ہوم / مضامین

زکوٰۃ کی فرضیت، فضائل اور احکام قرآن و حدیث کی روشنی میں | خطبہ جمعہ

TITLE: زکوٰۃ: مال کی پاکیزگی اور معاشرتی ہمدردی کا اسلامی نظام SEO TITLE: زکوٰۃ کی فرضیت، فضائل اور احکام قرآن و حدیث کی روشنی میں | خطبہ جمعہ SLUG: zakat-maal-ki-pakeezgi-aur-muashrati-hamdardi META DESCRIPTION: زکوٰۃ کی اہمیت، اس کے وجوب کی حکمتیں، نہ دینے پر وعید، صحابہ کرام کا جذبہ انفاق، اور موجودہ دور میں زکوٰۃ کے احکام پر مبنی جامع خطبہ۔ CONTENT:

زکوٰۃ: مال کی پاکیزگی اور معاشرتی ہمدردی کا اسلامی نظام

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ الزَّكَاةَ رُكْنًا مِنْ أَرْكَانِ الدِّينِ، وَطُهْرَةً لِلْمَالِ وَالْقُلُوبِ، وَرَحْمَةً لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ. وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَمَرَ بِالزَّكَاةِ وَحَثَّ عَلَيْهَا، وَقَاتَلَ مَانِعِيهَا. صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ الَّذِينَ جَادُوا بِأَمْوَالِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. أَمَّا بَعْدُ!

اللہ کے نیک بندو! سننے والو! آج ہم جس عظیم فریضے پر بات کرنے جا رہے ہیں، یہ وہ عبادت ہے جسے قرآن کریم میں جگہ جگہ نماز کے ساتھ ذکر کیا گیا۔ نماز جسمانی عبادت ہے اور زکوٰۃ مالی عبادت۔ یہ دونوں مل کر مومن کے ایمان کی گواہی دیتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں وہ کیا ہے؟ جی ہاں! وہ ہے زکوٰۃ، جو اسلام کا تیسرا اہم رکن ہے۔ زکوٰۃ صرف ٹیکس یا خیرات نہیں، بلکہ مال کی پاکیزگی، نفس کی تزکیہ، اور غربت کے خاتمے کا الٰہی نظام ہے۔

بھائیو! آج کا خطبہ اسی بابرکت فریضے کے بارے میں ہے۔ ہم جانیں گے کہ زکوٰۃ کیوں فرض ہوئی، اس کی حکمتیں کیا ہیں، نہ دینے والوں کے لیے کیا وعید ہے، اور ہمارے اسلاف نے کس طرح اس فریضے کو ادا کیا۔ غور سے سنیے! کیونکہ مال کی محبت انسان کو اندھا کر دیتی ہے، اور اسی محبت سے نجات کا نام زکوٰۃ ہے۔

۱. قرآن کریم میں زکوٰۃ کی فرضیت اور اس کے برکات

اللہ رب العزت نے قرآن پاک میں زکوٰۃ کا حکم نہایت تاکید کے ساتھ بار بار دہرایا۔ تقریباً 32 مقامات پر زکوٰۃ کا ذکر نماز کے ساتھ آیا ہے۔ سنیے! اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ
(سورۃ البقرہ: 43)

ترجمہ: "اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو، اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔"

دیکھا آپ نے! اللہ نے نماز اور زکوٰۃ کو لازم و ملزوم قرار دیا۔ جہاں نماز کا حکم ہے، وہیں زکوٰۃ کا بھی حکم ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص نماز پڑھتا ہے مگر زکوٰۃ ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کے حکم کی پوری تعمیل نہیں کر رہا۔

زکوٰۃ کو اللہ نے مال کی پاکیزگی کا ذریعہ بتایا، سنیے:

﴿خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا
(سورۃ التوبہ: 103)

ترجمہ: "اے نبی! آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجیے، جس کے ذریعے آپ انہیں پاک کریں اور ان کا تزکیہ کریں۔"

غور کیجیے! زکوٰۃ دینے سے مال اور مال دینے والے کی روح دونوں پاک ہو جاتے ہیں۔ مال میں جو حرام کی ملاوٹ یا بخل کی آلودگی ہے، زکوٰۃ اسے صاف کر دیتی ہے۔

اب سنیے کہ زکوٰۃ نہ دینے والوں کا انجام کیا ہوگا:

