «أُمُّكَ» قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «أُمُّكَ» قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «ثُمَّ أَبُوكَ»
(صحيح البخاري: 5971، صحيح مسلم: 2548)

ترجمہ: "ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور پوچھا: یا رسول اللہ! میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ آپ نے فرمایا: تیری ماں۔ اس نے پوچھا: پھر کون؟ فرمایا: تیری ماں۔ پوچھا: پھر کون؟ فرمایا: تیری ماں۔ پوچھا: پھر کون؟ فرمایا: تیرا باپ۔"

دیکھا آپ نے! نبی ﷺ نے تین بار ماں کا حق بیان فرمایا، اور چوتھی بار باپ کا۔ ماں کا درجہ تین گنا زیادہ ہے، اس لیے ماں کی خدمت، ماں کے پاؤں کے نیچے جنت ہے، جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

«الْجَنَّةُ تَحْتَ أَقْدَامِ الْأُمَّهَاتِ»
(سنن النسائي: 3104، مسند أحمد: 3/429 - صحيح)

ترجمہ: "جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے۔"

یعنی ماں کی خدمت کر کے تم جنت حاصل کر سکتے ہو۔ ماں اگر تم سے راضی ہے تو تمہارے لیے جنت کے دروازے کھل گئے۔

والدین کی نافرمانی کے بارے میں آپ ﷺ نے سخت ترین وعید سنائی:

عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ؟» ثَلَاثًا. قَالُوا: بَلَىٰ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: «الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ» وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ فَقَالَ: «أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ»
(صحيح البخاري: 2653، صحيح مسلم: 87)

ترجمہ: "کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ نہ بتاؤں؟ تین بار فرمایا۔ صحابہ نے کہا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا: خبردار! اور جھوٹی گواہی دینا۔"

اللہ کے بندو! شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ والدین کی نافرمانی ہے۔ اور یہ بات بھی غور طلب ہے کہ نبی ﷺ ٹیک لگائے ہوئے تھے، لیکن جب عاق والدین کا ذکر آیا تو آپ سیدھے بیٹھ گئے، اس گناہ کی سنگینی بتانے کے لیے۔

ایک اور حدیث میں فرمایا:

«رَغِمَ أَنْفُ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ» قِيلَ: مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «مَنْ أَدْرَكَ أَبَوَيْهِ عِنْدَ الْكِبَرِ أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَيْهِمَا فَلَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ»
(صحيح مسلم: 2551)

ترجمہ: "اس کی ناک خاک آلود ہو! پھر اس کی ناک خاک آلود ہو! پھر اس کی ناک خاک آلود ہو! پوچھا گیا: کون یا رسول اللہ؟ فرمایا: وہ شخص جس نے اپنے والدین دونوں یا ایک کو بڑھاپے میں پایا پھر (ان کی خدمت کر کے) جنت میں داخل نہ ہو سکا۔"

یعنی بوڑھے والدین کی خدمت جنت میں داخلے کا یقینی ذریعہ ہے، اور جو اس موقع کو کھو دے وہ بہت بڑا محروم ہے۔

۳. حضرت اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ: ماں کی خدمت کا روشن چراغ

بھائیو! سنو! ایک عظیم تابعی کا واقعہ ہے جسے نبی کریم ﷺ نے خود اپنی زبان سے بیان فرمایا، حالانکہ انہوں نے نبی ﷺ کو نہیں دیکھا تھا۔ وہ ہیں حضرت اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ۔ نبی ﷺ نے حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما سے فرمایا:

«يَأْتِي عَلَيْكُمْ أُوَيْسُ بْنُ عَامِرٍ مَعَ أَمْدَادِ أَهْلِ الْيَمَنِ، مِنْ مُرَادٍ ثُمَّ مِنْ قَرَنٍ، كَانَ بِهِ بَرَصٌ فَبَرَأَ مِنْهُ إِلَّا مَوْضِعَ دِرْهَمٍ، لَهُ وَالِدَةٌ هُوَ بِهَا بَرٌّ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ»
(صحيح مسلم: 2542)

ترجمہ: "تمہارے پاس اویس بن عامر آئیں گے، جو یمن کے قبیلہ مراد سے ہیں، انہیں برص کی بیماری تھی مگر وہ ٹھیک ہو گئی سوائے ایک درہم کے برابر جگہ کے۔ ان کی ماں ہیں جن کے ساتھ وہ بہت نیکی کرنے والے ہیں۔ اگر وہ اللہ پر قسم کھا لیں تو اللہ ان کی قسم پوری کر دے۔"

پھر آپ ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ جب یہ تم سے ملیں تو ان سے اپنے لیے استغفار کرانا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب خلیفہ تھے، یمن سے حاجیوں کے ساتھ اویس قرنی آئے، تو حضرت عمر نے انہیں ڈھونڈ نکالا اور کہا: کیا تم اویس بن عامر ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ پوچھا: تمہیں برص تھا، ٹھیک ہو گیا؟ کہا: ہاں۔ پوچھا: تمہاری ماں ہیں؟ کہا: ہاں۔ پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ تمہارے پاس اویس آئیں گے... تو کیا تم میرے لیے استغفار کرو گے؟ حضرت اویس نے استغفار کیا۔

