حج: بیت اللہ کی طرف عشق و تسلیم کا عظیم الشان سفر
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِّلنَّاسِ، وَفَرَضَ حَجَّ بَيْتِهِ عَلَى الْمُسْتَطِيعِينَ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، شَرَعَ لَنَا الْمَنَاسِكَ لِنَتَذَكَّرَ يَوْمَ الْحَشْرِ وَالْقِيَامِ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، حَجَّ بِالْمُسْلِمِينَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ، وَقَالَ: "خُذُوا عَنِّي مَنَاسِكَكُمْ". صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ الَّذِينَ لَبَّوْا دَعْوَتَهُ وَاقْتَدَوْا بِهُدَاهُ. أَمَّا بَعْدُ!
اللہ کے پیارے بندو! ایمان والو! سنو! آج ہم ایک ایسی عبادت کا تذکرہ کریں گے جو زندگی میں صرف ایک بار فرض ہوتی ہے، مگر جس کا ثواب جنت سے کم نہیں۔ وہ عبادت جس میں بندہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اپنے رب کے گھر کی طرف کھنچا چلا جاتا ہے۔ وہ عبادت جہاں رنگ، نسل، زبان، ملک، دولت سب کی تفریق مٹ جاتی ہے اور سب ایک صف میں "لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ" کی صدا لگاتے ہیں۔ جی ہاں! وہ ہے حج، اسلام کا پانچواں رکن، بیت اللہ کا وہ عظیم الشان سفر جو ہر صاحبِ استطاعت پر زندگی میں ایک بار فرض ہے۔
بھائیو! آج کا خطبہ اسی روح پرور سفر کے بارے میں ہے۔ ہم جانیں گے کہ حج کیوں فرض ہے، اس کے پیچھے کیا حکمتیں ہیں، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کا کیا مقام ہے، ہمارے نبی ﷺ نے حجۃ الوداع میں امت کو کیا وصیت فرمائی، اور موجودہ دور میں حج کا حقیقی پیغام کیا ہے۔ غور سے سنیے اور دل کو بیت اللہ کی محبت سے منور کیجیے!
۱. قرآن کریم میں حج کی فرضیت اور بیت اللہ کی عظمت
اللہ رب العزت نے قرآن پاک میں حج کا حکم نہایت تاکید سے نازل فرمایا، اور اسے اپنے لیے مخصوص کر دیا۔ سنیے! رب العالمین کا فرمان ہے:
﴿وَلِلَّـهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۚ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّـهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ﴾
(سورۃ آل عمران: 97)
ترجمہ: "اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے، جو شخص وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو۔ اور جو کوئی کفر کرے (انکار کرے) تو بے شک اللہ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے۔"
دیکھا آپ نے! اللہ نے حج کو اپنے اوپر حق قرار دیا، اور جو استطاعت کے باوجود حج نہ کرے اس کے بارے میں "کفر" کا لفظ استعمال فرمایا، جو اس فریضے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ہلکی پھلکی بات نہیں۔
پھر اللہ نے بیت اللہ کی عظمت اور اس کی بنیاد کا ذکر فرمایا:
﴿وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَن لَّا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا وَطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ ۞ وَأَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ﴾
(سورۃ الحج: 26-27)
ترجمہ: "اور یاد کرو جب ہم نے ابراہیم کو بیت اللہ کی جگہ بتا دی، (اور حکم دیا) کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں، قیام کرنے والوں، رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھو۔ اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دو، وہ تیرے پاس پیدل اور دبلے پتلے اونٹوں پر سوار ہو کر ہر دور دراز راستے سے آئیں گے۔"