﴿وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ۞ يَوْمَ يُحْمَىٰ عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَىٰ بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ ۖ هَـٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَكْنِزُونَ
(سورۃ التوبہ: 34-35)

ترجمہ: "اور جو لوگ سونا چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خبر دے دیجیے۔ جس دن اس (مال) کو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر اس سے ان کی پیشانیاں، پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی۔ (کہا جائے گا) یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا، پس چکھو مزہ اس جمع کرنے کا۔"

اللہ اکبر! کتنی ہولناک وعید ہے! یہ آیت ہر اس شخص کے لیے ہیبت ناک ہے جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتا اور مال کو خزانہ بنا کر رکھتا ہے۔

اللہ نے زکوٰۃ کے صحیح مصارف بھی خود طے فرما دیے تاکہ کوئی شک نہ رہے، ارشاد ہے:

﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۖ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
(سورۃ التوبہ: 60)

ترجمہ: "صدقات تو صرف فقراء کے لیے ہیں، مساکین کے لیے، اور ان کے لیے جو زکوٰۃ کی وصولی پر مقرر ہوں، اور ان کے لیے جن کے دل اسلام کی طرف مائل کرنے مقصود ہوں، اور گردنیں چھڑانے میں، اور قرض داروں کے لیے، اور اللہ کی راہ میں، اور مسافر کے لیے۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے، اور اللہ خوب جاننے والا، حکمت والا ہے۔"

۲. احادیث نبویہ میں زکوٰۃ کی اہمیت اور اسے روکنے کی سزا

نبی اکرم ﷺ نے زکوٰۃ کو اسلام کے بنیادی ارکان میں شمار فرمایا، اور اس کے انکار یا عدم ادائیگی کو تباہی کا سبب بتایا۔ سنیے! حضور ﷺ نے کیا فرمایا:

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَىٰ خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالْحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ»
(صحيح البخاري: 8، صحيح مسلم: 16)

ترجمہ: "اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، حج کرنا، اور رمضان کے روزے رکھنا۔"

دیکھیے! زکوٰۃ کو نماز کے فوراً بعد رکھا گیا، حج اور روزے سے بھی پہلے۔ اس سے اس کی اہمیت کا اندازہ لگائیے۔

زکوٰۃ نہ دینے والے کے انجام کے بارے میں نبی ﷺ نے بہت سخت فرمایا:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«مَا مِنْ صَاحِبِ ذَهَبٍ وَلَا فِضَّةٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ صُفِّحَتْ لَهُ صَفَائِحُ مِنْ نَارٍ، فَأُحْمِيَ عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ، فَيُكْوَىٰ بِهَا جَبْهَتُهُ وَجَنْبُهُ وَظَهْرُهُ»
(صحيح مسلم: 987)

ترجمہ: "جس شخص کے پاس سونا یا چاندی ہو اور وہ اس کا حق (زکوٰۃ) ادا نہ کرتا ہو، تو قیامت کے دن اس کے لیے آگ کے ٹکڑے بنا کر تپائے جائیں گے، پھر اس سے اس کی پیشانی، پہلو اور پیٹھ کو داغا جائے گا۔"

اللہ کے بندو! یہ کوئی معمولی دھمکی نہیں، یہ قیامت کے دن کا عذاب ہے جو اس شخص کو ملے گا جو اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا۔

اور سنیے! حضور ﷺ نے زکوٰۃ کو مال کی حفاظت کا ذریعہ بتایا:

«حَصِّنُوا أَمْوَالَكُمْ بِالزَّكَاةِ، وَدَاوُوا مَرْضَاكُمْ بِالصَّدَقَةِ، وَأَعِدُّوا لِلْبَلَاءِ الدُّعَاءَ»
(سنن أبي داود: 1581، سنن البيهقي - حسن)

ترجمہ: "اپنے مالوں کو زکوٰۃ کے ذریعے محفوظ کرو، اپنے مریضوں کا علاج صدقے سے کرو، اور بلا کے لیے دعا کو تیار رکھو۔"

۳. حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا زکوٰۃ کے بارے میں عظیم موقف

بھائیو! سنو! یہ واقعہ ہمارے لیے نشانِ راہ ہے۔ جب نبی کریم ﷺ کی وفات ہوئی تو بعض عرب قبائل نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نماز تو پڑھیں گے مگر زکوٰۃ نہیں دیں گے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جو اس وقت خلیفہ تھے، انہوں نے کیا فرمایا؟ دیکھیے! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی مشورہ دیا کہ ان سے جنگ نہ کی جائے کیونکہ وہ "لا إله إلا اللہ" کہتے ہیں۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے وہ جواب دیا جو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا گیا:

«وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ، وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَىٰ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَىٰ مَنْعِهَا»
(صحيح البخاري: 1399، صحيح مسلم: 20)

ترجمہ: "اللہ کی قسم! میں ضرور اس شخص سے جنگ کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ کے درمیان فرق کرے، کیونکہ زکوٰۃ مال کا حق ہے۔ اللہ کی قسم! اگر انہوں نے وہ بکری کا بچہ بھی دینے سے انکار کیا جسے وہ رسول اللہ ﷺ کو دیا کرتے تھے، تو میں اس انکار پر ان سے ضرور لڑوں گا۔"

دیکھا آپ نے! حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے زکوٰۃ کے ایک چھوٹے سے حصے (بکری کے بچے) کے انکار کو بھی کفر اور بغاوت کے برابر سمجھا، اور اس پر تلوار اٹھانے میں ذرا بھی تامل نہیں کیا۔ یہ ہے زکوٰۃ کی اہمیت! یہ مال کا حق ہے، جسے ادا کرنا ہر صاحبِ نصاب پر فرض ہے۔

اور دوسری طرف سخاوت کی مثال دیکھنی ہو تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو دیکھ لیجیے۔ جب مدینہ میں قحط پڑا تو انہوں نے اپنا سارا تجارتی قافلہ جو شام سے آ رہا تھا، مسلمانوں میں مفت تقسیم کر دیا۔ جب تبوک کی جنگ میں مسلمانوں کو مالی مشکلات پیش آئیں تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بے حساب مال پیش کیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا:

«مَا ضَرَّ عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ»
(سنن الترمذي: 3700 - حسن)

ترجمہ: "آج کے بعد عثمان جو بھی کریں انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔"

۴. زکوٰۃ کی حکمتیں: پاکیزگی، ہمدردی اور معاشی انصاف

اللہ کے بندو! زکوٰۃ میں رب العالمین نے کیا خوب حکمتیں رکھی ہیں۔ پہلی حکمت: زکوٰۃ دینے والے کا دل بخل، لالچ اور مال کی محبت سے پاک ہو جاتا ہے۔ جب آپ اپنا پیارا مال اللہ کے حکم سے نکالتے ہیں تو شیطان کی وہ گرہ کھل جاتی ہے جو آپ کو مال کا پجاری بناتی ہے۔

دوسری حکمت: زکوٰۃ لینے والے کے دل سے حسد، غصہ اور امیروں کے خلاف نفرت ختم ہو جاتی ہے۔ جب غریب دیکھتا ہے کہ امیر اپنے مال کا ایک حصہ اللہ کے حکم سے میری مدد کے لیے دے رہا ہے، تو اس کے دل میں امیر کے لیے عزت اور محبت پیدا ہوتی ہے، اور وہ بھی اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔ اس طرح معاشرے میں محبت اور بھائی چارہ پھیلتا ہے۔

تیسری حکمت: زکوٰۃ معاشی توازن قائم کرتی ہے۔ دولت صرف امیروں کے ہاتھوں میں گردش نہیں کرتی بلکہ معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچتی ہے۔ یہ اسلام کا عظیم معاشی نظام ہے جس میں سود، جوئے، اور استحصال کی ممانعت ہے، اور زکوٰۃ و صدقات کی ترغیب ہے۔

چوتھی حکمت: زکوٰۃ غربت اور بھوک کے خاتمے کا ذریعہ ہے۔ اگر تمام صاحبِ نصاب مسلمان صحیح طریقے سے زکوٰۃ ادا کریں تو دنیا میں کوئی مسلمان بھوکا نہ سوئے، کوئی ننگا نہ رہے، کوئی قرض کے بوجھ تلے نہ دبے۔

۵. موجودہ دور میں زکوٰۃ: غفلت اور مسائل

بھائیو! آج کا دور بہت عجیب ہے۔ لوگ لاکھوں، کروڑوں روپے کماتے ہیں، بینکوں میں جمع کرتے ہیں، جائیدادیں خریدتے ہیں، مگر جب زکوٰۃ نکالنے کا وقت آتا ہے تو ہزار حیلے بہانے ڈھونڈتے ہیں۔ بعض لوگ زکوٰۃ کو ٹیکس سمجھ کر بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بعض لوگ رمضان میں حساب لگا کر زکوٰۃ نکالتے ضرور ہیں مگر نیت میں اخلاص نہیں ہوتا، دکھاوے کے لیے دیتے ہیں۔