کیا وجہ تھی کہ ایک عام یمنی کو یہ مقام ملا؟ اس لیے کہ وہ اپنی ماں کی خدمت میں اتنے لگے رہتے تھے کہ نبی ﷺ کی زیارت کی خواہش کے باوجود ماں کو چھوڑ کر مدینہ نہیں جا سکے۔ ان کی ماں بوڑھی تھیں اور انہیں خدمت کی ضرورت تھی۔ اویس قرنی نے اللہ کے رسول کی زیارت کو چھوڑا مگر ماں کی خدمت نہیں چھوڑی، اور اللہ نے انہیں وہ مقام عطا کیا کہ نبی ﷺ نے صحابہ کو ان سے دعا کرانے کا حکم دیا۔

سوچیے! اگر ہم اپنی ماں باپ کو خوش رکھیں، تو اللہ ہم سے کتنا خوش ہوگا!

۴. والدین کے انتقال کے بعد بھی ان کے حقوق

بھائیو! والدین کا حق صرف ان کی زندگی تک محدود نہیں۔ ان کے مرنے کے بعد بھی ان کے حقوق ہیں جو ہم پر فرض ہیں۔ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا:

«يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ بَقِيَ مِنْ بِرِّ أَبَوَيَّ شَيْءٌ أَبَرُّهُمَا بِهِ بَعْدَ مَوْتِهِمَا؟» قَالَ: «نَعَمْ، الصَّلَاةُ عَلَيْهِمَا، وَالِاسْتِغْفَارُ لَهُمَا، وَإِنْفَاذُ عَهْدِهِمَا مِنْ بَعْدِهِمَا، وَصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِي لَا تُوصَلُ إِلَّا بِهِمَا، وَإِكْرَامُ صَدِيقِهِمَا»
(سنن أبي داود: 5142 - حسن)

ترجمہ: "یا رسول اللہ! کیا میرے والدین کے انتقال کے بعد بھی ان کے ساتھ نیکی کا کوئی حق باقی ہے جسے میں ادا کر سکوں؟ فرمایا: ہاں، ان کے لیے دعا کرنا، ان کے لیے استغفار کرنا، ان کے وعدوں کو پورا کرنا، ان کے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا، اور ان کے دوستوں کی عزت کرنا۔"

اس لیے اپنے والدین کو ہمیشہ یاد رکھیے، ان کے لیے دعائیں کیجیے، اگر وہ زندہ ہیں تو پاؤں دبائیے، اور اگر اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں تو ان کے لیے مغفرت کی دعا کیجیے اور ان کی قبروں پر جا کر فاتحہ پڑھیے۔

۵. موجودہ دور میں والدین کا المیہ اور ہماری غفلت

اللہ کے بندو! آج کا دور بہت ترقی یافتہ ہے، لیکن دل سخت ہو گئے ہیں۔ اولڈ ہومز کا قیام عام ہو رہا ہے، جہاں بیٹے اپنے بوڑھے والدین کو چھوڑ آتے ہیں۔ بیٹیاں اپنے شوہروں کے گھروں میں مصروف ہیں اور ماں باپ کو فون کرنا بھول جاتی ہیں۔ بچے جوان ہو کر والدین کو بوجھ سمجھتے ہیں، ان کے سامنے آواز بلند کرتے ہیں، ان کی نصیحتوں کو پرانی سوچ کہہ کر مسترد کرتے ہیں۔

یاد رکھیے! جو آج آپ اپنے والدین کے ساتھ کریں گے، کل آپ کے بچے آپ کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کریں گے۔ یہ اللہ کا قانون ہے: "كَمَا تَدِينُ تُدَانُ" (جیسا کرو گے ویسا بھرو گے)۔ اگر آپ آج اپنی ماں کو چیختے ہیں، کل آپ کا بیٹا آپ کو چیخے گا۔

ایک اور افسوس ناک بات: بعض لوگ والدین کو خرچہ تو دیتے ہیں، لیکن محبت اور عزت نہیں دیتے۔ والدین کو پیسوں کی نہیں، آپ کی شفقت، آپ کی مسکراہٹ، آپ کے وقت کی ضرورت ہے۔ وہ وقت جب ماں کہانی سناتی تھی، باپ کندھے پر بٹھا کر گھماتا تھا، کیا آج آپ انہیں وہ وقت دے رہے ہیں؟

