ہوم / مضامین

روزے کی فرضیت، فضائل اور حکمتیں قرآن و حدیث کی روشنی میں | خطبہ جمعہ

روزے کی فرضیت، فضائل اور حکمتیں قرآن و حدیث کی روشنی میں | خطبہ جمعہ
TITLE: روزہ: تقویٰ کی تربیت گاہ اور روحانی پاکیزگی کا مہینہ SEO TITLE: روزے کی فرضیت، فضائل اور حکمتیں قرآن و حدیث کی روشنی میں | خطبہ جمعہ SLUG: roza-taqwa-ki-tarbiyat-aur-ruhani-safai META DESCRIPTION: رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت، روحانی و جسمانی حکمتیں، تقویٰ کا حصول، ترکِ روزہ پر وعید، اور نبی اکرم ﷺ کے روزوں سے متعلق سنتیں۔ مؤثر خطبہ جمعہ۔ CONTENT:

روزہ: تقویٰ کی تربیت گاہ اور روحانی پاکیزگی کا مہینہ

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ الصِّيَامَ جُنَّةً لِلصَّائِمِينَ، وَرَفَعَ بِهِ الدَّرَجَاتِ، وَكَفَّرَ بِهِ السَّيِّئَاتِ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، الَّذِي كَانَ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ، وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ. أَمَّا بَعْدُ!

اللہ کے نیک بندو! ایمان والو! آج ہم جس عظیم الشان عبادت پر بات کرنے جا رہے ہیں یہ وہ عبادت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے خصوصی طور پر اپنی ذات سے تعلق جوڑا، اور فرمایا: "الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ" یعنی روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا۔ کیا آپ جانتے ہیں یہ کون سی عبادت ہے؟ جی ہاں! یہ روزہ ہے، تقویٰ کی وہ نرسری جہاں سے ہر سال مومن اپنی روح کو پاک کر کے نکھرتا ہے۔

بھائیو! آج کا خطبہ اسی بابرکت عبادت کے بارے میں ہے۔ ہم جانیں گے کہ روزہ کیوں فرض ہوا، اس کی حکمتیں کیا ہیں، روزے میں کیا کیا آداب ہیں، اور ہمارے نبی ﷺ رمضان میں کیسے گزر بسر فرماتے تھے۔ غور سے سنیے! کیونکہ یہ باتیں آپ کے ایمان کو تازگی بخشیں گی اور آپ کو اس عظیم مہینے کا حقیقی فیض حاصل کرنے کی ترغیب دیں گی۔

۱. قرآن حکیم میں روزے کا حکم اور اس کا مقصد

اللہ رب العزت نے قرآنِ کریم میں روزے کا حکم نہایت حکمت آمیز انداز میں نازل فرمایا۔ سنیے! اللہ کیا فرماتا ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
(سورۃ البقرہ: 183)

ترجمہ: "اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔"

دیکھا آپ نے! روزے کا مقصد صرف بھوکا پیاسا رہنا نہیں، بلکہ تقویٰ حاصل کرنا ہے۔ تقویٰ یعنی دل میں اللہ کا ڈر، اس کی محبت، اس کی نافرمانی سے بچنا، اور ہر حال میں اس کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دینا۔ جب بندہ صرف اللہ کے لیے حلال چیزوں کو بھی ترک کر دیتا ہے، تو حرام سے بچنا اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے رمضان کی خصوصیت اور قرآن سے اس کے تعلق کو یوں واضح فرمایا:

﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ ۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ
(سورۃ البقرہ: 185)

ترجمہ: "رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور ہدایت اور حق و باطل میں فرق کرنے والی روشن دلیلوں والا ہے۔ تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے وہ ضرور اس کے روزے رکھے۔"

سوچیے! یہ کتنی بڑی فضیلت ہے کہ یہ مہینہ قرآن کا مہینہ ہے۔ روزہ رکھنے کے ساتھ قرآن کا نزول بھی اسی مہینے میں ہوا، اس لیے رمضان تلاوتِ قرآن، تراویح، اور شبِ قدر کی تلاش کا مہینہ بھی ہے۔