یاد رکھیے! زکوٰۃ ادا کرنے سے مال کم نہیں ہوتا، بلکہ بڑھتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

«مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ»
(صحيح مسلم: 2588)

ترجمہ: "صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا۔"

یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ زکوٰۃ دینے والے کے مال میں برکت عطا فرماتا ہے، اسے نقصانات سے بچاتا ہے، اور اسے اجرِ عظیم دیتا ہے۔

موجودہ دور میں زکوٰۃ کے حوالے سے چند اہم مسائل ہیں جن کا جاننا ضروری ہے: کس چیز پر زکوٰۃ فرض ہے؟ سونا، چاندی، نقدی، تجارتی مال، زرعی پیداوار، مویشی، اور کرائے کی جائیداد کی آمدن۔ زیورات پر بھی اگر وہ نصاب کو پہنچ جائیں تو زکوٰۃ فرض ہے، چاہے وہ استعمال ہی کیوں نہ ہو رہے ہوں۔ بہت سی خواتین اس بارے میں غفلت کرتی ہیں۔

اسی طرح بہت سے تاجر اپنے تجارتی مال کا صحیح حساب نہیں لگاتے، کارخانوں کی زکوٰۃ نہیں نکالتے۔ زکوٰۃ کی ادائیگی میں تاخیر کرنا بھی گناہ ہے۔ اگر کسی پر قرض ہے تو وہ قرض منہا کر کے بقیہ مال پر زکوٰۃ نکالے، بشرطیکہ قرض اتنا نہ ہو کہ بقیہ مال نصاب سے کم رہ جائے۔

۶. اصلاحی نکات: زکوٰۃ کو درست طریقے سے ادا کرنے کے اقدامات

  • صحیح نیت بنائیے: زکوٰۃ صرف اللہ کی رضا کے لیے دیں، دکھاوے یا نام کمانے کے لیے نہیں۔
  • شرعی حساب لگائیے: سال میں ایک مرتبہ اپنے تمام مال کا جائزہ لیں (سونے، چاندی، نقدی، تجارتی مال، اسٹاک، کرنسی وغیرہ)، اس پر ڈھائی فیصد (2.5%) زکوٰۃ نکالیں۔ کسی معتبر عالم دین سے رہنمائی لے لیں۔
  • مستحقین کی تلاش کریں: زکوٰۃ انہی لوگوں کو دیں جو واقعی مستحق ہوں، یعنی فقراء، مساکین، قرض دار، مسافر، وغیرہ۔ اپنے رشتے داروں میں اگر کوئی مستحق ہو تو اسے دینا زیادہ بہتر ہے، کیونکہ اس میں دوہرا اجر ہے: صلہ رحمی اور زکوٰۃ۔
  • رمضان میں ادائیگی کا معمول بنائیں: اگرچہ زکوٰۃ کا سال پورا ہونے پر ہی فرض ہوتی ہے، مگر بہت سے لوگ حساب کتاب کی سہولت کے لیے رمضان کو مقرر کر لیتے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں، بلکہ رمضان میں نیکیوں کا اجر بڑھ جاتا ہے۔
  • عیدی، تحائف اور صدقات فطر کا اہتمام: زکوٰۃ کے علاوہ عام صدقہ و خیرات بھی کریں، خاص طور پر عید کے موقع پر غریبوں کو یاد رکھیں۔
  • زکوٰۃ کو ٹیکس نہ سمجھیں: یہ عبادت ہے، اس لیے اسے خوش دلی سے ادا کریں۔ اللہ کو یہ بات پسند ہے کہ بندہ خوشی سے اس کی راہ میں خرچ کرے۔
  • اپنے بچوں کو زکوٰۃ کی اہمیت سکھائیں: انہیں بچپن سے ہی عادت ڈالیں کہ وہ اپنی جیب خرچ میں سے تھوڑا سا حصہ صدقہ کریں۔
  • زکوٰۃ دینے والوں کی عزت کریں: کبھی احسان نہ جتائیں، نہ ہی زکوٰۃ لینے والے کو کمتر سمجھیں، کیونکہ درحقیقت زکوٰۃ لینے والا آپ کے مال کو پاک کر رہا ہے۔
  • تنظیموں کے ذریعے اجتماعی زکوٰۃ: اگر آپ خود مستحقین تک نہیں پہنچ سکتے تو مستند فلاحی اداروں کے ذریعے زکوٰۃ ادا کریں، جو شریعت کے مطابق اسے تقسیم کریں۔
  • زکوٰۃ کو موخر نہ کریں: جب سال پورا ہو جائے تو فوراً زکوٰۃ ادا کریں، تاخیر سے گناہ ہو سکتا ہے اور موت کا کوئی بھروسہ نہیں۔