اللہ اکبر! یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو وہ حکم ہے جس کے نتیجے میں آج کروڑوں مسلمان ہر سال بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں۔ دیکھیے اللہ نے کیسے اپنے گھر کو شرک سے پاک رکھنے اور عبادت گزاروں کے لیے پاکیزہ رکھنے کا حکم دیا۔ حج کا یہ سفر دراصل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کو زندہ کرنا ہے۔
۲. احادیث نبویہ میں حج کی فضیلت اور اس کا اجر
نبی کریم ﷺ نے حج کے بارے میں بہت سی فضیلتیں بیان فرمائیں، جو سن کر مومن کا دل بیت اللہ کی طرف امنڈتا ہے۔ غور سے سنیے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«مَنْ حَجَّ لِلَّهِ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ»
(صحيح البخاري: 1521، صحيح مسلم: 1350)
ترجمہ: "جس نے اللہ کے لیے حج کیا اور اس دوران بیہودہ بات نہ کی، نہ گناہ کا کام کیا، تو وہ اس دن کی طرح (گناہوں سے) پاک ہو کر واپس آتا ہے جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔"
کتنی بڑی بشارت ہے! حجِ مبرور گناہوں کی مکمل بخشش کا ذریعہ ہے، ایسے جیسے انسان نے ابھی ابھی اس دنیا میں آنکھ کھولی ہو، بالکل معصوم۔
ایک اور حدیث میں جنت کی ضمانت دی گئی:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ»
(صحيح البخاري: 1773، صحيح مسلم: 1349)
ترجمہ: "ایک عمرے سے دوسرا عمرہ ان گناہوں کا کفارہ ہے جو ان کے درمیان ہوئے، اور حجِ مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔"
اس لیے حج کو قبولیت کے ساتھ ادا کرنا ہر مسلمان کی آرزو ہونی چاہیے۔ حجِ مبرور وہ ہے جس میں اخلاص ہو، مال حلال ہو، اور مناسک سنت کے مطابق ادا کیے جائیں۔
حج کے دوران کی دعاؤں اور لبیک کی فضیلت بھی سن لیجیے:
«مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُلَبِّي إِلَّا لَبَّى مَا عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ مِنْ حَجَرٍ وَشَجَرٍ وَمَدَرٍ، حَتَّى تَنْقَطِعَ الأَرْضُ مِنْ هَاهُنَا وَهَاهُنَا»
(سنن الترمذي: 828 - حسن صحيح)
ترجمہ: "جو مسلمان بھی لبیک کہتا ہے، اس کے دائیں بائیں پتھر، درخت اور مٹی سب اس کے ساتھ لبیک کہتے ہیں، یہاں تک کہ زمین یہاں اور یہاں سے ختم ہو جاتی ہے۔"
یعنی ساری کائنات اس مومن کے ساتھ اللہ کی بڑائی بیان کرتی ہے!
۳. حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی اور حج کے روحانی اسرار
بھائیو! حج کا ہر رکن حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے خاندان کی عظیم قربانیوں کی یادگار ہے۔ بیت اللہ کی تعمیر، حجر اسود کا بوسہ، مقام ابراہیم، صفا و مروہ کے درمیان سعی، زمزم کا چشمہ، اور سب سے بڑھ کر قربانی — یہ سب حضرت ابراہیم، حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہم السلام کی تسلیم و رضا کی داستان ہیں۔
سوچیے! ایک باپ اللہ کے حکم پر اپنی بیوی اور دودھ پیتے بچے کو بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ آیا۔ حضرت ہاجرہ نے صبر اور توکل کا وہ مظاہرہ کیا کہ صفا و مروہ کے درمیان سعی کرتی رہیں۔ اللہ نے ان کی کوشش کو ہمیشہ کے لیے حج کا رکن بنا دیا، اور زمزم کا وہ چشمہ جاری کیا جو قیامت تک جاری رہے گا۔
