شکر: نعمتوں کی بقا اور اضافے کا الٰہی ضابطہ
الحمد للہ رب العالمین، الذی أمر بالشکر ووعد علیہ المزید، وأشهد أن لا إله إلا اللہ وحده لا شریک لہ، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله، الذی کان أشکر الناس لربہ، صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وأصحابہ ومن تبعہم بإحسان إلی یوم الدین. أما بعد!
معزز قارئین! آج ہم ایک ایسی عظیم صفت پر روشنی ڈالیں گے جو ایمان کا جوہر ہے اور ہر نعمت کی بقا و ترقی کا واحد ذریعہ: شکر۔ شکر دل کی کیفیت، زبان کا اقرار اور اعضاء کی فرماں برداری کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان پر بے شمار نعمتیں فرمائی ہیں، جن میں سب سے بڑی نعمت ایمان ہے، پھر صحت، عافیت، مال و اولاد، امن و سکون۔ ان نعمتوں کی قدردانی اور اللہ کے حضور عاجزی کا اظہار ہی شکر کہلاتا ہے۔ آئیے قرآن و سنت کی روشنی میں شکر کی حقیقت اور اس کی برکات کو سمجھیں۔
۱. قرآنِ کریم میں شکر کی اہمیت اور اس کا اجر
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں صاف الفاظ میں شکر کو نعمتوں کی بقا اور اضافے کا سبب قرار دیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ﴾
(سورۃ إبراہیم: 7)
ترجمہ: "اور جب تمہارے رب نے اعلان کر دیا کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا، اور اگر تم ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب سخت ہے۔"
یہ آیت شکر کا بنیادی اصول بیان کرتی ہے۔ شکر کے نتیجے میں اللہ نعمت میں اضافہ فرماتا ہے، جب کہ ناشکری (کفرانِ نعمت) عذاب کا سبب بنتی ہے۔ مزید برآں، اللہ تعالیٰ نے شکر کرنے والوں کو خاص طور پر یاد فرمایا اور انہیں اپنی عبادت کا مقصود بتایا:
﴿فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ﴾
(سورۃ البقرہ: 152)
ترجمہ: "پس تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا، اور میرا شکر ادا کرو اور میری ناشکری نہ کرو۔"
یہاں اللہ نے یاد (ذکر) کے ساتھ شکر کا حکم دیا اور ناشکری سے روکا۔ درحقیقت ایمان دو حصوں پر تقسیم ہے: آدھا شکر اور آدھا صبر۔ چنانچہ مومن کی زندگی شکر اور صبر کے درمیان گزرتی ہے۔
نعمتِ ایمان کے بعد سب سے قیمتی نعمتِ ہدایت ہے، جس پر شکر کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:
﴿كَذَٰلِكَ هَدَاكُمْ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّـهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾
(سورۃ البقرہ: 185)
ترجمہ: "اسی طرح اللہ نے تمہیں ہدایت دی تاکہ تم گنتی پوری کرو اور اللہ کی بڑائی بیان کرو اس بات پر کہ اس نے تمہیں ہدایت دی، اور تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ۔"
اور اللہ نے شکر گزار بندوں کی تعداد کو کم بتایا، جس سے اس عمل کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے:
﴿وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ﴾
(سورۃ سبأ: 13)
ترجمہ: "اور میرے بندوں میں شکر گزار بہت کم ہیں۔"
یہ تنبیہ ہے کہ اکثر لوگ نعمتوں میں غفلت کا شکار ہو کر شکر سے محروم رہتے ہیں۔
۲. احادیثِ مبارکہ میں شکر کی فضیلت اور نبی اکرم ﷺ کا اسوہ
نبی اکرم ﷺ کی پوری زندگی شکر کا عملی نمونہ تھی۔ آپ ﷺ رات رات بھر قیام فرماتے، یہاں تک کہ پاؤں مبارک سوج جاتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ تو ایسا کیوں کرتے ہیں جبکہ اللہ نے آپ کی اگلی پچھلی تمام لغزشیں معاف فرما دی ہیں؟ آپ ﷺ نے جواب دیا:
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى تَتَفَطَّرَ قَدَمَاهُ، فَقُلْتُ لَهُ: لِمَ تَصْنَعُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ:
«أَفَلَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا»
(صحيح البخاري: 4836، صحيح مسلم: 2819)
ترجمہ: "کیا مجھے پسند نہ ہو کہ میں شکر گزار بندہ بنوں؟"
یہ حدیث بتاتی ہے کہ شکر صرف زبان سے نہیں، بلکہ عبادات میں محنت اور مشقت برداشت کرنے کا نام بھی ہے۔ ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے شکر کرنے والے کھانے والے کو روزہ دار کے برابر قرار دیا:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«الطَّاعِمُ الشَّاكِرُ بِمَنْزِلَةِ الصَّائِمِ الصَّابِرِ»
(سنن الترمذي: 2486، سنن ابن ماجه: 1764 - صحيح)
ترجمہ: "کھانا کھا کر شکر کرنے والا صبر کرنے والے روزہ دار کے درجے میں ہے۔"
اسی طرح اللہ کی نعمت کا اعتراف اور اس کا اظہار بھی شکر کا حصہ ہے، فرمایا:
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«مَنْ صَنَعَ إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مَا تُكَافِئُونَهُ فَادْعُوا لَهُ حَتَّى تَرَوْا أَنَّكُمْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ»
(سنن أبي داود: 1672، سنن النسائي: 2567 - صحيح)
ترجمہ: "جو تم سے کوئی بھلائی کرے، تم اس کا بدلہ دو، اگر بدلہ دینے کی استطاعت نہ ہو تو اس کے لیے دعا کرو، یہاں تک کہ تم سمجھ لو کہ تم نے بدلہ دے دیا۔"
یہ بندوں کے معاملے میں شکر کا حکم ہے، جبکہ اللہ کے شکر کا تقاضا ہے کہ اس کی نعمتوں کو اس کی فرماں برداری میں استعمال کیا جائے۔
۳. واقعاتِ شکر: انبیاء و صالحین کے شکرانہ اطوار
قرآن میں شکر گزار بندوں کی بہترین مثال حضرت سلیمان علیہ السلام کا واقعہ ہے۔ جب اللہ نے انہیں ہوا، جنات، پرندوں کی زبان اور عظیم سلطنت عطا فرمائی، تو انہوں نے فوراً شکر کا اظہار کیا:
﴿هَٰذَا مِن فَضْلِ رَبِّي لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ ۖ وَمَن شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ ۖ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ﴾
(سورۃ النمل: 40)
ترجمہ: "یہ میرے رب کے فضل سے ہے، تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری، اور جو شکر کرتا ہے وہ اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے، اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز اور کریم ہے۔"
یہاں حضرت سلیمان علیہ السلام نے نعمت کو اللہ کا فضل قرار دیا، اسے آزمائش سمجھا، اور اس پر شکر کا عہد کیا۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگی میں بھی شکر کے کمالات پائے جاتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے... اگر اسے نعمت ملے تو شکر کرتا ہے تو یہ بھی خیر ہے"۔ صحابہ ہر نعمت پر اللہ کا شکر اس طرح ادا کرتے کہ اسے عبادت اور خدمت خلق میں استعمال کرتے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب خلیفہ بنے تو ان کا معمول تھا کہ صبح کو گھر سے نکل کر مدینے کی ایک بوڑھی عورت کے گھر جا کر اس کے لیے پانی بھرتے، صفائی کرتے۔ جب ان سے پوچھا گیا تو فرماتے تھے: "یہ نعمتِ خلافت کا شکر ہے۔"
حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب بھی کوئی فتح یا کامیابی ملتی، سجدہ شکر میں گر پڑتے اور فرماتے: "اے اللہ! تو نے ہمیں توفیق دی، تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔"
۴. موجودہ دور سے تعلق: ناشکری کا طوفان اور شکر کی ضرورت
آج کا دور مادیت اور استعمال پسندی کا دور ہے، جس کی وجہ سے انسان نعمتوں کی قدر بھول گیا ہے۔ ہمارے پاس کھانا، کپڑا، مکان، سواری، صحت، بجلی، پانی، انٹرنیٹ، سیکیورٹی جیسی بے شمار نعمتیں ہیں، مگر پھر بھی ہم شکوے شکایتیں کرتے نہیں تھکتے۔ سوشل میڈیا نے دوسروں کی ظاہری آسائشوں کو دکھا کر انسان کو اپنی زندگی سے نالاں کر دیا ہے۔ بہت سے لوگ اپنے سے اوپر والوں کو دیکھ کر بے صبری اور ناشکری میں مبتلا ہو جاتے ہیں، حالانکہ نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا تھا:
«انظُرُوا إِلَىٰ مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْكُمْ، وَلَا تَنْظُرُوا إِلَىٰ مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ؛ فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَزْدَرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ»
(صحيح مسلم: 2963)
یعنی دنیاوی معاملات میں اپنے سے کم تر کو دیکھو تاکہ تم اللہ کی نعمتوں کو حقیر نہ جانو۔
موجودہ دور میں شکر کا اظہار یہ ہے کہ ہم پہلے یہ سمجھیں کہ ہر نعمت اللہ کی طرف سے خالص احسان ہے، ہمارا کوئی حق نہیں۔ پھر ان نعمتوں کو اللہ کی رضا والے کاموں میں استعمال کریں۔ مثال کے طور پر:
- صحت کا شکر: نماز، روزہ، حج، جہاد جیسی جسمانی عبادات بجا لانا اور کمزوروں کی مدد کرنا۔
- مال کا شکر: زکوٰۃ، صدقات، حلال کمائی اور فضول خرچی سے بچنا۔
- علم کا شکر: دوسروں کو سکھانا، خیر پھیلانا۔
- وقت کا شکر: عبادات، تلاوت، مفید کاموں میں صرف کرنا۔
یاد رکھیے! جو قوم ناشکری کرتی ہے، اللہ اس کی نعمتیں چھین لیتا ہے، جیسا کہ قرآن نے قوم سبا کا واقعہ بیان کیا:
﴿لَقَدْ كَانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ ۖ جَنَّتَانِ عَن يَمِينٍ وَشِمَالٍ ۖ كُلُوا مِن رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَاشْكُرُوا لَهُ ۚ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ ۞ فَأَعْرَضُوا فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ سَيْلَ الْعَرِمِ وَبَدَّلْنَاهُم بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ ذَوَاتَيْ أُكُلٍ خَمْطٍ وَأَثْلٍ وَشَيْءٍ مِّن سِدْرٍ قَلِيلٍ﴾
(سورۃ سبأ: 15-16)
یعنی وہ شکر گزار تھے تو باغات اور رزق تھا، جب انہوں نے اعراض کیا تو وہ سیلاب اور بے ثمر باغات میں بدل گئے۔
۵. اصلاحی نکات: شکر گزار زندگی کیسے گزاریں؟
- روزانہ صبح و شام کے اذکار میں شکر شامل کریں: نبی اکرم ﷺ نے سکھایا: «اللَّهُمَّ مَا أَصْبَحَ بِي مِنْ نِعْمَةٍ أَوْ بِأَحَدٍ مِنْ خَلْقِكَ فَمِنْكَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، فَلَكَ الْحَمْدُ وَلَكَ الشُّكْرُ» (ابو داود)۔
- نعمتوں کو گننے کی عادت ڈالیں: رات کو سونے سے پہلے آج کی پانچ نعمتیں سوچیں اور دل سے اللہ کا شکر ادا کریں۔
- سجدہ شکر کریں: جب بھی کوئی خوشی یا کامیابی ملے، دو رکعت نفل پڑھیں یا کم از کم سجدہ شکر ادا کریں، جیسا کہ نبی اکرم ﷺ کرتے تھے۔