۲. احادیثِ نبویہ میں روزے کی فضیلت اور اللہ کا خصوصی انعام

پیارے نبی ﷺ نے روزے کے بارے میں کیا خوبصورت باتیں ارشاد فرمائیں، غور سے سنیے اور ان پر عمل کی نیت کیجیے:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ، الْحَسَنَةُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا إِلَىٰ سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: إِلَّا الصَّوْمَ، فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي»
(صحيح البخاري: 1894، صحيح مسلم: 1151)

ترجمہ: "ابن آدم کا ہر عمل دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھایا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: سوائے روزے کے، کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، بندہ اپنی خواہش اور کھانا میری خاطر چھوڑتا ہے۔"

اللہ اکبر! کتنی بڑی بشارت ہے۔ جب اللہ کہتا ہے کہ "میں ہی اس کا اجر دوں گا" تو اس کا مطلب ہے کہ یہ اجر بے حساب ہوگا، وہ اجر جو کسی فرشتے نے نہیں دیکھا، کسی آنکھ نے نہیں دیکھا، کسی کان نے نہیں سنا۔

مزید سنیے، حضور ﷺ فرماتے ہیں:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ»
(صحيح البخاري: 38، صحيح مسلم: 760)

ترجمہ: "جس نے رمضان کے روزے ایمان اور ثواب کی نیت سے رکھے، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔"

کیا یہ سن کر دل نہیں چاہتا کہ ہم واقعی پورے اہتمام سے روزے رکھیں؟ یہ معافی کا اعلان ہے، گناہوں کے بوجھ سے پاک ہونے کا سنہری موقع ہے۔

روزے کی ڈھال ہونے کے بارے میں ارشاد ہے:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:
«الصِّيَامُ جُنَّةٌ»
(صحيح البخاري: 1894، صحيح مسلم: 1151)

ترجمہ: "روزہ ڈھال ہے۔"

یعنی روزہ بندے کو جہنم کی آگ سے بچانے والی ڈھال ہے، گناہوں سے بچاتا ہے، شہوات سے بچاتا ہے، اور قیامت کے دن بھی یہی ڈھال کام آئے گی۔

۳. نبی اکرم ﷺ کا رمضان: سخاوت، عبادت اور شب بیداری

بھائیو! ہمارے لیے سب سے بڑا نمونہ ہمارے پیارے آقا ﷺ کی ذاتِ اقدس ہے۔ رمضان المبارک میں آپ ﷺ کی زندگی کا انداز بالکل بدل جاتا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

«كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ، وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ، وَكَانَ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ فَيُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ، فَلَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدُ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ»
(صحيح البخاري: 6، صحيح مسلم: 2308)

ترجمہ: "رسول اللہ ﷺ سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے، اور رمضان میں جب جبریل علیہ السلام آپ سے ملتے تو آپ کی سخاوت اور بھی بڑھ جاتی۔ جبریل علیہ السلام رمضان کی ہر رات میں آپ سے ملاقات کرتے اور آپ کے ساتھ قرآن کا دور کیا کرتے تھے۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ خیر پہنچانے میں تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوتے تھے۔"

کیا ہم ایسی سخاوت کا تصور کر سکتے ہیں؟ آپ ﷺ پہلے ہی سب سے زیادہ سخی تھے، مگر رمضان میں تو آپ کا ہاتھ رکنے کا نام نہیں لیتا تھا۔ یہ ہمارے لیے درس ہے کہ اس مہینے میں زیادہ سے زیادہ صدقہ، خیرات، افطار کروانے اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے کا اہتمام کریں۔

اسی طرح آپ ﷺ کی راتوں کی عبادت کا حال کیا تھا! حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

«كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ الْأَوَاخِرُ مِنْ رَمَضَانَ شَدَّ مِئْزَرَهُ، وَأَحْيَا لَيْلَهُ، وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ»
(صحيح البخاري: 2024، صحيح مسلم: 1174)

ترجمہ: "جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو نبی ﷺ کمربستہ ہو جاتے، رات کو زندہ رکھتے (عبادت میں گزارتے) اور اپنے گھر والوں کو بھی جگا دیتے۔"

