ہوم / مضامین

مشکلات میں امید اور بے حساب اجر کا خزانہ

مشکلات میں امید اور بے حساب اجر کا خزانہ

صبر: مشکلات میں امید اور بے حساب اجر کا خزانہ

الحمد للہ الذی جعل الصبر ضیاءً وفرجاً، وجعل مع العسر یسراً، وأشهد أن لا إله إلا اللہ وحده لا شریک لہ، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله، القائل: "ما أُعطِيَ أحدٌ عطاءً خیراً وأوسعَ من الصبر". أما بعد!

معزز قارئین! آج کا موضوع وہ عظیم اسلامی وصف ہے جس کے بغیر ایمان ادھورا، عبادت بے ذائقہ اور زندگی بے سہارا ہے: صبر۔ صبر کا لغوی معنیٰ ہے روکنا اور باندھنا۔ شریعت میں صبر کا مفہوم ہے مصیبت کے وقت بے صبری اور شکوے سے اپنے آپ کو روکنا، اللہ کی رضا پر راضی رہنا اور اس کے اجر کا یقین رکھنا۔ یہ مضمون قرآن و سنت کی روشنی میں صبر کے فضائل، اس کی حقیقت اور ہماری زندگیوں میں اس کی عملی تطبیق پر مبنی ہے۔

۱. قرآن کریم میں صبر کی فضیلت

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جگہ جگہ صبر کرنے والوں کی مدح فرمائی اور انہیں خوشخبری دی۔ صبر ایمان کا نصف حصہ ہے، اور یہ وہ زادِ راہ ہے جو بندے کو دنیا و آخرت کی کامیابی تک پہنچاتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ مَعَ الصَّابِرِينَ
(سورۃ البقرہ: 153)

ترجمہ: "اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے مدد چاہو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔"

یہ آیت بتاتی ہے کہ اللہ کی معیت اور مدد کا حصول صبر کے بغیر ممکن نہیں۔ صبر کرنے والے اللہ کی خاص نصرت اور تائید کے مستحق ہیں۔ ایک دوسرے مقام پر فرمایا:

﴿وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ ۞ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ۞ أُولَـٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ
(سورۃ البقرہ: 155-157)

ترجمہ: "اور ہم ضرور آزمائیں گے تمہیں کچھ خوف، بھوک، مالوں، جانوں اور پھلوں کی کمی سے، اور (اے نبی!) صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو۔ وہ لوگ کہ جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں: ہم اللہ کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے خصوصی نوازشیں اور رحمت ہے، اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔"

یہ آیات صبر کی حقیقت اور اس کے اجر کو واضح کرتی ہیں۔ صبر محض زبان سے استرجاع (إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) کہنا نہیں بلکہ دل سے اللہ کی طرف رجوع کرنا، مصیبت کو اللہ کی طرف سے سمجھنا اور گھبراہٹ، نوحہ، اور شکوے سے بچنا ہے۔ اس پر اجر میں اللہ کی رحمت، بخشش اور ہدایت کی ضمانت ہے۔

مزید برآں، اللہ نے صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر کی بشارت دی:

﴿إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ
(سورۃ الزمر: 10)

ترجمہ: "صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بغیر حساب کے پورا پورا دیا جائے گا۔"

۲. احادیث مبارکہ میں صبر کی عظمت

نبی اکرم ﷺ نے صبر کو سب سے بڑی نعمت قرار دیا اور اسے مومن کی پہچان بتایا۔ چند احادیث درج ذیل ہیں:

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ، وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً خَيْرًا وَأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ»
(صحيح البخاري: 1469، صحيح مسلم: 1053)

ترجمہ: "جو شخص صبر کرنے کی کوشش کرتا ہے اللہ اسے صبر کی توفیق دے دیتا ہے، اور کسی شخص کو صبر سے بہتر اور کشادہ کوئی عطیہ نہیں دیا گیا۔"

یہ حدیث بتاتی ہے کہ صبر ایک عطیۂ الٰہی ہے لیکن اس کے لیے بندے کو کوشش بھی کرنی پڑتی ہے۔ ایک اور حدیث میں مومن کی مثال یوں بیان کی گئی:

عَنْ صُهَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ؛ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ»
(صحيح مسلم: 2999)

ترجمہ: "مومن کا معاملہ عجیب ہے، اس کا ہر معاملہ اس کے لیے خیر کا باعث ہے، اور یہ خصوصیت مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں: اگر اسے خوشی پہنچے تو شکر کرتا ہے تو وہ اس کے لیے خیر ہے، اور اگر اسے تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے تو وہ بھی اس کے لیے خیر ہے۔"