پھر جب حضرت اسماعیل علیہ السلام جوان ہوئے تو اللہ نے خواب میں حکم دیا کہ اپنے بیٹے کو ذبح کرو۔ باپ اور بیٹے دونوں نے کیا کہا؟ قرآن سنیے:
﴿فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَىٰ ۚ قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّـهُ مِنَ الصَّابِرِينَ﴾
(سورۃ الصافات: 102)
ترجمہ: "پس جب وہ (اسماعیل) ان کے ساتھ دوڑنے کی عمر کو پہنچا تو ابراہیم نے کہا: اے میرے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، سو تو بتا تیری کیا رائے ہے؟ اس نے کہا: اے میرے ابا! جو آپ کو حکم دیا جا رہا ہے کر ڈالیے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔"
یہ ہے تسلیم و رضا! بیٹا یہ نہیں کہتا کہ آپ نے کیسا خواب دیکھا، بلکہ فوراً کہتا ہے: جو حکم ہے اسے بجا لائیے۔ یہی جذبہ حج میں "قربانی" کی صورت میں زندہ کیا جاتا ہے۔ اللہ نے اس عظیم آزمائش کے بعد اسماعیل کی جگہ ایک مینڈھا ذبح کرنے کا حکم دیا اور اسے قیامت تک کے لیے سنت قرار دیا۔
حج کا ایک اور عظیم راز یہ ہے کہ یہ قیامت کے دن کی مشق ہے۔ احرام کی دو چادریں کفن کی یاد دلاتی ہیں، میدان عرفات میں کھڑے ہونا میدان حشر کی جھلک ہے، اور ساری امت کا ایک ساتھ لبیک کہنا اس عظیم اجتماع کی یاد دلاتا ہے جب سب انسان اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔
۴. حجۃ الوداع: نبی کریم ﷺ کا امت کو آخری پیغام
بھائیو! دس ہجری میں نبی کریم ﷺ نے ایک لاکھ سے زائد صحابہ کے ساتھ حج ادا فرمایا، جسے حجۃ الوداع کہتے ہیں۔ اس حج میں آپ ﷺ نے امت کو وہ جامع خطبات دیے جو اسلام کے بنیادی اصولوں کا نچوڑ ہیں۔ میدان عرفات میں آپ ﷺ نے اونٹنی پر سوار ہو کر فرمایا:
«يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اسْمَعُوا قَوْلِي، فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَلْقَاكُمْ بَعْدَ عَامِي هَٰذَا بِهَٰذَا الْمَوْقِفِ أَبَدًا. إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَٰذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَٰذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَٰذَا»
(صحيح البخاري: 1739، صحيح مسلم: 1679)
ترجمہ: "اے لوگو! میری بات سن لو! مجھے نہیں معلوم کہ شاید میں اس سال کے بعد اس مقام پر تم سے دوبارہ نہ مل سکوں۔ بے شک تمہارے خون، تمہارے مال، اور تمہاری عزتیں تم پر اسی طرح حرام ہیں جیسے اس دن کی حرمت، اس مہینے کی حرمت، اور اس شہر کی حرمت ہے۔"
پھر آپ ﷺ نے سود ختم کرنے، عورتوں کے حقوق، اور آپس میں بھائی چارے کا حکم دیا، اور فرمایا:
«وَاعْبُدُوا رَبَّكُمْ، وَصَلُّوا خَمْسَكُمْ، وَصُومُوا شَهْرَكُمْ، وَأَطِيعُوا ذَا أَمْرِكُمْ تَدْخُلُوا جَنَّةَ رَبِّكُمْ»
(جامع الترمذي: 616 - صحيح)
ترجمہ: "اور اپنے رب کی عبادت کرو، اپنی پانچ نمازیں قائم کرو، اپنے مہینے کے روزے رکھو، اور اپنے حاکم کی اطاعت کرو، تو تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔"
اس خطبے کے آخر میں آپ ﷺ نے آسمان کی طرف انگلی اٹھا کر لوگوں کی طرف اشارہ کیا اور تین بار فرمایا: "اللَّهُمَّ اشْهَدْ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ" (اے اللہ! تو گواہ ہو جا)۔
اس کے کچھ ہی عرصے بعد قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی:
﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا﴾
(سورۃ المائدہ: 3)