یہ ہے وہ عشقِ الٰہی جس نے ہمارے نبی ﷺ کی راتوں کو عبادت کا نور بنا دیا۔ آخری عشرے میں اعتکاف، شبِ قدر کی تلاش، اور خوب خوب دعائیں مانگنا یہ سب اسی سنت کا حصہ ہیں۔

۴. روزے کی حکمتیں: بھوک سے بڑھ کر کچھ اور

بندو! روزہ صرف جسم کو بھوکا رکھنے کا نام نہیں۔ اس کے پیچھے اللہ کی بڑی گہری حکمتیں ہیں۔ پہلی حکمت تو تقویٰ ہے جیسا کہ قرآن نے بتایا۔ دوسری حکمت یہ ہے کہ روزہ ہمیں غریبوں اور مسکینوں کی بھوک کا احساس دلاتا ہے۔ جب آپ خود بھوکے رہتے ہیں تو آپ کو پتہ چلتا ہے کہ جو غریب سارا سال فاقے کاٹتا ہے اس پر کیا گزرتی ہے۔ اس سے دل میں نرمی، ہمدردی اور سخاوت پیدا ہوتی ہے۔

تیسری حکمت یہ کہ روزہ صبر سکھاتا ہے۔ بھوک پیاس صبر کی مشق ہے، غصے پر قابو پانا صبر کی مشق ہے، بری باتوں سے رکنا صبر کی مشق ہے۔ اسی طرح روزہ جسمانی صحت کے لیے بھی مفید ہے، جس کی تصدیق جدید سائنس بھی کرتی ہے۔ مگر یاد رکھیے! یہ فوائد اضافی ہیں، اصل مقصد اللہ کی رضا اور اس کے حکم کی تعمیل ہے۔

چوتھی حکمت: روزہ نفس کو توڑتا ہے۔ نفس امارہ انسان کو برائیوں کی طرف لے جاتا ہے، روزہ اس نفس کو کمزور کرتا ہے، شیطان کے راستے تنگ کرتا ہے۔ حدیث میں ہے:

«إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ، فَضَيِّقُوا مَجَارِيَهُ بِالْجُوعِ»
(مشكاة المصابيح، وأصله في الصحيحين بلفظ آخر)

ترجمہ: "بے شک شیطان ابن آدم کے خون کی طرح دوڑتا ہے، تم بھوک کے ذریعے اس کے راستے تنگ کر دو۔"

پھر ایک عظیم حکمت روزے کی یہ بھی ہے کہ اس میں اخلاص کی بہت زیادہ گنجائش ہے۔ کوئی نہیں دیکھ سکتا کہ آپ نے واقعی روزہ رکھا ہے یا چھپ کر کھا پی لیا۔ صرف اللہ جانتا ہے، اس لیے یہ عبادت خالص اللہ کے لیے ہوتی ہے، اسی لیے اس کا اجر بھی بے مثال ہے۔

۵. روزے کے آداب اور اسے ضائع کرنے والی چیزیں

اللہ کے بندو! روزہ صرف کھانے پینے اور بیوی سے تعلق نہ رکھنے کا نام نہیں۔ روزے کی روح یہ ہے کہ آپ کے تمام اعضاء روزے سے ہوں۔ زبان جھوٹ، غیبت، گالی، فحش گوئی سے روزے سے ہو۔ آنکھ حرام دیکھنے سے روزے سے ہو۔ کان غیبت اور گانے باجے سننے سے روزے سے ہو۔ ہاتھ ظلم اور ناجائز کاموں سے روزے سے ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو روزے کا کوئی فائدہ نہیں۔

نبی اکرم ﷺ نے بہت سختی سے فرمایا:

«مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ وَالْجَهْلَ، فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ»
(صحيح البخاري: 1903)

ترجمہ: "جو شخص جھوٹی بات کہنا اور اس پر عمل کرنا اور جہالت (برے اخلاق) نہ چھوڑے، تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔"