اسی طرح مصیبت کے وقت صبر کرنے پر گناہوں کے مٹنے کا بھی وعدہ ہے:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«مَا يُصِيبُ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ وَلَا وَصَبٍ وَلَا هَمٍّ وَلَا حَزَنٍ وَلَا أَذًى وَلَا غَمٍّ، حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا، إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ»
(صحيح البخاري: 5641، صحيح مسلم: 2573)

ترجمہ: "مسلمان کو جو بھی تھکاوٹ، بیماری، فکر، غم، تکلیف، پریشانی، یہاں تک کہ کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ اس کی وجہ سے اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔"

لہٰذا مصائب اور پریشانیاں کفارۂ گناہ بنتی ہیں، بشرطیکہ بندہ صبر کرے اور ثواب کی نیت رکھے۔

۳. واقعاتِ صبر: انبیاء و صحابہ کے روشن نمونے

قرآن و سنت میں صبر کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ سب سے پہلے حضرت ایوب علیہ السلام کا ذکر کیجیے جن کا صبر ضرب المثل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی آزمائش کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

﴿وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ ۞ فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَكَشَفْنَا مَا بِهِ مِن ضُرٍّ
(سورۃ الأنبياء: 83-84)

ترجمہ: "اور ایوب کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب سے بڑا رحم کرنے والا ہے۔ تو ہم نے ان کی دعا قبول کی اور جو تکلیف انہیں تھی دور کر دی۔"

حضرت ایوب علیہ السلام کو جسمانی بیماری، مال و اولاد کی ہلاکت جیسی سخت آزمائشیں پیش آئیں، مگر زبان سے شکوہ نہ نکالا۔ صرف اتنا عرض کیا کہ "مجھے تکلیف ہے اور تو ارحم الراحمین ہے۔" ان کے صبر کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے انہیں عافیت بخشی اور آخر میں مزید برکتیں عطا فرمائیں۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگی بھی صبر کی زندہ تصویر ہے۔ مکہ کے ابتدائی دور میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ پر جب اذیت کے پہاڑ توڑے گئے، گرم ریت پر لٹا کر پتھر رکھا گیا، تو ان کی زبان پر صرف "أَحَدٌ، أَحَدٌ" تھا۔ حضرت خباب بن الارت رضی اللہ عنہ کو آگ کے انگاروں سے داغا گیا، لیکن انہوں نے اسلام نہ چھوڑا۔ یہ صبر ہی تھا جس نے انہیں فاتحینِ عالم بنا دیا۔

غزوہ احد کے موقع پر جب مسلمانوں کو زخم پہنچے، تب اللہ تعالیٰ نے تسلی دیتے ہوئے فرمایا:

﴿وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
(سورۃ آل عمران: 139)

یہ صبر ہی تھا جس نے شکست کو بھی فتح میں بدل دیا۔

۴. موجودہ دور سے تعلق: صبر کا عملی اطلاق

ہمارے موجودہ دور میں صبر کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ آج کا انسان معاشی پریشانی، بیماریاں، وبائیں، خاندانی مسائل، اولاد کی تربیت، میڈیا کے فتنوں اور ایمانی چیلنجوں میں گھرا ہوا ہے۔ بہت سے لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اولاد نافرمان ہو تو والدین صبر کا دامن چھوڑ بیٹھتے ہیں، کاروبار میں نقصان ہو تو گھبرا جاتے ہیں، ذرا سی بیماری میں شکوے شکایتیں شروع کر دیتے ہیں۔

یاد رکھیے! آزمائش درحقیقت اللہ کی طرف سے ایک امتحان ہے اور اس میں صبر ہی کامیابی کی کنجی ہے۔ موجودہ سوشل میڈیا کے دور میں ایک نیا چیلنج "فوری خوشی" اور "بے صبری" کی عادت ہے۔ لوگ چھوٹی سی تاخیر یا پریشانی پر بددعا دینے لگتے ہیں، حالانکہ مومن کا ہر معاملہ خیر ہے۔ ہمیں چاہیے کہ مصیبت میں اللہ سے لو لگائیں، نماز اور دعا کا سہارا لیں، اور صبر کریں۔