ترجمہ: "آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی، اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا۔"
یہ سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رو پڑے، کیونکہ وہ سمجھ گئے کہ دین مکمل ہونے کا مطلب ہے کہ اب نبی ﷺ کی رحلت قریب ہے۔
۵. موجودہ دور میں حج: بھیڑ، سہولتیں اور اصل روح
بھائیو! آج کا دور ہے، الحمدللہ حج کے انتظامات بہت بہتر ہو گئے ہیں، لیکن کیا ہم نے حج کی روح کو محفوظ رکھا ہے؟ آج کل بہت سے لوگ حج کی سہولیات، پانچ ستارہ ہوٹلوں اور شاپنگ کی باتوں میں الجھ کر اصل مقصد بھول جاتے ہیں۔ بعض لوگ صرف تصویریں کھینچنے، سٹیٹس لگانے اور دکھاوے کے لیے حج کرتے ہیں، حالانکہ حج تو عاجزی، گڑگڑاہٹ اور اللہ کے حضور سربسجود ہونے کا نام ہے۔
یاد رکھیے! حج کے دوران بھیڑ، گرمی، دھکم پیل، تھکاوٹ — یہ سب آزمائش کا حصہ ہیں، صبر کا موقع ہیں۔ ان چیزوں پر شکوہ کرنا حج کی روح کے خلاف ہے۔ نبی ﷺ نے حج کے دوران بھی صبر اور خوش اخلاقی کی تلقین فرمائی۔ لہٰذا اگر آپ کو حج کی سعادت نصیب ہو تو صبر، شکر، خندہ پیشانی، اور دوسروں کی مدد کو اپنا شعار بنائیے۔
ان لوگوں کے لیے جو حج پر نہیں جا سکتے، انہیں مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ ذی الحجہ کے پہلے دس دن روزے، تسبیحات، تکبیرات، قربانی، اور زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کا موقع ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا:
«مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهَا أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَٰذِهِ الْأَيَّامِ» يَعْنِي أَيَّامَ الْعَشْرِ.
(صحيح البخاري: 969)
ترجمہ: "ان دنوں (ذی الحجہ کے پہلے دس دنوں) سے بڑھ کر کوئی دن ایسے نہیں جن میں نیک عمل اللہ کو زیادہ محبوب ہوں۔"
۶. اصلاحی نکات: حج اور قربانی کے ایام سے بھرپور فائدہ کیسے اٹھائیں؟
- حج کی تیاری روحانی کریں: اگر آپ حج پر جا رہے ہیں تو سب سے پہلے سچی توبہ کریں، حقوق العباد ادا کریں، قرض اتاریں، اور حلال مال سے حج کریں۔
- مناسک سیکھیں: سنت کے مطابق حج کرنے کے لیے مناسک کی کتابیں پڑھیں، علماء سے رجوع کریں، اور عملی تربیت حاصل کریں۔
- دعاؤں کا اہتمام: حج کے ہر موقع پر دعائیں مانگیں، خاص طور پر میدان عرفات میں، کہ یہ دعا کی قبولیت کا عظیم دن ہے۔
- اخلاص اور عاجزی: حج کو شہرت، تصویروں اور دکھاوے سے پاک رکھیں۔ صرف اللہ کی رضا مقصود ہو۔
- صبر و برداشت: بھیڑ، گرمی، تاخیر، اور مشکلات پر صبر کریں، یہی آپ کے حج کو مبرور بنائے گا۔
- قربانی کا اہتمام: استطاعت ہو تو قربانی لازمی کریں، اور اس کا گوشت غریبوں، رشتے داروں اور پڑوسیوں میں تقسیم کریں۔ یہ سنت ابراہیمی ہے۔
- تکبیرات تشریق: نو ذی الحجہ کی فجر سے تیرہ ذی الحجہ کی عصر تک فرض نمازوں کے بعد تکبیرات کہنا واجب ہے، اس کا خوب اہتمام کریں۔
- گھر والوں کو شامل کریں: اگر آپ حج پر نہیں جا سکے تو گھر میں بھی ان ایام کی روح بیدار کریں: روزے رکھیں، تکبیریں کہیں، قربانی کریں، اور بچوں کو ان سنتوں سے جوڑیں۔
- حج کا پیغام عام کریں: حج کے بعد اپنے اخلاق، دینداری، اور عاجزی میں واضح تبدیلی لائیں، تاکہ لوگ دیکھیں کہ حج نے آپ کو بدل دیا۔
- حج کی مالی منصوبہ بندی: حج کے لیے بچت شروع کریں، اور نیت کریں کہ جلد از جلد اللہ کے گھر حاضر ہوں گے۔
۷. اختتامی نصیحت: اللہ کے گھر کی طرف دوڑو!