یہ کتنی سخت تنبیہ ہے! اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسا شخص روزہ چھوڑ دے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا روزہ اللہ کے ہاں مقبول نہیں، محض بھوکا پیاسا رہنا رہ گیا۔ اس لیے اپنے روزوں کی حفاظت کریں، زبان کو قابو میں رکھیں، اگر کوئی جھگڑا کرے تو کہو: "إِنِّي صَائِمٌ" (میں روزے سے ہوں)۔

افطار میں بھی سنت کا خیال رکھیں۔ جلد از جلد افطار کرو، کھجور یا پانی سے، اور افطار کے وقت خوب دعائیں مانگیں کیونکہ روزے دار کی دعا رد نہیں ہوتی۔ حدیث میں آیا ہے:

«ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمْ: الصَّائِمُ حَتَّى يُفْطِرَ، وَالْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَالْمَظْلُومُ»
(سنن الترمذي: 3598 - حسن، سنن ابن ماجه: 1752)

ترجمہ: "تین لوگوں کی دعا رد نہیں ہوتی: روزے دار کی جب تک وہ افطار نہ کر لے، عادل حکمراں، اور مظلوم۔"

سحری کھانا بھی نہ بھولیں، اس میں برکت ہے، چاہے ایک گھونٹ پانی ہی کیوں نہ ہو۔ نبی ﷺ فرماتے ہیں:

«تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً»
(صحيح البخاري: 1923، صحيح مسلم: 1095)

۶. موجودہ دور میں روزہ: میڈیا، موبائل اور غفلت کا چیلنج

بھائیو! آج کل کا زمانہ فتنوں کا زمانہ ہے۔ سوشل میڈیا، انٹرنیٹ، ٹی وی سیریلز، گانے، فلمیں، موبائل پر فضول چیٹنگ، اس سب نے ہمارے روزوں کو کمزور کر دیا ہے۔ بہت سے لوگ دن بھر تو بھوکے پیاسے رہتے ہیں مگر نمازیں قضا کر دیتے ہیں، فون پر غیبتوں میں وقت گزارتے ہیں، بازاروں میں بے مقصد پھرتے ہیں۔ رمضان کا مہینہ رحمتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے، اسے غفلت میں نہ گنوایئے۔

اس مہینے میں ٹی وی ڈرامے، فلمیں، گانے، اور ہر وہ چیز چھوڑ دیں جو آپ کے روزے کی روح کو متاثر کرتی ہے۔ اپنی زبان، آنکھ، کان سب کا روزہ رکھیں۔ اگر آن لائن کام کرتے ہیں تو نظریں بچا کر، فضول اسکرولنگ سے پرہیز کریں۔ یاد رکھیے، فرشتے روزانہ دعا کرتے ہیں: "اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا، وَأَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا" (بخاری: 1442)۔ آپ اپنا وقت، مال، اور صحت اللہ کی راہ میں خرچ کریں گے تو وہ آپ کو اور زیادہ دے گا۔

۷. اصلاحی نکات: رمضان کو کیسے بہتر بنائیں؟

  • توبہ کا پختہ عزم: رمضان سے پہلے ہی سچی توبہ کر لیں، تاکہ پورے مہینے دل صاف رہے۔
  • نمازوں کی پابندی: فرض نمازیں باجماعت ادا کرنے کا خصوصی اہتمام کریں، تراویح کو نہ چھوڑیں۔
  • تلاوت قرآن: کم از کم ایک بار پورے قرآن کی تلاوت ترجمہ و تفسیر کے ساتھ کرنے کا ہدف رکھیں۔
  • دعاؤں کا خاص وقت: افطار سے پہلے، سحر کے وقت، اور رات کے آخری پہر میں خوب گڑگڑا کر دعائیں مانگیں۔
  • صدقہ و خیرات: روزانہ کچھ نہ کچھ صدقہ ضرور دیں، چاہے تھوڑا ہی سہی۔ افطار کروانے کی کوشش کریں۔
  • زبان اور اخلاق کی حفاظت: غصے، گالی، غیبت، جھوٹ، اور فضول باتوں سے پرہیز کریں۔
  • شبِ قدر کی تلاش: آخری عشرے کی طاق راتوں میں اعتکاف، ذکر اور دعا کا خاص اہتمام کریں، کیونکہ یہ ہزار مہینوں سے بہتر رات ہے۔
  • موبائل میڈیا سے اعتکاف: فون کا استعمال صرف ضروری باتوں تک محدود کر دیں، فیس بک، ٹک ٹاک، ڈرامے چھوڑ دیں۔
  • گھر والوں کو ساتھ لے کر چلیں: بیوی بچوں کو بھی عبادات کی ترغیب دیں، اجتماعی تلاوت، درس، اور افطار کا ماحول بنائیں۔
  • نیت کی پختگی: ہر روز یہ نیت کریں کہ آج کا روزہ صرف اللہ کے لیے ہے اور اسے بہترین طریقے سے ادا کرنا ہے۔