۵. اصلاحی نکات: صبر کو اپنانے کے عملی طریقے

  • مصیبت کو اللہ کی طرف سے سمجھیں: یہ یقین رکھیں کہ اللہ کی ہر بات میں حکمت ہے، ہر آزمائش یا تو گناہوں کا کفارہ ہے یا درجات کی بلندی کا ذریعہ۔
  • اپنے سے کم خوشحال لوگوں کو دیکھیں: نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: «انظُرُوا إِلَىٰ مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْكُمْ، وَلَا تَنْظُرُوا إِلَىٰ مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ؛ فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَزْدَرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ» (مسلم)۔ اس سے شکر اور صبر کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔
  • ذکر و اذکار کی پابندی: خاص طور پر "حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ" اور "إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ" کا ورد پریشانی میں سکون دیتا ہے۔
  • دعا میں صبر کا مظاہرہ: ہر نماز کے بعد صبر کی توفیق مانگیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: "اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا صَبْرًا جَمِيلاً"۔
  • مشکل وقت میں نیک لوگوں کی صحبت: صبر کرنے والے لوگوں کی صحبت سے دل مضبوط ہوتا ہے، جبکہ بے صبرے لوگوں کی صحبت مایوسی اور شکوے میں اضافہ کرتی ہے۔
  • صبر کو عادت بنائیں: روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی مشقتوں پر صبر کرنے سے بڑی مصیبتوں پر صبر آسان ہو جاتا ہے۔ مثلاً روزے کی بھوک پیاس، طاعت کی مشقت، غصے پر قابو، وغیرہ۔
  • موت اور آخرت کی یاد: جب انسان کو یقین ہو کہ دنیا کی مصیبتیں عارضی ہیں اور اصلی آرام تو جنت میں ہے، تو صبر کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

۶. اختتامی نصیحت: صبر کے ساتھ دعا اور توکل

اللہ کے بندو! صبر کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جانا نہیں، بلکہ اسباب اختیار کرتے ہوئے دل کو اللہ کی رضا پر مطمئن رکھنا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: «احْرِصْ عَلَىٰ مَا يَنْفَعُكَ، وَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَلَا تَعْجِزْ، وَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ فَلَا تَقُلْ: لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَانَ كَذَا وَكَذَا، وَلَكِنْ قُلْ: قَدَّرَ اللَّهُ وَمَا شَاءَ فَعَلَ» (صحيح مسلم: 2664)۔ یعنی فائدہ مند چیز کی حرص کرو، اللہ سے مدد مانگو، عاجز نہ بنو، اور اگر کوئی ناپسندیدہ بات پیش آئے تو "اگر مگر" نہ کرو بلکہ تقدیر پر یقین رکھو۔

ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگیوں میں صبر کے وصف کو پروان چڑھائیں اور اس عظیم عبادت کو اختیار کر کے اللہ کی نصرت اور بے حساب اجر کے مستحق بنیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَاللَّـهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ
(سورۃ آل عمران: 146)

ترجمہ: "اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔"

یہ محبت دنیا و آخرت کی ہر سعادت کی کنجی ہے۔

۷. دعا

«رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ»
(سورۃ الأعراف: 126)

ترجمہ: "اے ہمارے رب! ہم پر صبر کا سیلاب نازل فرما اور ہمیں مسلمان حالت میں موت دے۔"

«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصَّبْرَ عِنْدَ الْقَضَاءِ، وَمِنْ قُلُوبِ الْمُخْبِتِينَ، وَأَسْأَلُكَ الرِّضَا بِالْقَدَرِ، وَأَسْأَلُكَ بَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ»
(رواه أحمد، والترمذي في الشمائل، حسنه الألباني)

ترجمہ: "اے اللہ! میں تجھ سے تقدیر کے فیصلوں پر صبر مانگتا ہوں، اور عاجزی کرنے والوں کے دل مانگتا ہوں، اور تقدیر پر رضا مانگتا ہوں، اور موت کے بعد راحت والی زندگی مانگتا ہوں۔"

اللهم اجعلنا من الصابرين الشاكرين، وارزقنا صدق التوكل عليك، وحسن الظن بك، ولا تجعلنا من القانطين. اللهم فرج هم المهمومين، ونفس كرب المكروبين، واشف مرضانا ومرضى المسلمين، وارحم موتانا وموتى المسلمين. ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار. وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.


TAGS JSON: { "tags": ["صبر", "صبر اور نماز", "آزمائش", "مصیبت", "اجر", "ایوب علیہ السلام", "بلال", "شکر", "بے صبری", "دعا"], "category": "اصلاحی بیانات", "related_month": "محرم", "related_people": ["حضرت ایوب علیہ السلام", "حضرت بلال رضی اللہ عنہ", "حضرت خباب بن الارت رضی اللہ عنہ"] }