اللہ کے بندو! سنو! دنیا کے سفر بہت کیے، ہوائی جہازوں میں بیٹھ کر ملک ملک گھومے، لیکن کبھی سوچا کہ اللہ کے گھر کا سفر بھی کرنا ہے؟ یہ سفر تھوڑی سی استطاعت کا متقاضی ہے۔ جس کے پاس حج کے اخراجات ہوں، اور جسمانی استطاعت بھی، اس پر حج فرض ہے۔ اس میں تاخیر مت کرو، کیونکہ نہ جانے کل زندگی ہو نہ ہو۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«تَعَجَّلُوا إِلَى الْحَجِّ – يَعْنِي الْفَرِيضَةَ – فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي مَا يَعْرِضُ لَهُ»
(مسند أحمد: 1/214 - حسن)
ترجمہ: "فرض حج کرنے میں جلدی کرو، کیونکہ تم میں سے کسی کو نہیں معلوم کہ اسے کون سی رکاوٹ پیش آ جائے۔"
حج کے بعد انسان کا دل بالکل صاف ہو جاتا ہے، زندگی کا انداز بدل جاتا ہے۔ اس لیے حج کو صرف ایک رسم نہ سمجھو، بلکہ اپنی روح کی معراج سمجھو۔
۸. دعا
«رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ۞ رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِن ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ»
(سورۃ البقرہ: 127-128)
ترجمہ: "اے ہمارے رب! ہم سے قبول فرما، بے شک تو ہی سننے والا جاننے والا ہے۔ اے ہمارے رب! ہمیں اپنا فرماں بردار بنا دے، اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک امت اپنی فرماں بردار پیدا کر، اور ہمیں ہمارے حج کے طریقے دکھا دے، اور ہماری توبہ قبول فرما، بے شک تو توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔"
«اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا حَجَّ بَيْتِكَ الْحَرَامِ، وَعُمْرَةَ نَبِيِّكَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ»
(ماثور دعا)
ترجمہ: "اے اللہ! ہمیں اپنے بیت الحرام کا حج اور اپنے نبی ﷺ کی سنت کے مطابق عمرہ نصیب فرما۔"
اللهم تقبل من حجاج بيتك الحرام، وارزقنا وإياهم حجًا مبرورًا، وسعيًا مشكورًا، وذنبًا مغفورًا. اللهم اجعلنا من عبادك الصالحين الذين يوفون بعهدك، ويقيمون مناسكك كما أمرت. اللهم أرنا الحق حقًا وارزقنا اتباعه، وأرنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابه. ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار. وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.
TAGS JSON: { "tags": ["حج", "بیت اللہ", "حجۃ الوداع", "عرفات", "قربانی", "ابراہیم علیہ السلام", "حج مبرور", "عمرہ", "ذی الحجہ", "ایام تشریق"], "category": "حج", "related_month": "ذی الحجہ", "related_people": ["حضرت ابراہیم علیہ السلام", "حضرت اسماعیل علیہ السلام", "حضرت ہاجرہ", "حضرت محمد ﷺ"] } FEATURED IMAGE IDEA: خانہ کعبہ کا خوبصورت منظر، طواف کرتے ہوئے حجاج کا جم غفیر، پس منظر میں عرفات کا پہاڑ، ایک شخص احرام میں ہاتھ اٹھائے دعا کر رہا ہو۔ اوپر عربی میں "لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ" اور نیچے "حِجُّ الْبَيْتِ" کی خطاطی ہو۔