۸. اختتامی نصیحت: یہ مہینہ پلٹ کر نہیں آئے گا!

اللہ کے بندو! سن لو! رمضان کا یہ مہینہ بہت جلد گزر جائے گا۔ یہ مہینہ مہمان ہے، آیا ہے تو جائے گا بھی۔ کیا پتہ اگلا رمضان ہماری زندگی میں آئے یا نہ آئے! اس لیے اس رمضان کو اپنی زندگی کا بہترین رمضان بنا لیں۔ گناہوں سے توبہ کریں، فرائض کی پابندی کریں، سنتوں کو زندہ کریں، اور اللہ کی رحمت کو لوٹ لیں۔

نبی اکرم ﷺ منبر پر چڑھے اور فرمایا: "آمین، آمین، آمین"۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! یہ کیا ہے؟ فرمایا: جبریل علیہ السلام نے تین بد دعائیں دیں اور میں نے ان پر آمین کہا: (۱) "ہلاک ہو وہ شخص جس نے رمضان پایا پھر بھی اس کی بخشش نہ ہو سکی..."۔ (صحیح ابن خزیمہ، وغیرہ)

اللہ کے بندو! اس خسارے سے بچو۔ یہ مہینہ بخشش کا ہے، جس نے اسے پا کر بھی اپنی مغفرت نہ کرائی وہ بڑا محروم ہے۔

۹. دعا

«اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبٍ وَشَعْبَانَ، وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ»
(رواه أحمد والطبراني، حسنه الألباني)

ترجمہ: "اے اللہ! رجب اور شعبان میں ہمارے لیے برکت عطا فرما، اور ہمیں رمضان تک پہنچا۔"

«اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ كَرِيمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنَّا»
(سنن الترمذي: 3513 - حسن صحيح، سنن ابن ماجه: 3850)

ترجمہ: "اے اللہ! تو معاف کرنے والا کرم والا ہے، معافی کو پسند کرتا ہے، پس ہمیں معاف فرما دے۔"

«رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا»
(سورۃ البقرہ: 286)

اللهم أعنا على صيامه وقيامه، وتقبله منا، واجعلنا فيه من عتقائك من النار. اللهم اجعل صيامنا فيه صيام الصائمين، وقيامنا قيام القائمين، ونبهنا فيه عن نومة الغافلين، وهب لنا فيه اليسر والعافية. اللهم إنك عفو تحب العفو فاعف عنا. ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار. وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.


TAGS JSON: { "tags": ["روزہ", "رمضان", "تقوی", "صیام", "افطار", "شب قدر", "اعتکاف", "سحری", "روزے کی حکمتیں", "روزے کے آداب"], "category": "روزہ", "related_month": "رمضان", "related_people": ["حضرت محمد ﷺ", "حضرت جبریل علیہ السلام", "حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا"] } FEATURED IMAGE IDEA: ایک روشن چاند کا منظر، پس منظر میں مسجد کا گنبد اور ستارے، سامنے کھجور اور پانی کا گلاس رکھا ہو، ایک شخص ہاتھ اٹھائے افطار کی دعا مانگ رہا ہو۔ اوپر عربی میں "شَهْرُ رَمَضَانَ" لکھا ہو، اور نیچے "الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ" درج ہو۔