۷. اختتامی نصیحت: مال کا حق ادا کرو، آخرت کا ذخیرہ جمع کرو

اللہ کے بندو! سنو! دنیا کا مال چند روزہ ہے، اصل مال تو وہ ہے جو تم اللہ کے پاس جمع کرواتے ہو۔ زکوٰۃ دینے والے کو اللہ دس گنا، سات سو گنا، بلکہ بے حساب اجر دیتا ہے۔ اور زکوٰۃ نہ دینے والے کے لیے قیامت کا عذاب تیار ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«يَقُولُ الْعَبْدُ: مَالِي مَالِي، وَإِنَّمَا لَهُ مِنْ مَالِهِ ثَلَاثٌ: مَا أَكَلَ فَأَفْنَىٰ، أَوْ لَبِسَ فَأَبْلَىٰ، أَوْ أَعْطَىٰ فَاقْتَنَىٰ، وَمَا سِوَىٰ ذَٰلِكَ فَهُوَ ذَاهِبٌ وَتَارِكُهُ لِلنَّاسِ»
(صحيح مسلم: 2959)

ترجمہ: "بندہ کہتا ہے: میرا مال! میرا مال! حالانکہ اس کے مال میں سے اس کا صرف تین چیزیں ہیں: جو اس نے کھا لیا اور ختم کر دیا، یا پہن لیا اور پرانا کر دیا، یا دے دیا اور (آخرت کے لیے) جمع کر لیا۔ اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ جاتا رہے گا اور وہ اسے لوگوں کے لیے چھوڑ جائے گا۔"

تو آئیے! آج ہی سے عہد کریں کہ ہم اپنے مال کی زکوٰۃ پوری ایمانداری، صحیح حساب اور خوش دلی سے ادا کریں گے۔ اپنے مال کو پاک کریں، اپنی روح کو تزکیہ دیں، اور اپنے غریب بھائیوں کا سہارا بنیں۔

۸. دعا

«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا»
(سنن ابن ماجه: 925 - صحيح)

ترجمہ: "اے اللہ! میں تجھ سے نفع بخش علم، پاکیزہ رزق، اور مقبول عمل کا سوال کرتا ہوں۔"

«اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ الَّذِينَ يُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ»
(مستفاد از قرآن)

ترجمہ: "اے اللہ! مجھے ان لوگوں میں شامل فرما جو زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور تیرے حضور عاجزی کرتے ہیں۔"

«رَبَّنَا آتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا»
(سورۃ الكهف: 10)

اللهم طهر أموالنا بالزكاة، وبارك لنا فيما رزقتنا، واجعلنا من المنفقين في سبيلك. اللهم أغن فقراء المسلمين، واشف مرضاهم، واقض دين المدينين، وفرج هم المهمومين. اللهم وفقنا لأداء زكاة أموالنا كاملة كما أمرت، وتقبلها منا. ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار. وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.


TAGS JSON: { "tags": ["زکوٰۃ", "صدقہ", "مال", "پاکیزگی", "غربت", "انفاق", "صدقہ فطر", "معاشرت", "اسلامی معیشت", "عبادت"], "category": "زکوٰۃ", "related_month": "رمضان", "related_people": ["حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ", "حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ", "حضرت عمر رضی اللہ عنہ"] } FEATURED IMAGE IDEA: ایک ترازو، جس کے ایک پلڑے میں سونے چاندی کے سکے اور دوسرے میں ایک ہاتھ غریبوں کو صدقہ دیتے ہوئے، پس منظر میں مسجد کا منظر اور قرآنی آیت "خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً" عربی خطاطی میں لکھی ہو۔ اوپر روشنی کا ایک دائرہ ہو جو برکت کی علامت ہو۔