۶. اصلاحی نکات: والدین کی خدمت کا عملی طریقہ

  • ہر روز ان سے ملاقات: اگر ساتھ رہتے ہیں تو صبح و شام سلام کریں، پوچھیں: اماں! ابا! کیا آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہے؟
  • فون کریں: اگر دور ہیں تو روزانہ ایک بار ضرور بات کریں، صرف "کیسے ہیں" کہنے کے لیے ہی سہی۔
  • ان کی بات سنیں: جب وہ کچھ کہہ رہے ہوں، دھیان سے سنیں، موبائل کی طرف نہ دیکھیں، نہ بیچ میں ٹوکیں۔
  • ان کے سامنے عاجزی کریں: آواز دھیمی رکھیں، ان کے حکم پر فوراً جائیں، "جی اماں، جی ابا" کہہ کر جواب دیں۔
  • ان کے آرام کا خیال رکھیں: کھانے پینے، گرمی سردی، ادویات، ڈاکٹر کے اپائنٹمنٹ، یہ سب آپ کی ذمہ داری ہے۔
  • تحائف دیں: کبھی کبھار ان کی پسند کی کوئی چیز تحفے میں دیں، خواہ چھوٹی ہی کیوں نہ ہو۔
  • ان کے دوستوں اور رشتہ داروں کا احترام کریں: ان کے پرانے رشتوں کو زندہ رکھیں، یہ بھی والدین کی خدمت ہے۔
  • ان کے لیے دعا کریں: خاص طور پر نمازوں کے بعد اور سجدے میں: "رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا"۔
  • ان کی غلطیوں پر صبر: بوڑھے والدین سے کبھی بھول چوک ہو جائے تو ہرگز نہ جھڑکیں، مسکرا کر نظرانداز کر دیں۔
  • ان کے انتقال کے بعد بھی: مسلسل ان کے لیے استغفار کریں، ان کے وعدے پورے کریں، ان کے رشتہ داروں سے ملتے رہیں۔

۷. اختتامی نصیحت: ماں باپ کی رضا میں رب کی رضا ہے!

اللہ کے بندو! سنو! تم میں سے کسی نے اپنی ماں کے قدموں میں جنت تلاش کرنے کی کبھی کوشش کی؟ کسی نے سوچا کہ باپ کی دعا لے کر زندگی بدل سکتی ہے؟ ایک حدیث میں آیا ہے:

«رِضَى الرَّبِّ فِي رِضَى الْوَالِدِ، وَسَخَطُ الرَّبِّ فِي سَخَطِ الْوَالِدِ»
(سنن الترمذي: 1899 - حسن صحيح، الأدب المفرد للبخاري: 2)

ترجمہ: "رب کی رضا والد کی رضا میں ہے، اور رب کی ناراضی والد کی ناراضی میں ہے۔"

یعنی والدین جب تم سے خوش ہوں تو اللہ خوش ہے، اور جب وہ ناراض ہوں تو اللہ ناراض ہے۔ اس لیے اپنی ہر کوشش یہ ہونی چاہیے کہ والدین راضی رہیں، چاہے اس کے لیے اپنی پسند کی چیز چھوڑنی پڑے۔

خبردار! ان لوگوں کے انجام سے جو والدین کو ستاتے ہیں۔ قیامت کے دن ایسے لوگ ذلیل ہوں گے، اور دنیا میں بھی وہ برکت سے محروم رہتے ہیں۔

۸. دعا

«رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا»
(سورۃ الإسراء: 24)
«اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِوَالِدَيَّ وَارْحَمْهُمَا، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُمَا، وَوَسِّعْ مَدْخَلَهُمَا، وَاغْسِلْهُمَا بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّهِمَا مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ»
(دعا ماثور)
«اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنَ الْبَرَرَةِ بِوَالِدَيْنَا، وَارْزُقْنَا رِضَاهُمَا، وَأَعِنَّا عَلَىٰ خِدْمَتِهِمَا»
(ماثور)

اللهم اجعل والدينا من أهل الجنة، وأطل في أعمارهم على طاعتك، وبارك لنا فيهم. اللهم واغفر لأمواتنا من الوالدين والأقربين، واجمعنا بهم في جنات النعيم. اللهم من كان من والدينا حيًا فبارك له في عمره، ومن كان منهم ميتًا فارحمه واغفر له. ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار. وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.


TAGS JSON: { "tags": ["والدین", "ماں باپ", "خدمت", "بر الوالدین", "عقوق", "اویس قرنی", "جنت", "والدین کے حقوق", "بوڑھے والدین", "دعا"], "category": "والدین", "related_month": null, "related_people": ["حضرت اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ", "حضرت عمر رضی اللہ عنہ", "حضرت علی رضی اللہ عنہ"] } FEATURED IMAGE IDEA: ایک بوڑھی ماں اور باپ کو ایک نوجوان پیار سے ہاتھ پکڑے ہوئے، پس منظر میں جنت کا باغ اور روشنی، اوپر عربی خطاطی میں "وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا" اور نیچے حدیث "الْجَنَّةُ تَحْتَ أَقْدَامِ الْأُمَّهَاتِ" لکھی ہو۔