- نعمت کا اعتراف زبان پر لائیں: آپس میں اللہ کی نعمتوں کا تذکرہ کریں، جیسے "الحمد للہ آج طبیعت اچھی ہے"، "اللہ نے کھانے کا انتظام کیا"، یہ شکر اور دوسروں کو شوق دلاتا ہے۔
- کفرانِ نعمت سے بچیں: شکوہ، گلہ، دوسروں سے حسد، اور "کاش میرے پاس بھی یہ ہوتا" جیسی باتیں ناشکری ہیں۔ اس کی بجائے کہیں: "اللہ نے اسے یہ نعمت دی، مجھے بھی بہتر دے۔"
- بڑی نعمتوں پر شکر کے ساتھ عمل کریں: مثال کے طور پر جمعہ کا دن ہفتے کی سب سے بڑی نعمت ہے، اسے عبادات اور دعا میں گزاریں۔
- شکر کو عبادت سمجھیں: صرف زبان سے "الحمد للہ" نہ کہیں، بلکہ اس عبادت کا تقاضا پورا کریں؛ یعنی نعمت کو معصیت میں نہ لگائیں۔
۶. اختتامی نصیحت: شکر ہی حقیقی دولت ہے
اللہ کے بندو! شکر ہی وہ دولت ہے جس سے انسان غنی ہو جاتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
«لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ»
(صحيح البخاري: 6446، صحيح مسلم: 1051)
ترجمہ: "امیری مال کی کثرت کا نام نہیں، بلکہ (حقیقی) امیری دل کا غنی ہونا ہے۔"
اور دل کی یہ غنی صبر و شکر کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر حال میں اللہ کی نعمتوں کو یاد کر کے شکر گزار بنیں، یہی جنت میں لے جانے والا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا:
﴿وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ ۖ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَكُورٌ﴾
(سورۃ فاطر: 34)
یعنی جنت میں مومنوں کی زبان پر بھی اللہ کا شکر ہوگا۔ تو آئیے! اسی جنت کے مستحق بننے کے لیے اپنی دنیاوی زندگی میں شکر کی روشنی کو پھیلائیں۔
۷. دعا
«اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَىٰ ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ»
(سنن أبي داود: 1522، سنن النسائي: 1303 - صحيح)
ترجمہ: "اے اللہ! اپنے ذکر، اپنے شکر اور اپنی اچھی عبادت پر میری مدد فرما۔"
«رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ»
(سورۃ النمل: 19)
ترجمہ: "اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر انعام فرمائی ہے، اور یہ کہ میں ایسا نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو، اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما۔"
اللهم اجعلنا من الشاكرين الذاكرين، وارزقنا شكر نعمتك ظاهراً وباطناً، واجعلنا من عبادك الشكورين. اللهم لا تجعلنا من الغافلين ولا من القانطين. ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار. وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.
TAGS JSON: { "tags": ["شکر", "نعمت", "شکرگزار", "قوم سبا", "سلیمان علیہ السلام", "سجدہ شکر", "شکرانہ", "عبادت", "ایمان", "احسان"], "category": "اصلاحی بیانات", "related_month": "رمضان", "related_people": ["حضرت سلیمان علیہ السلام", "حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ", "حضرت عمر رضی اللہ عنہ"] } FEATURED IMAGE IDEA: ایک خوبصورت باغ، جس میں پانی کی نہریں اور سرسبز درخت ہوں، ایک شخص سجدے میں ہو اور اوپر روشنی کا ایک دائرہ ہو۔ باغ کے درمیان خوبصورت عربی خط میں "الشُّكْرُ" لکھا ہو، اور نیچے "لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ" کا جملہ درج ہو۔